تیری ستمگری

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 33 حصہ 3

وہ منال کو لے کر ثمن بیگم کے گھر کے آگے کھڑی تھیں انہوں نے بیل دی تو ڈور ایک چوکیدار نے کھولا تھا۔۔
ثمن سے ملنا ہے ہمیں ۔۔۔نہ سلام نہ دعا انہوں نے ڈائریکٹ کہا تھا۔
وہ بی بی جی کب کی پتا نہیں کدھر گئیں ہوئیں ہیں۔۔۔۔بوڑھے سے چوکیدار نے انھیں بتایا تھا۔
وہ کب تک آئے گی ۔۔۔ہمیں اسے ملنا ہیں ۔۔۔۔انہوں نے تہمید باندھی تھی۔
ایک انسان ہونے کے ناطے بتا رہا ہوں آپکو یہ عمارت یہ گھر یہ نوکر چاکر سب دھوکہ ہے بی بی ۔۔۔۔یہ ایک نمبر کے فراڈیے ہیں آپ یہاں سے چلی جائیں اس میں آپکا ہی فائدہ ہے ۔۔۔وہ بوڑھا شخص انھیں مطلع کر رہا تھا منال ان کی باتیں سن کر سہم کر رہ گئی تھی اسے لگا کہ وہ اس کی بات سن کر واپس پلٹ جائیں گی لیکن واپس پلٹتے تو وہ ہیں جن کو ہدایت کے راستے کا پتہ ہوتا ہے جن کی آنکھوں پہ پٹی بندھی ہوئی ہو وہ اندھا دھند اس میں دھنستے جاتے ہیں ۔۔
دوٹکے کے نوکر چپ رہو زیادہ صلاح مشورے نہ دو۔۔۔وہ نہایت بدتمیزی سے کہتی چل پڑی تھیں
پھر چوکیدار نے کچھ نہیں کہا تھا وہ ابھی خود ہی نئے نئے آئے تھے کسی دوست نے یہاں کا راستہ بتایا تھا انھیں تو یہاں مکینوں کے لچھن اچھے نہیں لگے تھے اس لیے خبردار کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔
وہ انھیں لیتے ہوا اندر داخل ہوا تھا انہوں نے گھر کے باہر ہی منال کے منہ سے کپڑا ہٹا اس کے گلے میں ڈال دیا تھا لیکن ہاتھ میں زبردستی پکڑا ہوا تھا وہ بہت بے بس تھی اسے اپنی ماں سے اس لیے خطرہ تھا کہ وہ اس کے ہونے والے بچے کے ساتھ کچھ کر نہ دیں وہ بیٹی تو بے بس نہیں مگر ماں بےبس ضرور بن چکی تھی وہ ماں کی گرفت میں بیٹھی سوچ رہی تھی کاش حسنال اس کے ساتھ ہوتا تو وہ گھر سے کبھی نکلنے کا نہیں سوچتی اگر اس کی ماں کے ساتھ مزید کچھ کرتی وہ اسے اعتماد میں لےلیتی تھی لیکن اب شاید وہ تھک گئی تھی وہ خود کنارہ کرنا چاہیتی تھی کیونکہ وہ سب کو اپنی ذات کا یقین دلاتے دلاتے تھک گئی تھی وہ خود سے ہی ہار گئیں تھی اسے لیے اب مزاحمت کرنا چھوڑ دی تھی اسے نہیں پتہ تھا کہ آگے قسمت کیا کرنے والی ہے۔۔۔؟
چوکیدار ان کو گیسٹ روم میں بیٹھا کہ چلا گیا تھا یہ عمارت بہت بڑی تھی نوکر چاکر ، اچھا سا بڑا گھر تھا۔۔
کافی دیر بعد ایک اور ملازم نے ان کے سامنے چائے اور بسکٹ رکھے تھے ثمینہ بیگم سکون سے کھانے لگ پڑی تھیں ۔۔۔
منال کی زندگی اجڑ گئی تھی وہ کیسے کھاتی اس کی سانس حلق میں اٹکی ہوئی تھی رات کے دو بج چکے تھے ثمینہ بیگم بیٹھے بیٹھے تھک گئی تھی باہر سے قہقوں کی آواز آنے لگی تھی وہ صوفے سے اٹھیں وہ جیسے ہی لاونج میں انٹر ہوئے ثمن اور وقار بازوؤں میں داخل ہوتے قہقہ لگاتے اندر آئے تھے اور بیٹھ گئے تھے ثمینہ بیگم نے جھانک کر باہر دیکھا جو اب لاونج کے صوفوں پہ بیٹھے ہوئے تھے تھے وہ لڑکا ان کے ساتھ بیٹھا تھا ذرا ذرا سی بات پہ قہقہ ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کہ لگاتے تھے ماں بیٹے کے رشتے کے تقاضے ہرگز تو یہ نہیں تھے اس سے پہلے وہ آگے بڑھتی لیکن ان کے اگلے الفاظ ان کی زمین سرکانے کو کافی تھے
ویسے سچ بتاؤں وہ لڑکی ہے بہت معصوم اور شیخ کو پسند بھی بہت آئے گی وہ پیسے بھی بہت دے گی بس اب اسے ساتھ لانے کا تھوڑا سا مسئلہ ہے لیکن میرے لہجے کی مٹھاس میں وہ کیوں نہیں آئے گی دیوانی جو ہے میری بھاگی بھاگی آئے گی ۔۔۔۔۔!اس نے یہ کہہ کر ساتھ ہی شیطا”نی قہقہ لگایا تھا۔
لے کہ تو تمھیں آنا پڑے گا اگر تم اسے نہیں لے کہ آؤ گے تو شیخ ہم سے یہ بنگلہ چھین لے گا جس میں ہم عیش سے رہ رہے ہیں ۔۔۔اب ان کی جان سے پیاری دوست کی آواز آئی تھی ۔۔
لے آؤں گا ڈرالنگ تمھارے خوبصورت چہرے پہ پریشانی جچ نہیں رہی اور یاد رکھو حسن آرا تمھارا دھندا تمھاری جان کی بدولت چل رہا ہے میرے آگے تو کئی لڑکیاں بچھنے کو تیار ہیں
لیکن حسن آرا تمھاری خوبصورتی کے آگے تو سارے رنگ پھیکے ہیں وہ جوان لڑکا اس عورت کے آگے اظہارِ محبت کا اظہار کر رہا تھا جو کہ ان کی دوست ثمن تھیں
وہ تصور بھی نہیں کرسکتیں تھیں کہ ثمن ان کی دوست اتنے گرے کردار کی نکلے گی وہ خود بہت بری تھیں دولت و حسد کی ہوس ان میں پائی جاتی تھی لیکن کردار ان کا بہت کھرا تھا ان کو ان غلط کاموں کی لت نہیں تھی وہ گیسٹ روم سے ان کی طبعیت صاف کرنے باہر نکلی تھیں ان کے پیچھے منال اٹھی تھی جو صوفے پہ نڈھال سی پڑی تھی۔
گھٹیا عورت ۔۔۔۔تم اتنی گھٹیا ہوگی میں نے سوچا نہیں تھا وہ ان کے قریب آتی چیخ اٹھی تھیں منال کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔
ثمی یار تم۔۔۔۔۔! ان دونوں کی آنکھیں تو حیرت سے پھٹی تھیں وہ ایک دم سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔
آوارہ بازارو عورت ۔۔۔ گرے اور نیچ کردار کی لوگوں زندگیاں تباہ کرتے تمھیں شرم نہیں آتی ۔۔۔۔! وہ ان کے آگے آتی انھیں تھپڑ مارنے کو آگے بڑھیں تھیں جب حسن آرا نے انکا وہ ہی ہاتھ پکڑ کہ ان کی پشت پہ زور سے لگایا تھاثمینہ بیگم چیخ کہ رہ گئی تھیں۔
ثمی یار مجھے ہلکے میں لینے کی کوشش مت کرنا دراصل میں بہت ہی کانشیس ہوں ۔۔۔کوئی حسن آرا کو ہلکے میں لیتا تو وہ سہہ نہیں پاتی۔۔۔۔حسن آرا نے ان کے کان میں پھنکاری تھیں ۔۔
امی امی۔۔۔۔منال نے ماں کو تکلیف میں دیکھا تو ان کی طرف دوڑی تھی وہ جیسی بھی تھی اس کی ماں تھی وہ برداشت نہیں کرسکی تھی کہ اس کی ماں اتنی تکلیف میں ہے وہ حسن آرا کے ہاتھ سے ماں کے بازوؤں چھڑانے لگی تھی اس نے اپنے نازک ہاتھ سے انھیں چھڑانا چاہا لیکن وقار نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
وہاں کیا سرپرائز ہے شکار خود ہمارے قریب چل کہ آیا ہے ۔۔وقار نے اسے اپنی طرف کھنیچ کر حیوانی لہجے میں کہا تھا منال خود کو چھڑوا رہی تھی اس کو اس کے لمس سے نفرت ہوئی تھی وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑے ہوئے تھے وہ ماں کی طرف بہت بےبس نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
کتنی حسین اور جوان ہے نرم و نازک ۔۔۔۔۔! کیوں نہ اسے استعمال کرکے شیخ کو سونپا جائے اس طرح اس کے شوہر کا جو میرے اوپر قرض ہے وہ بھی اتر جائے اس دن بڑا غیرت والا بن رہا تھا۔۔اور ڈارلنگ تم تو مجھے پسند کرتی ہو نہ ۔۔۔اس دن بڑی اپنے شوہر کے سامنے مجھ سے محبت کا اظہار کر رہی تھی آج بھی ہو جائے نہ۔۔۔۔وہ غلیظ یہ کہہ کر اس کی طرف جھکا تھا۔۔
وقار اسے کمرے میں لے کہ جاؤ اور سوٹ اسے تمھاؤ ایک رات کےلیے یہ میرے کوٹھے کی بھی زینت تو بننی چاہیے نا۔۔۔حسن آرا ثمینہ بیگم کو دبائے زہر خند لہجے میں کہنے لگی تھی وقار اسے لے کہ کھنچنے لگا تھا۔۔
میری بیٹی کو چھوڑ دوں لڑکے ۔۔۔۔نہیں تو میں تمھارا قصہ تمام کردوں گی وہ پھڑپھڑا کر پھنکاری تھی وہ کتنے معصوموں کی زندگیوں سے کھیل کر آئیں تھیں تو پھر ان شیطانوں کا خاتمہ نہیں کرسکتی تھیں وہ اور نہیں تو اپنی بیٹی کی عزت کےلیے کچھ بھی کرسکتی تھیں مطلب کچھ بھی کرسکتی تھیں وہ بے شک جیسی بھی تھیں اپنے شوہر کے مرنے کے بعد کسی کو بھی دو کوڑی کی اہمیت نہ دی تھی اسی عزت کی خاطر ان کی اپنی بیٹی کی جگہ سوکن کی بیٹی بھی یعنی اشنال بخت بھی ہوتی تو وہ اس کی عزت کےلیے لڑ جاتیں ۔۔۔۔!
امی۔۔۔۔۔امی ۔۔وہ چیخی تھی وہ جو اسے سیٹرھیوں سے اوپر کھینچ کر لے جار رہا تھا یہ دیکھ کر منال بیگم کا پارہ ہائی ہوا تھا اُن کا خو”ن کھول اٹھا تھا انھوں نے واپس مڑ کہ بھرپور زور لگایا اور واپس پلٹ کر حسن آرا کی مخصوص رگ دبائی تھی جس کام میں وہ ماہر تھیں انہوں نے بہت زیادہ کر :ائم شو دیکھ رہے تھے جس وجہ سے مر”نے ما”رنے والی چیزوں میں کافی ماہر تھی حسن آرا بے ہوش ہوکر نیچے گری تھی۔
ثمینہ بیگم پلٹ کر وہاں سے شیشے کے بھاری ڈیکوریشن پیس کو اتار کر سیٹرھیوں پہ بھاگتی ہوئی منال کو کھینچ کر لے جاتے ہوا وقار کو مارا تھا جس سے منال کا ہاتھ چھوٹ گیا منال جلدی سے ایک دو سیٹرھیاں عبور کرتی اوپر پوگئی تھی ۔۔۔۔ جبکہ وہ کرا کے پیچھے ہوا اور ثمینہ بیگم کو کو پکڑا کہ وہ گرے نہیں ثمینہ نے زور سے اپنا آپ چھڑانا وہ ایسے ہی جھول رہا تھا لیکن ہاتھ چھوڑ نہیں رہا تھا ثمینہ بیگم نے ایک اور حملہ کیا اور اب کی بار اس کا ہاتھ تو چھوٹ گیا وہ سیٹرھیوں سے گرا تھا لیکن ثمینہ بیگم کا پیر زبردست قسم کا رپٹا ان کا سر بھی دیوار سے لگا تھا وہ بہت بری طرح سیٹرھیوں سے گرتی چلی گئی تھیں کرسٹل کے پیس کے کانچ ان کے سر پ لگے تھے۔
منال بھاگو ۔۔وہ چیخی تھیں آج وہ پہلی بار دل سے پیچھتائی تھی لیکن وہ خدا تو حساب لیتا ہے نا ۔۔؟ وہ تو انسان کو احساس دلائے بغیر معاف نہیں کرتا ۔۔۔ ! کچھ زخم تو ان پہ بھی ادھار تھے سر سے نکلتے خو”ن پہ انہوں ہاتھ رکھتے بمشکل لہجے میں کہا تھا
منال ۔۔۔۔میں کیا کہہ رہی ہوں بھاگو اور جانے سے پہلے مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔وہ ہوش کھونے سے پہلے اس کو سیٹرھیوں پہ ساکت رکھے ہاتھ دیکھ کر چیخیں تھیں ان کی آواز سنتی ان کے سر سے خوَ”ن کی ندیاں بہتی دیکھ دیکھ کر منال بھاگ کر سیٹرھیوں سے اتری تھی ۔۔
امی مم۔۔۔۔میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی امی ۔۔۔آپ جیسی بھی ہیں میری ماں ہیں وہ ان کا ڈوپٹہ ان کے سر پہ باندھنے لگی تھیں جس کی وجہ سے ان کا خو”ن رک جاتا وہ ڈوپٹہ باندھ کہ ان کو مشکل سے اٹھایا تھا اور آہستگی سے چلتی ہوئی باہر نکلی تھی لیکن وہ پھر گر گئیں تھیں وہ انھیں گھسٹتی لے کہ آئی تھی وہ اٹھا تو سکتی نہیں تھی نہ اس کی مدد کےلیے کوئی تھا وہ باہر فرش پہ ان کو لاتی ادھر ہی ان کو چھوڑتی باہر بھاگی تھی ۔۔۔۔! نوکر تو رات کو نہیں تھے اگر ایک آدھ تھا بھی تو وہ ڈر کی وجہ سے باہر نہیں نکل رہا تھا۔۔
پیچھے وہ دونوں وہاں ہی پڑے ہوئے تھے کوئی مدد کےلیے نہیں آیا تھا کیونکہ برائی کا انجام برائی ہی تھا کبھی قسمت کے کھیل انسان کو کہاں سے کہاں آ کہ لے کہ آتے ہیں دولت نے ان سب کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔۔
منال اتنے بڑے گھر سے بمشکل بھاگ کر باہر نکلی تھی وہ بوڑھا سا چوکیدار دروازے کے پیچھے دیوار کے ساتھ سویا ہوا تھا اسے بس اتنی سمجھ آئی کہ اس بوڑھے شخص نے ان کو خبر دار کیا تھا بس ان کی مہربانی سمجھ کر سے ان کو اٹھانا چاہا تھا۔
انکل انکل ۔۔۔۔۔اس نے دو تین دفعہ آواز لگائی تھی وہ بوڑھے بیشک تھے لیکن وہ اجنبی تھے لیکن پھر بھی ماں کی زندگی کےلیے اس نے انھیں اونچی آواز میں پکارا تھا
وہ آنکھیں مسلتے اٹھے تھی ۔۔
کو ۔۔۔۔کون۔۔۔۔وہ انجانی سے پوچھنے لگے تھے ۔۔۔
انکل وہ۔۔۔۔وہ میری۔۔۔۔امی بے ہوش ہوگئیں ہیں پلیز میری مدد کر دیں وہ لوگ واقعی بہت برے ہیں وہ وہ بہت گندے ہیں وہ مجھے کھینچ کہ لے کہ گئے تھے میری امی زخمی حالت میں پڑی ہوئیں ہیں وہ بات کو سہی طرح سمجھا نہیں پا رہی تھی پلیز آپ ان کے چوکیدار نہیں بلکہ انسانیت کے ناتے میری امی کو بچالیں وہ یہ کہتے اونچی ہوگئی تھی اس کی حالت کافی بکھری لگی تھی ۔۔۔
بیٹا آپ کی امی کہاں ہیں۔۔۔۔وہ سجھ گئے تھے کہ کوئی اور حسن آرا کہ جال میں پھنس گیا تھا انہوں نے خبردار کیا تھا لیکن حسن آرا کی دوست ان کو بیوقوف لگی تھی
آج وہ اپنا نقصان کر بیٹھیں تھیں۔۔
انکل پلیز میری امی کا بہت زیادہ خون ضا”ئع ہو چکا ہے پلیز انکل کوئی آٹو وغیرہ لے آئیں یا کوئی ٹیکسی ۔۔۔۔۔ْ! وہ جو سوچوں میں تھے اس نے اب کی منت کی تھی لیکن وہ خاموش سے کھڑے تھے
وہ نا امید ہو کر باہر بھاگی سڑک پہ کوئی رکشہ نہیں تھا وہ نصیبوں سے ہاری لڑکی آدھی رات کو ویران سڑک پہ اپنی بدنصیب ماں کی زندگی ڈھونڈنے لگی تھی لیکن کوئی چارہ نہیں ملا تھا وہ پھر مایوس ہوکر پھر اندر آنے لگی جب چوکیدار باہر آیا تھا۔۔
بیٹے میں تمھاری مدد کروں گا اندر چلو۔۔۔۔وہ اسے کہتے گویا ہوئے تھے جو ٹوٹی بکھری سی تھی وہ یہ کہتے اسے اندر کی طرف لے آئے اور پھر انھوں نے اس ڈرائیور کی طرف گئے جو حسن آرا کا ڈرائیور تھا وہ جانتے تھے یہ پو”لیس کیس ہے معاملے کو ہنیڈل کرنا ذرا مشکل تھا ڈرائیور کے ساتھ مل کر انھوں نے بہت مشکل سے تینوں کو ہوسپٹل پہنچایا تھا۔
*****
روشنال کو ابھی ابھی ہوش آیا تھا وہ سارے اسے دیکھنے چلے گئے تھے پیچھے حسنال اور اشنال رہ گئے تھے ۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ حسنال بھائی ۔۔۔۔۔کہ آپ نے میرے شوہر کی جان بچائی میں اس کےلیے آپ کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے ۔۔۔۔وہ ان کےپیچھے جانے لگا جب اس کی تکلف سے برتی اور سلیقے سے بھرپور آواز سنائی دی تھی وہ حیران سا ہوکہ پلٹا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اشنال اسے اتنے اجنبی لہجے میں بات کرے گی یہ نہیں کہ اس دل میں ابھی تک اسکی چاہت تھی وہ اب اس کے بھائی کی بیوی تھی اس کےلیے قابلِ احترام تھی لیکن پھر بھی اسکا لہجہ دیکھ کہ اس کے دل پہ چوٹ لگی تھی۔۔۔
دیکھو اشنال شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ تمھارے شوہر ہونے سے پہلے میرے بھائی تھے اس لیے میرا فرض تھا ان کو بچانا اور باقی رہی بات تمھاری آنکھوں میں آنسو ابھی تک نہیں دیکھ سکتا اس لیے نہیں کہ میرے دل میں تمھارے لیے پہلے والے جذبات ہیں جو ہمارا پہلے رشتے تھا اسے میں فراموش کر چکا تھا اسی دن جس دن تم میرے بھائی کی بیوی بنی تھی کیونکہ اب بھی تم میرے بھائی کی بیوی ہو میرے لیے قابلِ عزت ہو تو مجھ سے پہلے کی طرح دوست سمجھ کر ہی بات کرلینا کیونکہ میں پہلے ہی تمھارا دوست تھا یہ بات الگ ہے کہ اس دوستی کہ ٹوٹنے کی وجہ میری کمظرفی بنی تھی ۔۔۔اور میں نے تمھیں بہت غلط سمجھا اور اس بات کا افسوس مجھے ہمیشہ رہے گا کہ میں نے تم پہ اعتبار نہیں کیا تھا۔۔باقی یہ رشتے تو نصیوں کی بات تھی ہم جتنا بھی واویلا مچائے وہ اللہ تو مقدار انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی لکھ دیتا ہے اس سے انسان جتنا بھی مفر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں منال نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا ہے اشنال لیکن وہ تمھارے بخت ولا کے جانے کے بعد بہت شرمندہ رہی ہے وہ تمھارا نام لے کہ راتوں کو ڈری بھی تھی شاید یہ اس کا پچھتاوا تھا کہ وہ سکون سے نہیں رہ پاتی تھی پلیز یہ میری چھوٹی سی عرض ہے اشنال اسے معاف کردینا وہ بہت بدل چکی ہے کہتے ہیں کہ انسان کا دل دکھا ، اس کا دل توڑ کر معافی مانگنا بہت آسان ہوتا ہے اور میں بھی آسانی سے معافی سے مانگ رہا ہوں ۔۔۔لیکن پھر بھی اشنال یہ تمھاری اعلیٰ ظرفی ہوگی کہ تم مجھے اور اس اللہ کی بندی کو معاف کر دینا۔۔۔۔وہ بولا تو لہجہ متانت سے بھرپور تھا کیونکہ وہ اس کا ویران چہرہ دیکھ کر آیا تھا تب سے اسے سکون نہیں آ رہا تھا۔۔
وہ میری بہن ہیں مجھے نہیں پتہ کہ وہ بدل چکی ہیں یا نہیں لیکن میں نے سب کو معاف کردیا ہے
ایک درویش کا قول ہے کہ ان کے پاس ایک شخص آیا تھا جس نے کہا تھا کہ فلاں بندے نے ان کے بارے میں غیبت کی ہے تو وہ اس کی بات سن کر مسکرانے لگے۔۔۔!
اس شخص نے حیرت سے پوچھا کہ آپ کو دکھ نہیں لگا کہ انہوں نے آپ کے بارے میں اتنے غلط الفاظ کہے ہیں ۔۔۔۔۔؟
تو انہوں نے آگے سے کہا تھا مجھے دکھ اس پہ نہیں ہوا تم پہ ہوا ہے جو مجھے تم اس کی باتیں بتا رہے ہو۔۔۔میں اسے تمھاری اچھائی نہیں مان سکتا کیا اس فلاں شخص نے میری غبیت کی ہوگی تو تم نے اس کے بدلے کچھ کہا نہ ہوگا اور پھر اسکی بات میرے آگے کر دی ۔۔۔!
تو مجھے بھی دکھ منال آپی پہ نہیں تھا مجھے آپ سب پہ دکھ تھا کہ مجھے جن جن پہ مان تھا انھوں نے ایک کاغذ کو دیکھ کر اس بھرم کو توڑ دیا تھا وہ تو غلط تھی لیکن آپ بھی تو صیح نہیں تھے نا۔۔
حسنال اس کی بات سن کر بری طرح شرمندہ ہوا تھا اس کی نظریں جھک گئی تھیں۔۔۔۔
دیکھیں حسنال بھائی میرا مقصد آپ کو ہرگز شرمندہ کرنے کا نہیں تھا اگر آپ کو کوئی بات بری لگے تو سوری اور آپ پریشان مت ہوں میں نے منال آپی کو معاف کردیا ہے ۔۔۔۔اس نے اس شرمندہ دیکھ کر ٹھہرے لہجے میں کہا تھا۔۔
کوئی بات نہیں بہت بہت شکریہ۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا وہ اس کو بھائی کہہ رہی تھی تو کیا وہ چھوٹی سی بات پہ اس کا مان نہیں نہیں رکھ سکتا تھا۔۔
چلو تمھارے سپرمین کو ہوش آگیا ہے یہ نہ ہو وہ تمھیں نہ دیکھ کر مجنوں کی طرح باہر نکل آئے ۔۔۔۔! اس نے ماحول پہ چھائی کثافت دور کرنے کی خاطر کہا تھا۔
آپ جائیں میں نے شکرانے کے نفل ادا کرنے ہیں پھر آتی ہوں میں بھی ۔۔۔! اس نے انکار کرنا مناسب نہ سمجھا تھا مناسب سی دلیل کر اسے بھیجا تھا فلحال وہ اس کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔!
۞۞۞۞۞
بھائی یہ پہلے میڈیسن لے لیں ۔۔۔ حسنال اس کے پاس کھڑا تھا ماں ،بابا، آغاجان اس سے سارے مل کر چلے گئے تھے حسنال نے ان کو آرام کرنے کی خاطر گھر بھیج دیا تھا اس نے اشنال کو بھی کہا تھا لیکن وہ تو گھر کو پیچاننے سے ہی انکاری ہوگئی تھی اس کو ہوش آۓ دو سے تین گھنٹے مزید بیت چکے تھے اب تو صبح کا سورج بھی طلوع ہوچکا تھا۔
پو”لیس اس سے بیان لکھوانے آئی تھی لیکن اس نے یہ کہہ کر انھیں بھیج دیا تھا کہ گھر کا معاملہ ہے ان سے غلطی ہوئی ہے روشنال نہیں چاہتا تھا کہ گھر کی بات باہر تک جائے ۔۔۔حسنال نے غصہ بھی کیا تھا کہ آپ نے اتنی آسانی سے کیوں چھوڑ دیا انھیں ۔۔۔! لیکن اس نے اسے سمجھایا تھا جس سے اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔۔
نہیں یار میں نے میڈیسن نہیں لینی میرا دل نہیں کر رہا۔۔
وہ بددل سا ہوکہ کہہ رہا تھا اس کی نظریں باہر کی جانب ٹکی ہوئیں تھیں کہ وہ کیوں نہیں آرہی ۔۔۔۔!
کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے آپ کا دل نہیں ہے بجلی کا بل ہے جیسے دوائی لینے پر بھی ٹیکس لیا جائے گا راتوں رات یار آپ تو کوکی پہلوان بن گئے ہیں ۔۔۔وہ جوس اسے تھماتا آنکھوں میں شرارت لیے بولا تھا جو واقعی کمزور لگ رہا تھا ظاہر اتنا خو” ن بہا تھا کمزور تو ہونا تھا
اشو کہاں ہے ۔۔۔۔؟اس کی بات کو اگنور کیے روشنال نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
آپ کو اپنی نئی زندگی میں بھی وہ ہی چاہیے مطلب دوسرے جنم میں بھی۔۔۔۔۔!
کیا مطلب ہے تمھاری اس بکواس کا۔۔۔۔وہ برہم ہوا تھا۔
مطلب یہ کہ بھائی آپ ابھی ابھی مو”ت کے منہ سے بچ کہ آئیں دوسری زندگی ملی ہے آپکو۔۔۔۔۔پھر بھی پہلی بیوی کی تلاش ہے آپکو ۔۔۔۔؟ بھئی آپ کو چاہیے کہ آپ اپنی نئی زندگی میں ایک عدد اور پیاری سی لڑکی تلاش کریں یار ۔۔۔۔وہ اس کے پاس بیٹھتا بزرگانہ انداز میں بولا تھا۔
مجھے گو”لی لگی ہے صرف۔۔۔ ہاتھ نہیں ٹوٹے ۔۔۔۔میرے بیڈ پہ ہونے کا ہرگز یہ فائدہ نہ اٹھاؤ کہ میں کچھ کہہ نہیں سکتا یا تمھارا منہ نہیں توڑ سکتا ۔۔۔۔ اس کے منہ سے فضول باتیں سن کر وہ خفگی سے کہنے لگا تھا۔
اوہ اچھا کوکی پہلوان ۔۔۔۔۔توڑ دینا منہ پہلے کچھ کھالیں آپ کو طاقت آئیں گی تب ہی تو آپ اپنی اشو کو دیکھ سکیں گے اور مجھے پتہ ہے آپ کو وہ ساتھ جنموں تک ساتھ چاہیے ۔۔۔۔حسنال نے اشنال کا نام لے کر اس کی کمزور رگ کو پکڑا تھا۔
وہ بہت ظالم ہے کیا اسے میری فکر نہیں ہے اب تک نہیں آئی۔۔۔۔روشنال جو اس کی سوچ میں گم تھا اس کے منہ سے پھسلا تھا ورنہ وہ اناپسند اپنے جذبات کو کنڑول کرنے والا انسان تھا اور اس جیسے ٹھرکی انسان کے سامنے تو وہ م”ر کر بھی راز نہ کھولتا۔۔۔! لیکن یہ اس کی بے اختیاری ہی تھی جو اسے بری طرح مرو”انے والی تھی ۔۔
اس کی بات سن کر حسنال کھانسا تھا۔۔۔۔! اسی اثنا میں اشنال ہاتھوں کو مسلتی کنفیوز سی اندر آئی تھی ۔۔!
اس کی نظریں اس پہ ٹک گئی تھی وہ بہت ہی توجہ سے اسے دیکھنے لگ پڑا تھا۔۔۔
کیا تجھ کو جہاں والے ستمگر نہیں کہتے
کہتے تو ہیں مگر تیرے منہ پر نہیں کہتے
اشنال کی اندر آنے کی دیر تھی حسنال نے روشنال کو طرف دیکھ کر آنکھ مار کر کافی اونچی آواز میں شعر پڑھا تھا اس نے اس کی کچھ دیر والی بے اختیاری کو بری طرح پھوڑ ا تھا روشنال اسے گھور کر رہ گیا تھا۔
اشنال کو پورے معاملے کی سمجھ نہیں تھی وہ ادھر ہی کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
اوکے میں چلتا ہوں آپ چل کریں وہ کیا کہتے ہیں ہم فوج میں محلہ موج میں ۔۔۔۔! حسنال نے جوس اشنال کے کے آگے کیا تو اس نے اسے لے لیا تھا یہ بھائی کو پلانا اور میں سوپ میں گھر سے بنوا کر لاؤں گا وہ یہ کہہ کر جانے لگا تھا
سوج سمجھ کر بکواس کیا کرو۔۔۔۔روشنال کو اب سچ میں غصہ آیا تھا۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔۔سوچ سمجھ کر کونسی بکواس ہوتی ہے؟ اور ہاں میں آدھا گھنٹہ باہر ہوں اس سے زیادہ نہیں اور آپکی اشو آج اتنے غصے میں لگ رہی ہے کہ سر پھاڑنے کے سوفیصد چانسز لگ رہے ہیں اور آپکو سپرمین کیے کوئی ڈنڈا چاییے تو میں حاضر ہوں وہ جان بوجھ کر ان کے چہروں پہ ہنسی بکھیرنے کےلیے ایسا کر رہا تھا کیونکہ روشنال اسے ظالم جو کہا تھا ۔۔۔۔!وہ ہنس کہہ کر روم ڈور کو بند کرتا چلاگیا تھا۔۔
آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔؟ اشو نے اس کے پاس کھڑے ہوکر پوچھا تھا اس کی آنکھوں میں خومخواہ آنسوؤں آرہے تھے جبکہ اس نے چہرے کا رخ موڑ لیا تھا۔۔
بتائیں نہ۔۔۔۔۔وہ جو اس کی طبعیت دیکھ کر پہلے ہی ٹوٹی تھی اب اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی تھی۔۔
زندہ ہوں افسوس نہیں آئی مو”ت ۔۔۔۔! وہ مزید خفا ہوا تھا۔
پلیز ایسی باتیں نہ کریں ۔۔۔۔وہ اس کے منہ پہ اپنا ہاتھ رکھ گئی تھی اس کی باتیں اسے تکلیف دے رہی تھی۔
آپ بلاوجہ خفا کیوں ہورہے ہیں ۔۔۔۔ ؟ وہ اس کے منہ پہ ہاتھ بولی تھی۔۔۔
کہاں تھی تم اتنی دیر سے ۔۔۔۔کب سے میں برداشت کر رہا ہوں پتا ہے ہوش میں آنے سے پہلے تمھیں یہاں دیکھنے کی خواہش کی تھی مجھے تھماری ضرورت تھی اشو۔۔۔ !
اس کے غصے سے کہنے کی باوجود بھی اشنال کے دل کی دھڑکنوں نے سپیڈ پکڑی تھی۔۔
وہ اس کے پاس محتاط سی کونے پہ ٹکی تھی تاکہ اسے تکلیف نہ ہو ۔۔۔۔!
دور تو ایسے بیٹھ رہی ہو جیسے میں تمھیں کھا جاؤں گا۔۔شاید وہ لیٹے رہنے سے چڑچڑا ہو رہا تھا اس لیے ایسے بول رہا تھا
آپ کا تو پتہ بھی نہیں ہے جتنا آپ غصہ میں ہیں نہ ۔۔۔مجھے لگ رہا کہ آپ مجھے کچا کھا جائیں گے۔۔۔وہ بھی اب تھوڑی روٹھی روٹھی سی بولی تھی۔
ہائے دل تو کر ر رہا ہے بس میری طبعیت کو زیب نہیں دے رہا ۔۔ورنہ کچا بھی کھا جاتا۔۔۔۔اس کے گلابی چہرے کو دیکھ کر وہ بے باکی سے بولا تھا روئی روئی سی آنکھیں تھی اور اس کو پتہ تھا وہ ویسے بھی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر رونے لگ پڑتی تھی آج تو اس نے سیلاب ہوئے ہوں گے۔۔۔!
پتہ ہے جس وقت میں نے فون پہ خالہ کی آواز سنی تھی اور خالہ کی باتوں نے مجھے پل پل ما”را تھا راستہ تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا میں جس وقت گھر پہنچا میرے قدموں نے آگے چلنے سے انکار کر دیا تھا میں چل نہیں پا رہا تھا لیکن میں تمھارے خاطر خود کو جوڑا تھا پر جب میں نے ڈور کھولا تو تمھیں قدموں میں دیکھا رہا اس وقت مجھے لگا میں م،ر گیا ہوں ۔۔۔میں نے خالہ سے پس “ٹل چھننا چاہی تھی ۔۔۔۔! وہ اسے خود ہی بتا رہا تھا۔
اور مجھے آپ پہ بہت غصہ آیا ۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر اس کے ہاتھ تھام کر اپنی تھوڑی کے نیچے رکھتی اسے وارفتگی سے دیکھنے لگ پڑی تھی ۔۔۔۔
ہائے ہائے اوئی ۔۔۔۔۔وہ جان بوجھ کر کرانے لگا یہ دیکھنے کےلیے اسے فرق پڑھتا ہے یہاں نہیں۔۔۔۔!
کک۔۔۔۔کیا ہوا آپ کو۔۔۔۔سوری بالکل نہیں پتہ تھا آپ کو اس طرح درد ہوگا۔۔۔۔اس نے ایک دم سے بوکھلا کر اس کے ہاتھ اس کے سینے پر رکھا تھا۔۔۔
درد مجھے نہیں ہوا زوجم آپکو ہوا ہے۔۔۔۔! وہ اسے آنکھیں مارتا پھر سے بےباکی سے بولتا اس کے چہرے کو سرخ گئے تھے اسے ایسا لگا کہ سارا خو”ن اس کے عارض پہ سمٹ آیا تھا۔۔
کتنے جھوٹے ہیں آپ ۔۔۔۔۔خفت سے لال ہوتے اس نے اب کی بار زور دار مکہ اس کے دائیں طرف مارا تھا جہاں اس کا زخم تھا اب تو روشنال کے رائٹ سیڈ پہ بہت بری طرح درد کی لہر اٹھی تھی تکلیف اس کے چہرے پہ دکھائی تھی اب وہ کراہ نہیں سکا تھا۔۔۔
اشنال اس کے چہرے پہ تکلیف کے آثار بہت زیادہ گبھرائی تھی اس نے تو مذاق میں مارا تھے وہ قریب ہوتے اس کے چہرے پہ پھونکے مارنے لگی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کرے ۔۔۔
زوجم یار کوئی آگ نہیں لگی جو آپ بجھانے لگی ہے ۔۔۔۔۔۔!
اس نے لطیف سا طنز کیا تھا حالانکہ اس کی پھونکوں سے اسے اپنے چہرے پہ ٹھنڈک کا احساس ہوا تھا۔
مو”ت کے منہ سے بچ کہ آئے ہیں پھر بھی طعنے دینے میں تو آپ ماہر ہیں ۔۔۔۔وہ غصہ ہوئی تھی۔۔۔۔!
شکر کرو کہ بچ گیا ہوں ورنہ بیٹھ کہ روتی رہتی ساری زندگی ۔۔۔۔! اس کی یہ کہنے دیر تھی وہ اس کے سینے پہ سر رکھ کہ بری طرح رونے لگی تھی اس کے کندھے پہ لب رکھتی وہ اس کو ساکت ہونے پر مجبور کرگئیں تھی۔۔۔
اشو میرا بچہ میں مزاق کر رہا تھا۔۔۔۔! اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کہ وہ اس کے سر کو سہلانے لگا تھا وہ اس کو رولانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے منہ سے ایسی بات نکل جاتی کہ وہ رونے لگ پڑتی تھا۔۔
نہیں ہوں آپ کا بچہ آپ کو ذرا رحم نہیں آتا مجھ پہ آپ کی یہ باتیں سن کر میرا دل لرز جاتا ہے ۔۔۔۔! وہ بری طرح سے پھٹ پڑی تھی۔۔
کبھی میری طرف دیکھ کر یہ دل نہیں لرزتا۔۔۔۔! اس نے شکوہ کیا تھا۔۔
آپ کے اس کھڑوس منہ کو دیکھ کر تو ویسے ہی لرز جاتا ہے۔۔۔۔وہ اب کھل کہ بولی تھی۔
پھر جب میں رومینس کرنے پہ آیا تو تم خود ہی کہوگی کہ یہ حضرات بے شرم ہیں ۔۔۔۔! اس نے جتلایا تھا۔
فلحلال تو کچھ نہیں کرسکتے۔۔۔۔! اسکے بیڈ پہ ہونے کا بھرپور طعنہ دیا گیا تھا وہ یہ کہہ کر کھلکھلآئی تھی ۔۔۔۔
اور کچھ نہیں ایک کس تو کرسکتا ہوں یہ کہہ کر اسے ایک جھٹکا دیا اور اس کے گال پہ ایک جان دار بوسہ دیا گیا تھا اور پھر چھوڑ دیا تھا۔۔۔
باقی زوجم جب آپ روم میں جائیں گی تب آپ کو مزید پرومو دیکھنے کو ملیں گے اب تو ہوسپٹل کا بیڈ روم ہے ۔۔۔! وہ یہ کہتا اسے آنکھ ونک کرگیا تھا۔
یہ آپ ابھی ابھی بےشرم ہوئے ہیں یا شادی سے پہلے ہی تھے۔۔۔۔وہ اپنے گال سے اس کی مونچھوں کی چھبن ہٹانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی احتیاط سے اس کے سینے پہ پھر سے سر ٹکایا تھا تاکہ اسے درد نہ ہو ۔۔۔!
جس دن آپکا ہونے کا سرٹیفکیٹ لیا تھا ساتھ ہی بے شرمی کا بھی لیا تھا ۔۔۔۔اس کا اشارہ شادی کی طرف تھا
وہ ایسے فخریہ انداز میں کہہ رہا تھا جیسے بےشرمی کوئی شے ہو۔۔۔۔!
ہاں نہ اس کا سرٹیفکیٹ لے کر تب تو آپ کو گولڈ میڈل مل گیا ہےنا وہ اس کے سینے سے سر اٹھاتی اس کے اوپر جھک کر اس کے سینے پر اپنا نام لکھتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔؟
گولڈ میڈل نہ سہی اپنی زوجم کا پیار تو مل گیا ہے نا۔۔۔۔یہ کہہ کر تکلیف کے باوجود بھی ہلکا سا اوپر ہوکر اس کی آنکھیں چوم لی تھیں جسے اشنال کو سکون آیا تھا آج وہ کانپی نہیں تھی ۔۔۔۔
گھر جاؤ آرام کرو۔۔۔۔۔ایک رات نہ سوکر چاینیوں کی طرح آنکھیں نکال لی ہیں چلو شاباش گھر جاکہ آرام کرو میرے پاس حسنال ہے اور میرے ٹھیک ہونے کے بعد میں نے تمھیں سونے دینا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔! اس لیے اپنی نیندیں پوری کرلو۔۔۔!
اس نے فکر سے کہا تھا اسے پتہ تھا وہ اس کی فکر میں بالکل بھی نہیں سوئی نہیں ہوگی ۔۔۔۔!
مجھے پتہ ہے آپ میری فکر میں مسکے لگا رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ آپ کی انا گوارا نہیں کر رہی کہ آپ کھل کر کہہ سکیں۔۔۔۔!
اب کی بار جھک کر روشنال کی پیشانی اور آنکھیں چوم لی تھی اور شرماتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔
جوس پلاؤ گی یا میں نرس کو کہوں کہ وہ اپنے مبارک ہاتھوں سے مجھے پلائے ۔۔۔۔۔! اس نے اس کو کھڑے دیکھ کر کہا تھا جو خود ہی اسحقاق جماتی اور خود ہی شرمانے لگ پڑتی تھی۔
اس کی ہاتھوں سے پی لیجئے گا لیکن اس کے مبارک ہاتھوں کی سلامتی کی گرنٹی میں نہیں سکتی ۔۔۔۔ساتھ اس کے ہاتھ بھی توڑوں گی اور آپکا منہ بھی ۔۔۔! اس کو اےنا غصہ آیا کہ اسے سمجھ نہیں آئی تھیں کہ وہ کیا بول رہی ہے۔۔
آج تو صیح جٹو کراٹے والی خاتون لگ رہی ہو زوجم ۔۔؟ لیکن یہ انداز روم تک ہی سنھبال کر رکھو وہاں کام آئیں گے ۔۔۔۔لیکن شاید وہاں بھی نہ آئیں کیونکہ تم نازک سی جان ہو ۔۔۔۔! ایک پنچ بھی برداشت نہ کرسکو اور بے ہوش ہو جاؤ۔۔۔۔۔اس نے اس کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔
میں خود آپ کو جوس پلا رہی ہوں۔۔۔۔لیکن اگر وہ چوسنی کے منہ والی مجھے آپ کے پاس نظر آئی نہ تو آپ کی خیر نہیں ہے۔۔ وہ اسٹرائیک اس کے منہ کے قریب کرتی بولی تھی۔۔۔
کون۔۔۔۔روشنال کو نہیں پتا تھا کہ وہ کس کا ذکر کر رہی تھی اس لیے پوچھا تھا۔۔
بقول آپ کے وہ آپ کے مبارک ہاتھوں والی نرس ۔۔۔۔! اس نے جل کر کہا تھا۔۔۔
میں نے تو دیکھی تک نہیں ہے زوجم ۔۔۔۔اور یہ جلنے کی بو کہاں سے آرہی ہے۔۔۔۔؟
اس سے جلتی ہے میری جوتی ۔۔۔۔۔! وہ اب کی زچ ہو کر بولی تھی۔۔۔
چلو کوئی تو جلتا ہےنا۔۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھ کر اتنے معصومانہ لہجے میں بولا تھا کہ اشنال کو بے ساختہ پیار آیا تھا۔۔۔
کیا میں آپکے شولڈر پہ سر رکھ سکتی ہوں ۔۔۔۔۔؟ وہ اس کی تکلیف کو دیکھ کر پوچھنے لگی تھی۔۔۔
اس میں پوچھنے والی کوئی بات تو نہیں ۔۔۔۔لیکن اگر کوئی آگیا تو۔۔۔۔۔۔؟ اس کے یہ کہنے کی دیر تھی کہ اشنال نے اس کے کندھے پہ سر رکھا تھا۔۔
مجھے پتہ ہے آپ اس چوسنی کے منہ والی سے ڈر رہے ہیں وہ یہ کہتی اس کی گردن پہ لب رکھ کہ پھر سے کندھے پہ سر رکھا تھا ۔۔۔
میں حسنال بھائی کو بھیج رہی ہوں۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ اسے محسوس کرتی اٹھی اور باہر چلی گئی تھی ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے روشنال کے چہرے پہ مسکان بکھیر گئی تھی ۔۔
۞۞۞۞ٔ
منال ماں کو لے کر اسی رات ہوسپٹل لے آئی تھی آج تیسرا دن تھا وہ اپنی اس ماں کےلیے خوار ہورہی تھی جنھوں نے اس کی زندگی کو مسخ کرکے رکھ دیا تھا یہ کسی گاؤں کا چھوٹا سا ہوسپٹل تھا جہاں چوکیدار انکل لے کہ آئے تھے جنھوں نے اپنا مجید بتای تھا وہ ان کے ساتھ ہی تھا ثمینہ بیگم کو ڈاکٹر نے ڈسچارج کر دیا تھا اس واقع کہ بعد اسکی کی ماں نے خاموشی پکڑی ہوئی تھی کیونکہ ڈاکٹر کے مطابق ان کے دماغ کی ایک وینز ڈیمج ہوگئی تھی اور باقی ڈیمج ہونے کا یا پھٹنے کا خطرہ تھا اور جس کی وجہ سے وہ پاگل بھی ہوسکتی تھی یا کسی بھی وقت ان کی مو”ت ہوسکتی ہے ۔۔ان کو اپنے ذہین ہونے پہ جتنا غرور تھا وہ خدا نے ایک رات میں ہی توڑ دیا تھا اس دماغ نے شاید اسے زندہ بھی رکھنا تھا یا نہیں ۔۔۔منال ماں کی حالت دیکھ کر پاگل ہونے کو تھی لیکن پھر بھی خود کو سنبھال رہی تھی ۔۔
مجید بابا ان کو اکیلا دیکھ کر اپنے ساتھ لے گاؤں لے کہ آئے تھے مجید بابا نے ان سے پوچھا تھا لیکن اس نے بس یہ ہی کہا تھا کی اس کا کوئی گھر نہیں ہے وہ اب بخت ولا نہیں جانا چاہتی تھی جتنی زندگیاں منال بخت نے خراب کرکے آئی تھی وہ اسے کیسے رکھ لیتے آخر وہ تو اسی ماں کی بیٹی تھی نا۔۔۔جو سب کچھ تباہ کر آئی تھی یہ صرف اس نے سوچا تھاآگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی
وہ انھیں لے کر گاؤں داخل ہوئے تھے وہ چھوٹا سا کچا سا گاؤں معلوم ہو رہا تھا وہاں کچھ ہی گھر تھے انہوں نے اپنے گھر کا بوسیدہ سا دروازہ کھٹکایا تھا جہاں سے نو سالہ بچی باہر نکلی تھی ۔۔۔
بختی اماں دادا ابو آگئے ۔۔۔۔۔! وہ بچی چیخی اور پھر مجید بابا کے ساتھ اور ان کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹی تھی
دا دا ابو ۔۔۔۔۔میری چیز کہاں ہے وہ نہیں لائے کیا۔۔۔! بختی اماں بھی آپ سے ناراض ہے اور میں بھی وہ تو غصہ بھی بہت ہیں ۔۔۔۔وہ منہ بسورتے ہوئے بولی تھی منال جس نے ماں کو پکڑا ہوا تھا اس بچی کو دیکھ کر ایک اداس سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آئی تھی ۔۔۔
آؤ بیٹا ۔۔۔۔وہ انھیں لیے گھر میں داخل ہوئے تھے منال گھر کو دیکھنے لگ پڑی تھی بڑا سا کچا صحن ایک طرف جانور باندھے ہوئے تھے بڑے بڑے سلاخوں والی کھڑکیاں ۔۔۔۔تین چار کمرے ایک برآمدہ ۔۔۔ایک چھوٹی سی چار کون سٹائل مٹی کی جگہ اسے دکھی جس پہ مٹی کے بنے مٹکے پڑے ہوئے تھے باقی گھر بہت صاف ستھرا تھا۔
حسن کے ابا کہاں رہ گئے تھے آپ ۔۔۔۔۔! میں نے فیقے کے فون سے آپ کو کال کروائی تھی لیکن تین دن سے آپ نہ گھر آئے تھے اور نہ ہی فون اٹھایا تھا مجھے تو سو طرح کے ہول اٹھ رہے تھے۔۔۔وہ گم صم سی گھر کو دیکھ رہی تھی جب ایک عورت سادے سے کپڑوں میں گوبر والے ہاتھ لیے ان کے سامنے ہوئی تھی ۔۔۔۔
حسن کے ابا یہ کون ہیں۔۔۔۔؟ وہ ناانجانی اور غیر شناسائی و حیرانی سے ان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
ارے نیک بخت سکون کا سانس تو لینے دو بتاتا ہوں ۔۔۔ساری تفیصل کیا ادھر ہی بتا دوں ۔۔۔ ہاتھ دھو کر پانی لاؤ ان کے پینے کےلیے وہ یہ کہہ کر پوتی کو انگلی سے پکڑے انھیں بر آمدے کی طرف لے گئے تھے ۔۔۔۔!
حسن کے ابا آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں نا۔۔ آپ نے شہر میں دوسری شادی تو نہیں کر رکھی تھی ۔۔۔! تب ہی آپ شہر سے دو دو تین دن نہیں آتے یہ آپ کی بیوی ہوگی اور یہ بیٹی وہ ان دونوں ماں بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تھیں۔۔! اب مجھے سمجھ آئی تب ہی آپ مجھے ساری زندگی اپنے میٹرک پاس ہونے پہ اکڑتے رہتے تھے اور مجھے بات بات پہ جاہل ہونے پہ طعنے دیتے تھے وہ اردو بنجابی مکس بول رہی تھیں منال شرمندہ ان کی باتیں سن کر شرمندہ ہوگئی تھی اور بے ساختہ انھیں دیکھے گئی جو سرخ و سفید اس عمر میں جوان سی لگتی تھیں ۔۔۔!
ارے نیک بخت خدا کا خوف کرو۔۔۔۔کبھی تو سوچ سمجھ کر بول لیا کرو ایسے ہی شروع نہ ہو جایا کرو۔۔۔۔یہ باتیں کرکے تم کہاں سے پڑھی لکھی لگتی ہو ۔۔۔۔! کبھی دوسرے کی بھی سن لیا کرو ۔۔۔۔ہروقت اپنی ہی سناتی نہ رہا کرو۔۔۔! یہ میری مالکن کی دوست ہیں اب یہ یہاں ہی رہیں گی۔
اور اب مجھے تمھاری آواز نہ آئے ان کے کھانے پینے کا انتظام کرو ۔۔۔۔اور بھنیس اور گائے کو چارہ ڈالا تھا۔
اچھا میری ہی غلطی ہے معاف کر دیں۔۔۔ہاں ڈال دیا تھا چارہ ۔۔وہ شرمندہ ہوتیں اب نلکے کی طرف ہاتھ دھونے بڑھ گئی تھیں۔
بختی اماں دادا ابو میرے لیے پاپڑ، بسکٹ نہیں لائے۔۔۔۔۔! وہ دادا کے پاس سے اٹھتی ان کے پیچھا نلکے پہ جاکر اپنا رونا ڈال کے بیٹھ گئی تھی ۔
مانو پتر۔۔۔۔۔آؤ تمھارے لیے پاپڑ بسکٹ لینے چلتے ہیں۔۔۔۔! وہ اٹھتے چلے گئے تھے جب کہ مانو خوش سی اپنے دادا کی طرف بھاگی اور انکی انگلی پکڑ لی تھی منال جو خوشی اس معصعم بچی کے چہرے پہ دیکھی تھی وہ ہزاروں کڑوروں خوشیوں سے زیادہ تھی وہ حیران رہ گئی تھی کہ وہ تین دن سے ان کے ساتھ خوار ہو رہے تھے اور اب اپنی تھکن کی پرواہ کیے بغیر اس کے چہرہ پہ چھوٹی سی خوشی کی خاطر چل پڑے تھے۔۔۔۔اصل خوشی کا پتہ تو اسے کچے گھر میں چلا تھا ان کے بعد بختی اماں نے انھیں پانی پلایا اور خود لکڑیوں والے چولہے کے پاس بیٹھ کر آٹا گوندھنے لگی تھیں۔
****
حسنال جو گھر آیا تھا منال کو کمرے میں نہ پاکر پریشان تھا آج ساتواں دن وہ اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا آغا جان بہت پریشان تھا اسے نہیں پتہ تھا کہ وہ ماں بیٹی کہاں گئیں ہیں وہ وقار کا پتہ ڈھونڈ رہا تھا لیکن اسے کہیں نہیں ملا تھا ۔۔۔!
وہ ساری رات ڈھونڈتا رہا تھا اب پھر تھک کہ گھر آگیا تھا روشنال بھی ہوسپٹل سے گھر آگیا تھا۔۔۔
وہ سیدھا لاونج میں ہی آیا تھا جہاں بابا ، آغا جان اور روشنال بیٹھے تھے تہمینہ بیگم کھانا بنا رہیں تھیں اور اشنال روشنال کےلیے کوئی لائٹ سا تیار کر رہیں تھی وہ بھی منال کےلیے بہت پریشان تھی۔
کچھ پتہ چلا منال کا۔۔۔۔آغا جان اس کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔
نہیں ہر جگہ منال اور خالہ کو ڈھونـڈا پر وہ کہیں نہیں ملیں ۔۔۔۔۔اس نے مایوسی سے جواب دیا تھا۔۔۔
تم نے ان ماں بیٹی کو کچھ کہا تو نہیں ۔۔۔۔صیغیر صاحب
نے کسی خدشے کے تحت پوچھا تھا۔
میں نے خالہ کو تو کچھ نہیں کہا لیکن منال کو صرف
اتنا کہا تھا کہ اپنے اور ماں کے بیانات کے خاموشی سے لکھوا دینا اور میں نے کچھ نہیں کہا تھا اس وقت میں غصے میں تھا۔۔۔ وہ سچائی بتا رہا تھا جب الٹے ہاتھ کا تھپڑ اس کے منہ پہ پڑا تھا اور تھپڑ مارنے والا روشنال بخت تھا جو اپنے درد کی پرواہ کیے بغیر اس کی بات سن کر اٹھ کھڑا ہوا تھا شور کی آواز سن کر وہ دونوں بھی کچن سے نکل آئیں تھیں۔
کس نے کہا تھا تم باپ بنو۔۔۔۔مجھے گو”لی لگی تھی میں میں م”ر تو نہیں گیا تھا کہ تم بیان لکھوانے بیٹھ گئے تھے وہ مٹھیاں بھینچتے غصہ ضبط کرتے بولا تھا حرکت کرنے سے اسے درد ہوا تھا ایک دم سے اس نے ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
روشنال ۔۔۔۔۔پلیز آپ بیٹھ جائیں ایسے تو آپ کا زخم خراب ہوجائے گا ۔۔۔۔۔اشنال اس کی طرف آئی تھی اور بازؤں سے ہلکے سے پکڑا تھا۔۔ حسنال بھی پریشان ہوتا اس کی طرف بڑھا تھا۔۔
دفع ہو جاؤ شکل نہیں دیکھنا چاہتا میں تمھاری ۔۔اس نے غصے سے حسنال کا ہاتھ جھٹکا تھا صیغیر صاحب بھی اس کی طرف بڑھے تھے۔۔۔
مجھے بھی کوئی شوق نہیں تھا اس کو گھر سے نکالنے کا وہ میرے بچے کی ماں بننے والی تھی پھر میں اس کو کیسے گھر سے نکال دیتا وہ غصے میں تھا اس لیے ایسا بول گیا تھا ۔۔۔۔۔جن دنوں سب آپ کو لینے گئے تھے منال میرے ساتھ پہلے بلکل ٹھیک تھی میں ڈاکومنٹس گھر بھول گیا تھا اس دن لینے آیا تو آگے خالہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔پھر اس نے الف سے ی تک ساری داستان سنا دی تھی اب آپ ہی بتاتے کوئی بھی غیرت مند شوہر ایسے کرسکتا ہے بھائی۔۔۔۔!میں کیسے اسے نرمی سے پیش آسکتا تھا
اور بعد میں جب بعد میں دو دن بعد گھر آیا تھا وہ ہر وقت سوتی رہتی تھی میں نے پھر بھی اسے کچھ نہیں کہا تھا اس رات میں غصے میں تھا اس لیے ایسا کہا تھا ۔۔۔
تو تمھارے اس غصے سے کیا ہوا تمھارا اپنا ہی نقصان ہوا ہے اور تو کچھ بگڑا نہیں غصہ عقل کو کھا جاتا ہے ۔۔! صیغیر صاحب نے افسوس سے کہا تھا۔۔
تہمینہ بیگم جن کو بہن کی اس حرکت پہ غصہ بہت تھا نفرت بھی بہت تھی لیکن حسنال کی بات سن کر وہ چونک گئی تھی ان کے گھر میں پہلی خوشی آنے والی تھی وہ کیسے اس بات سے منہ پھیر سکتی تھی اتنے عرصے بعد ان کو خوشی ملی تھی اور وہ بھی اس طرح وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں اور حسنال کی بات سن کر انھیں ایک دم سے جھٹکا لگا تھا جس طرح ان کے بخت ولا کے جانے کے بعد وہ سارے الجھے تانے بانے سلجھا رہی تھیں منال تو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی اور اس کے کرادر کی گواہی تو وہ خود دے سکتیں تھیں۔۔۔۔
پھر وہ کیسے کسی کو پسند کرسکتی تھی اور ایک اور بات جب ایک دن رات کو وہ کھانا بنا کے سب کو کھلا کہ فارغ ہوئی تھی بعد میں چائے بنا چکی تھی انھوں نے اپنی بہن کو سالن میں کوئی چیز مکس کرتے دیکھا تھا
وہ نہیں سمجھ پائی تھیں کہ ان کی بہن کیا کر رہی تھیں لیکن ایک وہ کوئی چیز کچن کے کیبنٹ میں رکھتے دیکھا تھا ۔
یہ سوچ دماغ میں آتے ہی ایک دم سے کچن کی طرف گئیں تھیں سب ان کو دیکھنے لگ پڑے تھے اور کبینٹ سے وہ شاپر میں لپٹی چیز میں کھولتی باہر آئیں تھیں ۔۔
یہ دیکھنا ذرا ۔۔۔۔۔وہ پیکٹ روشنال کے ہاتھ میں تمھاتی بولیں تھیں ۔۔۔
یہ تو نیند کی گولیاں ہیں پر انکا یہاں کیا ذکر ۔۔۔۔! وہ جنھجلایا تھا۔
اس لیے کیونکہ ثمینہ کو ایک دن میں نے یہ سالن میں ڈالتے دیکھا تھا اور مجھے نہیں پتہ تھا اس میں ایسا کیا ہے کچھ دیر بعد وہ ہی کھانا منال کے روم میں لے کہ گئی تھی۔۔۔اور جیسا کہ حسنال کہہ رہا تھا کہ وہ ہر وقت سوئی رہتی تھی ۔۔۔۔اور اس کی بتائی گئی کہانی کے پیچھے تو مجھے کچھ اور ہی وجہ معلوم ہورہا ہے کیا پتہ وہ ماں کے مجبور کرنے یا دھمکی دینے پر گئی ہو۔۔۔اور ہے تو میری بہن ہے مجھے اس کا پتہ ہےچھوٹی چھوٹی بات پہ وہ مجھے دھمکی دینے بیٹھ جاتی تھی وہ تو پھر اسکی بیٹی تھی۔۔۔۔
ان کی بات سنتا حسنال نے ایک دم سے سر اپنے ہاتھوں میں گرالیا ہے اور پھر مدھم سی چال چلتا وہ روم میں جانے کےلیے چلا تھا جیسے آج سب کچھ ہار گیا تھا ۔۔
ہمارا یہ بخت ولا ،یہ رشتے تباہی کے دہانے پہ اس لیے پونہچ گئے ہیں اس لیے ہم یقین بعد میں کرتے ہیں اور الزام پہلے لگاتے ہیں اور اس انسان کے جانے کے بعد ہم اس کےلیے نہیں روتے کہ ہمیں اس کی قدر تھی بلکہ اس کےلیے روتے ہیں کہ ہمیں پچھتاوا ہو رہا ہوتا ہے قدر تو انسان کی موجودگی میں ہوتی ہے بعد میں تو پچھتاوے جنم لیتے ہیں۔۔۔!
وہ پہلی سیٹرھی پہ پہنچا جب صیغر صاحب کی آواز سنی تھی وہ ان سب کو کہہ رہے تھے ان کی بات سن کر ایک آنسو اس کی آنکھوں سے نکلا تھا۔
کمرے میں آکہ وہ سانس لینے لگا تھا اس کا دل سچائی سن کر بند پڑا تھا اس کا معصوم چہرہ آنکھوں میں آبسا تھا وہ کتنے مان سے روشنال کی طبعیت پوچھ رہی تھی اپنے کمزور ہاتھ اس کے کندھے پہ رکھ کہ وہ اسے سچائی بتانا چاہتی تھی وہ کتنے مان سے اس کے پاس آئی تھی کہ شاید وہ اسکی بات رد نہیں کرے گا ۔۔۔۔لیکن اس نے نہ صرف اسے جھٹلایا تھا بلکہ گھٹیا باتیں بھی کرگیا تھا۔۔۔
اے میرے اللہ ۔۔۔۔! بیوی بچے کو حفظ و امان میں رکھنا یہ سوچ آتے ہی اس کا دل پکار اٹھا تھا۔۔۔
وہ یہ تو دیکھتا رہا کہ سوتی رہی تھی پر یہ نہیں دیکھا کہ کیوں سوتی رہی ہے ۔۔اس کا اجڑا حلیہ دیکھ کر ایک اس کو وحشتوں نے گھیر لیا تھا وہ اتنا غصے میں تھا کہ کمرے کا حلیہ بکھیر کر رکھ گیا تھا بیڈ کی چادر پہ پڑا اسے ایک لاکٹ ملا تھا وہ اسے دیکھ کر وہ ضبط کھو بیٹھا تھاوہ جو گھر سے باہر نہ نکلی تھی وہ کیسے غلط ہو سکتی تھی ۔۔۔۔؟۔سرخ رنگ کی کچھ چوڑیاں بھی کچھ ٹوٹی ہوئی تھی۔۔۔!
قرآن ڈریسنگ ٹیبل پہ جو وہ رکھ کہ گئی تھی اس کی بے اختیار نظر اس پہ پڑی تھی جو اس رات اس نے اٹھایا تھا۔۔۔
اے میرے رب تیری وسیع دنیا میں وہ پتہ نہیں کہاں کھوگئیں ہے ۔۔۔۔۔! کہاں چلی گئیں ہے۔۔۔۔اے اللہ میری رہنمائی کر تاکہ میں اسے ڈھونڈ سکوں ۔۔۔۔۔تیری اتنی بڑی دنیا میں پتا نہیں وہ کہاں چلی گئیں ہے وہ قرآن پاک کو دیکھتے ٹھہرے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔وہ قرآن پاک کو دیکھتا جہاں آخری جہاں اس پاکیزہ لڑکی نے ہاتھ لگائے تھے وہ اسے دیکھتا وضو کرنے چلا گیا تھا۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial