بے قدرہ

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 10

صبح اس کی آنکھ سکندر سے پہلے ہی کھل گئی تھی – رات کا سارا منظر یاد اتے اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے تھے – اس وقت بھی اس کے وجود پر سکندر کی شرٹ موجود تھی – اسے اس لیے نہی رونا نہی آرہا تھا کہ کل رات سکندر نے بنا اس کی سنے اپنی من مانی کی بلکہ یہ سوچ اس کی آنکھوں میں آنسوں لے آئی تھی کہ اس دن کی طرح آج بھی سکندر وہی الفاظ دہرائے گا اور پھر سے ان الفاظ سے اس کی روح زخمی ہو گی –
سوتے ہوئے سکندر پر ایک نظر ڈالٹے اس کے جاگنے سے پہلے اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کرتے وہ آہستہ سے خود سے کمفرٹر اتارتی بیڈ سے اترنے لگی تھی کہ تبھی اچانک سکندر نے اس کا ہاتھ تھاما تھا – سکندر کے اچانک یوں ہاتھ تھامنے پر اس کی چیخ نکلی تھی – کہاں جا رہی ہو ؟؟ وہ نید کی وجہ سے بمشکل کھلی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولا – اپنے کمرے میں جا رہی ہوں – عنایہ نے آہستہ آواز میں جواب دیتے ہاتھ چھوڑانے کی کوشش کی مگر سکندر نے گرفت مضبوط ہی رکھی تھی – کیوں اپنے کمرے میں جا رہی ہو ؟؟ اور یہ کمرہ کس کا ہے ؟؟ سکندر کے حیرت سے پوچھنے پر عنایہ نے اس کی جانب شکائیتی نظروں سے دیکھا تھا –
اپ نے بھی تو بعد میں کہنا ہے نہ کہ بھول جاو سب جو کچھ رات کو ہوا – میں نے بس تمہیں ضرورت کے طور پر استعمال کیا – تو یہ سب سن کر دل دکھانے سے بہتر ہے نہ کہ میں پہلے ہی اپ کے کمرے سے چلی جاوں – عنایہ کے اداسی سے کہنے پر سکندر کو ڈھیروں شرمندگی نے آ گھیرا تھا اور وہ اُٹھ کر بیٹھا تھا مگر عنایہ کا ہاتھ ویسے ہی تھام رکھا تھا – نہی اس کی ضرورت نہی تمہیں – بلکہ آج سے اور ابھی سے یہ کمرہ تمہارا ہے – تم اج سے اس کمرے میں رہو گی – چاہے میں یہاں ہوں یاں نہیں – اور اس بار میں بلکل اپنے حواسوں میں تمہارے قریب ایا تھا – ہاں یہ بات الگ ہے کہ بعد میں تمہاری قربت نے میرے سارے حواس گم کر دیے تھے اگر کچھ مجھے یاد تھا یا کسی چیز کی سمجھ تھی تو وہ تمہارا وجود تھا – پچھلی بار کے لیے میں شرمندہ ہوں –
مگر اب میں تمہارے ساتھ اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہوں – ایک نارمل کپل کی طرح رہنا چاہتا ہوں – بولو تم دو گی میرا ساتھ اس رشتے کو نبھانے کے لیے – سکندر کے الفاظ تو عنایہ کو دنگ کر گئے تھے – وہ سانس روکے اس کا ایک ایک لفظ سن رہی تھی – آپ سچ…میرا مطلب کہ آپ یہ سب …. – اسے سمجھ نہی ارہی تھی کہ وہ کیا بولے اور کیسے ری ایکٹ کرے – اس کی یہ حالت سکندر کو ہسنے پر مجبور کر گئی تھی – ہاں بلکل میں سچ کہہ رہا ہوں اور یہ سب میں ہی بول رہا ہوں –
تو بتاو تم نبھاو گی میرے ساتھ یہ رشتہ – سکندر کے پوچھنے پر عنایہ نے خوشی کے سبب آئے آنسوں سے بھری آنکھوں کو صاف کرتے جلدی سے ہاں نیں سر ہلایا تھا – اسے اور کیا چاہیے تھا کہ اس کی محبت اس کا شوہر اسے قبول کر کے اس کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھنا چاہتا تھا – ویری گڈ چلو اب سو جاو – سکندر اسکا ہاتھ چھوڈتا اس کے گال پر تھپکی دیتے پھر سے لیٹتا بولا – نہیں مجھے نماز پڑھنی ہے – عنایہ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا –
نماز کا ٹائم ہو گیا کیا – سکندر نے حیرت سے پوچھا – جی ہو گیا ہے بلکہ ختم ہونے والا ہے – عنایہ کے جواب پر سکندر جلدی سے اٹھ بیٹھا – نماز تو مجھے بھی پڑھنی ہے – سکندر کے کہنے پر عنایہ مسکرائی تھی – اپ یہ واش روم یوز کر لیں میں اپنے کمرے کے واش روم کو یوز کر لیتی ہوں – پھر دونوں اکھٹے نماز پڑھیں گے – مجھے آپ کی امامت میں نماز پڑھنی ہے – عنایہ کے کہنے پر سکندر نے آگے ہوتے اس کے ماتھے کا بوسا لیا تھا اور عنایہ کو لگا تھا جیسے وہ دنیا کی سب سے خوش قسمے لڑکی ہو – ٹھیک ہے ایسے ہی کرتے ہیں – سکندر اس سے کہتا بیڈ سے اترتا واش روم میں جا کر بند ہو گیا جبکہ عنایہ بھی اس کے جانے کے بعد اٹھ کھڑی ہوتی صوفے پر پڑا اپنا رات والا ڈریس اٹھاتی اپنے کمرے کی طرف چل پڑی تا کہ وہ بھی جلدی سے سکندر کے غسل لینے تک خود بھی غسل لے کر آسکے –
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
نماز پڑھنے کے بعد وہ دونوں پھر سے سو گئے تھے اور اب دس کا ٹائم ہو گیا تھا – وہ کمرے سے باہر نکلی تو سامنے ہی کومل کو کھڑے پایا جو انکھیں پھارے اسے سکندر کے کمرے سے نکلتا دیکھ رہی تھی – اوہ خدایا یہ کیا دیکھ رہی ہیں میری گناہ گار آنکھیں – عنایہ جی شاہ سائیں کے کمرے سے نکل رہی ہیں – نہایا اور کھلا کھلا روپ مطلب کچھ تو گڑ بڑ ہے -وہ اس کے قریب آتی ایکسرے کرتی نگاہوں سے اسے تکتی بولی –
عنایہ تو اس کے یوں دیکھنے پر شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی – اور اوپر اسے اس کے الفاظ بھی عنایہ کو شرم سے لال کر گئے تھے – ہممم شرما رہی ہے لڑکی یعنی رات بڑی اچھی اور رومینٹک گزری ہے – میں نہ کہتی تھی سکندر سائیں کی خیر نہی – تو پھر کر دیا نہ اپ کے روپ نے انہیں دیوانا اور کر دی انہوں نے رات اپ پر پیار کی برسات…..- بس کرو کومل پلیز شرم کرو کچھ – اس سے پہلے کہ کومل اپنی باتوں کے زریعے ہی اسے شرم سے فنا کر دیتی عنایہ نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اسے خاموش کرواتے کہا – اور پھر بنا اس کی کوئی بات سنے اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتی سیڑھیوں کی طرف بھاگ گئی تھی – اس کا ارادہ نیچے کچن میں جا کر سکندر کے لیے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنانے کا تھا –
جبکہ اس کے چہرے کی رونق اور شرماہٹ دیکھ کومل نے دل سے اسے خوش رہنے کی دعا دی تھی – وہ خود خوش تھی کہ چلو اس کی دوست کی زندگی میں سب ٹھیک ہو گیا مگر کوئی نہی جانتا تھا کہ ابھی کچھ بھی ٹھیک نہی ہوا تھا – ابھی بہت سے دکھ باقی تھے جن سے بے خبر وہ چہرے پر شرماہٹ اور خوشی لیے کچن میں کھڑی سکندر کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی –
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
سکندر اور داد ناشتے کے بعد آفس جا چکے تھے – داد تو سکندر اور عنایہ کی نزدیکی دیکھ حیران تھا مگر خوش بھی تھا وہ سکندر کے لیے – کومل تو عنایہ کو ستانے کا کام سر انجام دے رہی تھی اور عنایہ بیچاری بس اسے گھور کر رہ جاتی یا اس کے کندھے پر ایک آدھی چپٹ لگا دیتی – اچھا بس کرو اب تم مجھے تنگ کرنا میں جا رہی ہوں اپنے کمرے میں سونے کے لیے اور تم بھی سو جاو جا کر –
عنایہ ایک دم ٹی وی لاونچ میں پڑے صوفے سے کھڑی ہوتی کومل سے بولی جس پر اس کی آنکھوں میں پھر سے شرارت جاگی تھی – جی جی جائیں جائیں سوئیں جا کر – ویسے بھی ساری رات کہاں سوئی ہوں گی اپ – شاہ جی نے سونے ہی کہاں دیا ہوگا آپ کو – تو نید بھی پوری نہی ہوئی ہوگی – کومل عنایہ کو پھر شرارت سے چھیڑتی بولی مگر اسے جوتی اتار کر اپنی جانب بڑھتا دیکھ ایک منٹ سے پہلے وہاں سے غائیب ہوئی تھی اور پیچھے عنایہ محظ اس کے ستانے پر مسکرا کر تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی تھی –
::::::: :::::: :::::::: :::::::: :::::::::::::::::::::
رات کا وقت تھا اور وہ اپنے کمرے میں بیٹھی پڑھ رہی تھی کہ تبھی اس کا فون رنگ ہونے لگا – فون سکرین پر سکندر کا نام دیکھ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی دل میں عجیب سی ہلچل ہوئی تھی – بنا دیر کیے اس نے فوراً فون اٹھا کر کان سے لگایا تھا- اسلام علیکم ! کسی ہو ؟؟ اور کیا کر رہی ہو ؟؟فون اٹھاٹے ہی اگلی جانب سے سکندر کے الفاظ گونجے تھے جن پر اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی- واعلیکم اسلام ! میں بلکل ٹھیک ہوں اور کچھ نہی بس پڑھ رہی تھی – آپ کیسے ہیں ؟؟
عنایہ نے تفصیل سے جواب دیتے اس کا حال پوچھا تھا – میں بھی ٹھیک ہوں بس تمہیں ایک بات کہنی تھی – جی جی کہیں کیا کہنا ہے اپ نے ؟؟ عنایہ نے سکندر کے کہنے پر جلدی سے پوچھا – دراصل تمہیں یہ کہنا تھا میں نے کہ تم کل سے یونی نہی جاو گی – گھر بیٹھ کر پڑھو گی اور پھر پیپرز دے دینا – سکندر کی بات ہر عنایہ کو سمجھ نہ ایا کہ وہ کیا بولے – مگر کیوں شاہ جی ؟؟ میری سڈیز کا حرج ہو گا – گھر میں نہی سہی سے پڑھا جاتا جو وہاں کلاس میں لیکچر لے کر سمجھ کر پڑھا جاتا ہے – عنایہ کے بولنے پر دوسری جانب کچھ دیر خاموشی رہی مگر پھر سکندر کی بھاری اواز گونجی – دیکھو عنایہ میں ہر بار نہی پہنچنے والا تمہیں بچانے کے لیے –
اور یونی کے لڑکے نہایت بدتمیز اور لوفر ہوتے ہیں – میں بس یہ چاہتا ہوں کہ تم گھر رہ کر پڑھو – یہاں تم سیف ہو اور مجھے بھی تسلی رہے گی کہ تم بلکل ٹھیک ہو – کیا تم میری اتنی سی بات نہی مان سکتی ؟؟ سکندر کی باتوں پر وہ لاجواب ہوئی تھی مگر اس کے آخر میں کیے جانے والے سوال پر جلدی سے وہ سیدھی ہوئی تھی – نہیں ایسی بات نہی ہے شاہ- آپ کا ہر حکم سر انکھوں پر – ٹھیک ہے میں گھر میں رہ کر پڑھ لیا کروں گی – عنایہ کے جواب پر سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی – اسے یقین تھا عنایہ اس کی بات مان جائے گی – ثھیک ہے میں ڈین سے بات کر لوں گا تمہاری سٹدیز کے مطلق – تم بتاو کیا کیا میرے جانے کے بعد – سکندر کے پوچھنے پر عنایہ اسے سارے دن کی روداد سنانے لگی اور یوں ہی دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے سو گئے –
::::: ::::::: ::::: :::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::
سکندر کا اب یہاں ہفتے میں تین دن چکر ضرور لگتا تھا اور کال پر وہ عنایہ سے روز بات کرتا تھا – داد اور کومل کے نکاح کی تاریخ بھی تہہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اب عنایہ کو بھی کومل کو چھیڑنے کا موقع مل گیا تھا – مگر کومل تو شرم کرنے والوں میں سے نہ تھی وہ تو اس کی باتوں پر یاں تو ہس دیتی یاں خود بھی اسے بتانے لگتی کہ وہ کیسے داد کے لیے رومینٹک وائف ثابت ہو گی جس پر عنایہ تو اسے دیکھ کر رہ جاتی – سب کچھ بہت اچھا جا رہا تھا – تین ماہ ہوگئے تھے سکندر کو اس کے ساتھ اچھے ہوئے اور وہ بہت خوش تھی اپنی زندگی میں –
امی ابو سے ملنے کو دل کرتا مگر سکندر سے کچھ کہتی بھی نہ تھی کہ کہیں اسے برا نہ لگ جائے – آج اس کے مڈ کا آخری پیپر تھا اور ابھی وہ پیپر دے کر گراونڈ میں بیٹھی ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کے پاس میک کی گرل فرینڈ آ کر کھڑی ہوئی تھی – اس نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جو اس کے سامنے کھڑی اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے نظروں سے ہی کھا جائے گی – جی آپ کو کوئی کام تھا ؟؟ اس نے حیرت سے سوال کیا – کام تو نہی مگر اتنا بتانے آئی ہوں کہ تمہارے ہسبینڈ نے میک کو یونی سے نکلوا کر اس کا سارا کریئر برباد کر دیا – اور یہ بلکل ٹھیک نہی ہوا – اس نے مجھے چھوڈ کر اچھے مستقبل کے لیے کسی اور امیر لڑکی سے شادی کر لی –
مگر اس سب کی ذمہ دار تم ہو اور تم اس کی قیمت چکاو گی – دیکھنا مجھے جس دن موقع ملا میں تم سے اپنی ناکام محبت کا بدلہ لوں گی – عنایہ تو اس کی باتوں اور دھمکیوں پر حیرت کا مجسمہ بنی اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ اسے وارن کرتی وہاں سے جا چکی تھی – اس لڑکی کے وہاں سے جاتے ہی عنایہ بھی فون کال کی آواز پر حیرت کی دنیا سے واپس آتی اُٹھ کھڑی ہوئی اور باہر گیٹ کی جانب بڑھ گئی کیوں کہ ڈرائیور آچکا تھا – ویسے بھی اس نے اس لڑکی کی دھمکیوں کو سیریس نہیں لیا تھا – ہاں اسے حیرت ضرور ہوئی تھی کہ اس کو دھوکہ اس کے بوائے فرینڈ نے دیا اور بدلہ وہ اس سے لینا چاہتی تھی –
خیر جو بھی تھا اسے ڈر نہیں لگا تھا اس کی دھمکیوں سے اور نہ ہی اس کا ارادہ اس کے بارے میں سکندر کو بتانے کا تھا – کیوں کہ اسے یہ سب گیڈر دھمکیاں لگیں تھیں اس لیے سکندر کو نہ بتانا ہی بہتر تھا مگر کیا سچ میں نہ بتانا بہتر تھا یاں بتانا یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا –
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial