بے قدرہ

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 20

وہ اور کومل دونوں ہی ولیمے کی دلہن کے روپ میں سجی سنوری سٹیج پر بیٹھی تھیں – کومل کے چہرے کی خوشی دیکھ کر پتہ چل رہا تھا کہ وہ داد کا ساتھ پا کر بہت خوش تھی -جبکہ عنایہ چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجائے سٹیج پر بیٹھی تھی –
سبھی لوگ اس کی اور سکندر کی جوڑی کو سراہ رہے تھے – زلیخا انٹی بھی اسے دیکھ کر اس کے صدقے واری جا رہی تھیں – وہ واقعی ہی سکندر کے ساتھ ججتی تھی – بیٹھ بیٹھ کر اب تو اس کی کمر میں درد ہونے لگ گیا تھا اخر اس نے ہمت ہارتے داد کو مخاطب کیا جو ابھی سٹیج پر ایا تھا – داد بھائی اپنے سائیں سے کہیں مجھے یہاں سے گھر بھیجیں میری کمر اکڑ گئی ہے –
وہ چڑچڑے پن سے داد سے بولی جس پر داد فورا سر ہلاتا سکندر کی طرف بڑھ گیا – تھوڑی ہی دیر بعد سکندر سٹیج پر حاضر تھا کیا ہوا تمہیں داد بتا رہا تھا تمہاری کمر میں درد ہے وہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھتا فکر مندی سے پوچھنے لگا – ہاں جی درد ہے اور بہت زیادہ درد ہے – خدارا اپ مجھے گھر لے چلیں میری حالت کا ہی سوچ لیں – اس نے کُڑتے ہوئے کہا – اوکے چلو چلتے ہیں –
اس کا ہاتھ پکڑ اسے کھڑا کرتے وہ بولا اور اسے لیے سٹیج سے نیچے اترا تھا – ان دونوں کو یوں سٹیج سے نیچے اتر کر جاتا دیکھ سب لوگ حیران ہوئے تھے – دادی شگفتہ بیگم اور امجد صاحب فورا ان کے پاس ائے تھے – کیا بات ہے بیٹا ایسے کیوں جا رہے ہو ؟؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا عنایہ کی ؟؟ بی جان نے فکر مندی سے پوچھا – جی بی جان بس بیٹھ بیٹھ کر اس کی کمر درد کرنے لگ گئی ہے –
ویسے بھی میرے خیال سے کافی دیر ہو گئی ہے چلنا چاہیے – اپ بھی ا جائیں ساتھ – اس نے وجہ بتاتے دادی کو بھی ساتھ چلنے کی افر کی تھی جو انہوں نے رد کر دی تھی – نہیں بیٹا میں داد کے ساتھ ا جاؤں گی تم لے کر جاؤ عنایہ کو – دادی عنایہ کے سر پر ہاتھ رکھتیں سکندر سے بولیں جبکہ شگفتہ بیگم اور امجد صاحب نے بھی عنایہ کو پیار کرتے دعائیں دیتے سکندر کے ساتھ بھیج دیا تھا –
::::::::::::::::::::: ::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::
گھر اتے ہی سب سے پہلے اس نے اپنی بھاری میکس اتاری تھی جو لائٹ پرپل کلر کی تھی – وہ اپنے کپڑے تبدیل کر کے واش روم سے باہر نکلی تو سکندر کو پیڈ پر لیٹے پایا – وہ بھی اپنا تھری پیس چینج کر کے ا چکا تھا اور اس وقت ٹراؤزر شرٹس میں ملبوس تھا – سکندر کا تھری پیس بھی اس کی میکسی کے ہم رنگ تھا – سکندر نے خود میکسی اور تھری پیس پسند کیے تھے – آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟
وہ واش روم سے نکلتی سکندر سے سخت لہجے میں پوچھنے لگی – کیا مطلب یہاں کیا کر رہا ہوں – میرا کمرا ہے یہ اور میں اپنے کمرے میں آیا ہوں – سکندر نے سر کے نیچے کا تقیہ درست کرتے آرام دہ لہجے میں کہا –
اپ شاید بھول رہے ہیں بی جان نے یہ کمرا مجھے دے دیا ہے اور آپ کو کمرے سے نکال دیا ہے – عنایہ نے اسے یاد دلاتے کہا – ہاں یاد ہے مجھے پر تم شاید بھول رہی ہو کہ ابھی ہمارا ولیمہ ہوا ہے – اور کون سا شوہر ولیمے کے بعد بھی اپنی بیوی سے دور رہتا ہے –
سکندر نے اسے آنکھ مارتے کہا – آپ اپنی بات سے مکر رہے ہیں سکندر – اور اگر آپ نے ایسا ویسا کچھ سوچا نہ تو میں کچھ کر گزروں گی – عنایہ نے جیسے اسے دھمکی دی تھی – نہیں نہیں میں بلکل بھی نہیں مکر رہا ہاں بس مجھے میرے کمرے کے بغیر نید نہیں آتی –
یہ جو اتنے دن کمرے کے بغیر دوسرے کمرے میں سویا ہوں سچ جانو مجھے سکون بھری نیند نہیں ائی اور تم بے فکر رہو میں تمہیں بالکل بھی تنگ نہیں کروں گا – بلکہ تم یہ سمجھو کہ میرا وجود اس کمرے میں ہے ہی نہیں – عنایہ کی دھمکی پر سکندر فورا سیدھا ہو کر بیٹھتا بولا تھا جبکہ عنایہ ابھی بھی اسے غصے سے دیکھ رہی تھی – ٹھیک ہے اپ یہاں رہیں مجھے نہیں رہنا پھر اس کمرے میں –
میں دوسرے کمرے میں جا رہی ہوں – عنایہ اسے بول کر جانے لگی مگر سکندر فورا پھرتی سے اٹھتا اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک چکا تھا – نہیں نہیں اس کی بھی ضرورت نہیں ہے تم یہاں ہی رہو – خود سوچو گھر کے نوکر کیا سوچیں گے – بی جان نے یہ ولیمہ اسی لیے کیا ہے تاکہ لوگ خاص کر گھر کے نوکر ہمارے گھر کا تماشہ نہ بنتے دیکھیں – اور ان کے منہ بند ہوں –
تو ایسے میں اگر تم پھر سے الگ کمرے میں رہو گی تو پھر کیا فائدہ ہوا بی جان کے یہ سب کرنے کا – سکندر نے جیسے اسے سمجھایا تھا – ٹھیک ہے پر اپ پھر صوفے پر سوئیں گے – عنایہ کی بات پر سکندر نے حیرت سے پہلے اسے اور پھر صوفے کو دیکھا تھا – میں اس پر پورا نہیں ا سکتا یار –
خود سوچو میں کہاں اور وہ چھوٹا سا صوفہ کہا – سکندر نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے اسے کہا – ٹھیک ہے پھر میں صوفے پر سو جاتی ہوں – عنایہ صوفے کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی جب سکندر نے اس کا ہاتھ واپس پکڑا تھا –
نہیں نہیں تمہارا صوفے پر سونا ٹھیک نہیں ہے میں ہی سو جاؤں گا کوئی بات نہیں – وہ برے برے منہ بنا کر کہتا صوفے پر جا کر لیٹ گیا تھا جبکہ عنایہ اسے ایک نظر دیکھتی بیڈ کی طرف بڑھ گئی تھی –
::::::::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::::::::::::
دن اور ماہ کیسے گزرے پتہ ہی نہ چلا – ان گزرے ماہ میں سکندر نے عنایہ کا بے حد خیال رکھا تھا اور بہت بار اسے منانے کی کوشش بھی کی لیکن عنایہ کا دل واپس اس کی طرف مائل نہیں ہوا تھا –
آج عنایہ کی ڈلیوری تھی وہ اندر لیبر روم میں موت اور زندگی کے درمیان جھولتی ایک نئی زندگی کو دنیا میں لا رہی تھی جبکہ باہر کوریڈور میں سکندر پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا – بیٹھ جاؤ سکندر تمہارے یوں پریشانی سے ٹہلنے سے کچھ نہیں ہونے والا – بیٹھ جاو یہاں ٹک کر انشاللہ سب بہتر ہو گا –
بی جان جو کب سے اسے ادھر اُدھر ٹہلتا دیکھ رہی تھیں آخر تنگ آکر بولیں – کیا کروں بی جان مجھے پریشانی ہو رہی ہے – وہ ان کے قریب بیٹھتا فکرمندی سے بولا تھا جبکہ ہاتھ اور پاوں پریشانی سے ابھی بھی ہل رہے تھے – داد ایا نہیں ابھی تک – آ جانا چاہیے تھا اسے کب کا وہ گھر سے نکلا ہوا ہے –
بی جان نے سکندر کا دیہان داد کی طرف کرتے کہا جسے سکندر عنایہ کو ہوسپٹل لاتے ہوئے کال کرکے بتا چکا تھا تا کہ وہ آتے ہوئے کومل کو لے آئے – آتا ہوگا – سکندر نے مختصر سا جواب دیتے واپس نگاہیں لیبر روم کے دروازے پر ٹکا لیں تھیں – ایک تو اس کو عنایہ کی ٹینشن تھی اور دوسرا پھر یہ فکر بھی کہ بے بی کی پیدائش کے بعد عنایہ اس سے طلاق کا مطالبہ کرے گی تو وہ کیسے ٹالے گا اسے –
اب تک تو اس نے اسے لارے میں رکھ لیا تھا مگر اب وہ لارا بھی ختم ہو گیا تھا – لو آگیا داد – بی جان نے اس کا دیہان اس کی بائیں جانب کروایا جہاں سے داد اور کومل آ رہے تھے – ائی نہیں کیا ڈاکٹر باہر – کومل نے بی جان سے اتے ہی سوال کیا جس پر وہ منہ میں ورد کرتیں نہ میں سر ہلا گئی تھیں –
چند پل اور ان کے انتظار اور فکر کی سولی پر گزرے تھے کہ آخر پھر اندر سے نھنے وجود کے رونے کی آواز آئی تھی اور اس پر ان سب کی نگاہیں لیبر روم کے دروزے پر ایسے جمیں تھیں جیسے وہاں دروازے کے پار انہیں وہ ننھا وجود نظر آ رہا ہو – تھوڑی دیر بعد ہی دروازہ کھولتے نرس اندر سے باہر ائی تھی اور اس کے ہاتھ میں کمبل میں لپٹا ایک ننھا وجود بھی تھا – سکندر نے جلدی سے نرس کے پاس جاتے اس وجود کو اپنی باہوں میں بھرا تھا – مبارک ہو بیٹا ہوا ہے –
نرس نے اس کی طرف مسکراتے ہوئے کہا جب کہ وہ تو بنا پلک جھپکے اپنے بیٹے کے چہرے کو دیکھ رہا تھا – اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے ہاتھ میں پوری دنیا کا خزانہ آگیا ہو – محبت سے اس گُڈے کو دیکھتے اس نے جھکتے ہوئے اس کے ماتھے پر پیار کیا تھا اور پھر بی جان کے پاس اتے اس نے احتیاط سے اسے بی جان کی گود میں ڈالا تھا – بی جان نے اپنی گود میں اپنے پرپوتے کو لیتے بے ساختہ اسے پیار کیا تھا – شاہو یہ تو بالکل تمہارے جیسا ہے –
بی جان نے مسکراتے ہوئے سکندر سے کہا جب کہ داد اور کومل نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی تھی – وہ واقع ہی بالکل سکندر کی طرح تھا کتنا پیارا ہے نہ یہ بی جان – اور سوتا ہوا کتنا کیوٹ لگ رہا ہے – یہ انکھیں کب کھولے گا ؟؟ سکندر کی تو ایکسائٹمنٹ ختم ہی نہیں ہو رہی تھی – کھول لے گا بیٹا – کچھ بچے جلدی کھول لیتے ہیں اور کچھ دیر سے –
بی جان کے کہنے پر اس نے برا سا منہ بنایا تھا – مجھے بھی پکرائیں نا بی جان – کومل نے بے چینی سے کہا جس پر بی جان نے مسکراتے ہوئے اس ننھے گڈے کو مومل کی گود میں دے دیا تھا – اووو کتنا نرم ہے یہ – سوفٹ سوفٹ – بی جان یہ بالکل ایسے ہے جیسے روئی کا گولا ہو – وہ ایک ہاتھ میں اسے تھامے دوسرے سے اس کے گالوں کو چھوتی بچوں کی طرح بولی تھی جبکہ داد اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا –
کوئی بات نہیں پانچ چھ ماہ تک ہمارا بھی ایسا ہی بے بی ائے گا – داد کے کہنے پر کومل کے گال لال ہوئے تھے – اسے بھی چار ماہ پہلے ہی اللہ تعالی نے امید لگائی تھی – وہ سب بچے سے کھیلنے میں اس قدر مگن تھے کہ ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلنے کا انہیں پتہ ہی نہ چلا – ابھی تھوڑی دیر تک آپ ان سے مل سکتے ہیں –
انہیں بچے میں مگن دیکھ ڈاکٹر نے خود ہی انہیں مخاطب کرتے کہا – کیونکہ ڈیلیوری نورمل تھی اسی لیے عنایہ سے انہیں جلدی ہی ملنے کی پرمیشن مل گئی تھی – وہ ٹھیک تو ہے نہ ؟؟ سکندر نے پریشانی سے پوچھا – جی جی بلکل وہ ماشاللہ بلکل ٹھیک ہیں – ڈاکٹر کے مسکرا کر جواب دینے پر سکندر نے شکر کیا تھا –
:::::::::::::::: ::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::
بی جان کے کہنے پر سکندر امجد صاحب اور شگفتہ بیگم کو فون کر کے اطلاع کر چکا تھا اور وہ بھی بہت جلد پہنچنے والے تھے مگر ابھی سکندر داد اور کومل تینوں پریشانی سے صلاح و مشورے میں مگن تھے – وہ ابھی عنایہ سے ملنے نہیں گئے تھے جبکہ بی جان اس سے مل کر گھر واپس جا چکی تھیں –
تاکہ گھر جا کر وہ عنایہ کی حویلی واپسی کی تیاری کر سکیں – اب کیا کریں گے ہم اب تک تو میں نے اسے اسی آس پر اپنے ساتھ باندھے رکھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد میں اسے چھوڑ دوں گا – مگر اب میں کیا کروں گا اب تو وہ مجھ سے ہر حال میں طلاق مانگے گی –
سکندر کے پریشانی سے کہنے پر کومل اور داد دونوں نے بھی فکر مندی سے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی – پھر اچانک ہی کومل کی انکھوں میں چمک ائی تھی – آئیڈیا – کومل کے ایک دم چہک کر کہنے پر ان دونوں نے اسے دیکھا تھا – کون سا آئیڈیا ؟؟ داد نے آنکھوں کو چھوٹی کیے پوچھا تھا –
بس آپ دونوں دیکھتے جاو میرا کمال – لیکن اس کے لیے ہم سب کو تھوڑا سا ڈرامہ کرنا ہو گا – کومل کے کہنے پر سکندر اور داد نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسے بولنے کا اشارہ کیا تھا – کومل نے انہیں قریب آنے کا اشارہ کیا تھا جس پر وہ تینوں سر جوڑے کھڑے ہو گئے تھے جبکہ کومل انہیں اپنے ائیڈیے سے اگاہ کر رہی تھی –
::::::::::::::::: :::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::
کومل اندر کمرے میں آئی تو عنایہ بیڈ پر لیٹی کمرے کی چھت کو دیکھ رہی تھی جبکہ ننھا گڈا بے بی کاٹ میں لیٹا ابھی بھی سو رہا تھا – کیسی ہیں آپ ؟؟ وہ بے بی کاٹ سے بچے کو اٹھاتی عنایہ سے مخاطب تھی –
ٹھیک ہوں – عنایہ ایک لفظ میں جواب دیتی اٹھ کر بیٹھتی بیڈ کی بیک سے ٹیک لگا گئی تھی – دیکھا ہے اپ نے چھوٹو کو ؟؟ کومل نے بچے کے چہرے پر پیار کرتے پوچھا جس پر عنایہ نے کوئی جواب نہیں دیا – اس سے پہلے کہ کومل کچھ اور بولتی اس ننھے گڈے نے اپنی آنکھیں ہلکی سی کھولیں تھیں – اور پھر اس کا کیوٹ سا باجا سٹارٹ ہوا تھا –
اپنے بچے کے رونے کی آواز پر عنایہ کے دل کو کچھ ہوا تھا مگر وہ ویسے ہی بیٹھی رہی – اوہ لگتا ہے اسے بھوک لگی ہے – ڈاکٹر نے کہا تھا ایک گھنٹے تک اسے فیڈ کروانا ہے اپ پکریں اسے میں ابھی ڈاکٹر سے پوچھ کر اتی ہوں کہ اسے فیڈ کروا دیں – وہ جلدی سے کہتی بنا عنایہ کی سنے بے بی کو اس کی گود میں ڈالتی وہاں سے سکنٹوں میں غائیب ہوئی تھی –
عنایہ نے اپنی گود میں پڑے اپنے وجود کے حصے کو دیکھا تھا – وہ کتنی ہی دیر سے اسے اگنور کر رہی تھی مگر اب اس کے رونے اور گود میں آتے ہی اس کے سینے میں کھیچاو سا محسوس ہوا تھا – آخر اس کی ہمت جواب دے گئی تھی اور اس نے روتے ہوئے اسے سر سے پاوں تک چوم ڈالا تھا – میرا بچہ ، میرا بیٹا میرا گڈا میری جان – میں صدقے اپنی جان کے –
وہ اسے چومتی بار بار ایک ہی بات دہرا رہی تھی – جبکہ ماں کے پیار کرنے پر وہ ننھی جان بھی بڑے سکون میں آگئی تھی – کومل داد اور سکندر تھوڑے سے کھلے دروازے سے اسے دیکھ رہے تھے – ان تینوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی – واہ کومل تم نے تو اپنا کام کر دیا – دروازے سے ہٹتے سکندر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا جس پر وہ ایک ادا سے آنکھیں گھماتی مسکرائی تھی –
عورت ہوں نہ اس لیے جانتی ہوں عورت کی کمزوری – جتنی مرضی عورت خود کو پتھر دل کر لے مگر اولاد کے لیے دل موم ہو ہی جاتا ہے – اب آپ کی باری ہے ایکٹنگ کی – کومل کے کہنے پر سکندر نے ہاں میں سر ہلاتے دونوں ہاتھ کے انگوٹھوں سے اوکے کا اشارہ کیا تھا –
اپنے بیٹے کو جی بھر کر پیار کرتے عنایہ نے اسے فیڈ کروایا تھا اور اپنا پیٹ بھرنے کے بعد وہ چھوٹو پھر سے سکون کی نید سو گیا تھا جبکہ عنایہ اس کے ہاتھوں سے کھیلتی چہرے پر مسکراہٹ لیے اسے دیکھے ہی جا رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہلکے سے اس کے گال چوم لیتی –
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial