جن زاد

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 22

ہم فضاء میں اڑ رہے تھے اور ارشانہ غیر محسوس طریقے سے میرے قریب اچکی تھی..

شاید وہ اپنی قربت کا احساس دلانا چاہتی تھی..
میرے سامنے موجود دوسرے مسائل ارشانہ سے زیادہ اہم تھے..
سب سے پہلا مسئلہ میری طاقتوں کا تھا اس کے بعد دونوں قبیلوں میں موجود چپلقلش..
ارشانہ میں نے یہ تو معلوم کر لیا تھا کہ ہمارے قبیلے کا کوئی جن زاد دوسرے قبیلے کی عورت کو بھگا کر لے گیا ہے..
ساتھ ہی دونوں کوئی ایسا عمل جانتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں قبیلوں کے لوگ بھی ان کو تلاش نہیں کر پارہے..
کم کیس ہی سہی مگر ایسا ہوتا ہے اس بات کو اتنا بڑھادیا گیا کہ دونوں قبائل میں جنگ کی نوبت اگئی..
کیا یہ عجیب بات نہیں ہے..
تم معاملے سے لاعلم ہو سردار ارشانہ نے جواب دیا..
وہ عام عورت نہیں تھی تاشمر قبیلے والوں کے سردار کی بیوی تھی..
اوہ..میں حیرانگی سے ارشانہ کو دیکھتا رہ گیا..مجھے تفصیل بتائو ارشانہ..
سردار..ہمارے قبیلوں میں اپنے قبیلے سے باہر شادی کا کوئی رواج نہیں ہے ناں ہی ایک دوسرے سے رشتے داری بناتے ہیں..
ہر قبیلے کا سال میں ایک تہوار کا دن ہوتا ہے..
اس دن دوسرے قبیلوں کے معزز لوگوں کو مہمان کے طور پر بلایا جاتا ہے..
ایسے ہی ایک موقعے پر تاشمر قبیلے کا سردار اپنی بیوی کے ساتھ ہمارا مہمان بنا تھا اور اس کی بیوی تھی بھی بہت حسین..
مگر اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف ان کے سردار سے ہوئی تھی..
سردار طاقتور ہوتا ہے اور اسے یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی عورت کو بیوی کے طور پر چن سکتا ہے..
ان کے سردار نے بھی زبردستی اسے اپنی بیوی بنایا تھا…
مگر شاید وہ عورت خوش نہیں تھی کیونکہ وہ کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھی..
سردار کی طاقت سے سب ہی خوفزدہ رہتے ہیں اس لئے اس عورت کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ اپنے کسی قبیلے والے جن کو سردار کے خلاف کر سکتی اور ..
تمھارا مطلب ہے اس عورت نے سردار کی ضد میں یہ حرکت کی..میں نے ارشانہ کی بات کاٹ کر پوچھا..
ضد بھی اور نیچا دکھانے اور اسے ذلیل کرنے کے لئے بھی کہ سردار اپنی عورت کی حفاظت نہیں کرسکا اس کے لئے یہ شرم کا مقام ہوتا..
وہ عورت جب سردار کے ساتھ ہمارے قبیلے میں ائی تو اس نے ہمارے قبیلے کے ایک نوجوان کو اپنے قابو میں کر لیا..
کیسے..سردار..مطلب اس کا شوہر کہاں تھا تب اور قابو کیسے کرلیا میں نے حیرانگی سے پوچھا..
یہی تو سارا اختلاف ہے ہمارا یہ کہنا ہے کہ اس عورت نے کسی عمل کے ذریعے ہی اس نوجوان کو قابو میں کیا تھا…
ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ کوئی مہمان قبیلے کے سردار کی بیوی کی طرف انکھ اٹھا کر دیکھتا..
تو کیا اس بات کو ثابت نہیں کیا جاسکتا..میں نے سوال کیا..
نہیں..وہ عورت تاشمر قبیلے کے کاہن کی بیٹی تھی..جو جادو کا بہت بڑا عامل ہے..
اس عورت نے اپنے باپ سے کچھ ایسے عمل سیکھے ہوئے تھے کہ ہم ناں ہی حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اور ناں ہی یہ جان پارہے ہیں کہ اس وقت دونوں کہاں ہیں..ارشانہ نے بات مکمل کی..
مگر تاشمر والوں کا کاہن تو یہ جانتا ہوگا یا کم سے کم جان سکتا ہوگا ناں..
اگر اس کاہن نے اپنی بیٹی کو سب کچھ سکھایا ہے تو یقینی بات ہے وہ خود اس سے زیادہ جانتا ہوگا..میں نے کہا..
ہاں ایسا ہونا تو چاہئے مگر وہ اپنی بیٹی کے خلاف کیوں جائے گا…
بلکہ ہم میں سےکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہی ان کو تحفظ بھی دے رہا ہے اور اس کی مرضی سے یہ سب معاملہ ہوا ہے..
تو تاشمر کا سردار کیا اتنا عقل سے پیدل ہے کہ وہ یہ سب باتیں نہیں سمجھ رہا اور جنگ پر امادہ ہے..میں نے سوال کیا..
مسئلہ صرف اس کے سمجھنے کا نہیں ہے اس کی عزت مٹی میں ملنے کا ہے…
اس کا ملبہ وہ ہم پر ڈالنا چاہ رہا ہے اور اس میں قصوروار بحرحال ہمارے قبیلے کا نوجوان بھی ہے..
کیا یہ کمال بات نہیں کہ ایسا خاص کوئی عمل ہے جس کا توڑ دونوں قبیلوں کے لوگ مل کر بھی نہیں کر پا رہے ہیں..
ہم انھیں تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں سردار..
وہ عمل جاننے کے لئے بھی ہم نے کئی قبیلوں کے بزرگوں اور کاہنوں سے رابطہ بھی کیا..
وہ عمل تو ہم جان گئے مگر اس کا توڑ کسی کے پاس نہیں ہے..ارشانہ نے وضاحت کی..
یعنی توڑ تو موجود ہوگا مگر ہم میں سے کوئی نہیں کر پارہا یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی عمل ہو اور اس کا توڑ ناں ہو..میں نے جواب دیا..
ہاں ایسا کہ سکتے ہیں سردار..مگر اگر ہم نہیں جانتے تو اس کا توڑ ہونا ناں ہونا کیا معنی رکھتا ہے..
معنی رکھتا ہے ارشانہ..اس عمل کا توڑ کر کے ان دونوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے..
ابھی دو سورج کا وقت ہے ناں ہمارے پاس..
ابھی قبیلے جانے کا فائدہ نہیں رک جائو کہیں اور چلو..
مگر..سردار..کیا بہتر نہیں کہ ہم قبیلے چل کر بزرگوں کے مشورے سے کوئی قدم اٹھائیں..
ان کے پاس کوئی ایسا مشورہ ہوتا تو جنگ کی نوبت ہی کیوں اتی..میں نے جو کہا ہے وہ کرو..میں نے سختی سے ارشانہ کو کہا..
ٹھیک ہے سردار..ارشانہ نے اپنا رخ بدل لیا اور کچھ دیر بعد میرا ہاتھ تھامے زمین پر اتر گئی..
یہ بہت وسیع جنگل ہے سردار اس کے بعد پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے…
بہت فاصلے پر ہمارا بھی اور دیگر قبیلے بھی اباد ہیں ارشانہ نے زمین پر اترنے کے بعد کہا..
تم نے کہا تھا کہ تم تمام اختیارات اور طاقتوں کے ساتھ ائی ہو..اس کا کیا مطلب تھا..میں نے پوچھا..
ہمارے قبیلے کے کاہن کی انگوٹھی میرے پاس ہے…
سردار تمھارے علم میں ہوگا کہ اگرچہ سردار سب سے طاقتور ہوتا ہے..
مگر کاہن جادو وغیرہ کے معاملے میں کہیں زیادہ مہارت رکھتے ہیں..
اس انگوٹھی میں کاہن کی بیشتر طاقتیں ہیں یعنی اس کی مدد سے کوئی بھی کام کیا جاسکتا ہے..
ہم جنگل میں ایک مناسب جگہ دیکھ کر رک گئے تھے وہاں گھاس پھونس موجود تھی جس پر ارشانہ میرے سامنے بیٹھی ہوئی تھی..
لائو مجھے دو وہ انگوٹھی..
ارشانہ نے ایک زنجیر سے بندھی انگوٹھی گلے سے اتار کر میری طرف بڑھا دی جسے میں نے انگلی میں پہن لیا اور اپنے اصل روپ میں انے اور اپنی شکتیاں واپس حاصل کرنے کا تصور کیا..
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial