جن زاد

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 21

میں اسے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گیا..

مجھے اندازہ تو ہوگیا تھا پھر بھی میں نے سوال کیا..
کون ہو تم..
میرا نام ارشانہ ہے..
تم جان ہی گئے ہوگے کون ہوں میں اور کہاں سے ائی ہوں..
ہاں..تمھارے لباس, شکل اور قدکاٹھ سے اندازہ ہورہا ہے کہ جنوں میں سے ہو..
اور اگر میرے پاس ائی ہو تو زیادہ تر چانس ہے کہ میرے قبیلے کی ہو تم..
یہ کیسے جانا تم نے..
کہ میں تمھارے قبیلے کی ہوں..
ویسے تو میں اس انگوٹھی کی مدد سے بھی جان سکتا تھا میں نے انگلی میں موجود ترکن کی انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا..
مگر میں نے قبیلے کے حالات معلوم کئے تھے تو علم ہوا ہمارا قبیلہ مشکل میں ہے..
اس لئے میں نے اندازہ لگایا شاید کسی وجہ سے میری ضرورت ہو یا کوئی کام ہو..
ہاں..ٹھیک اندازہ لگایا ہے تم نے ارشانا نے کہا..
تم سردار کے بیٹے ہو مگر ان کے مرنے کے بعد تم واپس قبیلے میں نہیں ائے..
قبیلے کے بزرگوں نے تمھاری غیر موجودگی میں تمھارے چچا کو نائب سرداری پر فائز کردیا تھا..
اج تک کوئی ایسا مسئلہ پیدا نہیں ہوا کہ ہمیں سردار کی ضرورت پیش اتی…
دوسرا ہمارے بزرگوں نے اپنے علم سے یہ جان لیا تھا کہ ایک دن تم واپس اجائو گے…
اس لئے تم سے کوئی رابطہ نہیں رکھا گیا..
مگر اب حالات بدل چکے ہیں..
اگر تم نے حالات جان لئے ہیں تو تمھارے علم میں ہوگا کہ دوسرے قبیلے والے ہم سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہورہے ہیں..
انھوں نے حتمی مذاکرات کے لئے پیغام بھیجا تھا کہ سردار اپس میں مل کر فیصلہ کرلیں دوسری صورت میں جنگ ہوگی..
سردار تم ہو اور ان کا سردار کسی صورت اپنے سے کمتر یعنی نائب سردار سے بات نہیں کرے گا..
اس لئے مجھے پیغام دے کر بھیجا گیا ہے اور تمھیں واپس لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے..ارشانہ نے ساری باتیں وضاحت سے بتائیں اور خاموش ہوگئی..
کب ہیں دوسرے سردار سے مذاکرات یعنی کب ملنا ہے مجھے اس سے..
دو سورج بعد..ارشانہ نے جواب دیا..
مگر میں اتنی جلدی نہیں جا سکتا میرے یہاں کچھ معاملات ہیں..
کیا معاملات ہیں مجھے تمام تر اختیارات اور طاقتوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے..
اگر تم مقررہ وقت تک ناں پہنچ سکے تو دونوں قبیلے تباہ ہوجائیں گے اور سینکڑوں خاندان مارے جائیں گے..
پہلا مسئلہ تو جس گھر میں یہاں میں رہ رہا ہوں یہاں کوئی بدروح ہے جو فوزیہ نامی لڑکی کے جسم میں ہے اس سے پیچھا چھڑوا کر گھر کو محفوظ کرنا ہے اور..
تم اس کو کام کہ رہے ہو ارشانہ نے حیرت سے میری طرف دیکھا..
ہاں تم جانتی ہو میں اپنی تمام شکتیاں کھو چکا ہوں..
چلو میرے ساتھ..ارشانہ نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے..
کہاں..یہ کام ختم کرنے اور کہاں..ارشانہ پلٹی..
ارے مطلب اس وقت..اور اس طرح..
تو کیا اس بدروح کے بلاوے کا انتظار کرنا ہے..اپنے معاملات سمیٹ لو جلد از جلد ہمیں چلنا ہے..
مجھے لگ رہا ہے سردار میں نہیں تم ہو..اپنا لہجہ اور حکمیہ انداز درست کرو..مجھے واقعی غصہ اگیا تھا..
نہیں میں تہ دل سے معذرت خواہ ہوں اگر تمھیں ایسا لگا تو..
مجھے صرف قبیلے کی پریشانی تھی میں صرف چاہ رہی تھی جلد از جلد کام سمٹ جائیں..
جیسا تم حکم کرو گے ویسا ہی ہوگا سردار..
ارشانہ دروازے کے پاس رک گئی تھی اور تعظیمی انداز میں سر جھکا کر کھڑی ہوگئی تھی..
میں اٹھ گیا اور چلتا ہوا اس کے پاس اگیا..
کوئی بات نہیں..چلو یہ کام ختم کرلیں..
اس کی فراخدلانہ معذرت نے میرے دل سے غصہ دور کر دیا تھا..
میں نے دروازہ کھولا اور سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھا دئے..
نیچے اکر میں نے کنول کے کمرے کا دروازہ بجایا..ارشانہ میرے پیچھے تھی..
کچھ دیر میں کنول نے دروازہ کھولا تو اس کی انکھوں میں حیرانگی کے تاثرات ابھر ائے..
شاشین اپ..خیریت..کنول نے ایک طرف ہٹ کر مجھے اندر انے کا راستہ دیا..
میں نے بستر کی طرف دیکھا تو فوزیہ سکون سے سوئی ہوئی تھی..
کنول کچھ معاملات ایسے اگئے ہیں کہ مجھے فورا اپنے قبیلے جانا پڑے گا..
میں واپس اجائو گا مگر جانے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ فوزیہ کا مسئلہ حل ہوجائے اور گھر محفوظ ہوجائے..
میرے کمرے میں بستر کے نیچے پیسوں کا بیگ پڑا ہے سنبھال لینا وہ سب تمھارے لئے ہی ہیں..
شاشین..کنول میری طرف بڑھی..
میں جانتا تھا ارشانہ اسے نظر نہیں ارہی ہوگی..
کنول رک جائو ہم سکون سے بات کریں گے پلیز میں فوزیہ کا مسئلہ حل کر لوں..
کنول نے کچھ ناسمجھی کے انداز میں مجھے دیکھا..
اپ نے تو کہا تھا وہ خون..اور..
نہیں اس کے بناء ہی ہوجائے گا یہ مسئلہ حل..میں نے اس کی بات کاٹ دی اور ارشانہ کو اشارہ کیا..
ارشانہ نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنا شروع کیا..
چند ہی لمحوں میں کمرے میں ایک مکروہ صورت مرد دھویں کے ہیولے کی صورت سامنے اچکا تھا..
اس کی انکھیں اگ کی طرح جل رہی تھیں اور بھیانک چہرہ غصے سے بھرا نظر ارہا تھا مگر ارشانہ پرسکون تھی..
میں کنول کو اپنے ساتھ لئے کھڑا تھا..
اس کے ظاہر ہوتے ہی ارشانہ نے اپنے ہاتھ کا رخ اس کی طرف کیا اور اگلے ہی لمحے اس کی انگلیوں سے اگ کی لپٹیں نکل کر اس مکروہ صورت بدروح کی طرف بڑھیں..
اس نے اس اگ سے بچنا چاہا مگر ارشانہ نے شاید کچھ پڑھ کر اسے ساکت کیا ہوا تھا اور وہ حرکت کرنے سے قاصر تھا..
اگ نے جیسے ہی اس کے جسم کو چھوا اس کا جسم سوکھی لکڑی کی طرح جلنا شروع ہوگیا..
اگ لگتے ہی کمرہ اس کی فلک شگاف چیخوں سے گونج اٹھا..
یہ سب کچھ کنول کی نظروں سے اوجھل تھا اس لئے وہ پرسکون کھڑی میری طرف دیکھ رہی تھی..
ارشانہ اپنا ہاتھ ہٹا چکی تھی مگر وہ بدروح بدستور اگ میں جل رہی تھی..
ایسا نہیں تھا کہ اس کے پاس طاقتیں ناں ہوں مگر ارشانہ یقینا کچھ خاص لائی تھی جس نے اسے ہلنے تک کی مہلت نہیں دی..
چند لمحوں میں اس کا جسم جل کر خاکستر ہوگیا..
ارشانہ اگے بڑھی اور جیب سے ایک شیشی سی نکال کر اس نے اس کا ڈھکن کھولا اور کوئی عمل پڑھا تو ساری راکھ اس شیشی می سما گئی..
ارشانہ نے وہ شیشی اپنے لباس میں واپس رکھ لی..
میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا..
بس نشانی..ارشانہ مسکرائی..
ٹھیک ہے تم اس گھرکو محفوظ کردو ائندہ کوئی چیز یہاں داخل ناں ہوسکے ناں ہی کسی کو نقصان پہنچا سکے..
کنول نے حیرانگی سےمجھے دیکھا میں کس سے مخاطب ہوں مگر میں نے انکھوں کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کا کہا…
ارشانہ نے کچھ پڑھا تو اس کے ہاتھ میں ایک کیل نمودار ہوگیا جو اس بے میری طرف بڑھا دیا..
یہ کسی بھی دیوار کے کونے میں ٹھونک دیں گھر محفوظ ہوجائے گا..
ٹھیک ہے تم جائو ٹھیک ایک گھنٹے بعد اجانا ہم چلیں گے..
ٹھیک ہے ارشانہ نے کہا اور تعظیم دے کر رخصت ہوگئی..
یہ سب کیا ہورہا ہے شاشین..
بتاتا ہوں اوپر کمرے میں اجائو میں نے باہر کی طرف قدم بڑھا دئے کنول میرے ہمراہ تھی..
کمرے میں پہنچ کر میں نے کنول کو ساری صورتحال سے اگاہ کیا..
اسے یقین دلانا مشکل ہوگیا کہ اس کے سامنے کسی بدروح کو اگ سے جلا کر خاک کردیا گیا اور اسے علم نہیں ہوا..
میں نے کیل اس کیطرف بڑھا دیا یہ لو کسی بھی دیوار میں اوپر ٹھونک دینا تو یہ گھر ہمیشہ کے لئےمحفوظ ہوجائے گا..
کنول کی انکھوں میں اداسی نظر ارہی تھی..
اگلا ایک گھنٹہ کنول کو پیار کرنے میں گزرا..
اج وہ زیادہ بے تاب ہورہی تھی اور کچھ حد سے گزر رہی تھی..
مگر میں نے اسے روکا نہیں..
وقت پر لگا کر اڑ گیا..
ارشانہ کا چہرہ مجھے دوبارہ نظر ایا تو اندازہ ہوا گھنٹہ گزر چکا ہے..
میں نے پیار سے کنول کو الوداع کہا اس کی انکھوں میں نمی تھی..
کچھ دیر بعد میں نادیدہ حالت میں ارشانہ کے ساتھ فضاء میں بلند ہوچکا تھا ارشانہ نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا کیونکہ میرے پاس اڑنے کی شکتی نہیں تھی..
ہمارا رخ اپنے قبیلے کی طرف تھا جہاں نئے مسائل میرے منتظر تھے.
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial