تیری ستمگری

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 33 حصہ 2

السلام علیکم سپرمین۔۔۔۔! اشنال نے اس پانچویں کال کی جو اس نے اٹھا لی تھی ۔۔۔۔۔!
وعلیکم سلام زوجم ۔۔۔۔کیا بہت یاد آ رہی ہے جو کال پہ کال کر رہی ہیں ۔۔۔!
ہاں میں ہی پاگل ہوں نہ جو آپ کو مس کر رہی ہوں آپ نے تو مجھے یاد کرنا بھی گوارہ نہ سمجھا ۔۔۔۔۔! اشنال اس کی بات سنتی شکوہ کیے بنا رہ نہ سکی تھی ۔۔۔!
سوری زوجم یہ تو آپ کی عنایت ہے ورنہ میں اپن اس ننھی سی جان کو مس نہ کروں ایسا ہو نہیں سکتا ۔۔۔۔لیکن آج میں تو میٹنگ میں بزی تھا ابھی فری ہوا ہوں تو فون دیکھا آپ کی کال لگی ہوئی تھی میں نے سوچا اپنی چھوٹی سی جان کو کال کروں مگر میری چھوٹی سے جان نے پھر خود ہی فون کرلیا تھا اس نے صفائی دی تھی۔۔
میں نے تو آئس کریم کےلیے کال کی تھی کہ آتے ہوئے میرے لیے آئس کریم لائیے گا اس نے منہ بسور کر لاڈ سے کہا تھا۔۔
اچھا اور کوئی حکم میری جان ۔۔۔۔روشنال نے بہت لاڈ سے پوچھا تھا۔۔!
اس کے یہ کہنے کی دیر تھی وہ شروع ہوگئی تھی۔
*****
ثمینہ بیگم اپنے دھیان میں جا رہی تھیں حسنال جو کسی سے فون سے بات کر رہا تھا وہ اس کے پاس سے گزری اور اسے گھورا تھا ان کو ایسے مشکوک سا جاتا دیکھ کر حسنال کنفیوژن کا شکار ہوا تھا کیونکہ ان کی آنکھوں میں عجیب سا سرد پن تھا وہ چند پل ٹھہر کر ان کو دیکھتا رہا پھر کندھے اچکاتا سیٹرھیوں سے اتر گیا تھا اگر اسے اپنے ہونے والے بڑے نقصان کی ذرا سی بھی بھنک پڑجاتی تو وہ اس کی زندگی میں لفظ کاش نہ آتا ۔۔۔۔وہ آج گھر پہ ہی تھا تو اس لیے ماں کو دیکھتا کھانے کا کہنے آیا تھا۔۔
ثمینہ بیگم مڑ کر اس کو دیکھتی اشنال کے کمرے میں چلیں گئی وہ روم میں آئیں تو انھیں اشنال بیڈ پہ باتیں کر رہی تھی ڈور کی آواز سنتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔!
بڑی امی آپ ۔۔۔۔۔اشنال نے حیرت سے پوچھا تھا کیونکہ وہ آنے کے مقصد سے بےخبر تھیں وہ فون کان سے ہٹاتی پریشانی سے کہتی دوسری طرف روشنال کو بھی متوجہ کر چکی تھی دوسری طرف روشنال کے دل میں خطرہ بیٹھ گیا تھا اسے کچھ بہت برا ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔
بہت اڑ لیا تم نے ہواؤں میں لڑکی اب تمھارا زمین پہ آنے کا وقت آگیا ہے کئی چیزوں کا خاتمہ نہ کرو وہ بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں اس لیے کچھ کرنا ہے تو کرلو ۔۔۔۔! وہ بولیں تو لہجے میں پھنکار تھی
خالہ کا لہجہ سنتے روشنال کے دل میں ڈر بیٹھا تھا اس نے دو تین دفعہ اشنال کو پکارا تھا مگر دوسری طرف سے کوئی رسپونس نہیں تھا اس نے ماں کے نمبر پہ پہ کال کی پھر یکے بعد دیگرے ۔۔۔لیکن پھر بھی کوئی رسپونس نہیں آیا تھا اسے پتہ ہوتا تو وہ ضرور حسنال کو کال کرتا لیکن اس کے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔۔۔
وہ ہر چیز چھوڑتا چھڑاتا وہاں سے نکلا تھا اتنا جلدی میں کہ فون پاکٹ میں بھی نہیں رکھا تھا وہ کوئی کرش نہیں تھا جو خود کو غائب کرکے اشنال کے پاس پہنج جاتا لیکن اس نے اپنی طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش کرنی چاہی وہ کرش نہیں اسکا سپرمین تو تھا نا جو اسے اس حال میں بالکل نہیں چھوڑ سکتا تھا اور وہ تو اس کی ذرا سی سخت آواز میں سہم جایا کرتی تھی لیکن ثمینہ بیگم پتہ نہیں کیاکرتیں اس سے آگے اس نے سوچا ہی نہیں تھا گھر میں بیٹھی اس کی زندگی مو*ت کے ہاتھوں شکست کھانے والی تھی یہ سوچنا اس سے محال ہوا تھا وہ بھاگ کہ باہر نکلا تھا۔۔
جگر سن کہاں جا رہا ہے۔ ۔۔فرقان کی ٹکر ہوئی تھی اس سے لیکن اس نے کوئی رسپونس نہیں دیا تھا۔۔۔وہ جلدی سے وہاں بھاگتا نکلا تھا اسے ٹھوکر بھی لگی وہ پھر سے اٹھتا کار کے پاس پہنچا تھا ہوا کے گھوڑے پہ سوار وہ گاڑی پی اور سٹارٹ کی تھی دل سے بے ساختہ اشنال کی خیریت کی دعا کی تھی اس نے فل سپیڈ رکھی تھی بنا کسی حادثے کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔۔
*****
چھوٹی مما آپ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔اس ۔۔۔ان کے ہاتھ میں پسٹ”ل دیکھ کر اس کے چہرے پہ ایک خوفناک تاثرات چھاگئے تھے وہ ہلنے کے قابل نہ رہی تھی ۔۔
میرا یعنی ثمینہ بیگم کا مقابلہ کرو گی ۔۔۔۔ہو کیا تم ۔۔دوٹکے کی لڑکی۔۔ منحوس کلموہی تمھارے ماں پتہ نہیں کیسے خاندان سے تھی ۔۔۔کچرے کے ڈھیر پہ بیٹھتی تو اس کو لوگوں نے دھتکارنا تھا تم میری سوکن بیٹی ۔۔۔۔میرا مقابلہ کرو گی۔۔۔۔بخت خاندان میں تم اپنا بخت جگانے آئی تھی یہ تیار ہو کہ شوہر کی سنگت میں بڑی اڑتی پھرتی ہو ۔۔۔۔میری بیٹی کا ہونے والا شوہر چھین لیا غاضب لڑکی۔۔۔۔انہوں نے بازؤں سے پکڑ کر اس کی کمر پہ پسٹ”ل کی نوک رکھی تھی۔۔۔
بڑی۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔کک۔۔۔کر رہی ہے۔۔۔اشنال بری طرح گڑا بڑا کر رہ گئی تھی اس صدا کی ڈرپوک لڑکی کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ تو پہلے ہی ان کی ڈسی ہوئی تھی ۔۔۔۔!
ادھر سائن کرو۔۔۔۔انہوں نے ڈاکومنٹس اس کے آگے لہرایا تھے اشنال کو لگا کہ وہ ڈائیورس پیر ہے وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
نہی۔۔۔۔نہیں بڑی امی ۔۔مم۔۔میں ایسا نہیں کروں گی آ ۔۔آپ مجھے بلیک میل کر رہی ہے می۔۔۔میں سب کو بتاؤں گی کہ آپ نے زبردستی ڈرائیوس پیر ۔۔۔۔وہ ان کے ہاتھ میں لہراتے کاغذکو کھنیچ کر مڑورتی بری طرح اس کی شیپ کو بگاڑ کہ رکھ گئی تھی ۔۔۔
بدتمیز لڑکی۔۔۔۔ثمینہ بیگم غضب سے ڈھار اٹھی تھی انھوں نے جس ہاتھ میں پس”ٹل اٹھایا تھا اس کو کھینچ کہ مارا تھا۔۔
آوچ۔۔۔۔اشنال کہ منہ سے سسکی نکلی وہ پیچھے کو گری تھی اس کا سر گھوم کہ رہ گیا تھا وہ سر پہ ہاتھ اٹھتی چوٹوں پہ قابو پانے کی کوشش کرنے وہ تقربیاً نڈھال ہوچکی تھی اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اٹھ سکے وہ چیخ بھی نہ سکی تھی کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا وہ اپنا اللہ کو پکار رہی تھی
کرو سائن ۔۔۔۔وہ اس کے بالوں کو مٹھی میں دبوچتی وہ کاغذ کھولتی بولی تھی انہوں نے پنسل اس کے ہاتھ میں دبائی تھی ۔۔۔۔!
بخت ولا میں سارا قصہ تو دولت کا ہی تھا دولت نے اخلاق کوزہن کو، اچھی سوچ کو اعلی تربیت کو مسخ کر ڈالا تھا دولت کے لالچ میں اپنی بیٹی کو نشہ آوور دوائیاں دے کر سلایا ہوا تھا وہ ان کی سگی بیٹی تھیں دولت نے ان کی عقل سلب کرلی تھی
***
روشنال گاڑی سے اترا تیز رفتار بھاگتا بھاگتا بخت ولا میں داخل ہوا تھا اس نے ہر چیز کو نظر انداز کیا بھاگ کر سیٹرھیوں پہ قدم رکھے تھے ۔۔۔!
حسنال جو نیچے صوفے پہ لیٹا ہوا تھا بھائی کو بھاگتے دیکھ کر گڑبڑ کا احساس ہوا تھا وہ اٹھا تھا۔۔۔
وہ چلتا اپنے روم کے باہر آیا اور دروازہ کو پاؤں سے کھولا تو اس کے زمین و آسماں لرز کر رہ گئے تھے وہ اس پہ پسٹ”ل تانے کوئی پیر رکھے پیج پہ کچھ کروا رہی تھیں۔۔۔
خالہ ۔۔۔اشو۔ ۔یہ کہتے وہ چیخا تھا چھوڑیں اسے۔۔۔۔وہ بھاگ کر ان کے پاس آیا جو اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں ان کے ہاتھ۔۔۔۔میں پس”ٹل جوں کا توں تھا اشنال اس کو دیکھتی ان کو دھکا مارے پیچھے ہٹی تھی ۔۔
چھوڑیں ۔۔۔۔اسے ۔۔۔یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔وہ ہڑ بڑا کر رہ گیا تھا اشو کو زمین پہ دیکھ۔ ۔۔کہ اس کا خ ۔۔خون کھول اٹھا تھا وہ روشنال کو دیکھتی ہڑ بڑا کر رہ گئی تھیں روشنال آگے بڑھا ان سے پس”ٹل چھننا چاہا تھا انہوں نے پس”ٹل جیسے ہی اشنال کی طرف کیا روشنال نے ان کا وہ والا ہاتھ دیوار کی طرف موڑا تھا ٹھاہ کی آواز پہ سنال جو اس کا پیچھا کرتا وہ دروازہ پہ کھڑا ساکت سا معاملے کو سمجھنے کی کوشش میں تھا لیکن اس کو دیر ہوگئی تھی ان کا دوسرا نشانہ خطا نہیں گیا ان سے پس”ٹل چھننے کے چکر میں ہلکان گو”لی روشنال کے وجود کو آرپار کرتی چلی گئی تھی ثمینہ بیگم بھی فائر کی آواز سنتی سیٹرھیوں سے نیچے اتری تھیں ماں تھیں پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے نیچے لیکن ان کی ٹانگیں جواب دے چکی تھی دل میں گبھرائٹ ہونے لگی تھی ۔۔۔
ب۔۔۔بھائی ۔۔حسنال بھاگ کے اس کے پاس نیچے زمین پہ بیٹھا تھا اشنال جو منہ پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی روشنال کے جسم سے خو”ن نکلتا دیکھ کر اس کے وجود میں ہلچل ہوئی تھی وہ نیچے اس کے پاس زمین پہ گرنے والے انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔
سپرمین ۔۔۔۔سپرمین یہ۔۔۔۔یہ کیا ۔۔کر دیا آپ نے ۔۔۔۔۔آپ تو آفس ۔۔۔تھے ۔۔۔۔آپ کیسے آئے ۔۔۔وہ اس کے گال کو تھپکتی پاگل ہونے کو تھی جو بے ہوشی میں جا رہا تھا وہ آنکھیں کھول کر فکرمند سے اس کو ہی دیکھ رہا تھا جیسے اس کے جانے کے بعد اس کا کیا ہوگا۔۔۔۔جس بات کا اس کو ازل سے ڈر تھا وہ آج پوری ہونے جا رہی تھی ۔۔۔۔! زندگی کی آر میں نیم مدھم پڑتی اس کی سانسیں اس کے قریب بیٹھی اس کی معصوم بیوی کو بے موت مار گئیں تھیں وہ ایسے بیٹھی تھی جیسے آج سب کچھ کھو دے گی وہ اسکا سپرمین جس نے کہا تھا وہ اس کےلیے سب کے سامنے ڈٹ کہ کھڑا ہوگا اس نے سچ کہا تھا کہ وہ اس کےلیے مو”ت سے لڑ جائے گا اور وہ جھوٹا تو ہرگز نہیں تھا وہ واقعی اپنی اشو کےلیے مو:ت سے لڑ گیا تھا ایک آنسو جو اس کی آنکھ سے نکلا تھا وہ اشنال کےلیے وبالِ جان بن گیا تھا اس کی مرتی آنکھوں میں صرف اور صرف اشنال کےلیے فکرنظر آ رہی تھی ۔۔
زندگی کا نہیں پتہ ۔۔۔۔ممم۔۔۔۔اگر م”رگیا تو اس کا خیال رکھنا ۔۔۔۔اس نے یہ الفاظ بہت ہی مشکل سے حسنال کو کہے تھے اشارہ اشنال کی طرف تھا آخری دفعہ اس کے ہاتھ تھامنے کی کوشش کی تھی جس کا دماغ اس کی حالت دیکھ کر کورا ہوچکا تھا اشنال نے مضبوطی سے روشنال کا سرد پڑتا ہاتھ تھام لیا تھا تہمینہ بیگم کمرے میں آئیں وہ بھی بھاگتی وہاں تک پہنچی تھی آگے کا منظر دیکھ کر سینے پہ ہاتھ رکھ کہ پیٹنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
منال جو غنودگی میں تھی فائر کی آواز سنتی اچھل کر اٹھ بیٹھی تھی کچھ دیر معاملے کو سمجھتی ماں کی دھمکی یاد آئی تو باہر بھاگی تھی پہلے کمروں میں بھاگی دیکھتی رہی لیکن خالہ کے چیخوں پکار کی آواز آئی تو وہ بھاگ کرروم میں آئی تھی لیکن آگے کا منظر وہیں دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی تھی
ثمینہ بیگم نے اس کے جسم سے خو”ن سے نکلتا دیکھا ان کے ہاتھ سے پ”سٹل گرگیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی ان کی حسد اور دولت کے لالچ میں اپنی بہن کے بیٹے کا نقصان کر بیٹھے گی جیت تو آخر دولت کی ہوئی تھی وہ کاغذ کا ٹکرا تو وہیں پڑا رہ گیا تھا۔
ب۔۔۔۔بھائی میں آپکو۔۔۔۔کچھ۔۔۔نہیں ہونے دوں گا ۔۔بھائی آپکا بھائی آپکو زندگی کی طرف لے آئے گا یہ آپکے بھائی کا وعدہ ہے ۔۔۔۔! آپ خود اشنال کا خیال رکھیں گا وہ اس مضبوط کو بازؤں میں اٹھانے کی کوشش کی تھی اس نے فون سے ایمبولینس کو کال کی تھی حسنال نے اشنال کو ایک نظر دیکھا تھا جو سکتے میں اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی تھی اس نے شرمندگی سے نگاہ چرائی وہ پھٹتے دل کو قابو کرتے بے ساختہ اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تو رنج و غم اور ملال میں اضافہ ہوا تھا۔۔
کچھ پل میں ایمبولینس آگئی تھی باقی سب تو ہوش کھوچکے تھے لیکن ایک حسنال تھا جو اس وقت صبر کا دامن ہاتھ میں تھامے ہوئے تھے اس نے ماں کو تسلی دی سب کو خود سنھبالا تھا اشنال کا ہاتھ روشنال کے ہاتھ میں تھا جو ان کے لے جانے کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا روشنال کو نیچے لےگئے تھے حسنال بھی ان کے پیچھے نکلا تھا نکلتے وقت ایک چبھتی نگاہ منال پہ ڈالنا نہ بھولا تھا۔۔۔
تہمینہ بیگم اشنال کو گرتے پڑتے قدموں سے لے کہ گئیں تھیں ۔
پیچھے ثمینہ بیگم ادھر ہی اس کاغذات کو دیکھ رہی تھیں جس کے اوپر پین پڑا تھا جیت تو آخر دولت کی ہوئی تھی وہ کاغذ کا ٹکرا تو وہیں پڑا رہ گیا تھا زندگیاں دولت کے پیچھے ہار رہی تھی احساسات مرچکے تھے گولی لگنی کس کو تھی ؟ لگی کس کو ۔۔۔۔؟ نصیبوں کا کھیل تھا مقدر تو تباہ پڑا تھا سب ہار گئے تھے اس حادثے سے سب ٹوٹ گئے تھے۔
******
پیشنٹ کے ساتھ کون ہیں۔۔۔۔وہ ایک گھنٹے سے ٹہل رہا تھا ایمرجنسی روم بند پڑا تھا اب ایک سنئیر ڈاکٹر نکل کر باہر آیا تھا صیغر صاحب بھی سیدھے ہوسپٹل آئے تھے ساتھ میں آغا جان بھی تھے وہ کسی بڑے ہوسپٹل میں آغا جان کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے آغا جان کی ای _سی _جی ہونی تھی جب حسنال نے فون پہ انکو حقیقت سے آغا کیا تھا وہ ہر چیز کو چھوڑتے چھڑاتے وہاں سے نکلے تھے ۔۔
جی میں پیشنٹ کا فادر ہوں۔۔۔۔۔۔وہ ٹھیک تو ہیں نہ۔۔۔انہوں نے کسی خدشے کے تحت پوچھا تھا ۔
دیکھیں سر یہ پولیس کیس ہے ۔۔۔۔! ہم مزید کچھ کہہ نہیں سکتے پہلے آپ کام کریں پھر ہم اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں سکے گے۔۔۔ہم کوشش کر رہے ہیں یہ نہیں کہ ہم نے چیک اپ نہیں کیا ۔۔۔۔لیکن پھر بھی ہم نے گولی نکال دی ہے لیکن انکی کنڈیشن کافی کرییکٹیکل ہے کافی خو”ن بہہ چکا ہے مزید ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔ہم اپنی ڈیوٹی دے رہے ہیں آپ اپنا کام سر انجام دیں ۔۔۔!
لیکن ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔! پہلے ایک دفعہ وہ ہوش میں آئے گے تو بھی پولیس انویسٹگیٹ کرسکے گی نا۔۔۔۔ صیغیر صاحب نے اصل وجہ بتائی تھی۔۔۔!
فرض کرے اگر وہ سٹیبل نہ کرسکے محترم تو پھر کیا ہوگا ۔۔۔۔لیکن آپ پریشان نہ ہو ۔۔۔۔ہماری کوششش جاری ہے
وہ ڈاکٹر ان سے مصافحہ کرتا ان کے کندھوں پہ تھپکتا اندر چلا گیا تھا۔۔۔
کک۔۔۔کہہ رہے تھا ڈاکٹر ۔۔۔۔آغا جان اٹھتے ان تک آئے تھے اور صیغر صاحب سے پوچھا تھا۔۔۔
آغا جان ۔۔۔وہ ابھی کچھ نہیں کہہ رہے آغاجان اب بس دعا کریں وہ انھیں تھامتے سیٹ پہ بیٹھاتے بولے تھے اور خود حسنال کو فون کرنے کےلیے باہر نکلے تھے جو گھر سے اماونٹ لانے کےلیے نکلا ہوا تھا تاکہ اسے بتاسکیں کہ یہ معاملہ اب پولیس تک جائیں گا اور پولیس انوسیٹگیشن کرے گی وہ پہلے تو گھر کا معاملہ سوچ کر خاموش تھے لیکن اتنا بڑا حادثہ دیکھ کر اب کچھ سوچنے پر مجبور ہوئے تھے ۔۔۔
تہمینہ بیگم خود پریشان تھیں لیکن وہ اشنال کو تسلی دے رہی تھی اشنال آغاجان کو دیکھ کر ان کے پاس سے اٹھتی آغا جان کے قدموں میں بیٹھی تھی اور ان کی گود میں سر رکھا تھا۔۔
آغاجان کی آنکھوں سے بے آواز نکل تھے وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیر رہے تھے ۔۔۔!
پتا ہے آپکو آغاجان انہوں نے مجھے کیا کہا تھا انہوں نے کہا تھا کہ وہ میرےلیے مو”ت سے لڑ جائیں گے دیکھیں اس وقت وہ میری وجہ سے مو”ت کے منہ میں ہیں کاش میں ان کو کال نہ کرتی ۔۔۔۔کاش وہ گوی مجھے لگ جاتی کاش میں ان کے آگے آجاتی ۔۔۔۔ آغا جان میری زندگی میں صرف کاش رہ گیا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔آج اگر ہوگیا نہ۔۔۔۔تو آغا جان میں میری موت یقینی ہے۔۔۔۔ان کے علاوہ تو کسی نے مجھے سمجھا ہی نہیں ہے توجہ ہی نہیں دی ۔۔۔۔!
میں تو ان کی وجہ سے ہوں ۔۔۔۔اگر خدانخواستہ روشنال بخت نہ رہے نہ تو آج ہی اشنال بخت کی زندگی کا باب ختم ہوجائے گا میں م:ر جاؤں گی آغا جان ۔۔۔۔میری زندگی میں کچھ نہیں رہے گا۔۔۔
اللہ نہ کرے ۔۔۔۔مر”نے کی عمر تو میری ہے ۔۔۔۔اللہ تم لوگوں کو زندگیاں دے سکون دے ۔۔۔۔! بس میرا بچہ اس کےلیے دعا کرو ۔۔دعائیں رنگ لاتی ہیں جتنے شدت سے دعا کرو اتنا ہی شدت سے تمھارا رب تمھاری تمھاری سنیں گا وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے اسے راستہ بتا رہے تھے جو راستہ تو شاید اللہ کا تھا مگر ذریعہ وہ بنے تھے اٹھ کر اس کی زندگی کےلیے دعا مانگو بچے۔۔۔۔۔! وہ اسے پرسکون کرکے بھیج چکے تھے۔۔۔
*****
منال نے جب سے اس حادثے کو دیکھا تھا وہ بھول نہیں پارہی تھی وہ وضو کرتی نماز پڑھنے لگی تھی وہ روشنال کی نہیں بلکہ اپنی بہن کے سہاگ کےلیے دعائیں مانگ رہی تھیں جو اس کی ماں نے چھننا چاہا تھا حسنال کی بے اعتبار نظروں کو سوچ کر اس کا دل بند ہوا پڑا تھا ۔۔۔
حسنال جو لاکر سے اماونٹ لینے آیا تھا وہ بہت پریشانی میں تھا کیونکہ بابا کی بھی کال پہ کال آ رہی تھیں وہ لاکر سے امانے والا لفافہ لے کر پلٹا تو منال فرش پہ نماز پہ بیٹھی ہوئی تھی وہ ہاتھوں میں ہاتھ دیے خشوع و غضوع سے دعا مانگ رہی تھی اس کے زور سے الماری بند کرنے پہ اس نے ادھر دیکھا تو ایک دم سے اٹھی اور اس تک پہنچی تھی ۔۔۔۔ !
حسنال۔۔۔۔روشنال ۔۔۔۔کک۔۔۔کیسے ہیں وہ ٹھیک تو ہیں نہ ۔۔۔۔! اس تک پہنچتے اس نے بے تابی سے پوچھا تھا۔۔
ہاں باہر سہی سلامت لے آئے ہیں کچھ بھی تو نہیں ہوا ان کو ۔۔۔کیا ہونا تھا۔۔۔بس ایک گو”لی ہی تو لگی ہے ڈاکٹر نے نے چیک کیا اور بھیج دیا اور ساتھ میں یہ بھی کہنا نہیں بھولے تھے کہ آپ پاگل ہیں اتنی چھوٹی سی گو”لی کےلیے ہوسپٹل آئے ۔۔۔۔۔اس نے اتنے چھبتے لہجے میں طنز کیا کہ منال نے پل بھر کےلیے خاموشی پکڑ لی تھی ۔۔
پلیز صیح بتاؤ نہ پلیز حسنال مجھے ٹنشن ہو رہی ہے؟۔۔۔۔میں تمھیں کب سے سچائی بتانا چاہتی تھی تمھیں راز داں رکھنا چاہتی تھی۔۔۔!
ٹنشن اور منال بخت کو۔۔۔۔جو صرف ٹنشن دینا جانتی ہے اسے لوگوں کے دلوں سے کھیل کر، ان کی زندگیوں سے کھیل کر ٹنشن ہو رہی ہے تم اور تمھاری ماں خوش ہو جاؤ ۔۔۔۔اپنی جیت کی خوشیاں مناؤ پہنچا دی تم نے اس معصوم لڑکی کو تکلیف ۔۔۔وہ پل پل جی رہی ہے اور پل پل مر رہی ہے۔۔۔! سچائی اب کونسی رہ گئی ہے سچائی تو بتا دی ہے تم نے۔۔۔۔اس کا ذکر اس واقعہ کی طرف تھا اس نے اتنی تکلیف سے کہا تھا کہ منال نے آنکھیں بھینچ لی تھی وہ اس وقت بھائی کی تکلیف میں ٹوٹا بکھرا لگ رہا تھا ۔
پلیز بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ۔۔۔۔کک کیا۔۔۔۔ہوا ہے۔۔۔!
دعا کرو کچھ نہ ہو۔۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔وہ ایک پل کے لیے رکا تھا دعا کرو کہ تم بچ جاؤ ۔۔۔۔۔اگر میرے بھائی کو کچھ بھی ہوا ۔۔۔۔تو میں تمھاری قبر اس کمرے کے اندر بناؤں گا یہ وعدہ ہے حسنال بخت کا تم سے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی ۔۔۔۔۔تمھارے اس عشق و عاشقی کے چکر نے تباہ و برباد کر دیا ہے ۔۔۔! اس نے اتنے سخت لہجے میں کہا تھا کہ منال پھر سے خاموش ہوئی تھی وہ یہ کہہ کر لفافہ پاکٹ میں رکھ کہ نکلنے لگا تھا جب پھر سے منال نے اس کا بازو پکڑ لیا تھا۔۔
کاش وہ گو”لی مجھے لگ جاتی ۔۔۔۔۔سب وجہ ختم ہو جاتی میری ماں کی جینے کی وجہ ختم ہوتی ۔۔۔۔کاش حسنال میں وہاں ہوتی ۔۔۔کاش میری ماں کو میری مو”ت کے بعد ہی احساس ہو جاتا کہ وہ غلط ہیں ۔۔۔۔میں حرام مو”ت کو گلے نہیں لگانا چاہتی ۔۔۔لیکن اپنی ماں کے خطاب کا نشانہ میں بن جاتی ۔۔۔۔اس کے اگلے الفاظ حسنال بخت کا دل بری طرح سے چیر کہ رکھ گئے تھے وہ مڑا تھا اس کا ستا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں میں مرتی زندگی کو دیکھ کہ ساکت ہوا تھا اس کا کمزور سا ہاتھ اپنے کندھے پہ دیکھ کر وہ چند لمحے نہ ہل سکا اور نہ کچھ کہنے کے قابل ہوا تھا لیکن پھر بھائی کی بند آنکھوں کا سوچ کر وہ آنکھوں میں غضبناک تاثرات لیے اس کو دیکھا تھا ۔۔۔
واقعی تم سچ کہہ رہی ہو۔۔۔کاش تم م:ر جاتی ۔۔۔۔ہماری زندگیوں میں سکون آجاتا۔۔۔۔کاش اس نشانے پہ تم ہوتی تو سارے فساد کی جڑ ہی ختم ہو جاتی ۔۔۔۔! لیکن تمھاری ماں اور تمھاری ایک دفعہ حوالات کی سیر تو بنتی ہے نا ۔۔اتنی زندگیوں کو اجاڑ کے تمھاری ماں اور تم خوش کیسے رہ لیتے ہو لیکن ایک بات یاد رکھنا کہ جب پولیس آئے گی تو ماں کے بیانات خاموشی سے لکھوا دینا تم کہو گی کہ تم ماں بیٹی اس ساری ورادت میں ملوث تھی تمھاری تو چھوٹ میں صرف اور صرف اپنے بچے کی ماں سمجھ کر کراولوں گا اس سے زیادہ تمھاری حثیت دو کوڑی کی ہوچکی ہے میرے آگے ۔۔۔ اپنے بچے کے پیدا ہونے تک کا انتظار ہے پھر تمھارے اور میرے راستے جدا۔۔۔۔۔! وہ بولا تو لہجے میں آگ کے شعلے تھے۔۔
اور میں دعا کروں گی کہ میری زندگی میں یہ وقت بہت جلد آئے تم میری بند آنکھوں کو دیکھ کہ بھی کہو کہ اٹھ جاؤ۔۔۔۔لیکن کاش اس وقت میری آنکھیں نہ کھلیں ۔۔۔!۔سارے فساد کی جڑ ختم ہو جائے ۔۔۔۔! وہ شگستگی سے کہتی اس کو بت بنا چھوڑ کر چلی قرآن پاک ہاتھ میں اٹھائے چلی گئی تھی کیونکہ وہ جدائی کی بات کرکے اس کے جینے کی وجہ لےگیا تھا وہ سر جھٹکتا بھائی کو سوچتا بابا کو کال کرتا روم سے نکلا تھا۔
حسنال بخت کو کاش پتہ ہوتا ۔۔۔۔کہ اس سے آخری ملاقات ہے تو وہ گفتگو سوچ کر کرتا منال نے تو لفظوں ہی لفظوں میں سچائی باور کروانی چاہی تھی ۔۔۔۔اس نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ رب نے ان کی زندگیوں میں ہجر لکھ دیا تھا جس میں ملن کا وقت مقرر نہیں تھا۔۔۔
۞۞۞
حسنال کے جانے کے بعد ثمینہ بیگم جو حسنال کو گھر آتا دیکھ کر چھپ کر باتیں سن رہی تھی وہ خیریت تو روشنال کی معلوم کرنے آئیں تھیں لیکن اس کی حوالات والی بات کا سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے وہ کمرے میں گئیں ہر چیز بیگ میں ڈالی سونا وغیرہ رکھا تھا وہ اس کے نکلنے کے بعد منال کے کمرے میں آئی تھیں۔۔۔۔
منال۔۔۔۔۔اٹھو۔۔۔۔۔ہمیں نکلنا ہوگا۔۔۔۔وہ ہڑبڑاتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی تھیں ۔۔۔
کر دیا برباد میری زندگی اب نہیں ملا آپ کو سکون۔۔۔میری بہن کے تو شروع سے آپ اس کے پیچھے پڑی تھیں
وہ تقربیاً ان کے قریب آتی ان کو جنجھورتی ہوئی بولی تھیں۔۔۔
بات سنو۔۔۔۔اس وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا وقت ہے میرے ساتھ چلو گی تم ۔۔۔۔گو”لی لگ گئی ہوگیا قصہ تمام۔۔۔اگر وہ مرگیا تو پتہ ہے حوالات کی سیر اب ہم دونوں کو کرنی پڑے گی تم میرے ساتھ چلو۔۔۔! ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔وہ اس کو پکڑتی پہلے کی طرح خود غرض بن چکیں تھیں ۔۔
آپ کتنی خود غرض عورت ہیں امی۔۔۔۔کاش میرے پاس کچھ وقت ہوتا تو میں اشنال کو بتاتی میں اور وہ ایک ہی عورت کی ڈسی ہوئی ہیں جنہوں نے حسد کی وجہ سے بچپن سے محروم کر دیا ہے ہمارا سائباں چھین لیا ہماری چھت گرا دی ۔۔۔۔وہ بولی نہیں چیخی تھی۔
بکواس بند کرو بہت دیر سے سن رہی ہوں تمھاری بکواس
اس کا مطلب یہ نہیں ہے تم میرے گلے آ پڑو ۔۔۔تیاری پکڑو میرے ساتھ جانے کی۔۔۔۔۔وہ اسے چھوڑ دیتیں لیکن غصے میں آکہ جو راز اُسے بتائے تھے ان پہ پردہ ڈالنے کےلیے وہ یہ سب کچھ کر رہی تھیں کہ منال سب کچھ نہ سچ سچ نہ بول دے۔۔۔۔وہ اس لیے بول رہی تھیں۔۔۔
نہیں جانا آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔نہیں جانا ایسی خودغرض عورت کے ساتھ ۔۔۔۔جو رشتوں کو پامال کرتی ہے ہر بار آپ کو کامیاب نہیں ہونے دوں گی ۔۔۔میں اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جاؤں گی ہر دفعہ آپ کی نہیں چلنے دوں گی۔۔۔آج میں یا خود کو ما”ر ڈالوں گی یا آپ کو۔۔۔وہ اٹھ کر کوئی تلاش کرتی جب ثمینہ بیگم نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اس کا نماز سٹائل ڈوپٹہ اتار کے بیڈ پہ گرا کہ بازؤں باندھے تھے وہ بازوؤں باندھا تو وہ چیخنے لگ پڑی تھیں ایک اور اس کا ڈوپٹہ تلاش کرتی اس کا منہ بند بھی باندھ چکی تھیں وہ افسوس محض چند پل کا تھا وہ پھر سے ایسے ہی ظالم و سفاک بن چکی تھیں پھر اسے بازوؤں سے پکڑ کر اٹھا اپنے کمرے میں لاکر بیگ اٹھاتی رات کے اندھیرے میں نکلی تھی یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ اس رات کے اندھیرے میں اپنی اور اپنی بیٹی کی زندگی اندھیر کرنے والی ہیں کیونکہ وہ چالاک ضرور تھیں لیکن وہ خود بھیڑیوں کی زد میں آنے والی تھیں۔۔۔۔۔
حیرت کی بات ہے کسی کے لفظوں کی وجہ سے ، کسی کے عمل کی وجہ سے زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں اور یہ انسان کےلیے صرف چند پل کےلیے افسوس ہوتا ہے ۔۔۔وہ انسان بھول جاتا ہے کہ کسی بھی ذی نفس کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ مکافاتِ عمل ان کے ساتھ ہوسکتا ہے
دیر ضرور ہوتی ہے مگر اندھیر میں وہ خدا اسے مکافاتِ عمل کی چکی میں پیس کہ رکھ دیتا ہے۔۔۔
خدا ظالموں کی رسی دراز ضرور کرتا ہے مگر وہ جب کھنچتا ہے تو وہ ہی ظالم منہ کے بل گرتا ہے اب اس عورت کا منہ کے پل گرنے کا وقت آگیا تھا۔۔
یہ زندگی ہے مکافاتِ عمل ہے یہاں
رولایا ہے تو رونا تو پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔💞
۞۞۞۞۞
اشنال نے تو رو رو کر آنکھیں سجا لیں تھی اپنی ۔۔۔۔کافی زیادہ وقت گزارا تھا اشنال دعائیں مانگ مانگ کر باہر نکلی تھیں ثمینہ بیگم تسبیح اٹھائے پڑھ رہی تھیں ان کی زبان پہ بس بیٹے کی لمبی زندگی کا ورد تھا آغا جان بھی دل ہی دل میں دعائیں کر رہے تھے حسنال پریشان انگلیوں سے سر کو مسلتا ایک طرف کھڑا تھا اور صیغیر صاحب اپنے معاملوں میں الجھے ہوئے تھے ان کو ایسے بیٹھے مزید دیر گزری تو وہ ہی سنیر ڈاکٹر نکلے تھے۔۔
کانگریجولین سر۔۔۔۔۔!آپ کے پیشنٹ کی جان اب خطرے سے باہر ہے لیکن ہوش میں آنے میں ابھی مزید چار سے پانچ گھنٹے لگ سکتے ہیں تو ابھی جب ہم وارڈ میں شفٹ کریں گے تو تب آپ بے شک دیکھ لیجئے گا انکو۔۔۔! وہ حسنا کی کندھے کو تھپکتے پروفشنل انداز میں اندر چلے گئے تھے۔ ۔
حسنال ڈاکٹر کی بات سن کر وہیں ہسپتال کے فرش پہ سجدہ ریز ہوا تھا۔
ان کے یہ الفاظ تھے یا زندگی وہاں بیٹھے سب نفوس کے بے جان وجود میں زندگی ڈال گئے تھے ڈاکٹر کے یہ الفاظ سنتی اشنال نے بے اخیتار رب کا شکر ادا کیا تھا اس کو یہ اللہ کا اپنے اوپر کیا گیا محجزہ لگا تھا جب مقدر لکھنے والا ہمیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو ہمارے نصیب خراب کیسے ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔؟

Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial