ادھورے خواب

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 37

”طوبیٰ تمھیں کچھ نہیں ہوگا، تم ایک ڈاکٹر کی بات سن کر کیسے کہہ سکتی ہو یہ سب، میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دونگا، تمھیں جینا ہے میرے ساتھ، ہماری بیٹی کو ماں کی ضرورت ہے مُجھے تمھاری ضرورت ہے سمجھی.! تم اس طرح ہمت نہیں ہار سکتی.! خود سے الگ کرتے دونوں کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے سختی سے باور کرایا۔
آئزہ روز میرے خواب میں آتی ہے روز وہ مجھے اپنے ساتھ لے جاتی ہے .! ہذیانی انداز میں بولی۔
میں تمہیں کہی نہیں جانے دونگا جان.! مجھے تمہاری ضرورت ہے تم اپنے آزر کو چھوڑ کر جانے کا سوچ رہی ہو اگر تمہیں کچھ ہوا تو میں بھی مر…….
ہاتھ ازر کے منہ پر رکھتے نفی میں سر ہلایا ان کے دکھ کو دیکھ کر آسمان بھی رو رہا تھا۔
”تو پھر تم کیوں کرتی ہو ایسی باتیں، تم نے سوچا مجھ پر کیا گزری ہو گی جب مجھے نتاشہ نے وہ سب بتایا جو تمہیں بتانا چاہئے تھا، کیا گزری ہو گی مجھ پر تمہیں میرا ذرا احساس نہیں، اتنا بڑا فیصلہ تم اکیلے کیسے کر سکتی ہو تمہیں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا کہ میں کیسے جیوں گا تمھارے بغیر کیا میرا تم پر اتنا بھی حق نہیں.؟ کندھوں سے پکڑے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے سخت گیر سنجیدہ انداز میں استفسار کیا
”ازر میں آپ کو یوں تڑپتے نہیں دیکھ سکتی، مگر میں اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے ہونے والے بچے کی جان بھی نہیں لے سکتی تھی اسی لیے آپ کو نہیں بتایا۔
آزر میں نے کبھی اللّٰہ سے اپنے لیۓ کچھ نہیں مانگا، آپ کا میری زندگی میں آنا کسی معجزے سے کم ، اگر کبھی میرے دل میں اپنے ہمسفر کا خیال آیا ناں آزر.! تو میں نے اللّٰہ سے آپ جیسا ہی ہمسفر مانگا بیشک وہ میری ذندگی میں چند پل کے لیے ہی کیوں ناں آئے، میں بس وہ محبت جو ایک شوہر کو اپنی بیوی سے ہوتی ہے وہ محسوس کرنا چاہتی تھی مگر یہ بھی جانتی تھی میری خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی، لیکن اللّٰہ نے تو مجھے میری سوچ کئی زیادہ نواز دیا مجھے تو بس چند لمحے چاہیے تھے آزر.! اللہ نے تو آپ کا ساتھ ایک سال کے لیے دے دیا، میں تو اللّٰہ کا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے۔
لیکن طوبیٰ مجھے تم اپنی آخری سانس تک چاہئے ہو سمجھی میں تمہیں کھونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تمہیں میرے پاس ہی رہنا ہے میرا بن کر.! وہ کسی ضدی بچے کی مانند اپنی بات پر اڑ گیا تھا۔
نتاشہ آپ سے محبت کرتی ہے اور آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا آپ میری بات مانے گیں.؟ اسکا کیا وعدہ یاد کروایا۔
”تم مجھے یو ایموشنل بلیک میل نہیں کر سکتی میں تمہاری بات نہیں مانو گا تم نے مجھے دھوکا دیا ہے چیٹ کیا مجھے، میں تمھاری کوئی بات نہیں مانوں گا۔ منہ موڑتے وہ بنوز اپنی بات پر قائم تھا۔
میں کرو گی آپ نے مجھے حق دیا ہے اور آپ کیا میری خوشی کے لیے اتنا ہی نہیں کر سکتے.؟ اسکا چہرہ اپنی طرف کرتے اصرار کیا۔
”نہیں کرو گا.! کبھی نہیں کرو گا.! نہ ہی تمھیں کچھ ہونے دونگا آئی سمجھ میری زندگی میں تمھارے سوا کوئی نہیں آ سکتی.! وہ بھی اٹل انداز میں کہتے اٹھ کھڑا ہوا۔
آپ نے قسم کھائی تھی آپ اپنی قسم سے مکر نہیں سکتے.! تیزی سے برستی بارش دونوں کو بھیگو رہی تھی۔
تم ضد کر رہی ہو جان.! ضروری نہیں کہ ہر ضد پوری کی جائے.؟ اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھتے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لیے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے سمجھانے کی کوشش کرتے وہ آج پہلی مرتبہ خود کو بےبس محسوس کر رہا تھا۔
ہاں کر رہی ہوں ضد تو..! آپ نے وعدہ کیا تھا کے آپ میری ہر ضد پوری کریں گے۔ اسکی گردن کے گرد بازوں کرتے وہ بھی ضبط کے کڑھے مراحل سے گزر رہی تھی۔
ہم اس سب کے بارے میں پھر بات کرے گے ابھی اندر چلے بارش تیز ہو گئی ہے.؟ اسکی ضد کو دیکھتے آزر نے بات بدلنی چاہی۔
نہیں ابھی بات ہوگی اگر آپ میری بات نہیں مانے گے تو پھر میں بھی اندر نہیں جاؤ گی.؟ سردی سے کانپ رہی تھی
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے جان.! اندر چل کر بات کرتے ہیں.!
نہیں جاؤ گی میں اندر.! آپ نے میری بات مانی جو میں مانو، آپ جھوٹے، آپکی قسم جھوٹی، آپ کی محبت جھوٹی، آپ کے وعدے جھوٹے، آپ برے ہیں بہت برے، مجھے نہیں کرنی آپ سے محبت۔ ہذیانی انداز میں اسکے سینے پر مکے مارتے وہ اپنے حواس میں نہیں جس پر آزر اسے دونوں بازوں سے پکڑتے سختی سے خود میں بھنچے گیا
جو کہنا ہے کہہ لو لیکن میں تمہاری بات نہیں مانو گا.! اس اٹھا کر وہ کمرے میں لے آیا۔
دور رہیں میں آپ سے ناراض ہوں آپ کو لگتا ہے میں آپ سے محبت نہیں کرتی آزر میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں آزر میں یہ سب آپ کے لیۓ کہہ رہی ہوں میں نہیں چاہتی آپ پھر سے اکیلے ہو جائے پلیز سمجھے میری بات میں آپ کی دشمن نہیں ہو، میں یہ سب آپکی بھلائی کی خاطر کہہ رہی میں نہیں چاہتی ہماری بیٹی ملازموں کے ہاتھوں پلے۔ آزر نے صوفے پر بیٹھایا تو خفگی سے آزر کو خود سے دور کرتے پھر خود کلر سے پکڑ کر اپنے قریب کرتے محبت کا اظہار کرتے طوبیٰ نے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے روتے ہوئے اسکے سینے پر سر رکھا۔
کوئی اور وقت ہوتا تو طوبیٰ کے یوں اظہار محبت کرنے پر پھولے نہ سماتا۔
طوبیٰ۔۔۔!! میں تمہاری جگہ کسی کو نہیں دے سکتا تم کیوں نہیں سمجتی، زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے ضروری تو نہیں ڈاکٹر جو کہہ وہی ہو تم ایک بار اس خدا پر کامل یقین کر کے تو دیکھوں وہ تقدیر بدلنے پر قادر ہے تم کیوں اسکی رحم سے مایوس ہوتی ہو، ویسے بھی جیسا انسان گمان کرتا ہے خدا وہ اسے ویسے ہی نوازتا ہے۔ وہ اسے یوں ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا تبھی نرمی سے خود سے الگ کرتے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے رسان سے سمجھاتے اسکے آنسوں صاف کئے۔
تو پھر ٹھیک ہے آپ صرف نکاح کر لیں۔! اسکی سوئی تو بس ایک ہی جگہ اٹک گئی تھی۔
تم پہلے کپڑے چینج کر لو پھر بات کریں گے.؟ اس وقت اسے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
نہیں کرنے مجھے، جب آپ میری بات نہیں مانے گے تو میں بھی آپ کی بات نہیں مانو گی.؟ اسے اپنے ہاتھ چھڑاتے وہ خفگی سے منہ پھیر گئی۔
اوکے ایز یوں ویش۔! اگر تم یہی چاہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔! آزر اٹھ کر کبرڈ سے اس کا سادہ سا سوٹ نکال لایا اسکی لاکھ مزاحمت کے باوجود لائٹ اوف کرتے خود ہی چینج کروانے کے بعد خود بھی چینج کیا تب تک وہ منہ پھلائے یہونی بیٹھی رہی۔
آپ بہت برے ہیں.! وہ بنوز ناراض تھی۔
ہاں ہوں برا جو بھی ہو جیسا بھی ہو صرف تمہارا ہو.! اسکی ناراضگی کی پروا کیے بنا طوبیٰ کے بال خشک کرنے لگا جس پر ہوک سی اٹھی تھی۔
میں آپ سے بات نہیں کرو گی.؟
اچھا مت کرو بات، لیکن دودھ تو پی سکتی ہونا ناراضی مجھ سے دودھ سے تو نہیں.؟ ٹیبل پر رکھا دودھ کا گلاس لیکر پاس بیٹھا تھا۔
مجھے نہیں پینا۔! منہ دوسری طرف کیا اسکی بچوں سی حرکت اتنی دیر میں پہلی بار آزر کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
بس تھوڑا سا.؟ گلاس منہ کے سامنے کی۔
میں آپ کی باتوں میں نہیں آؤ گی.؟ آزر کے انداز پر وہ نرم پڑنے لگی تھی۔
بالکل نہیں آنا، بہت برا شخص ہے آزر خان اپنی جان سے پیاری بیوی کی کوئی بات نہیں مانتا اور تم نے لڑنا بھی ہوگا مجھ سے تو اس کے لیے ہمت بھی چاہیے ہوگی ناں جان.! تو بس تھوڑا سا پی لو.؟ اپنے درد کو چھپاتے وہ اسے بہلانے لگا
کیوں کرتے ہیں آپ مجھ سے اتنی محبت.؟ ڈبڈباتے نین کٹورو سے اسکی اور دیکھتے اسکی آنکھیں بھرا گئ جس پر آزر نے بنا جواب دیے طوبیٰ کو اپنے ساتھ لگایا تو آنکھوں سے انسوں بہہ نکلے تھے دونوں کے۔
💛💛💛💛💛💛💛💛
”ماما پھر آپ نہیں چل رہی میرے ساتھ.؟ ارحم نے گھر سے نکلنے سے پہلے ایک آخری بار پھر قدسیہ بیگم سے پوچھا۔
کبھی نہیں اگر مجھے معلوم ہوتا طوبیٰ کے بعد اس شزہ کو پسند کرو گے تو میں تمہاری شادی اسی سے کر دیتی
لیکن شزہ کبھی نہیں، قدسیہ بیگم کے لہجے میں تاسف نمایاں تھا۔
ماما آپ نے آج پہلی بار طوبیٰ کا نام لیا ورنہ ہمیشہ آپ نے اسے اپاہج ہی کہا، لیکن اب کوئی فائدہ نہیں جو ہونا تھا ہو گیا، اب میں شزہ سے شادی کر کے ہی رہو گا ویسے بھی یہ شادی ایک قانونی فرمیلٹی کے سوا کچھ نہیں بیوی کے حقوق تو آئزہ سے بھی پہلے کے اسکے پاس ہیں۔ ارحم نے سنجیدہ لہجے میں انکشاف کیا جس پر قدسیہ بیگم کے تو چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا
یہ تم کیا کہہ رہے ہو.؟ قدسیہ بیگم بے یقینی سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔
وہ ہی جو سچ ہے اچھا ہوا جو آئزہ خود مر گئی ورنہ میب اسے اپنی زندگی سے نکالنے کے لیے نجانے کیا کچھ کر گزرتا۔
ارحم……!! قدسیہ بیگم کا ہاتھ اٹھا تھا جسے ارحم نے روک دیا
نہیں ماما اب میں یہ سب نہیں برداشت کرو گا اور آئندہ ایسی غلطی کرنے کا سوچیئے گا بھی مت، کیوں کے ہاتھ میرا بھی ہے اگر وہ اٹھ گیا تو آپ سہہ نہیں پائے گی، جہاں تک بات شزہ کو قانونی بیوی بنانے پر اعتراض کی ہے تو وہ ایسے بھی میری بیوی بن کر رہنے کے لیۓ تیار ہے مگر مجھے یہ گوارا نہیں۔ قدسیہ بیگم تو ارحم انداز و اطوار پر دھنگ رہ گئی تھی۔
ان کے پاس اب کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا
💛💛💛💛💛💛💛💛💛💛
طوبیٰ.! تھوڑا سا کچھ کھا لو تم نے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا تھا
جب تک آپ میری بات نہیں مانے گے میں بھی کچھ نہیں کھاؤ گی رات کو آپ نے مجھے باتو میں لگا کر دودھ پیلا دیا تھا اب نہیں۔ طوبیٰ بنوز اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی
طوبیٰ تم میری جان مانگ لو میں بغیر کسی سوال کے دے دونگا لیکن یہ نہ کرو.! میں سچ کہہ رہا ہوں میں جیتے جی مر جاؤ گا۔ بےبسی سے کہتے وہ دہری اذیت میں مبتلا تھا۔
پلیز آزر۔۔۔۔!! وہ تڑپ کر رہ گئی تھی۔
تم جو کہہ رہی ہوں اور کر رہی ہوں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا۔؟ آزر نے شکوہ کن نظروں سے اسے دیکھا۔
آپ میری خوشی کے لیۓ مان جاۓ میں سکون سے م…..
خبردار جو تم نے اس سے آگے کچھ کہا۔! اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
میرے لیے نہیں تو ہماری پرنسس کی خاطر مان جائے اسے ماں کی ضرورت ہے.؟ ہاتھ جوڑتے وہ ملتجی نظروں سے آزر کو دیکھ رہی تھی۔
تم غلط کر رہی ہو۔! ازر کا صبر جواب دیں رہا تھا۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial