قسط: 19
اس نے جلدی سے دوپٹہ سر پر لے لیا اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا…
اندر تو انے دو ہمیں..میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو کنول ایک طرف ہٹ گئی…
چند لمحوں میں ہم ڈرائنگ روم میں تھے جہاں میں نے کنول کی امی اور بہنوں کو بھی بلوا لیا تھا..
وہ لوگ منتظر نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے اور اس اجنبی کو بھی..
وہ اجنبی جس کا نام کاشف تھا ہر بات سے بے خبر تھا..
اس کا نام کاشف ہے..
بائیس سال قبل یہ بچہ اپنے گھر کے باہر گلی میں کھیل رہا تھا کہ کچھ لوگوں نے اسے اغواء کر لیا..
مختلف جگہوں پر بکتا ہوا یہ بچہ اخرکار پاکستان کے شمالی علاقے میں ایک بیگار کیمپ میں پہنچا دیا گیا..
وہاں کئی برسوں تک اس سے سخت محنت و مشقت کروائی گئی اور ظلم و ستم کیا گیا..
یہ وہیں اسی بیگار کیمپ میں پلا بڑھا اور جوان ہوا..
اپس کی قبائلی لڑائی میں ایک گروہ نے اس بیگار کیمپ پر حملہ کیا..
اس حملے میں میں کئی لوگ مارے گئے اور بہت سے قیدی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ان میں یہ بھی شامل تھا..
پہاڑوں اور ویرانوں میں بھٹکتے ہوئے یہ پشاور پہنچا اور محنت مزدوری کرتے اور دھکے کھاتے اخرکار کراچی پہنچ گیا..
یہاں یہ ایک موٹر مکینک کی دکان پر ملازم ہے اور اس مکینک نے اسے اجازت دی ہوئی ہے رات کو دکان میں ہی بنے ہوئے ایک چھجے پر اس کی رہائش ہے..
یہ اپ کا بیٹا اور تم لوگوں کا بھائی ہے جس کا ثبوت بچپن میں پیٹ پر جلنے کا نشان ہے جب اس نے جلتا ہوا ائل چولھے پر سے خود پر گرا لیا تھا..
سب لوگ پھٹی پھٹی انکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور سب پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا تھا..
اس کے بعد کےلمحات خوشی کی چیخیں انسو اور شکر کے کلمات تھے..
میں ان سب کو چھوڑ کر اوپر والی منزل پر اپنے کمرے میں اگیا جہاں میرا سامان کنول نے سیٹ کردیا تھا اور سلیقے سے میرے لباس اور دیگر چیزیں الماری میں رکھ دی تھیں..
میں تھک گیا تھا اس لئے جوتے اتار کر بستر پر لیٹ گیا..
مجھے لیٹے ہوئے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ کنول کی اواز سنائی دی شاشین..
میں نے انکھیں کھولیں تو وہ دروازے پر کھڑی تھی..
میں اسے دیکھ کر اٹھ گیا اور ٹانگیں لٹکا کر بیڈ پر بیٹھ گیا..
کنول بھاگتی ہوئی ائی اور بیڈ سے کھڑا کر کے مجھ سے لپٹ گئی..
شاشین..اپ..اس کی اواز بھرائی ہوئی تھی اور اس سے بولنا مشکل ہورہا تھا..
پاگل ہٹو دروازہ کھلا ہے کوئی اگیا تو کیا سوچے گا..
مگر اس نے اپنا وجود سختی سے میرے جسم میں پیوست کیا ہوا تھا..
بہت دیر بعد میں اسے پرسکون کرپایا..
شاشین..اپ انسان نہیں فرشتہ ہیں..
نہیں جانتی کونسی نیکی کا پھل مجھے ملا ہے..
اپ..اپ..میرے لئے..ہمارے لئے..
میں نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا..
تم میری اصلیت نہیں جانتی ہو کنول..
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اپ ماضی میں کیا تھے کیسے تھے کتنی لڑکیوں سے اپ کے تعلقات تھے اور ائندہ ہونگے..
اپ نے مجھے فرش سے اٹھا کر اسمان تک پہنچا دیا..
میری ماں کو نئی زندگی لوٹادی..
زندگی کی ہر اسائش ہر خوشی اپ نے ہماری جھولی میں ڈال دی..
اور اج تک اپ نے حوس زدہ نظر سے میری طرف دیکھا تک نہیں..
ایک ابرو باختہ لڑکی..
کنول..چپ ہوجائو..فضول باتیں مت کرو..میں نے ناراضگی سے اس کی بات کاٹ دی..
تمھیں علم نہیں ہے میں انسان نہیں ہوں ایک جن زاد ہوں..
میری بات مکمل ہوتے ہی جیسے کنول کو جھٹکا سا لگا..
پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی..
جن..پاگل بنانے کے لئے اپ کو میں ہی ملی ہوں..کنول ہنسی..
جنوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا یہ سب کہانیاں ہیں اور جو..
اگلے ہی لمحے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے میں منتر پڑھ کر اس کی نظروں کے سامنے سے اوجھل ہوچکا تھا..
الفاظ اس کے ہونٹوں پر ہی جیسے ٹھر گئے..
حیرت اور بے یقینی سے وہ اسی جگہ دیکھے جارہی تھی جہاں میں نادیدہ ہونے سے پہلے کھڑا تھا..
شاشین..کنول کی انکھوں میں خوف کے تاثرات ابھر ائے..اور اس نےڈرتے ڈرتے میرا نام پکارا..
اہستہ اہستہ وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگی..
میں منتر پڑھ کر دوبارہ ظاہر ہوا تو اس کے قدموں کو بریک لگ گئی..
اس کی انکھوں میں خوف اور حیرانگی کی کیفیت یکجا تھی..
وہ چلتی ہوئی میرے پاس ائی اور میرا بازو تھام لیا..
وہ میرے ہونے کا یقین کرنا چاہ رہی تھی..
میں نے تمھیں کہا تھا میں انسان نہیں ہوں میں نے کبھی کسی بات میں اج تک تم سےجھوٹ نہیں کہا ناں ہی مجھے جھوٹ بولنے کی کوبی ضرورت ہے..
شاشین…نہیں..یہ..کیسے..جن..نہیں اپ کے پاس کوئی ایسی طاقت ہے..جس سے..جس سے اپ غائب ہوجاتے ہیں..جن..نہیں…
ہاں میں اپنی زیادہ تر شکتیاں کھو چکا ہوں لمبی کہانی ہے پھر کسی وقت سنائوں گا مگر یہ حقیقت ہے میرا تعلق جنوں کے قبیلے سے ہے اور میں اس وقت انسانی روپ میں ہوں..
اسی وقت کنول کی ماں, بھائی اور بہنیں بھی اگئیں اور ہماری بات ادھوری رہ گئی..
تمام لوگ اتنا پیار اور خلوص نچھاور کر رہے تھے کہ مجھے شرمندگی محسوس ہورہی تھی..
بہت دیر یہ سلسلہ چلتا رہا اخرکار سب لوگ چلے گئے اور میں واپس بستر پراگیا..
کچھ دیر میں کنول کھانا لے کر اگئی اور بیڈ پر ہی لگا دیا..
اس نے خود بھی نہیں کھایا تھا اور میرے ساتھ کھانے کی خواہشمند تھی..
کھانے کے دوران ہم باتیں کرتے رہے اسے اب بھی یقین کرنا مشکل ہورہا تھا کہ میں انسان نہیں ہوں..
اگلے چند دن میں کاشف کو میں نے ایک پوش علاقے میں مکینک اور سپئیر پارٹس کا شاندار شوروم کھلوا دیا جہاں وہ دل لگا کر محنت کر رہا تھا..
کنول کی ناز برداریاں جاری تھیں اور ہر گزرتے دن وہ اپنا خلوص اور محبتیں مجھ پر نچھاور کررہی تھی..
ایک دن کنول اور اس کی امی جان ڈاکٹر کے پاس گئی ہوئی تھیں اور کاشف اپنے شوروم پر کہ کنول کی چھوٹی بہن جو اس سے دو تین سال ہی چھوٹی تھی کی چیخوں کی اواز سنائی دی..
کنول کا کمرہ الگ تھا اور اس کی امی اور بھائی کا الگ…
اس کی دونوں بہنیں جو اس سے ایک دو سال چھوٹی تھیں ایک کمرے میں سوتی تھیں..
میں چیخوں کی اواز سن کر بھاگتا ہوا نچلی منزل پر ان کے کمرے تک پہنچا اور دروازہ بجایا جو لاک تھا اور انھیں اوازیں دینا شروع کیں..
چند لمحے بعد دروازہ کھلا اور ایک بہن کی وحشت زدہ شکل دروازے پر نظر ائی..
میں تیزی سے کمرے میں داخل ہوا تو چھوٹی والی فوزیہ جسم پر صرف مختصر چادر لپیٹے ہوئی تھی اور خوفزدہ انداز میں کمرے کے ایک کونے پر کھڑی تھی..
میں نے سوالیہ نظروں سے اس سے بڑی ثناء کی طرف دیکھا..کیا ہوا اسے..
اس کمرے میں کوئی ہے..اس نے وحشت زدہ انداز میں کہا..
وہ اگ کا کوئی شعلہ سا تھا..یہ کپڑے بدل رہی تھی..اس اگ کے شعلے نے..اس کے..اس کے..مطلب..اندر کے..مطلب…مختصر والے کپڑوں کو جلا دیا..مگر اس..اگ..سے فوزیہ کو کوئی نقصان نہیں ہوا..ثناء نے اٹک اٹک کر ساری بات بتائی..
میں حی
.کہاں تھی.