قسط: 22
اج اس کے سیکنڈ سمسٹر کے فائنل کا لاسٹ پیپر تھا – اس کے پیپرز کے دوران حدید گھر ہی ہوتا تھا – کومل اور بی جان مل کر اسے سنبھال لیتی تھیں – سیکنڈ سمسٹر کے میڈ کے دوران اسے کافی مشکل ہوئی تھی – حدید کی پیدائش کا لاسٹ منتھ تھا اس وجہ سے اسے پیپرز کے لیے آتے جاتے کافی مشکل ہوتی تھی –
ابھی حدید تین ماہ کا ہو گیا تھا اس لیے اسے زیادہ مشکل نہیں ہوئی تھی – وہ گاڑی سے نکلتی سکندر کو واپسی کی ٹائمنگ بتاتے یونی کے گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ سکندر بھی گاڑی سٹارٹ کرتا جا چکا تھا – ابھی وہ گیٹ کے اندر انٹر ہوئی ہی تھی کہ اسے پارکنگ ایریا میں میک کی گرل فرینڈ نظر آئی –
اسے دیکھتے ہی اسے عجیب سی گھبراہٹ ہوئی تھی کیونکہ وہ اسے دیکھ ہی اس انداز میں رہی تھی جیسے آنکھوں سے ہی فنا کر دینا چاہتی ہو – وہ جلدی سے قدم بڑھاتی بھاگنے کے انداز میں یونی کے اندر والے حصے کی طرف بڑھ گئی – جب سے وہ پیپرز دینے آتی تھی تب سے وہ روز ایسے ہی گیٹ کے پاس کھڑی اسے ایسے ہی دیکھتی تھی –
عنایہ کو تو اب لگنے لگا تھا کہ وہ سکندر کو بتا دے اس کی دھمکی کے بارے میں – اس دن اسے دھمکی دینے کے بعد کافی عرصہ تک تو وہ غائب رہی تھی پہلے سمسٹر کے فائنل اور اس سمسٹر کے مڈ میں بھی وہ اسے نظر نہیں آئی نہ اس نے کبھی اسے نقصان پہچانے کی کوشش کی مگر اب پھر سے اس کا یوں انا اور خطرناک ارادوں سے اسے دیکھنا عنایہ کو پریشان کر گیا تھا –
اس کا ارادہ تھا آج گھر جا کر سکندر کو اس بارے میں بتانے کا – مگر کون جانتا تھا اس کی سکندر کو بتانے کی نوبت ہی نہی پڑنی تھی –
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
داد تم ایسا کرو سب امپلوئیز کو ہاف لیو دے دو اور خود بھی گھر جاو آج کومل کا چیک اپ کروانے جانا تھا تم نے – سکندر نے آفس چئیر سے اٹھتے داد سے کہتے اپنا کوٹ اٹھا کر پہنا تھا – ٹھیک ہے سائیں مگر آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟ عنایہ بی بی کو لینے جانے میں تو ابھی ٹائم ہے نہ – داد نے اسے عجلت میں دیکھ پوچھا –
ہاں ابھی گھنٹہ ہے اس کو لینے جانے میں مگر ابھی ایک ریسٹورینٹ میں میں نے بکنک کروائی تھی اسے دیکھنے جا رہا ہوں اور پھر وہیں سے عنایہ کو لینے جاوں گا – سکندر کے جواب پر داد کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی – یقینً یہ بکنک عنایہ جی کے ساتھ لنچ کرنے کے لیے کروائی ہو گی – داد نے شرارتی انداز میں پوچھا –
ہاں یار بلکل ایسا ہی ہے کیونکہ کل وہ اپنے مائیکے جا رہی ہے ایک ہفتے کے لیے اور مجھے ابھی سے یہ ٹینشن ہو رہی ہے کہ میں اس کے اور حدید کے بغیر کیسے رہوں گا یہ سات دن – بس اسی لیے سوچا اس کے جانے سے پہلے ایک اچھا سا ڈنر ہی کر لوں تاکہ دو تین دن اچھی یاد میں گزار لوں – سکندر کے جواب پر داد نے تاسف سے سر ہلایا – اچھا جی تو تین دن تو ایسے گزر جائیں گے مگر باقی کے دن کیا کریں گے –
داد نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس سے جواب طلب کیا – کرنا کیا ہے روز کی روز ایک چکر لگا کر ایا کروں گا وہاں – اب تم سوچ رہے ہو گے کہ پہلے کے تین دن کیوں نہیں جا سکتا تو سمجھو یار بیوی کے جاتے ہی سسرال جاتا اچھا نہیں لگتا نہ – سکندر نے اسے آنکھ مارتے جواب دیا جبکہ داد نے اس کے جواب پر کھل کر قہقہہ لگایا تھا –
واہ سائیں آپ کی الگ ہی ایک سوچ ہے – وہ ہستے ہوئے کہتا آفس روم سے نکل گیا – جبکہ سکندر بھی اپنا فون اور لیپ ٹاپ بیگ اٹھاٹا اس کے پیچھے ہی نکلا تھا –
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
پیپر ختم ہونے کے بعد وہ کلاس سے نکلتی پارکنگ ایریا تک پہنچی ہی تھی کہ تبھی اس کے سامنے اچانک سے وہ آکھڑی ہوئی تھی -اچانک سے اسے اپنے سامنے دیک عنایہ کا چہرہ خوف سے سرد پڑا تھا – کیسی ہو ڈئیر ؟؟ اس نے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ سجائے عنایہ سے پوچھا –
جبکہ اس کی مسکراہٹ اور لہجے دونوں سے عنایہ کو گھبراہٹ ہوئی تھی – تم سوچ رہی ہو گی کہ اس دن کے بعد اچانک اب کیوں میں تمہارے سامنے ائی ؟؟ تو میں تمہاری ٹینشن دور کرتی ہوں – اس دن تمہارے پاس سے جانے کے بعد میرا میک میرے پاس ایا تھا – اس نے مجھے بتایا کہ وہ ابھی بھی مجھ سے ہی محبت کرتا ہے – اس عورت سے شادی بھی اس نے صرف دولت کے لیے کی تھی –
میں خوش تھی اسے واپس پا کر اتنی خوش کہ تمہیں بھی بخش دیا تھا – اخر مجھے میرا پیار جو واپس مل گیا تھا – مگر پھر ایک دن سب برباد ہو گیا – میں اور میک شادی کرنے والے تھے – ہم دونوں بہت خوش تھے مگر ہماری خوشی کو نظر لگ گئی کیونکہ اس کی بیوی کو پتا چل گیا ہماری شادی کے بارے میں – اس نے میرے میک کو اپنے آدمیوں سے اتنا مروایا کہ وہ مر گیا – سنا تم نے وہ مر گیا –
میرا میک مر گیا اور اس کی وجہ تم ہو – عنایہ حیرت سے اس کی باتیں سن رہی تھی جب اس کی اخری بات پر اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا – میں کیسے ؟؟ عنایہ کے حیرت سے پوچھنے پر سامنے والی کی انکھوں میں موجود نفرت میں اضافہ ہوا تھا – تم نہیں تو اور کون ہے زمہ دار ؟؟
تمہاری وجہ سے تمہارے شوہر نے اسے یونی سے نکلوایا ، اس کے بعد اس کو کہیں پر اچھی جوب نہ مل سکی ، اچھے لائیف سٹائیل کے لیے اس نے ایک امیر عورت کو اپنے جال میں پھسا کر اس سے شادی کی تاکہ بعد میں مجھ سے شادی کر کے مجھے بھی اچھا لائیف سٹائیل دے سکے – مگر اس کی بیوی کو سب پتا لگ گیا اور میرا میک مر گیا – سب کی زمہ دار تم ہو اور تمہیں اب میں اپنے ہاتھوں سے مار کر اپنا بدلہ لوں گی – وہ جنونی انداز میں کہتی اپنے پرس سے گن نکال چکی تھی –
اس کے ہاتھوں میں گن دیکھ عنایہ کا سانس سوکھا تھا ،دل ایک دم سے دھرکنا بند ہوا تھا – اسے لگا یہ اس کا آخری وقت ہے – اپنا آخری وقت سمجھتے اس نے زور سے آنکھیں میچیں تھیں تبھی اس کی آنکھوں میں حدید اور سکندر کے مسکراتے چہرے آئے تھے – عنایہ نے انکھیں کھولتے سامنے دیکھا جہاں وہ گن کا ٹریگر دبا چکی تھی – ٹھاہ کی آواز پر عنایہ کی چیخ فضا میں بلند ہوئی تھی –
کچھ سیکنڈ بعد اپنے جسم میں کہیں درد محسوس نہ ہونے پر اور آس پاس جانی پہچانی خوشبو محسوس کرتے اس نے حیرت سے ڈر کے مارے میچ رکھیں آنکھیں کھولیں تھیں مگر اپنے سامنے سکندر کی پیٹھ دیکھ اس کے اوسان خطا ہوئے تھے – وہ اس کی کمر سے بھی پہچان گئی تھی کہ وہ سکندر ہی تھا – نہیں ! اس کے منہ سے ہلکی آواز میں نکلا تھا –
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
سکندر جو گاڑی میں عنایہ کا انتظار کر رہا تھا مگر اسے نہ آتے دیک وہ گاڑی سے نکلتا پارکنگ ایریا کی طرف ایا تھا جہاں سامنے کا منظر اس کے پاوں کے نیچے سے زمین نکالنے کے لیے بہت تھا – سامنے اس سے کچھ فاصلے پر ایک لڑکی اس کی کل حیات پر گن تانے کھڑی تھی –
وہ بنا سوچے سمجھے اپنی فل سپیڈ سے ان کے جانب بھاگا تھا جبکہ اس کے قریب پہنچتے ہی وہ گن کا ٹریگر دبا چکی تھی اور سکندر سیکنڈ کے پہلے حصے میں عنایہ کے آگے آتا گولی اپنے سینے پر کھا چکا تھا –
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
گولی کے درد کو برداشت نہ کرتے وہ زمین پر گرتا چلا گیا تھا جبکہ عنایہ کو تو سانس بھی نہیں ارہا تھا اس کی حالت دیکھ کر – وہ حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی جلدی سے اس کے پاس بیٹھی تھی اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام چکی تھی – عنایہ کی جگہ سکندر کو گولی لگتا دیکھ وہ لڑکی پاگلوں کی طرح ہسنے لگی تھی – واہ یہ تو بہت اچھا ہوا –
اب تم بھی یہ درد محوس کرو گی کہ جب محبوب اپ کے سامنے مرتا ہے تب کیسا لگتا ہے – تم بھی میری طرح ترپو گی مگر میری ترپ تو ابھی ختم ہو جائے گی – وہ پاگلوں کی طرح ہسنے اور رونے کے درمیان کہتی اپنی کنپٹی پر گن رکھتے خود کو شوٹ کر چکی تھی مگر عنایہ تو اس جانب متوجہ ہی نہیں تھی وہ گم سم سی سکندر کی بند ہوتی آنکھیں دیکھ رہی تھی –
نہیں ، نہیں سکندر انکھیں کھولیں – میں کہہ رہی ہوں آنکھیں کھولیں – خدا کے لیے ایسا مزاق نہ کریں میرے ساتھ – وہ ہوش میں آتے سکندر کے سینے پر سر رکھتی روتے ہوئے بول رہی تھی – تب تک وہاں گولی کی آواز سن کے کافی لوگ آ گئے تھے – اپنے اس پاس لوگوں کی موجودگی پر عنایہ نے جلدی سے سکندر کے سینے سے سر اٹھایا تھا – پلیز ! پلیز میرے ہسبینڈ کو کوئی ہاسپٹل لے جائے پلیز کوئی مدد کر دے –
وہ روتے ہوئے ان کے سامنے ہاتھ جورتی بولی تھی جس پر کچھ لڑکے جلدی سے سکندر کے بے ہوش وجود کو اٹھا کر لے جانے لگے تھے جبکہ عنایہ بھی جلدی سے بھاگ کر ان کے پیچھے گئی تھی – پیچھے کھڑے لوگ تاسف بھری نگاہوں سے وہاں پڑے دوسرے مردہ وجود کو دیکھ رہے تھے جس کے سر سے بے تحاشہ خون نکلتا زمین کو تر کر چکا تھا –
:::::: ::::::::::::::::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::::::
ہاسپٹل میں سکندر کو فوراً آئی سی یو میں ایڈمنٹ کر لیا گیا تھا – عنایہ روتی ہوئی وہیں کوریڈور میں بیٹھی سکندر کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی – وہ بار بار آئی سی یو کے دروازے کو دیکھتی اور پھر اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ جی سے دعائیں مانگتی – وہ رونے میں مگن تھی کہ تبھی اس کے پاس پڑا سکندر کا فون رنگ ہوا تھا جو نرس اسے سکندر کے سامان کے ساتھ دے کر گئی تھی –
داد کا نام فون سکرین پر چمکتا دیکھ اس نے جلدی سے کانپتے ہاتھوں سے فون پک کیا تھا – یار سکندر یہ مسٹر فراز کے ساتھ ہوئی ڈیل کی فائیل کدھر ہے – فون اٹھاتے ہی اسے دوسری جانب سے داد کی مصروف سی اواز سنائی دی – داد بھائی ! داد جو سکندر کے جواب کے انتظار میں تھا مگر دوسری جانب سے عنایہ کے روتے ہوئے اپنا نام لینے پر اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا – کیا ہوا ہے عنایہ بہنا –
داد نے پریشانی سے پوچھا – سکندر ! عنایہ نے روتے ہوئے سکندر کا نام مشکل سے لیا تھا – کیا ہوا ہے سکندر کو ؟؟ داد کا پریشانی سے برا حال تھا – گگ..گولی لگی ہے – عنایہ نے ہچکیوں کے دوران اسے بتایا تھا – گولی لگی ہے ؟؟ کیسے لگی گولی سکندر کو ؟؟ داد جلدی سے کمرے سے نکلتا پوچھنے لگا – پلیز آ جائیں یہاں –
عنایہ اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے بولی تھی – ہاں میں آ رہا ہوں جلدی سے مجھے ہاسپٹل کا نام بتاو – داد گاڑی میں بیٹھتا پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر عنایہ نے اسے ہاسپٹل کا نام بتایا تھا –
::::::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
عنایہ ! بہنا بتایا کچھ ڈاکٹر نے ؟؟ داد بھاگنے کے انداز میں اس کے پاس پہنچتا فکرمندی سے پوچھنے لگا – کچھ نہیں بتا رہے ڈاکٹر سوائے اس کے کہ دعا کریں بس کیونکہ ان کی حالت بہت کریٹیکل ہے – عنایہ نے روتے ہوئے اسے بتایا تھا –
انشاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا – وہ وہیں اس کے قریب بیٹھتا بولا تھا – داد بھائی وہ ٹھیک تو ہو جائیں گے نہ ؟؟ عنایہ نے اس کی طرف دیکھتے آنکھوں میں خوف لیے پوچھا تھا – انشاللہ تم فکر نہ کرو – وہ ٹھیک ہو جائے گا – داد اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ڈر تو اسے بھی تھا – ہاں وہ ٹھیک ہو جائیں گے –
انہیں پتا ہے میں اور حدید دونوں ان کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں – ہم دونوں کو ان کی ضرورت ہے – بی جان کو ضرورت ہے ان کی ، آپ کو ضرورت ہے ان کی ، ہم سب کو ضرورت ہے ان کی -اور ابھی تو میں نے انہیں یہ بھی بتانا ہے کہ میں نے انہیں معاف کر دیا – وہ ہلکی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے بول رہی تھی –
جبکہ داد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے حوصلہ دیا تھا – داد کے سر پر ہاتھ رکھنے پر عنایہ نے اسے دیکھا تھا اور اپنا سر اس کے کندھے پر رکھتی آنسوں بہانے لگی –
::::::::::::::::::::::::::::: ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
شکر ہے اب وہ خطرے سے باہر ہیں – ڈاکٹر کے آئی سی یو باہر اتے بولے جانے والے الفاظ نے جیسے ان دونوں کے اندر سکون بھر دیا تھا – کب تک ملنے دیا جا سکتا ہے ہمیں ان سے ؟؟ داد نے جلدی سے پوچھا – ابھی انہیں دوسرے روم میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر تین سے چار گھنٹوں تک اپ مل سکتے ہیں ان سے –
ڈاکٹر کے جواب پر انہوں نے ہاں میں سر ہلاتے شکریہ کہا تھا جس پر ڈاکٹر بھی مسکرا کر وہاں سے جا چکا تھا – میرے خیال سے بی جان کو کال کر کے بتا دینا چاہیے – اتنی دیر سے تم کوگوں کا انتظار کرتے پریشان ہو رہی ہوں گی اور پھر حدید بھی اب تمہارے لیے رو رہا ہو گا – داد کے کہنے پر اس نے بھی ہاں میں سر ہلایا تھا –
آپ ایسا کریں گھر جا کر لے ائیں انہیں – عنایہ کی بات اسے بھی سہی لگی اس لیے فون واپس رکھتا انہیں لانے کے لیے نکل گیا –
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
کیسا ہے میرا سکندر ؟؟ کیسے لگی گولی اسے ؟؟ بی جان نے آتے ہی فکرمندی سے پوچھا جبکہ چہرہ آنسوں سے تر تھا – ڈاکٹر کہہ رہے ہیں ٹھیک ہیں اب خطرے سے باہر ہیں – عنایہ نے انہیں جواب دیتے داد سے حدید کو پکڑا تھا جو اسے دیکھ کر مچل رہا تھا –
گولی کیسے لگی تھی ؟؟ بی جان نے پھر سے پوچھا جس پر اس نے سارا واقع انہیں سنا دیا تھا – اللہ غارت کرے اس لڑکی کو – بی جان نے ساری بات سنتے غصے سے کہا – وہ تو مر گئی بی جان کیونکہ اس نے خود کو بھی گولی مار لی تھی – عنایہ نے حدید کو تھپکتے ہوئے کہا – اچھا کیا جو خود ہی مر گئی ورنہ میں اسے بد سے بدتر سزا دیتا – داد نے اس کی بات پر کہا جبکہ وہ خاموش ہی رہی –
:::::::::: ::::::::::::::::::::: :::::::::: :::::::: ::::::::::::::::::
داد اور بی جان اس وقت سکندر کے پاس کمرے میں موجود تھے – اسے ابھی ہوش ایا تھا – شاہو میرے بچے تم ٹھیک ہو نہ ؟؟ کہیں درد تو نہیں ہو رہا ؟؟ بی جان اس کے پاس سٹول پر بیٹھیں فکرمندی سے پوچھ رہی تھیں – جی بلکل میں ٹھیک ہوں بی جان – عنایہ کہاں ہے ؟؟ اور ٹھیک تو ہے نہ ؟؟
سکندر نے انہیں اپنی طرف سے بے فکر کرتے عنایہ کے بارے میں فکرمندی سے پوچھا تھا جبکہ کمرے کے اندر اتی عنایہ اس کی بات پر مسکرائی تھی – وہ خود پر اس کی تکلیف لے کر ابھی بھی اس کی فکر میں ہلکان ہو رہا تھا – میں ٹھیک ہوں سکندر – عنایہ نے اس کو خود ہی جواب دیا تھا – سکندر نے اسے دیکھا تھا جو سوتے ہوئے حدید کو کندھے سے لگائے ہوئی تھی – تم دونوں کرو بات میں اور داد باہر بیٹھے ہیں اور حدید کو بھی مجھے دے دو عنایہ –
بی جان ان سے کہتیں عنایہ سے حدید کو لیتیں داد کے ساتھ باہر چلی گئی تھیں جبکہ عنایہ بی جان کے چھوڑے ہوئے سٹول پر بیٹھ گئی تھی – آپ نے ایسا کیوں کیا سکندر ؟؟ کیوں میرے حصے کی گولی خود پر کھائی ؟؟ کیوں اپنی جان کی پرواہ نہیں کی ؟؟ کچھ دیر خاموشی سے بیٹھے رہنے کے بعد عنایہ سکندر سے بولی تھی جبکہ آنکھوں سے آنسوں گالوں پر بہہ رہے تھے –
میں نے اپنی جان کی ہی پرواہ کی تھی عنایہ – سکندر کے جواب پر عنایہ نے اسے آنسوں سے بھری آنکھوں سے دیکھا تھا – اتنی محبت کرنے لگ گئے ہیں مجھ سے ؟؟ اس نے آنسوں صاف کرتے سوالیہ انداز میں پوچھا – بہت زیادہ شاید عشق کرنے کرنے لگ گیا ہوں تم سے – سکندر نے اپنے دائیں ہاتھ کے پاس پڑا اس کا ہاتھ تھامتے کہا – مت کریں اتنی محبت میں مغرور ہو جاوں گی –
عنایہ کے کہنے پر سکندر مسکرایا تھا – کوئی بات نہیں تم مغرور بھی اچھی لگو گی – سکندر کے جواب پر وہ بھی مسکرائی تھی – میں نے اپ کو معاف کیا سکندر – کافی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ اچانک بولی تھی جبکہ سکندر جو اسے دیکھنے میں مگن تھا اچانک اس کے الفاظ سن اسے سمجھ نہ ایا وہ کیسے ری ایکٹ کرے –
تم سچ کہہ رہی ہو ؟؟ اس نے پر جوش انداز میں پوچھا جبکہ اس کی بے چینی اور پرجوشی دیکھ عنایہ نے مسکراہٹ چھپاتے ہاں میں گردن ہلائی تھی – اوہ عنایہ تم سوچ بھی نہیں سکتی میں کتنا خوش ہوں – اگر پہلے پتا ہوتا کہ تم یوں اس طرح سے مان جاو گی تو کب کی خود پر گولی چلوا چکا ہوتا – سکندر کی بات پر عنایہ نے اسے گھورا تھا جس پر وہ مسکرا دیا تھا – میری ایک بات مانو گی –
اچانک سکندر نے اسے دیکھتے پوچھا – ایک کیا ہزار مانوں گی – آپ حکم کریں – عنایہ نے خوبصورتی سے جواب دیا – جب میں بلکل ٹھیک ہو جاوں تو تم وہی لال ساڑھی پہننا – کیونکہ اس دن تم واقع اس میں قیامت لگ رہی تھی مگر میں تمہاری تعریف نہیں کر سکا تو بس تم دوبارہ پہننا تاکہ میں اچھے سے تمہاری تعریف کر سکوں – سکندر کی خواہش پر عنایہ کے گال گلاب ہوئے تھے –
میں حدید کو دیکھ لوں شاید اٹھ گیا ہے – وہ بہانا بنا کر جانے لگی جب دروازے کے قریب پہنچنے پر اسے پیچھے سے سکندر کی اواز آئی تھی – بتاو تو سہی پہنو گی کیا ؟؟ سکندر کے سوال پر اس نے مڑ کر اسے دیکھا تھا اور شرماتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتی کمرے سے فوراً باہر نکلی تھی جبکہ سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی –
شکریہ اللہ جی – اس نے آسمان کی جانب دیکھتے کہا – بے شک اس اللہ پر امید اس نے قائم رکھی تو ہی اسے یہ دن نصیب ہوا تھا –
::::::::::::::::::::::: :::::::::::::::::::::::: :::::: :::
( پانچ سال بعد )
حدید میری جان آپ کو کیوں جانا ہے داد انکل کے گھر ؟؟ پہلے کھانا کھا لیں پھر چلے جانا اور ویسے بھی ابھی دس منٹ پہلے ہی تو آئے ہو اپ واپس – عنایہ نے اپنے پانچ سال کے بیٹے کو دیکھتے کہا جو کھانا نہ کھانے کا کہتے داد کے گھر پھر سے جانے کی ضد کر رہا تھا – ماما وہاں گڑیا ہے اس لیے جانا ہے –
اور پھر ارسم اور میں کھیلتے بھی تو ہیں -حدید نے معصومیت سے جواب دیا جبکہ کمرے میں آتا سکندر اس کی بات سنتا ہسا تھا – کیوں بیگم کیا خیال ہے ہم اپنے بیٹے کو اس کی اپنی گڑیا نہ لا دیں – اب روز روز کسی کے گھر جاتا اچھا تھوڑی لگتا ہے – سکندر نے حدید کو اٹھاتے اس کے گال پر بوسے دیتے عنایہ سے کہا جس نے اسے گھورا تھا – شرم کر لیں تھوڑی سی بچے کے سامنے کیسی باتیں کر رہے ہیں –
حدید بیٹا اپ جاو داد انکل کے گھر اور ہاں کومل ماسی سے کہنا آپ کو کھانا کھلا دے گی جب اپ کو بھوک لگے – عنایہ نے حدید کو سکندر کی گود سے لیتے نیچے اتارت داد کے گھر جانے کی اجازت دیتے کہا جو سامنے والا ہے گھر تھا – سکندر نے اپنی حویلی کے سامنے والے بیس مرلے کے پلاٹ پر داد کو بہت خوبصورت گھر بنا کر دیا تھا اس کے بیٹے کے پیدا ہونے پر اور اب داد وہیں رہتا تھا –
حدید خوشی سے کمرے بھاگتے ہوئے نکل گیا تھا جبکہ عنایہ اب سکندر کی جانب متوجہ ہوئی تھی – کچھ شرم کیا کریں اپ کہیں پر بھی کچھ بھی بول دیتے ہیں – عنایہ نے غصہ چہرے پر سجائے کہا – کچھ غلط تو نہیں کہا میں نے بس چھوٹی سی ریکویسٹ ہی کی تھی – جو پتا نہیں کب پوری ہو گی –
سکندر نے ٹھنڈی آہ بھرتے کہا – اور اگر میں کہوں وہ پوری ہو گئی ہے تو ؟؟ عنایہ نے اس کے سینے پر سر رکھتے لاڈ سے کہا جبکہ سکندر تو اس کے الفاظ پر سٹل ہوا تھا – کیا سچ میں ؟؟ اس نے عنایہ کو اپنے سینے سے دور کرتے کہا جبکہ اس نے شرماتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا – او عنایہ ٹھینک یو سو مچ میری جان بہت شکریہ میں بہت خوش ہوں – وہ اسے واپس گلے لگاتا بولا تھا جس پر عنایہ نے بھی کس کر اس کے گلے کے گرد بازو ہائل کیے تھے –
وہ خوش تھے اپنی زندگی میں اور اس زندگی کو اور رونق حدید کی شرارتیں بخشتی تھیں – ان کی زندگی میں برے وقت نے اگر جھلک دیکھائی تھی تو خوشیوں سے بھرا وقت بھی بھرپور طریقے سے ایا تھا – بی جان ان سب کو خوش دیکھ خود بھی خوش ہوتیں تھیں آخر ان کے بچے اپنی اپنی زندگیوں میں خوش تھے – داد اور سکندر کی دوستی ویسی تھی اور کومل اور عنایہ کی بھی –
اب تو حدید اور داد کے بیٹے ارسم کی دوستی بھی مثالی تھی – ان دونوں کی ابھی سے پکی دوستی دیکھ سکندر اور داد کو بہت خوشی ہوتی تھی – حدید تو داد کا بہت لاڈلا تھا – خاص کر جب وہ دو ڈھائی سال تھا اور اسے اپنی توتلی زبان میں سکندر کی طرح داد پکارتا تو اسے اس پر اور پیار اتا تھا –
مگر اب وہ اسے داد انکل کہتا تھا – اس کی دنیا بھی اپنے بیٹے ، تین ماہ کی اپنی بیٹی اور بیوی کے ہمراہ خوبصورت تھی – ان سب کی زندگیاں مکمل تھیں اور اب تو ایک نیا مہمان انے والا تھا یا تھی ان کی فیملی اور زندگی میں –
ختم شدہ