اے راز دل

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 14

’’ کب آئینگے احتشام بھائی ؟ ’’ وہ تینوں اس وقت احتشام کے انتظار میں کھڑے تھے۔
’’ پتہ نہیں کہہ رہے تھے کہ پانچ منٹ میں پہنچ جاؤنگا ’’ پارسا نے کھڑی دیکتے ہوئے کہا تھا ۔
’’ جی اور اب ایک گھنٹہ ہوگیا ہے ۔۔ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ آپ سے بور ہوگئے ہیں ڈاکٹر پارسا ’’ حامد نے اسے چھیڑا تھا ۔
’’ تمہاری طرح نہیں ہے وہ ’’ پارسا نے چڑ کر کہا تھا ۔
’’ ہمارے طرح ہوبھی نہیں سکتے ۔۔ ہم تو بس ایک ہی کے ہوکر رہ گئے ہیں ’’ حامد نے الہام کی طرف دیکھتے کہا تھا ۔
’’ ایک بار یہ آجائیں پوچھونگی ان سے آخر کیا ضرورت تھی ہسپتال جانے کی ’’ الہام کیا دھیان اس وقت صرف احتشام کی طرف تھا ۔
’’ لو جی۔۔ آگئے ، پوچھ لو اب ‘’ پارسا نے احتشام کو انکی طرف آتے دیکھ کر کہا تھا ۔
’’سوری سوری مجھے دیر ہوگئ ’’ احتشام نے آتے ساتھ ہی پارسا سے کہا تھا ۔
’’ کوئی بات نہیں ’’ پارسا نے مسکرا کر کہا تھا ،
’’ ایسے کیسے کوئی بات نہیں ۔۔ میں نے آپ کو منع کیا تھا کہ آپ ایک ہفتے تک ہسپتال نہیں جائینگے ۔۔ پھر بھی آپ انہیں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے ؟ ’’ الہام نے اب احتشام کی کلاس لینا شروع کی تھی ۔
’’ یار معاف کردو ۔۔ بہت ضروری کام تھا۔ اب پکا نہیں جاؤنگا میں ’’ احتشام نے دونوں کام پکڑ کر کہا تھا ۔۔
’’ آئیندہ اگر ایسا ہوا تو میں نے معاف نہیں کرنا ’’ الہام نے انہیں وان کیا تھا ۔۔
’’ پکا نہیں ہوگا ۔۔۔ اب اجازت ہو تو انہیں لے جاؤں ؟ ’’ احتشام نے الہام سے اجازت مانگی تھی ۔۔ جس پر تینوں مسکرا دیئے تھے ۔
’’ بلکل لے جاسکتے ہیں آپ ’’ الہام نے ہاتھ اٹھا کر اجازت دی تھی ۔۔ اسی پل ایک نرس بھاگتی ہوئی الہام کی جانب آئی تھی ۔۔۔
’’ ڈاکٹر حامد ، ڈاکٹر الہام۔۔ پلیز جلدی چلیں۔۔ ایک بہت ریریس ایکسیڈینٹ کیس ہے۔۔ ہمیں جلدی کرنی ہوگی پیشینٹ کا بلڈ کافی بہہ چکا ہے’’ نرسا کی بات سنتے ہی الہام اس جانب بھاگی تھی۔۔۔ جہاں کچھ سٹاف ممبر پیشینٹ کو ایمرجنسی روم کی طرف لے جارہے تھے ۔۔۔
حامد ، پارسا اور احتشام بھی اسی طرف آئے تھے ۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اس پیشینٹ کے پاس پہنچی تھی ۔۔ حامد، پارسا اور احتشام رک گئے تھے ۔۔ وہ آگے بڑھی تھی۔۔ ارادہ اس پیشینٹ کا بی پی چیک کرنے کا تھا۔۔ مگر وہ رک گئ ۔۔ حامد اور باقی سب اسکے رکنے پر چونکے تھے ۔۔ سامنے لیٹا شخص عرش تھا ۔۔ سب نے دیکھا تھا۔۔ سب حیران ہوئے تھے۔۔ مگر الہام ۔۔۔؟؟ وہ ایک ایک قدم پیچھے جارہی تھی ۔ آنکھوں میں کچھ تھا ۔۔ کچھ ایسا جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا ۔۔ اسکی آنکھیں خوف سے کھلی ہوئی تھی۔۔۔ وہ دیوار سے جالگی تھی ۔۔ اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔ وہ خوفزدہ تھی ۔۔ اس قدر خوفزوہ کہ وہ پتھر بن گئ تھی ۔۔ اور پھر اس پتھر میں حرکت ہوئی تھی ۔۔ وہ چکرائی تھی۔۔ اور اسی پل وہ بے ہوش ہوکر نیچے گری تھی ۔۔ احتشام نے الہام کو جاکر اٹھایا تھا ۔۔۔ پارسا اسکے پیچھے گئ تھی اور بس ایک حامد ہی تھا۔۔ جو وہاں رہ گیا تھا ۔۔ کہیں بہت پیچھے ۔۔ یہ کیسا انکشاف ہوا تھا آج ؟ یہ کونسی الہام اس کے سامنے آئی تھی آج ؟
کون کہتا ہے کہ الہام نہیں ڈرتی ؟؟
وہ ڈرتی ہے ۔۔ ہاں ۔۔وہ محبت کے کھوجانے سے ڈرتی ہے ۔۔
حامد نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھیں ۔۔
’’ ڈاکٹر حامد ۔۔ ہمیں پیشینٹ کو فوراً ٹریٹمنٹ دینی ہوگی ’’ نرس کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر سامنے لیٹے اس شخص کو دیکھا تھا ۔۔
’’ اسے اندر لے چلو ’’ حامد کہہ کر آگے بڑھا تھا ۔۔۔
اسے جانے کتنے گھنٹوں بعد ہوش آیا تھا ۔۔ اس کے سر پر پٹی بندھی تھی۔۔ ایک ٹیس کی لہر اٹھی تھی ۔۔ اس نے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔ اسے محسوس ہوا کی کچھ لوگ اسکے آس پاس موجود ہیں ۔۔ تھوڑی دیر لگی تھی۔۔ اسے مکمل ہوش میں آنے میں۔
’’ شکر ہے تمہیں ہوش تو آیا ’’ معاذ نے جھک کر کہا تھا ۔
’’ اب کیسا محسوس کر رہے ہیں آپ ؟ ’’ پارسا نے اسکے پاس آکر پوچھا تھا۔
’’ ٹھیک ہوں ’’ اس نے مسکرا کر کہا تھا۔۔
’’ تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے ۔۔ میں تمہارا بی پی چیک کرلوں ’’ حامد اب اسکا بی پی چیک کر رہا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ آس پاس اسے الہام کہیں نہیں نظر آئی تھی ۔۔ وہ اسے دیکھنے کیوں نہیں آئی ؟ بس ایک یہی سوال تھا ۔۔۔ جو اس نے نظروں سے معاذ سے پوچھاتھا۔۔ اور اسکے جواب دینے سے پہلے ہی دروازہ کھول کر احتشام اندر آیا تھا ۔۔
’’ الہام کیسی ہے اب ؟ ’’ پارسا نے احتشام سے پوچھا تھا اور عرش چونکا تھا ۔۔
’’ الہام کو کیا ہوا ؟ ’’ اس نے فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔ حامد نے دیکھا وہ الہام کے لئے بہت فکر مند تھا ۔۔ کچھ تھا جو اسکے دل میں چبھا تھا ۔۔
’’ ٹھیک ہے اب ۔۔میں نے اسے روکا ہے یہاں آنے سے ’’ احتشام نے عرش کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔ جسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
’’ اسے کیا ہوا ہے ؟ ’’ اس نے اپنا سوال دہرایا تھا ۔۔
’’ بے ہوش ہوگئ تھی وہ ۔۔ تمہیں اس حال میں دیکھ کر ’’ جواب معاذ کی طرف سے آیا تھا ۔ عرش نے حیران ہوکر معاذ کو دیکھا تھا ۔۔ اسکا مطلب ۔۔؟؟
ایک مسکراہٹ تھی جو عرش کے ہونٹوں پر آئی تھی اور جسے ہر شخص نے دیکھا تھا ۔۔ حامد وہاں سے چلاگیا تھا ۔۔ پارسا کو اسکے لئے افسوس تھا۔۔ مگر الہام کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا ۔۔۔
’’ تم دونوں ایک دوسرےکوپہلے سے جانتے تھے ؟ ’’ احتشام نے اسکے ساتھ رکھی چئیر پر بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ جی ۔۔ کئ سالوں سے ’’ عرش نے جواب دیاتھا ۔۔ اب کچھ بھی چھپانے کا فائدہ نہیں تھا ۔۔
’’ کیا لگتے ہو تم اسکے ؟ ’’ احتشام نے ایک اور سوال کیا تھا ۔۔ پارسا نے منتظر نگاہوں سے اسے دیکھا تھا ۔۔
’’ اسکا رازِدل ’’ بس ایک مختصر جواب تھا اور یہ جواب سب کو چونکا گیا تھا ۔۔ پارسا اور احتشام نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔۔ دونوں کی نظروں میں حیرت تھی ۔۔ آج دونوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ الہام کو ان میں سے کوئی نہیں جان سکا تھا ۔
’’تم آرام کرو ۔۔ ہم پھر آئینگے ’’ احتشام یہ کہہ کر اٹھا تھا ۔۔ پارسا بھی اسکے ساتھ چلی تھی ۔
’’ انکل تو یہاں آنا چاہ رہے تھے مگر عامر بھائی نے روک دیا ۔۔ وہ کل آرہے ہیں ۔۔ اب بات کھل چکی ہے تو تمہیں اب احتشام بھائی سے بات کرلینی چاہئے ’’ معاذ نے اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔۔ مگر اس سے پہلے الہام سے تو بات کرلوں ’’ عرش نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا تھا۔
’’ ہاں مگر اب تو ہم جانتے ہیں کہ وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے ۔۔ اس لئے اب احتشام بھائی سے بھی بات کرنے میں حرج نہیں ہے’’ معاذ کی بات پر وہ مسکرایا تھا ْ۔
’’ ہاں میں جان چکا ہوں ۔۔ مگر یہ صرف تم لوگوں کو پتہ ہے ۔۔ اسے نہیں ’’ عرش کی بات پر معاذ ہنسا تھا ۔۔
’’ بہت ہی تیز ہو تم ویسے ’’ عرش نے خوشدلی سے تعریف وصول کی تھی ۔
وہ اپنے روم سے باہر نکلی تھی جب ایک نرس نے رک کر پوچھا تھا ۔
’’ کیسی ہیں آپ ڈاکٹر الہام ؟ ’’
’’ ٹھیک ہوں میں ۔۔ وہ جو پیشینٹ آیا تھا انکی کیا کنڈیشن ہے اب ؟ ’’ اسے کسی نے عرش کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا ۔
’’ جی وہ بلکل ٹھیک ہیں ۔۔ شکر ہے زخم زیادہ گہرے نہیں تھے۔ ڈاکٹر حامد نے دیکھ لیا تھا انہیں ’’ نرس کی بات سن کر وہ تھوڑی مطمئن ہوئی تھی۔
’’ کہاں ہے وہ اس وقت ؟ ’’ نرس سے روم پوچھ کر وہ اسی طرف چل دی تھی ۔۔ حامد جو اسے دیکھنے آیا تھا۔ اسے عرش کے پاس جاتے دیکھ کر خاموشی سے اس کے پیچھے چلا تھا ۔
وہ جس وقت روم میں داخل ہوئی عرش سورہا تھا۔۔ اسکے سر پر پٹی بندھی تھی ۔۔ الہام کو اندازہ تھا کہ چھوٹ اتنی گہری نہیں ہے۔۔ مگر پھر بھی اسے اس حال میں دیکھ کر اسے اچھا نہیں لگا تھا ۔۔ وہ چلتی ہوئی اسکے قریب آئی تھی اور ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گئ تھی ۔۔
’’ جاگ رہےہیں آپ ؟ ’’ اس نے تھوڑی دیر اسے غور سے دیکھنے کے بعد پوچھا تھا ۔۔ عرش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔ اس نے آنکھ کھول دی ،
’’ تم بھی مجھے جاننے لگی ہو ’’ مسکراتا ہوا اسے گہری نظروں سے دیکھتا کہہ رہا تھا ۔۔
’’ کیوں ؟ کیا یہ کوالٹی صرف آپکے اندر ہے ؟ ’’ الہام نے مسکرا کر کہا تھا ۔ اسے ٹھیک دیکھ کر وہ اب قدرے پرسکون ہوگئ تھی۔
’’ نہیں۔۔ مگر مجھے جاننے کا حق ہر کسی کو حاصل نہیں’’ اس نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتے کہا تھا۔
’’ مجھے بھی نہیں ’’ ڈرتے دل کے ساتھ کہا تھا ۔
’’ تمہیں تو سارے حق حاصل ہیں ۔۔ چاہو تو جان لو یا چاہوتو جان لے لو ’’
’’ کیسی باتیں کر رہیں ہے ۔۔۔ میں کیوں جان لینے لگی آپکی ؟ ’’ الہام نے اسکی بات پر فوراً کہا تھا ۔
’’ دل تو لے چکی ہو جان بھی لے لو ۔۔ یہ بھی تمہاری ہی ہے ’’ اس نے کہا تھا اور الہام چونکی تھی ۔۔ یہ پہلا اظہار تھا۔۔ وہ اپنی جگہ ٹھہر گئ تھی ۔ دروازے پر موجود حامد۔۔ الہام کے جواب کا منتظر تھا اور الہام بس عرش کو دیکھے جارہی تھی ۔
’’ کیا ہوا ؟ کیا میرا دل قبول نہیں تمہیں ؟ ’’ وہ اس سے پوچھ رہا تھا ۔ ایسا سوال جو وہ آج تک خود سے بھی نہیں پوچھ سکی تھی۔ حامد کے کاندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تھا ۔۔ وہ پلٹا تھا۔۔ پارسا اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اب وہ اندر جانے کا اشارہ دے رہی تھی اور وہ دونوں اندر داخل ہوئے تھے ۔۔ الہام اور عرش دونوں چونک کر انکی طرف متوجہ ہوئے تھے ۔۔
’’ کیسے ہیں آپ عرش ؟ ’’ پارسا نے اسکے پاس آکر پوچھا تھا ۔۔
’’ بلکل ٹھیک ہوں ۔۔ آپ کیسی ہیں ؟ ’’
’’ میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔ اور تم کیسی ہو اب ؟ ڈرا دیا تم نے تو ہمیں ’’ وہ اب الہام کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔۔ جو وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی ۔ اسکی غائب دماغی پارسا نے محسوس کی تھی ۔۔
’’ احتشام اور میں تمہیں لینے آئے ہیں اپنا بیگ لے آؤ ’’ اس نے الہام سے کہا تھا۔۔ اور وہ سر ہلاتی ہوئی ایک نگاہ عرش پر ڈال کو وہاں سے نکل گئ تھی۔۔
’’ چلیں پھر کل صبح آپ ڈسچارج ہورہے ہیں تو ہم آپ سے کل ملتے ہیں ’’ پارسانے عرش سے کہا تھا ۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔۔ گویا جانے کی اجازت دی ہو ۔۔ ان دونوں کے چلے جانے کےبعد حامد بھی وہاں سے جاچکا تھا ۔عرش نے محسوس کیا تھا کہ اسے اگنور کر رہا تھا ۔۔ مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اسکی وجہ کیا ہے؟ اس لئے اس نے خود بھی حامد سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔
معاذ اور عامر بھائی رات اسکے پاس آچکے تھے ۔۔ اس نے عامر بھائی کو ساری بات بتا دی تھی۔۔ اب بس وہ سب الہام کے جواب کے منتظر تھے ۔۔
وہ صبح جلدی اٹھی تھی ۔ ارادہ عرش نے ملنے جانے کا تھا وہ جلدی سے تیار ہوکر نیچے آئی تھی۔۔ جہاں احتشام اور پارسا اسکے منتظر تھے ۔۔
’’ کیسی ہو تم ؟ ’’ اس کے آتے ہی احتشام نے اس سے پوچھا تھا۔
’’ بلکل ٹھیک ہوں اب ’’ وہ اپنی کرسی پر بیٹھتے بولی تھی ۔۔
’’ آج ریسٹ کر لیتی ’’ پارسا نے جوس کا گلاس اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ نہیں مجھے عرش سے ملنا ہے ’’ اسکے جواب پر احتشام اور پارسا نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔
’’ الہام ۔۔ عرش کو کب سے جانتی ہو تم ؟ ’’ احتشام نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
’’ کئ سالوں سے ’’ الہام نے ٹھہر کر جواب دیا تھا ۔۔ اب کچھ چھپانے کا فائدہ نہیں تھا۔
’’ اور تم دونوں کے بیچ کیا ریلیشن ہے ؟ ’’ اس بار سوال پارسا نے کیا تھا ۔۔۔ الہام تھوڑی دیر رکی تھی ۔ماضی کے کئ مناظر اسکی آنکھوں کےسامنے آئے تھے ۔
’’ رازِدل ۔۔۔ وہ میرا رازِدل ہے ’’ الہام کے جواب نے دونوں کو چونکا دیا تھا ۔۔
’’ تم اس پر اتنا یقین کیسے کر سکتی ہو ؟ ’’ احتشام نے اس سے پوچھا تھا ۔۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے وہ کتنا گہرا ہے ۔۔
’’ کیونکہ وہ واحد شخص ہے ۔۔ جسے ہمیشہ الہام ہوجاتا ہے ۔۔ میری تکلیف کا ۔۔ میرے دکھ کا ۔۔ میرے سکھ کا ۔۔ میں پریشان ہوجاؤ تو وہ جان لیتا ہے ۔۔ میں خوش ہوتی ہوں تو وہ جان لیتا ہے ۔۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے تو وہ جہاں بھی ہو اسے الہام کو جاتا ہے ۔۔ اس الہام کو عرش کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا احتشام بھائی ۔۔ وہ عرش ہے جس پر الہام ہوتا ہے’’ الہام نے احتشام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور احتشام کو لگا ۔۔ واقعی عرش کے علاوہ الہام کو کوئی نہیں جان سکا تھا ۔۔ وہ خود بھی نہیں ۔۔
’’ اور اسے الہام کیسے ہوجاتا ہے ؟ ’’’ پارسا نے سوال کیا تھا ۔۔ اور اسکا جواب تو الہام کے پاس بھی نہیں تھا ۔۔
’’ میں نہیں جانتی اسے کیسے الہام ہوجاتا ہے ؟ میں بس اتنا جانتی ہو کہ اسے الہام ہوتا ہے ’’ اس کے جواب پر پارسا مسکرائی تھی ۔۔
’’ جانتی ہو الہام کن لوگوں کو ہوتا ہے ؟ ’’ احتشام نے اس سے پوچھا تھا ۔۔ اس نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔
’’ محبت ہی ایک واحد جزبہ ہے جس میں محبوب کےہر احساس کا الہام ہوجاتاہے ۔۔ الہام صرف محبت میں ہوتا ہے اور صرف محبت کرنے والوں ہی کو الہام ہوتا ہے ’’ احتشام نے کہا تھا اور وہ سن ہوگئ تھی ۔
وہ اس وقت ہسپتال کے روم میں کھڑکی کی جانب رخ کر کے کھڑا تھا ۔۔ معاذ اور عامر اس وقت ہسپتال کے بل پے کرنے گئے تھے جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی ،۔ اس نے پلٹ کر اسے دیکھا اور مسکرایا ۔۔
’’ کیسی طبیعت ہے اب ؟ ’’ اسکے پاس آکر کہا تھا ۔۔
’’ طبیعت تو بلکل ٹھیک ہے مگر دل میں بے چینی ہے ’’ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے کہا تھا ۔
’’ کس بات کی بے چینی ؟ ’’ الہام نے نظر پھیر کر کہا تھا ۔
’’ تمہارےجواب کی بے چینی ’’
’’ مل جائیگا ۔۔ اتنی جلدی کیوں ہے ؟ ’’ وہ اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی ۔۔ الہام کا یہ انداز عرش کے لئے نیا تھا ،،
’’ الہام ’’ عرش نے اسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔ وہ چونکی تھی یہ پہلی بار تھا کہ عرش نے اسکا ہاتھ پکڑا ہو۔۔
’’ میں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا ۔۔ بہت انتظار کیا ہے میں نے اس وقت کا۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے ابھی اسی وقت جواب دو ۔۔ کیا تمہیں میرا دل قبول ہے ؟ ’’ اس نے اپنا پہلے کیا ہوا سوال دوبارہ دہرایا تھا ۔۔ الہام نے نظر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔ جو اسکے جواب کی منتظر تھیں ۔۔
’’ مجھے قبول ہے ’’ نم آنکھوں کے ساتھ اس نے کہا تھا اور عرش کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
’’میری ایک خواہش ہے ۔۔۔ پوری کروگی ؟ ’’ وہ اسکے تھوڑا قریب آکر بولا تھا ۔۔ عرش کے اتنے قریب آنے پر اسکی نگاہیں جھک گئ تھیں ۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔
’’ میں چاہتا ہوں کہ ہماری شادی پاکستان میں ہو ’’ عرش نے کہا تھا اور الہام نے حیرت سے اسے دیکھا تھا ۔۔ پاکستان ؟
’’ میں وہاں نہیں جانا چاہتی عرش ’’ اس نے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا تھا۔۔ مگر عرش نے ہاتھ دوبارہ تھام لیا تھا ۔۔
’’ میرے لئے بھی نہیں ؟ کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ؟ ’’ وہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھ رہا تھا ۔۔
’’ مجھے یقین ہے عرش مگر میں اب وہاں نہیں رہ سکتی ’’ وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی ۔۔ وہ ملک اسے بھی عزیز تھا مگر اسے اس ملک کی عادرت ہوگئ تھی۔۔
’’ میں نے یہ کب کہا کہ ہم وہاں رہینگے ؟ ’’ عرش کی بات پر اس نے چونک کر اسے دیکھا تھا ’’ کیا مطلب ؟ ’’
’’ مطلب یہ کہ میں چاہتا ہوں کہ ہماری شادی وہاں ہو ۔۔ صرف چھٹیوں پر وہاں ہونگے ہم ۔۔ رہنا تو ہمیں اسی ملک میں ہے جس نے ہمیں ایک دوسرے سے ملایا ہے ’’ عرش کی بات پر وہ مسکرائی تھی ۔۔
’’ چلوگی نا؟ ’’ اس نے اس سےپوچھا تھا اور الہام نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔۔
عامر نے احتشام اور پارسا کو ساری بات بتا دی تھی۔۔ اور ساتھ ہی اس نے عرش اور الہام کی شادی کی بات بھی کی تھی۔۔ جس پر سب نے رضامندی دے دی تھی ۔۔معاذ نے حامد کو بھی سب کچھ بتادیا تھا اور وہ خوش تھا ۔۔ الہام کی خوشی سے بڑھ کر اسکے لئے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔ اب وہ سب پاکستان کے لے تیار تھے ۔۔ اور وہ وقت آگیا۔۔ جب وہ سب پاکستان کی سرزمین پر واپس آگئے تھے ۔۔ پاکستان کا شہر کراچی ۔۔۔ کتنا بدل گیا تھا ان سات سالوں میں ؟ یا شاید الہام اور احتشام کو ہی سب بدلہ بدلہ لگ رہا تھا ۔۔
وہ ائیر پورٹ سے باہر نکلے تھے ۔۔ احتشام اور الہام ایک ساتھ آگے بڑھے تھے ۔۔ حامد ، پارسا اور عرش پیچھے تھے ۔۔ وہ سب جانتے تھے کہ اس وقت ان دونوں کی کیا کیفیت ہے ؟ دونوں آگے بڑھ رہے تھے اور اس شہر کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔ سات سال پہلے بھی وہ اسی جگہ سے گزرے تھے ۔۔ اس شہر اور اس ملک کو چھوڑنے کے لئے اور اب سات سال بعد وہ اسی جگہ واپس آئے تھے ۔۔مگر دونوں وقتوں میں بہت فرق تھا ۔۔ سات سال پہلے جب وہ گئے تھے تو وہ ٹوٹ چکے تھے ۔۔ انکے پاس کوئی نہیں تھا۔۔ ایک دوسرے کے سوا۔۔ مگر آج سات سال بعد جب وہ اس جگہ پر واپس آئے تھے۔۔ تو یہ وقت الگ تھا ۔۔۔ عرش آگے بڑھ کر الہام کے ساتھ آکر چلنے لگا تھا ۔۔۔ پارسا ، احتشام کے ساتھ آئی تھی ۔۔ معاذ ، حامد اور عامر انکے پیچھے ایک ساتھ آرہے تھے ۔۔۔ الہام اور احتشام نے مسکراکر ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔ دونوں کی آنکھیں نم تھیں ۔۔ مگر ان آنکھوں میں نمی خوشی کی تھی ۔۔ آج وہ دونوں اکیلے نہیں تھے۔۔ آج احتشام کے ساتھ پارسا تھی ۔۔۔ آج الہام کے ساتھ عرش تھا۔۔۔
وہ سب پارسا کے گھر آئے تھے ۔۔ احتشام اور الہام نے یہی رہنا تھا ۔۔ عرش ، حامد ، معاذ اور عامر چائے پی کر اپنے اپنے گھر جاچکے تھے ۔۔ احتشام اور پارسا اپنے کمرے میں آرام کرنے جاچکے تھے اور الہام اپنےکمرے میں اپنا سامان سیٹ کر رہی تھی ۔۔ جب تک سامان نا سمیٹ لیتی ،اسے نیند نہیں آنی تھی ۔۔ اپنا تمام سامان سمیٹنے کے بعد وہ فریش ہوکر سوگئ تھی اور پھر اسکی آنکھ رات کو کھلی تھی ۔۔ وہ جلدی سے تیار ہوکر نیچے آئی تھی۔۔ جہاں ٹی وی لاؤنچ میں سب بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔۔
‘’ آگئ تم ۔۔ کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے۔۔ اتنی بھوک لگ رہی ہے ’’ پارسا نے اسکے آتے ہی کہا تھا۔۔ وہ مسکرا کر سامنے بیٹھ گئ تھی ۔
’’مجھے اٹھا لیتے آپ لوگ ’’ اس نے احتشام کی طرف دیکھا تھا ۔۔
’’ میں تو آرہا تھا اٹھانے۔۔ مگر ان میڈم نے روک لیا ’’ احتشام نے پارسا کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا ۔۔
’’ ظاہر ہے تم آرام کر رہی تھی۔۔ اچھا میں کھانا لگواتی ہوں بھوک لگ رہی بہت ’’ وہ اب کچن کی طرف بڑھی تھی ۔۔
’’ میں بھی آتی ہوں ’’ الہام بھی کہہ کر اسکے پیچھے گئ تھی ۔۔
’’ تم کیوں آگئ ؟ میں لگارہی تھی کھانا ’’ پارسا نے اسے کام کرتے دیکھ کر کہا تھا ۔۔
’’ میں آرام کر کے تھک گئ ہوں اسلئے تھوڑا کام کرنا چاہتی ہوں ’’ پلیٹس ڈائیننگ ٹیبل کر رکھتے ہوئے اس نے کہاتھا۔
’’ مگر میں تمہیں کام نہیں کرنے دونگی اب ۔۔ ویسے بھی تم مہمان ہویہاں ’’ پارسا نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ مہمان؟ ’’ اسے صدمہ لگا تھا ’’ میں یہاں مہمان ہوں ؟ آپ نے تو کہا تھا کہ یہ میرا بھی گھر ہے ’’ اس کے انداز پر پارسا ہنسی تھی ۔
’’ ارے بھئ بلکل یہ تمہارا گھر ہے مگر تم اس گھر میں بھی مہمان ہونا ۔۔ آخر کچھ دنوں میں تمہاری شادی ہونے والی ہے’’
’’ میں سب کو بلا کر لاتی ہوں ’’ اسکی بات پر وہ فوراً وہاں سے نکلی تھی۔۔۔ اور پارسا الہام کے اس طرح شرمانے پر مسکرا کر کام میں لگ گئ تھی ۔۔۔
وہ سب کھانے کی ٹیبل پر موجود تھے۔۔ معاذ صاحب تو کھانا دیکھ کر ہی ٹوٹ پڑے تھے ۔۔ رانیہ عرش سے الہام کے متعلق سوالات کر رہی تھی اور مظہرصاحب خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔
’’ تو پھر پاپا ہم کل ہی چلتے ہیں الہام کے گھر ’’ رانیہ نے مظہر صاحب سے کہا تھا ۔۔
’’ وہ تو ہم جائینگے مگر الہام کے والد بھی ہوتے تو زیادہ اچھا ہوتا ۔۔ آخر وہ انکی بیٹی ہے ’’ مظہر صاحب کی بات پر عرش نے معاذ کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔
’’ انکل وہ میں نے آپکو بتایا تھا ۔۔ شاید آپ بھول گئے ’’معاذ نے مظہر صاحب سے کہا تھا ۔ پیرس جانے سے پہلے وہ سب بتاتو چکا تھا ۔۔
’’ ہاں مجھے یاد ہے ۔۔ مگر ایسا کب تک چلے گا ؟ ہمیں اس آخری مسئلے کو بھی حل کرنا چاہئے ’’
’’ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں پاپا ۔۔ مگر ابھی میں الہام کو نہیں مناسکتا ۔۔ لیکن وقت آنے پر ہم اسکا بھی حل نکال لینگے ’’ عرش نے مظہر صاحب سے کہا تھا ۔۔ وہ خود بھی چاہتا تھا کہ الہام اب اپنے پاپا کو معاف کردے مگر ابھی وہ الہام سے اس بارے میں بات نہیں کرسکتا تھا ۔۔ اسے صحیح وقت کا انتظار تھا ۔۔
’’ چلو پھر جیسے تم سب کو مناسب لگے ۔۔ ہم کل شام انکی طرف جائینگے اور شادی کی تاریخ لے کر آئینگے ’’ مظہر صاحب نےمسکرا کر کہا تھا ۔۔ معاذ نے عرش کو آنکھ ماری تھی۔۔ جس پر بس ہنس دیئے تھے ۔۔
اگلی شام سب پارسا کے گھر پر موجود تھے ۔۔ الہام اور عرش آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔۔ رانیہ الہام کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔ جبکہ احتشام عرش کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔ پارسا کافی سرو کر رہی تھی ۔۔
’’ ویسے مان گئ عرش تمہیں ۔۔۔ اب سمجھ آیا کہ اتنے سال تم نے انتظار کیوں کیا ۔۔ آخر اتنی حسین اور خوبصورت لڑکی تمہیں ملنی بھی کہاں تھی ’’ رانیہ نے الہام کا ہاتھ پکڑ کر اسے چھیڑا تھا ۔۔ عرش نے اسے آنکھیں دکھائی تھیں جبکہ الہام مسکرا دی تھی ۔۔
’’ بلکل ٹھیک کہا آپ نے ۔۔ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ بہت بڑی چیز ہے۔۔ مگر مجھ معصوم کی کوئی سنتا کہاں تھا ’’ معاذ نے بھی اپنا فرض پورا کیا تھا ۔۔۔
’’ ہماری الہام ہے ہی اتنی اچھی کہ کوئی بھی اسکے انتظار میں عمر گزار سکتا ہے ’’ اس بار حامد نے کہا تھا۔۔ اور پارسا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔ صرف وہی جانتی تھی کہ یہ الفاظ حامد نے دل کی گہرائیوں سے کہے تھے ۔۔
’’ خیر اب ہمارا عرش بھی کسی سے کم نہیں ہے ’’ عامر نے عرش کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔۔
’’مگر الہام بھابھی سے کم ہی ہے ۔۔ کیوں الہام بھابھی ؟ ’’ معاذ نے الہام کی طرف جھک کر کہا تھا ۔۔
’’ بلکل ’’ الہام نے بھی اسکا ساتھ دیا تھا ۔۔ جس پر عرش نے اسے حیرت سے دیکھا تھا ۔۔
’’ دیکھا ۔۔ بھابھی بھی میرے ساتھ ہیں ’’ معاذ نے ایک ہاتھ اٹھا کر کہا تھا اور الہام نے اس پر اپنا ہاتھ مارا تھا ۔۔۔
’’ اچھا بچوں چپ رہو۔۔ مجھے اصل بات کرنےدو ’’ اب کی بار مظہر صاحب نے کہا تھا ۔ جس پر سب خاموش ہوگئے تھے۔
’’ آپ سب جانتے ہیں ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔ عرش اور الہام ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے ہیں اور۔۔’’ مظہر صاحب کی بات بیچ میں معاذ نے کاٹ دی تھی ۔۔
’’ پسند نہیں انکل ۔۔۔ محبت کرتے ہیں ’’ معاذ نے دونوں ہاتھ پھیلا کر فلمی انداز میں کہا تھا ۔۔ جس پر وہاں موجود سب افراد ہنسے تھے ۔۔ جبکہ مظہر صاحب نے اب اسے گھورا تھا ۔۔
’’ سوری ۔۔ آپ لائینیں پوری کریں ’’ معاذ کہہ کر کباب کی جانب متوجہ ہوچکا تھا ۔۔
’’ جی تو ہم چاہتےہیں کہ اب دونوں کی شادی جلد ازجلد کردی جائے ’’ مظہر صاحب نے احتشام سے کہاتھا۔
’’ جی ہم بھی یہی چاہتے ہیں انکل ۔۔ مجھے اور پارسا کو بہت مشکل سے دس دن کی چھٹی ملی ہے ۔ ہمیں واپس جانا ہوگا ۔۔ الہام کے پاس تو ایک مہینہ ہے ۔۔ مگر عرش نے بھی بیس دن بعد ہسپتال جوائن کرنا ہے ’’ احتشام نے انہیں آگاہ کیا تھا۔
’’ پھر ہمیں دس دن کے اندر اندر شادی کرنی ہوگی ’’ عامر نے کہا تھا ۔۔
’’ جی بلکل ’’ پارسا نے جواب دیا تھا ۔۔
’’ تو پھر اگلے ہفتے کا جمعہ ٹھیک رہے گا ۔۔ اگر آپ لوگوں کو اعتراض نا ہو تو ’’ مظہر صاحب نے کہہ کر پارسا کے والدین کی طرف دیکھا تھا ۔۔ جو احتشام کی جانب دیکھ رہے تھے ۔۔
’’ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے ’’ پارسا کی ماما نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ چلو بھئ مبارک ہو بہت بہت ۔۔ مٹھائی کھائیں ’’ پارسا نے مٹھائی کی پلیٹ اٹھا کر کہا تھا ۔۔
’’ ایک منٹ ’’ عرش نے اسے روکا تھا ۔۔ سب اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے ۔۔
’’ کیا ہوا ؟ ’’ پارسا نے مٹھائی واپس رکھتے ہوئے کہا تھا ۔
’’ آپ لوگوں کو نہیں لگتا کہ آپ کچھ بھول رہے ہیں ؟ ’’ اس نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔
’’ کیا بھول رہے ہیں ؟ ’’ پارسا کی والدہ نے کہا تھا ۔۔
’’ وہی جو شادی سے پہلے ہوتی ہے ’’ معاذ نے جواب دیا تھا۔۔
’’ شادی سے پہلے کیا ہوتی ہے ؟ ’’ احتشام نے ناسمجھی سے پارسا کی جانب دیکھ کر کہا تھا۔۔ جس نے کاندھے اچکا دیئے تھے۔
’’ افو احتشام بھائی ۔۔ اپنی باری میں تو آپکو سب یاد تھا اور اب آپ سب بھول گئے ’’ حامد نے افسوس سے کہا تھا ۔۔
’’ کیوں اتنا سسپنس کریئٹ کر رہے ہو ۔۔ صاف صاف بتاؤ کیا بات ہے ؟ ’’ مظہر صاحب نے عرش سے کہا تھا ۔۔
الہام نے بھی عرش سے اشارہ کر کے پوچھا تھا مگر وہ بولا کچھ نہیں ۔۔ بس خاموشی سے اٹھا اور الہام کے سامنے جاکر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ سب اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
پھر عرش گٹنوں کے بل الہام کے سامنے زمین پر بیٹھا تھا ۔۔ الہام حیران ہوئی تھی۔۔ اس نے آس پاس دیکھا ۔۔ عرش کی اس حرکت پر سب مسکرا رہے تھے ۔۔ اس نے دوبارہ عرش کی جانب دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
’’ کیا کر رہے ہیں ۔۔ اٹھیں ’’ اس نے دھیمی آواز میں عرش سے کہا تھا ۔۔۔
’’ پہلے کام تو پورا کرلوں ’’ عرش نے مسکرا کر کہا پھر اپنے کوٹ کے جیب سے ایک مخمل کی ڈبیہ باہر نکالی تھی ۔۔
پارسا اور احتشام نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔ واقعی وہ سب سے اہم کام تو بھول گئے تھے ۔۔
عرش نے مخمل کی ڈبیہ الہام کے آگے کی تھی ۔۔ الہام نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا ۔۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے کی نظروں میں تھیں ۔۔
’’ سو ڈئیر الہام ! ’’ عرش نے تھوڑا آگے کو جھک کر کہا تھا ۔۔
’’ وِل یو میری می ؟ ’’ عرش کے کہے الفاظ میں جانے کیا جادو تھا کہ الہام کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ آئی تھی ، آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا تھا ۔۔چہرے پر ایک عجیب روشنی بکھری تھی ۔۔ جو آج سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی تھی ۔۔ حامد نے فوراً اپنی نگاہیں الہام کےچہرے پر سے ہٹائی تھیں ۔۔ اسے ماننا پڑا تھا کہ الہام اس دنیا کی حسین ترین لڑکی تھی یامحبت نے حسین بنادیا تھا ۔
’’ یس ’’ الہام کی دھیمی آواز آئی تھی اور معاذ کی سیٹیوں نے سب کو کان پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کردیاتھا ۔۔ عرش نے الہام کا ہاتھ تھام کر اسکی تیسری انگلی میں انگوٹھی پہنائی تھی اور تالیوں کی آوازوں کے درمیان مٹھائی ایک دوسرے کو کھلائی جارہی تھی۔۔
جب سے تاریخ تہہ ہوئی تھی ۔۔ پارسا نے بھی اپنا انتقام شروع کیا ہوا تھا ْ۔۔ الہام اور عرش کی ملاقات پر پابندی لگادی گئ تھی اور ان پر کڑی نظر بھی رکھی جارہی تھی ۔۔۔ عرش نے کئ بار کوشش کی تھی مگر اس بار معاذ نے بھی اسکی مدد سے صاف انکار کردیا تھا ۔۔ مجبوراً اب وہ بیچارہ شادی کے دن کا انتظار کر رہا تھا ۔۔
اور پھرانکا انتظار ختم ہوا تھا ۔۔۔ شادی کا دن آچکا تھا ۔۔۔عرش سٹیج پر بیٹھا تھا اسکے ایک طرف احتشام اور معاذ تھے ۔۔ جبکہ باقی سب بھی آس پاس موجود تھے ۔۔ اور پھر لڑکیوں کا ایک جھرمٹ نظر آیا تھا ۔۔ عرش نے نگاہ اٹھا کر دیکھا اور نگاہ پلٹنا بھول گئ تھی ۔۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں کھڑا ہوا تھا ۔۔ معاذ بھی اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا ۔۔ اس نے دیکھا ۔۔ وہ لال رنگ کے عروسی جوڑے ، زیورات میں لدی ہوئی ، مہارت سے کئے گئے میک اپ میں آج قیامت ڈھا رہی تھی ۔۔ عرش اپنی جگہ سن کھڑا بس اسے اپنی جانب آتا دیکھ رہا تھا ۔۔ اسکی نگاہوں کی تپش ہی تھی جو الہام نے سر جھکا لیا تھا ۔۔ وہ مسکرائی تھی ۔۔ اور عرش کو لگا کہ جیسے زندگی مسکرائی ہو ۔۔۔ وہ آگے بڑھا تھا ۔۔ اسکے قریب آتے ہی ایک ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔۔ الہام نے یہ ہاتھ تھاما تھا ۔۔ اور اسے لگا ۔۔ جیسے اسے زندگی مل گئ ہو ۔۔۔ الہام سٹیج پر آئی تھی ۔۔ اور وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھ چکے تھے ۔۔۔ اب کی بار عرش نے الہام کی جانب دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی ۔۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اسکی جانب ایک اور بار دیکھا ۔۔ تو خود کو سنمبھالنا مشکل ہوجائے گا ۔۔ نگاہ پلٹنا بھول جائے گی ۔۔ اور وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ ابھی نکاح ہونا باقی تھا ۔۔۔
اور پھر نکاح کا وقت بھی آگیا تھا ۔۔۔ قاضی نے نکاح شروع کرنے کی اجازت مانگی تھی ۔۔
’’ ابھی رک جائیں ‘‘ عرش نے کہا تھا اور سب نے حیران ہوکر اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔
’’ کیوں ؟ کیا ہوا ؟ ‘‘ احتشام نے پوچھا تھا ۔۔۔
’’ ہمیں کسی کا انتظار کرنا ہے ‘‘ عرش نے کے کہنے پر احتشام نے سر ہلایا تھا ۔۔ وہ اب عرش کے اس مہمان کا انتظار کر رہے تھے ۔۔ اور اسی انتظار میں آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا ۔۔
’’ عرش کافی دیر ہوگئ ہے ۔۔ اب ہمیں نکاح شروع کرنا چاہیے۔۔ کسی نے آنا ہوتا تو اب تک آچکے ہوتے ‘‘ احتشام نے کہا تھا ۔۔
’’ بھائی بس ایک منٹ رک جائیں ۔۔ وہ آتے ہی ۔۔۔ ‘‘ اچانک عرش کی نظر سامنے پڑی تھی ۔۔ ‘’ وہ آگئے ‘‘
اور پھر یہی وہ لمحہ تھا جب الہام ۔۔ احتشام اور پارسا سمیت باقی سب نے سامنے آنے والے ان مہمانوں کی جانب دیکھا تھا ۔۔ اور پھر ہر طرف ایک سناٹا چھا گیا تھا ۔۔ الہام کی نظر آنے والوں پر رک چکی تھی ۔۔ اور اسے لگا جیسے وقت رک گیا ہو ۔۔۔ احتشام بھی اپنی جگہ پتھر بن گیا تھا ۔۔ ایجاز صاحب اور رابعہ بیگم ہال سے اندر آرہے تھے ۔۔۔ دونوں کے قدم سستی سے انکی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔ دونوں کی آنکھیں نم تھیں ۔۔
’’ رک جائیں ‘‘ ایک آواز بلند ہوئی تھی ۔۔ اور ان دونوں کے بڑھتے قدم رک گئے تھے ۔۔ عرش نے الہام کی جانب دیکھا تھا ۔۔ وہ حیران تھا ۔۔ الہام کی آنکھیں کسی بھی قسم کی نمی سے پاک تھیں ۔۔۔ وہ سب سامنے کھڑے ان دو لوگوں کو دیکھ رہی تھیں ۔۔ احتشام کی نظروں کا رخ بھی ان الہام کی جانب مڑا تھا ۔۔
’’ نکاح شروع کریں ‘‘ الہام نے کہا تھا ۔۔ اور عرش کی الجھ گیا تھا ۔۔
’’ مگر الہام ۔۔ وہ نکاح میں شامل ہونے آئے ہیں ‘‘ وہ اسے بتانا چاہتا تھا ۔۔
’’ کیا آپ یہ نکاح نہیں کرنا چاہتے ؟ ‘‘ الہام کا لہجہ سخت تھا ۔۔ عرش نے آج سے پہلے کبھی اسکا یہ انداز نہیں دیکھا تھا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دے ۔۔ اس نے سامنے دیکھا تھا ۔۔ جہاں ایجاز صاحب اور رابعہ بیگم اب بھی ہال کے داخلی راستے پر کھڑے تھے ۔۔ کسی نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
’’ نکاح شروع کریں قاضی صاحب ‘‘ احتشام کی آواز تھی ۔۔۔ اور پھر نکاح شروع ہوا تھا ۔۔
کتنا ملتا جلتا سماں تھا نا یہ ؟ اتنے سالوں بعد آج پھر ۔۔ وہ نکاح کے الفاظ سن رہی تھی ۔۔ آج پھر اقرار کیا تھا ۔۔ آج بھی پاپا اس سے بہت دور کھڑے تھے ۔۔ آج بھی رابعہ پھوپھو پاپا کے ساتھ کھڑی تھیں ۔۔۔ مگر حالات میں کتنا فرق تھا ۔۔۔ نکاح ہوچکا تھا ۔۔۔ اور سب دونوں کو مبارک دے رہے تھے ۔۔ پارسا ، احتشام ، معاذ اور حامد سب ہی انہیں آکر مل رہے تھے ۔۔ تصویریں کھچوا رہے تھے ۔۔ اور پھر الہام سٹیج سے اتری تھی ۔۔۔ رخصتی کا وقت تھا ۔۔ احتشام نے قرآن کا سایہ الہام کے سر پر کیا تھا ۔۔ اور وہ عرش کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔ انہیں دونوں کی جانب ۔۔۔ جو اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکے تھے ۔۔۔ وہ اب پاپا کے سامنے رکی تھی ۔۔
’’ سات سال پہلے جب نکاح ہوا تھا ۔۔ جو میں بے بس تھی ۔۔ اور آپ بااختیار ۔۔ اور آج ۔۔ سات سال بعد جب نکاح ہوا ہے ۔۔ تو دیکھیں ۔۔ کیسا انتقام لیا میں نے آپ سے ۔۔ آج میں بااختیار ہوں ۔۔اور آپ بے بس رہے ‘‘ اس نے بھیگتی آواز میں کہا تھا ۔۔ ایجاز صاحب نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے تھے ۔۔۔ کچھ کہنے ہی لگے تھے کہ الہام نے انکے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا تھا ۔۔
’’ ایسا مت کریں پاپا ۔۔۔ آپ کے لئے تو یہی افسوس کافی ہے کہ نہ آپ اپنی مرضی کے نکاح میں اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ سکے ۔۔۔ اور نہ اپنی بیٹی کی مرضی کے نکاح پر ۔۔ اب کوئی شکوہ نہیں رہا مجھے ۔۔ میں اب سب بھول گئ ۔۔ میرا امتحان پورا ہوا ‘‘ وہ کہہ کر پاپا کے گلے لگی تھی ۔۔۔ دونوں کے آنسو نکل رہے تھے ۔۔مگر کتنا فرق تھا دونوں آنسوؤں میں ۔۔۔ ایک صبر کے پھل پر نکل رہے تھے ۔۔۔ اور دوسرے پچھتاوے پر ۔۔۔
’’ یہ پارسا ہے ۔۔۔ آپکی بہو ‘‘ احتشام کی آواز پر رابعہ پھوپھو پارسا کی جانب بڑھی تھیں ۔۔ اور اسے گلے لگایا تھا ۔۔ جبکہ احتشام اپنی جگہ کھڑا رہا تھا ۔۔ وہ پارسا سے الگ ہوکر احتشام کی جانب آئی تھیں ۔۔۔
’’ اپنی ماما کو معاف کر دو بیٹا ‘‘ احتشام کے دونوں بازو پکڑ کر کہا تھا ۔۔۔
’’ معافی کس بات کی ماما ؟ آپ نے سنا نہیں ۔۔ الہام نے کہا کہ یہ افسوس ہی کافی رہے گا کہ نہ پہلے نکاح پر آپ ارمان پورے کر سکیں ۔۔۔ نہ دوسرے نکاح کو دیکھ سکیں ۔۔۔ اب مجھے بھی کوئی شکوہ نہیں ہے ۔۔ میں بھی سب بھول گیا ‘‘ اس نے کہہ کر ماما کو سینے سے لگایا تھا ۔۔
’’ چلیں بھابھی ‘‘ معاذ کی آواز پر الہام پاپا سے الگ ہوئی تھی ۔۔ اور احتشام ماما سے ۔۔ اور پھر الہام اور عرش اس گاڑی کی جانب بڑھے تھے ۔۔ جس میں بیٹھ کر انہوں نے ایک نئے سفر کا آغاز کرنا تھا ۔۔۔

وہ سمندر کے کنارے بھاگ رہی تھی ۔۔ اور اسکے پیچھے عرش تھا ۔۔ جبکہ وہی پاس بنے ایک گھر کے ٹیرس سے احتشام اور پارسا انہیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔
کچھ دیر بھاگنے کے بعد آخر عرش نے اسے پکڑ ہی لیا تھا ۔۔۔
’’ اب مزید مت بھاگنا پلیز ۔۔۔ تھکا دیا ہے تم نے تو مجھے ‘‘ اس کی کلائی تھامتے ہوئے عرش نے کہا تھا ۔۔۔
’’ اتنی جلدی تھک گئے ۔۔۔ ابھی تو پوری زندگی بھاگنا ہے ‘‘ مسکرا کر کہا تھا ۔۔
’’ منظور ہے جناب ۔۔ مگر آج کے لئے اتنا کافی ہے ‘‘ وہ اب گھر کے جانب مڑے تھے ۔۔ الہام نے سامنے اس گھر کو دیکھا ۔۔ جہاں شادی کی رات وہ اسے لے کر آیا تھا ۔۔
’’ یہ گھر کب لیا تھا ؟ ‘‘ قدم بڑٖھاتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔۔
’’ جب تمہیں پہلی بار پیرس میں دیکھا تھا ‘‘ اس کی بات پر الہام حیران ہوئی تھی ۔۔
’’ کیوں ؟ ‘‘
’’ کیونکہ مجھے لگا کہ اب بس اسی کی کمی رہ گئ ہے ۔۔ ایک ایسا گھر جو سمندر کنارے ہو ۔۔ جہاں ہم ہر ویکیشنز میں آکر نئ یادیں بنائیں گے ۔۔ یہی جگہ تو ہم پر راس آتی ہے ۔۔۔ ‘‘ عرش کے جواب پر اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔
وہ دونوں اب اپنے اس گھر کی جانب بڑھے تھے ۔۔ جس کے ٹیرس پر احتشام اور پارسا کھڑے ان دونوں کو اپنی جانب آتا دیکھ رہے تھے ۔۔۔ چاروں کی نظریں ملیں تھیں ۔۔۔ سب مسکرائے تھے ۔۔۔
ختم شد !

 

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial