قسط: 25
کنول کا جسم شعلوں میں گھرا ہوا تھا اور وہ بری طرح چیخ و پکار کر رہی تھی..
اس کا لباس جل کر راکھ ہوچکا تھا اور وہ برہنہ کھڑی تھی اور اس کے گرد اگ کا ایک دائرہ تھا جو اسے جلا نہیں رہا تھا صرف خوف سے وہ چیخ رہی تھی..
میں اسے گھر کی حفاظت کے لئے کیل دے کر ایا تھا..
اس نے میری بات کو اہمیت نہیں دی شاید یا بھول گئی اور وہ کیل دیوار میں پیوست نہیں کیا..
اس کا نتیجہ بھیانک نکلا تھا ایک اور بدروح اس پر مسلط ہوگئی تھی..
میں نے اپنی طاقتوں کے ذریعے معلوم کیا جس جگہ یہ مکان تھا کسی زمانے میں یہاں جنگل ہوتا تھا..
پھر وہ جنگل صاف کر دیا گیا اور اس کی جگہ مکانات نے لے لی..
برسوں پہلے یہاں موجود مکان میں ایک ہندو میاں بیوی رہتے تھے..
شوہر دینا ناتھ اور بیوی کا نام کامنی دیوی تھا..
دینا ناتھ کالے علم کے چکروں میں اپنی زندگی برباد کرچکا تھا مگر اس کے ہاتھ کچھ نہیں ایا..
ایسے میں ایک دن اچانک کسی جوگی کا وہاں سے گزر ہوا..
دینا ناتھ بھی اس دن گھر پر موجود نہیں تھا…
صدا لگانے پر دروازے پر جاکر اس کی بیوی نے اس جوگی کو کھانا دیا وہیں سے ان کی بربادی کا اغاز ہوگیا..
وہ جوگی کے بھیس میں ایک کالے علم کا ماہر تھا جو کامنی پر عاشق ہوگیا..
دینا ناتھ اور کامنی دیوی کی کوئی اولاد نہیں تھی اور یہ کامنی کی کمزوری تھی..
اس نے اس جوگی سے اولاد کے لئے دعا مانگنے کا کہا..
جوگی نے موقعے سے فائدہ اٹھایا اور اسے اپنی باتوں میں اور کچھ عمل کے زور پر قابو کر کے یقین دلا دیا کہ دینا ناتھ نامرد ہے اور وہ کبھی اولاد حاصل نہیں کر پائیں گے..
مگر اگر کامنی چاہے تو وہ ایک عمل کر سکتا ہے جس سے کامنی کی گود ہری ہوجائے گی..
جوگی نے اسے کہا کہ عمل کرنے کے لئے اسے گھر میں انا پڑے گا اور اس کے لئے کامنی کی موجودگی بھی لازمی ہے..
مگر کامنی کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ دینا ناتھ کو رات کو کسی بھی بہانے سے کہیں بھیج سکتی..
اس کا حل جوگی نے یہ نکالا کہ کامنی کو ایک سفوف دیا کہ اسے چائے میں ملا کر شوہر کو کھلا دو تو وہ گہری نیند سوجائے گا..
جب جوگی کو یقین ہوگیا کہ کامنی پوری طرح اس کے جال میں پھنس گئی ہے تو وہ اگلی رات انے کا کہ کر چلا گیا..
کامنی شش و پنج میں مبتلا رہی مگر اولاد کی خواہش کچھ جوگی کی باتیں اور کچھ اس کے عمل کی طاقت سے وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہوگئی..
اگلی رات کامنی نے دینا ناتھ کو وہ سفوف چائے میں ملا کر دے دیا اور وہ بیہوشی کی نیند سو گیا..
جوگی اپنے مقررہ وقت پر ایا اور کامنی اسے گھر کے اندر لے ائی..
کچھ دیر میں ایک کمرے میں دونوں موجود تھے جہاں جوگی کو عمل کرنا تھا..
جوگی نے کامنی کو پانی اور دو پیالے لانے کو کہا اور پانی انے کے بعد اس نے کامنی کی نظر بچا کر ایک پیالے میں ایک دوا شامل کردی…
وہ اج کے دور کے حساب سے ویاگرا کی قسم کی دوا تھی یعنی سرخ جنسنگ نامی جڑی بوٹی اور دیگر کچھ جڑی بوٹیوں سے اس جوگی نے ایک دوا تیار کی تھی جو اس نے کامنی کو کھلا دی..
اس دوا میں اس اثر کے ساتھ مدہوشی کی دوا بھی شامل تھی اور کامنی جس نے کبھی کسی نشے کو چکھا تک نہیں تھا اس دوا کے زیر اثر مدہوشی کی کیفیت کے زیر اثر اگئی..
جوگی اسے سامنے بٹھا کر منتر پڑھنے کا ڈراما کرتا رہا کچھ دیر گزری تو اس دوا کا اثر ہونا شروع ہوا..
کامنی کے تن بدن میں اگ لگ گئی اور ہیجانی کیفیت سے وہ بے قرار ہونے لگی اس پر مدہوشی سونے پر سہاگہ تھی..
کامنی کی کیفیت دیکھ کر جوگی برہنہ ہوگیا جس نے کامنی کے جذبات جو پہلے سے ہی قابو سے باہر تھے اتش فشاں بن کر پھٹ پڑے..
اس کے بعد حوس کا ننگا کھیل اس کمرے میں کھیلا جانے لگا..
وقت گزرتا رہا مگر اس دوا کے زیر اثر کامنی کی اگ سرد ناں ہوئی اور جوگی اس کا ساتھ دیتا رہا..
دونوں کی قسمت کی خرابی تھی کہ دینا ناتھ کی انکھ کھل گئی اور وہ کامنی کو تلاش کرنے اپنے کمرے سے باہر اگیا..
کمرے کی کھلی کھڑکی سے اس نے دونوں کو دیکھا تو اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا..
جس بیوی کو وہ جان سے عزیز رکھتا تھا اور بے پناہ محبت کرتا تھا وہ خود شیرنی کی طرح جوگی کو بھنبھوڑ رہی تھی..
غصے نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور اس نے کمرے کو باہر سے کنڈی لگائی…
اور گھر میں موجود مٹی کے تیل کا گیلن اٹھا کر کھڑکی کے راستے سارا تیل کمرے میں الٹ دیا اور دیا سلائی سے اگ دکھا دی..
کامنی دیوی اور جوگی کے ساتھ شاید دینا ناتھ کا بھی برا دن تھا یا اس کی موت ائی ہوئی تھی..
اس کا پائوں پھسلا اور گرتے ہوئے اس کا سر چارپائی کے کونے سے ٹکرا گیا..
کامنی کے پلائے ہوئے سفوف کے زیر اثر وہ پہلے ہی دماغی طور پر کمزور تھا اس پر اس چوٹ نے اسے ہوش و حواس کی دنیا سے بیگانہ کردیا..
دینا ناتھ کی لگائی ہوئی اگ نے کامنی دیوی اور جوگی کے ساتھ ساتھ پورے گھر کو جلا کر راکھ کردیا اور ساتھ ہی دینا ناتھ بھی اس اگ میں اپنی زندگی ہار گیا..
کئی برسوں تک وہ مکان کھنڈر کی شکل میں موجود رہا اخر کار اس کو ایک شخص نے خرید کر نئے سرے سے بنوایا مگر اسے بھی اس مکان میں رہنا نصیب نہیں ہوا..
اس شخص کے بعد کئی لوگ اس مکان میں ائے مگر کوئی پراسرار بیماری سے مرتا رہا کوئی ان بدروحوں کے خوف سے چھوڑ کر جاتا رہا..
میں نے جلد بازی میں وہ مکان خریدتے ہوئے اس کے بارے میں تحقیق نہیں کی تھی جس کا نتیجہ مجھے اب بھگتنا پڑ رہا تھا..
فوزیہ کے جسم میں سمانے والی بدروح اس جوگی کی تھی جسے ارشانہ نے جلا کر راکھ کیا تھا اور اب دینا ناتھ کی بدروح کنول پر مسلط ہوچکی تھی..
میں اگر وہاں موجود ہوتا تو چٹکی بجاتے اسے راکھ کردیتا مگر قبیلے کے اور دیگر معاملات اس سے زیادہ ضروری تھے..
دوسرا دینا ناتھ کی بدروح اس کا لباس جلا سکتی تھی اسے خوفزدہ کرسکتی تھی مگر اس کی جان لینے یا ایسا کوئی نقصان پہنچانے کی طاقت اس میں نہیں تھی..
میں نے اپنی طاقت سے کام لیتے ہوئے لیٹے لیٹے ارشانہ کو اواز دی اور اسے اپنے کمرے میں حاضر ہونے کا حکم دیا..
کچھ دیر بعد ارشانہ میرے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کے چہرے پر حیرانگی اور تجسس تھا..
وہ سوچ رہی تھی کہ رات کے وقت سردار کے اپنے کمرے میں بلانے کا مقصد شاید اسودگی ہے..
میں نے اسے کنول کی بابت سارا معاملہ بتایا اور اسی وقت اسے وہاں جاکر کنول اور اس گھر کو کو ان بدروحوں سے نجات دلانے کا حکم دیا اور ساتھ میں تاکید کی کہ اپنی نگرانی میں وہ حفاظتی کیل دیوار میں لگوا کر واپس ائے..
ارشانہ کے جانے کے بعد میں نے سکون کا سانس لیا مجھے یقین تھا ارشانہ اسانی سے اس معاملے کو انجام دے لے گی..
اس طرف سے بے فکر ہوکر میں نے انکھیں موند لیں اور نیند کی وادی میں ڈوب گیا