جن زاد

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 24

مجھے لگتا ہے گروپ کی بہت سے لوگ ناقابل علاج ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہیں کسی کو لگتا ہے قسط چھوٹی لکھی کسی کو لگتا ہے روز صرف ایک قسط کیوں کسی کا حکم اجاتا ہے اب تک اپلوڈ نہیں کی قسط کسی کو نیکسٹ کہنے کی بیماری غرض کوئی ناں کوئی مسئلہ اکثریت کے ساتھ موجود ہے کسی کو اس سے غرض نہیں کہ میری کیا مصروفیات ہیں کیا معاملات ہیں ایک قسط لکھنے کے لئے کیسے میں وقت نکال کر گھنٹوں لگا کر لکھتا ہوں پھر ایسے لوگوں کو سخت جواب دیا جائے تو مرچیں لگ جاتی ہیں اور میں برا بن جاتا ہوں مطلب ہر شخص منہ اٹھا کر جو مرضی بونگی مارے فضول بات کرے گروپ رولز ناں مانے میری بار بار کہی باتوں کو ناں مانے اور ان کو جواب میں کچھ کہا بھی ناں جائے, میں مزے سے اور خوشی سے جن زاد لکھ رہا تھا سخت ترین مصروفیات میں جتنا وقت میسر ہوتا ہے اور میں نے دن میں تین تین اقساط بھی دیں مگر ممبرز کے کمینٹس اور فضول باتوں نے مجھے مجبور کردیا ہے کہ ناولز کے بجائے اپنے بزنس اور ذاتی معاملات ک ترجیح دوں اور سلطنت اور خوشبو کا انتقام کی طرح اسے بھی انتظار کروایا جائے اور صرف تب لکھا جائے جب مکمل فرصت میسر ہو اور موڈ ہو, جو چیز اسانی سے مل جاتی ہے اس کی قدر نہیں ہوتی اب سب لوگ مزے کریں یہ ان ممبرز کے ساتھ زیادتی ہے جو ایسے نہیں ہیں اور اچھے مزاج کے اور معاملات کو سمجھنے والے ممبرز ہیں مگر یہ میرے ساتھ بھی زیادتی ہے بیسیوں بار کہنے سمجھانے ٹوکنے بتانے کے باوجود اگر اکثریت سمجھنے کو تیار نہیں میری بات ماننے کو تیار نہیں گروپ رولز فالو کرنے کو تیار نہیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے خیال رکھنے کی اور اپنے بزنس اور کاموں کا حرج کرنے کی میں صرف اپنے شوق میں لکھتا ہوں اور کسی کو زبردستی پڑھنے پر مجبور نہیں کرتا ہوں جس نے گروپ رولز فالو نہیں کرنے میری باتوں کو نہیں ماننا خوشی سے ناں پڑھیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ایسے ممبرز نہیں چاہئیں گروپ میں جو خوشی کے بجائے اذیت اور سردرد کا باعث بنیں.

شکریہ.
میں سر اور نظریں جھکائے الٹے پائوں چلتا ہوا اس غار سے نکل ایا…
ارشانہ جو پیچھے کھڑی تھی میری تقلید میں اسی طرح تعظیما چلتی ہوئی میرے ساتھ باہر اگئی..
طارانوس بابا کی طرف میں پشت نہیں کر سکتا تھا ان کی عمر, ان کا مقام ان کا مرتبہ ایسا تھا کہ ان کی تعظیم فرض تھی..
ان کے خون کے ایک قطرے نے مجھ پر حقیقتوں کے نئے جہان وا کردئے تھے..
ہر چیز کا ہر راز میرے سامنے کھل گیا تھا..
ہر پردہ میری نظروں کے سامنے سے ہٹ گیا تھا..
تاشمر کے سردار تو کیا پورے قبیلے کی اب مجھ اکیلے کی طاقتوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں تھی..
مگر میری طاقتیں ابھی ادھوری تھیں..
بابا نے جو دان دیا تھا اسے مکمل طور پر حاصل کرنے اور اپنے وجود کا حصہ بنانے نیز ان کے ادھورے کام کو انجام دینے کے لئے مجھے واپس لوٹنا تھا..
میں جان گیا تھا وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں..
میں نے ان سے عہد کیا تھا واپس لوٹنے کا میں چاہتا بھی تو اس عہد کو نہیں توڑ سکتا تھا اور میں نہیں ہماری نسل سے کوئی اپنا عہد توڑنے کی ہمت نہیں کرسکتا..
ایسا کرنے کی صورت میں اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں اس لئے عہد ہمارے لئے زندگی موت کا معاملہ ہوتا ہے..
سردار..ارشانہ نے مجھے پکارا تو میں اپنے خیالات سے باہر اگیا..
یہ کون تھے اور یہ سب کیا تھا..اس کی انکھوں میں حیرت اور ستائش تھی..
یہ بابا طارانوس تھے..
ہمارے ابائواجداد میں سے ایک..
جن سے ہماری نسلیں چلیں..
روئے زمین پر انکی عمر سے ادھی عمر بھی کسی جن زاد کی نہیں ہے ارشانہ..
میری خوش نصیبی تھی یا شاید وقت نے یہی لکھا تھا کہ مجھے ان کی قربت نصیب ہو..
میں نے کاہن کی انگوٹھی اور اپنی طاقتوں سے یہی جاننے کی کوشش کی تھی کہ زمین پر کوئی ایسا جن زاد موجود ہے جو سب سے زیادہ عمر کا ہو..
ایسا ہی کوئی جن زاد میری مدد کرسکتا تھا..
ان کی طاقتوں کا تمھیں ذرہ بھر اندازہ نہیں ہے..
انھوں نے مجھے جو دان کیا ان کی طاقتوں میں سے تھوڑا سا حصہ ہے اور صرف اس کے بل پر تاشمر کا سردار تو کیا پورا قبیلہ بھی مل کر میرا مقابلہ نہیں کرسکتا..
میری باتیں سن کر ارشانہ کی انکھیں حیرت سے زیادتی سے پھٹنے کے قریب تھیں..
مجھے عہد دو ارشانہ کہ جو کچھ تم نے دیکھا جو کچھ تم نے جانا اخری سانس تک تم تک محدود رہے گا اور تم بابا کا راز افشاء نہیں کروگی..
ارشانہ میرے سامنے جھک گئی اور اس نے اس بات کا عہد کرلیا..
یہ بہت ضروری تھا اگر میں چاہتا تو ارشانہ کی یادداشت سے سب کچھ ختم کردیتا…
مگر مجھے واپس لوٹنا تھا اور قبیلے میں مجھے کسی ایسے قابل اعتماد ساتھی کی ضرورت تھی جو میرے معاملات کو جانتا ہو..
ہم اس وقت پہاڑ کی چوٹی پر تھے..
میں نے انکھوں سے اشارہ کیا تو برف کی دراڑ بند ہوگئی اور ہم دونوں فضاء میں بلند ہوگئے..
ہمارا رخ اب اپنے قبیلے کی طرف تھا..
وہ قبیلہ جو میرا قبیلہ تھا اور اپنے سردار کا منتظر تھا..
ہمارا سفر قبیلے کی طرف جاری تھا اور اخرکار ہم قبیلے میں پہنچ گئے جہاں میرے لوگ میرے اور ارشانہ کے منتظر تھے..
میں اپنے چچا سے ملا قبیلے کے بزرگوں سے ملا سب لوگوں کے چہرے پر خوشی تھی مگر وہاں ایک شخص ایسا بھی تھا جو میرے انے سے خوش نہیں تھا نائب سردار یعنی چچا کا بیٹا تاشین..
اگر میں کسی وجہ سے مرجاتا تو سرداری کے حقدار میرے چچا ہوتے اور یقینا ان کے بعد ان کا بیٹا تاشین..
ہماری عمریں ہزاروں برس تک ہوتی ہیں چچا بوڑھے ہوچکے تھے اور تاشین ان کی جگہ سنبھالنے کے لئے تیار تھا..
مگر ایسے میں قبیلے کے حالات اور میری واپسی نے اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا..
اگرچہ وہ انتہائی ذہین اور قبیلے کا سب سے طاقتور جنگجو تھا مگر سرداری کی لالچ نے اسے حسد کرنے پر مجبور کردیا تھا..
میں اس سے نظریں ملاتے ہیں سب کچھ جان گیا تھا مگر میرا دنیا میں کوئی نہیں تھا..
یہی ایک دو خون کے رشتے بس اور میری خواہش تھی یہ قائم رہیں مگر انے والا وقت مجھے بتارہا تھا کہ تاشین میرے لئے مشکلات کھڑی کرے گا..
اس وقت میرے لئے دوسے مسائل ضروری تھے اس لئے میں نے تاشین کا معاملہ بعد کے لئے چھوڑ دیا..
یہ بابا طارانوس کی عطا تھی ان کا دن تھا جو ہر ایک کا ظاہر اور باطن میرے سامنے عیاں نظر اتا تھا..
میری رہائش کے لئے الگ جگہ کا انتظام کردیا گیا تھا مگر میں نے اپنے بابا کے رہائش کو اپنانے پر ترجیح دی..
میری خواہش پر اس جگہ کو میرے لئے تیار کروا دیا گیا اور میں وہاں اگیا..
یہاں بابا رہتے بھی تھے اور یہیں بزرگوں اور قبیلے کے بڑوں سے مشاورت کے لئے ایک وسیع جگہ موجود تھی..
میں فی الحال ارام کرنا چاہتا تھا اس لئے میں نے تمام کاموں اور لوگوں کو اگلے دن پر رکھ لیا حتی کہ چچا اور قبیلے کے بزرگ مجھ سے مشاورت کرنا چاہتے تھے انھیں بھی میں نے اگلے دن پر ٹال دیا..
ارشانہ میری خواہش پر میرے ہمراہ تھی..
میں اپنے بابا کی مسند پر براجمان تھا یہ لکڑی اور چمڑے سے بنا تخت تھا جس کے سامنے چمڑے سے بنی فرشی نشتوں کا اہتمام کیا گیا تھا..
ارشانہ میرے سامنے دائیں طرف زمین پر براجمان تھی..
ارشانہ..سب سے پہلا کام یہ کرو کہ تمام نو قبیلوں کو پیغام بھجوا دو کہ پرسوں ہمارے قبیلے میں دعوت عام ہے اور سردار اپنے سارے قبیلے کے ساتھ تشریف لائیں..
پیغام دینے کے لئے جو لوگ جائیں ان میں ہمارے قبیلے کےمحترم لوگ شامل ہوں اور اپنے ساتھ تحائف بھی لے کر جائیں..
مگر سردار..نو قبیلے..ان کے تمام لوگ..ارشانہ میری بات سن کر پریشان ہوگئی تھی..
اتنا بڑا انتظام پھر ان سب کی دعوت وہ بھی صرف ایک دن میں یقینا یہ مشکل تھا مگر میرے ذہن میں کچھ اور تھا اور میں اس پر عمل کرنا چاہتا تھا..
ہاں ارشانہ اس قبیلے کے سردار کی حیثیت سے یہ میرا پہلا حکم ہے اور اسے ہر صورت لفظ بہ لفظ پورا کیا جانا چاہئے..
میں جانتا ہوں یہ مشکل ہے اور وقت بہت کم ہے یہ سب انتظامات کے لئے مگر پھر بھی اسے ممکن بنانا ہے…
قبیلے کے تمام لوگوں کو کاموں پر لگا دو اور سب میں ذمہ داریاں بانٹ دو..
دعوت کے انتظامات تم چچا اور تاشین کے ذمے لگا دو کہ وہ اپنی نگرانی میں اس سلسلے کے سارے کام کروائیں..
تمام قبیلوں میں پیغامات بھجوانے کے لئے ہمارے کاہن ہاموس کو ذمہ داریاں سونپ دو وہ اس سب کا انتظام کریں..
تمام انتظامات میں کسی قسم کی کمی نہیں رہنی چاہئے..
اور تمھاری لئے ایک خاص کام ہے تم وہ کرو گی میں نے اسے کچھ ہدایات دیں..
کھڑی ہوجائو..اور اپنا اوپری لباس اتار دو..
ارشانہ نے میری طرف دیکھا مگر خاموش رہی اور کھڑی ہوگئی..
چند لمحوں میں اس نے اوپری لباس کی بندشیں کھول دیں تھیں..
میں اپنی نشت سے کھڑا ہوا اور چلتا ہوا ارشانہ کے پاس پہنچ گیا..
میں نے اپنے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا اس کے سینے کے درمیان رکھ دیا..
درد کی شدت سے ارشانہ کی چیخ نکل گئی مگر وہ ضبط کئے کھڑی رہی..
میں نے انگوٹھا ہٹایا تو وہاں میرے نام کی مہر لگ چکی تھی..
اج سے تم میری نمائندہ ہو اور ہمیشہ کے لئے صرف میری دسترس میں رہو گی ناں تو تم کسی اور جن زاد سے کوئی جسمانی تعلق رکھو گی اور ناں ہی شادی کرو گی اور اخری سانس تک میری خدمت کے لئے مامور رہو گی..
میں نے انگوٹھا اس کے ماتھے پر رکھ کر وہاں بھی اپنے نام کی مہر ثبت کردی..
اب ہر دیکھنے والا یہ جان لیتا کہ ارشانہ سردار کی نمائندہ اور پیامبر ہے اور اس کی ہر بات جو وہ کہے سردار کی بات ہے..
میں نے ارشانہ کے لئے کچھ خاص سوچا ہوا تھا..
میں اپنی طاقتوں کے مدد سے یہ جان چکا تھا کہ ارشانہ وفادار اور بھروسے کے قابل ہے اور میرے لئے جان دینے کی حد تک پرخلوص بھی اس لئے میں نے اسے اپنے ساتھی کی حیثیت سے چن لیا تھا..
اب جائو ارشانہ..میں نے جو ہدایات دیں ہیں ان پر عمل کروائو میں کل صبح سب سے ملاقات کروں گا..
ارشانہ نے اپنے لباس کی بندشیں کس لیں اور میرے ہاتھ پر بوسہ دے کر الٹے پائوں چلتی ہوئی باہر نکل گئی..
ارشانہ کے جانے کے بعد میں اندرونی طرف اپنی رہائش گاہ میں اکر بستر پر دراز ہوگیا..
لیٹنے کے بعد مجھے کنول کا خیال ایا تو میں نے اس کے حالات جاننے کا تصور کیا تو مجھے جھٹکا لگا اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا..
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial