قسط: 18
میری انکھ دوپہر میں کھلی نہا دھو کر تازہ دم ہوکر میں نے کھانا کھایا اور بستر پر دراز ہوکر ترکن کی انگوٹھی کی مدد سے کنول کی خبر لی..
اس کے گھر میں خوشیاں لوٹ ائی تھیں اور گھر میں راشن اور ماں کی دوائوں سے ان لوگوں کے چہروں کی رونق بحال ہوگئی تھی..
میں نے کنول کے دل کا حال جاننا چاہا..
اس کے دل میں میرے لئے محبت, عزت اور ممنونیت کے جذبات تھے اور اس کا بس نہیں چل رہا تھا کس طرح مجھ پر فدا ہوجائے کس طرح میرے احسان کا قرض اتار دے..
عورت کی مرد سے پہلی ڈیمانڈ عزت ہوتی ہے مان ہوتا ہے بھروسہ ہوتا ہے جو مرد اپنی عورتوں کو خواہ وہ بیویاں ہوں یا انکی محبت یہ سب کچھ نہیں دے پاتے وہ انھیں کھو دیتے ہیں..
اگر محبت یا پسند ہو تو اخرکار ختم ہوجاتی ہے اگر میاں بیوی کا رشتہ ہو تو عورت صرف مرد کو برداشت کرتی ہے مجبوریوں اور ضرورتوں کے بوجھ تلے..
کسی بھی تعلق میں خواہ محبت کا تعلق ہو سیکس کا تعلق ہو یا میاں بیوی کا اگر عزت نہیں, مان نہیں, یقین نہیں اور بھروسہ نہیں تو وہ تعلق وہ رشتہ قائم رہنا ناممکن ہوتا ہے..
اگر ظاہری طور پر بیوی شوہر کو برداشت بھی کر لے تو وہ ٹوٹ جاتی ہے اور اس کا دل ویران ہوجاتا ہے اندر سے خالی ہوجاتی ہے..
عورت کے دل کے سنگھاسن پر مرد صرف اسے عزت, مان اور یقین دے کر ہی براجمان رہ سکتا ہے..
عام طور پر لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ محبت زندگی میں صرف ایک بار ہوتی ہے جو کہ سو فیصد غلط ہے..
ایک محبت کو ہمیشہ دوسری محبت ختم کردیتی ہے جو لوگ غلط فیصلوں یا غلط لوگوں سے محبت کرلیں اگر وہ اس فیصلے اس تعلق کو قائم بھی رکھنا چاہیں تو سوائے اذیت اور درد کے کچھ حاصل نہیں ہوپاتا..
میں نے کنول کے گھر کا ایڈریس معلوم کیا اور بیگ سے نوٹوں کی کچھ بڑی گڈیاں نکال کر جیبوں میں ڈالیں اور ہوٹل سے باہر اکر ٹیکسی لے لی..
میرا رخ کنول کے گھر کی طرف تھا..
میں چاہتا تھا جلد از جلد اس معاملے کو انجام تک پہنچا دوں..
ادھے گھنٹے کے سفر کے بعد میں کنول کے دروازے پر موجود تھا..
یہ مضافاتی علاقہ تھا اور اس کا گھر بھی عسرت زدہ نظر ارہا تھا مگر میں اندر داخل ہوا تو مجھے ہرچیز میں سلیقہ اور قرینہ نظر ایا..
کنول مجھے دیکھ کر حیران رہ گظی تھی شاید اسے اتنی جلدی میرے دوبارہ انے کی امید نہیں تھی..
اس نے مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا جہاں کوئی فرنیچر نہیں تھا مگر زمین پر صاف ستھری چاندنی اور تکیے رکھ کر فرشی نشست کا اہتمام کیا ہوا تھا..
کچھ دیر میں کنول چائے کے کپ اور بسکٹوں کے ساتھ نمودار ہوئی..
اس کا چہرہ اندرونی خوشی سے کھلا ہوا تھا..
چائے رکھ کر وہ میرے سامنے بیٹھ گئی..
مجھے یقین نہیں ارہا اپ…
میں نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے پیار بھری چٹکی اس کے بازو میں کاٹ لی..
اگیا یقین..میں مسکرایا..
کنول کھلکھلا کر ہنس پڑی..
ہاں اگیا ہے یقین..مگر پھر بھی..
پھر بھی کیا..جب میں نے کہا تھا میں ائوں گا تو پھر ناں کا کیا سوال..
اچھا کیا اپ ائے بہت خوشی ہورہی ہے مجھے دل سے..
خوشی دل سے ہوتی ہے یا دماغ سے میں نے اسے چھیڑا..
خوشی تو دل میں ہی ہوتی ہے ہاں محسوس اسے دماغ کرواتا ہے کنول نے عقلمندی سے جواب دیا..
اچھا سنو..میری زندگی اور معاملات کا کچھ پتہ نہیں ہے..تم گھر کی بڑی ہو اور تمام فیصلے بھی اب تمھارے ہاتھ میں ہیں..کیا تمھیں مجھ پر بھروسہ ہے..
اپ کو نہیں لگتا ایسا…کنول نے الٹا سوال کیا..
لگتا ہے تب ہی تو میں یہاں تمھارے سامنے بیٹھا ہوں..
میں نے اپ کو اپنا اپ رات کو سونپ دیا تھا کنول کی انکھوں میں حیاء کے تاثرات ابھر ائے..
عورت جب دل سے کسی کو اپنا مان لیتی ہے تو پھر وہ اپنی جان, مال, عزت, ابرو ہر چیز اس مرد پر نچھاور کر دیتی ہے..
اگر میں کہوں کہ یہ ملک چھوڑ دو اور کسی دوسرے ملک چلو پھر..میں نے اسکی انکھوں میں دیکھا..
میں اپکے ساتھ دنیا کے اخری کنارے تک بھی جانے کے لئے تیار ہوں یقینا اپ نے میرے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے ہوئے میری ماں اور بہنوں کو بھی مدنظر رکھا ہوگا تو مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت اپ حکم کریں صرف کنول مسکرائی..
میں نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لے کر چوم لیا..
شکریہ اس یقین اور بھروسے کے لئے کنول..
نہیں شاشین..جو یقین اور بھروسہ اپ نے مجھے دیا مجھے میری نظروں میں سرخرو کیا میری عزت رکھی مجھے مان دیا اس کے جواب میں تو یہ کچھ بھی نہیں ہے..
اچھا یہ بتائو..تمھاری امی یہاں سے جانے کے لئے تیار ہوجائیں گی..میں نے پوچھا..
کیوں نہیں ہونگی..یہاں ہمارا ہے ہی کون..چند رشتے دار جنھوں نے ابو کے مرنے کے بعد سے کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا..
کبھی کوئی راستے میں نظر اجائے جائے تو منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں ہمارا کیا ہے یہاں..
مگر میں پوچھ سکتی ہوں اپ مجھے کہاں لے جانا چاہتے ہیں..
کنول میرے لئے تو ساری دنیا ایک جیسی ہے مگر میں چاہتا ہوں تم کراچی چلی جائو..
کنول کی انکھوں میں حیرانگی کے تاثرات ابھرے..
پاکستان میں…وہاں کیا ہے..اور میری بلکہ ہم سب کی شہریت یہاں کی ہے وہاں کیسے ممکن ہوگا جانا پھر..
یہ سب مسائل مجھ پر چھوڑ دو..
بس تم لوگ جانے کی تیاری کرو..
اور یہ گھر اور سامان وغیرہ..
بس چھوڑ دو اسے ایسے ہی اگر وہاں ناں سیٹ ہوسکو اور کبھی واپس انا چاہو تو اجانا رہ گیا سامان تو اس کی ضرورت نہیں وہاں ہر چیز کا انتظام ہوجائے گا..
میں نے جیب سے نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر اسکی طرف بڑھائی یہ رکھ لو اور کپڑے اور دیگر ضروری چیزوں کی خریداری کرلو میں کاغذات وغیرہ بنواتا ہوں..
کنول کے چہرے پر اتنے پیسے دیکھ کر حیرت اور بے یقینی کے تاثرات ابھر ائے تھے…
اتنے پیسے..اس کے منہ سے بس یہی نکل سکا..
میں نے جب جیبوں میں موجود باقی نوٹوں کی گڈیاں اس کے سامنے ڈھیر کیں تو اسکی انکھیں حیرت سے پھٹنے کے قریب ہوگئیں..
صرف اس لئے دکھا رہا ہوں پاگل کہ سارے معاملات اور مسائل مجھ پر چھوڑ دو تم صرف وہ کرو جو میں کہ رہا ہوں..
اگلے چند دن کاغذات بنوانے اور دیگر تیاریوں میں گزرے..
اس نے اپنی ماں اور بہنوں کو کس طرح راضی کیا انھیں کیا کہا یہ سب معاملات میں نے ناں ہی پوچھے ناں اس کی ضرورت محسوس کی..
کاغذات بننے کے ٹھیک تین دن بعد ہم کراچی میں تھے..
کراچی پہنچ کر میں نے سب کو شاہراہ فیصل پر ایک ہوٹل میں ٹھرا دیا اس کے بعد پیسوں کا انتظام کر کے پی ای سی ایچ ایس کے علاقے میں ایک عالی شان دو منزلہ کوٹھی کا سودا کیا جو مکمل فرنشڈ تھی..
اس کے بعد کنول سمیت سب لوگوں کے ارجنٹ شناختی کارڈ اور دیگر کاغذات بنوائے جن کی رو سے وہ پاکستانی شہری تسلیم کئے جاتے..
پیسوں کے لئے میں نے وہی بینک والا طریقہ اختیار کیا تھا..
وہ کوٹھی کا ٹوکن میں کر چکا تھا جب فائنل پیمنٹ کا وقت ایا تب تک سب کے کاغذات بن کر اچکے تھے..
وہ کوٹھی میں نے کنول کے نام پر ٹرانسفر کروا دی..
جب میں ان لوگوں کے ساتھ پہلی بار کوٹھی میں داخل ہوا تو حیرت سے ان کی انکھیں کھل گئیں..
یہ امارت اور شان و شوکت انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچی تھی..
نچلی منزل پر ان لوگوں نے رہائش اختیار کی میں نے اپنے لئے اوپری منزل کا چن لی تھی..
میں نہیں جانتا تھا کب تک میرا ساتھ ہے مگر جب تک تھا میں انھیں ہر قسم کی پریشانیوں اور مسائل سے دور رکھنا چاہتا تھا..
میں نہیں جانتا کنول میں کیا کشش تھی یا کس وجہ سے میں نے اس کے لئےاتنا کچھ کیا مگر بحرحال وہ حوس کا جذبہ نہیں تھا..
ہم شام عصر کے وقت کوٹھی میں شفٹ ہوئے تھے جہاں دنیا کی ہر سہولت اور اسائش مہیا تھی..
نہا دھو کر تازہ دم ہوکر میں کوٹھی سے باہر اگیا..
اگلے دو تین گھنٹے میرے ضائع ہوئے مگر میں کامیاب رہا..
رات کے نو بج رہے تھے جب میں ٹیکسی میں واپس گھر ایا..
بیل بجانے پر دروازہ کنول نے کھولا اور میرے ساتھ ایک اجنبی کو دیکھ کر حیران ہوگئی…