قسط: 28
یہ قسط غلطی سے ڈیلیٹ ہوگئی تھی اس لئے دوبارہ اپلوڈ کی جارہی ہے
تمام سردار اپنی نشستوں سے کھڑے ہوچکے تھے..
حتی کہ ان سب کے قبیلے ہزاروں کا مجمع بھی کھڑا ہوچکا تھا اور سرداروں کےفیصلےکا منتظر تھا..
تاشمر کا سردار اب اٹھ چکا تھا اور سر جھکائے ایک طرف کھڑا تھا..
پہل شالتی قبیلے کے سردار نے کی..
وہ اپنی نشست سے اترا اور چلتا ہوا میرے سامنےایا اور گھٹنوں پر جھک کر اپنےسردای کی مہر میرے ہاتھ پر رکھ دی..
اس کے بعد کسی سردار نے سوچنے یا وقت ضائع کرنے کی کوشش نہیں کی..
تمام سردار باری باری اکر اپنی سرداری کی مہریں مجھے سونپتے رہے اور میرا ہاتھ چوم کر مجھ سے وفاداری کا اعلان کرتے رہے..
میں نے تمام سرداروں کو اپنی نشستوں پر واپس جانے کا حکم دیا..
جب سب لوگ اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو میں فضاء میں بلند ہوا اور واپس اسی پتھر پر اکر کھڑا ہوگیا جہاں سے میں سب لوگوں کو دیکھ سکتا تھا اور مخاطب کر سکتا تھا..
یہ سب کچھ اتنا اسان نہیں لگ رہا تھا..
مجھے توقع تھی کہ مزید کوئی بھی مجھ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا مگر میرا اندازہ غلط نکلا..
جس کاہن کو میں نے جلا کر راکھ کیا تھا اس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ اس وقت تمام قبیلوں میں اس سے بڑا جادوگر اور طاقتور جن موجود نہیں ہے..
میں نے اسے چٹکی بجاتے مسل دیا تھا اس کے بعد کسی کے مقابلہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی..
دوسرا میں نے تاشمر کے سردار کی جان بخش دی تھی یہ رواج بھی ہمارے قبائل میں نہیں تھا..
ہارنے والے کو لازمی موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے..
شاید یہی دونوں وجوہات کی بناء پر کسی نے میرے سامنے انے کی جرات نہیں کی..
ایک میری طاقت دوسرا حسن سلوک..
میں اس وقت تمام دس قبیلوں کا اکیلا سردار ہوں..میں نے بولنا شروع کیا..
مگر میرا مقصد ناں ہی سرداری حاصل کرنا تھا ناں ہی کسی کو نیچا دکھانا..
میری صرف یہ خواہش تھی کہ ہماری قوم ہماری نسل اتفاق اور اتحاد سے رہے…
اپس کے معمولی جھگڑوں میں ہم اپنے بھائی بہنوں کا خون ناں بہائیں..
اگر کوئی مسئلہ کوئی معاملہ درپیش ہو تو اسے مشترکہ بیٹھ کر حل کیا جائے..
اس لئے میں اعلان کرتا ہوں جو سردار اپنے قبیلوں کے سردار تھے وہی سرداری کے منصب پر فائز رہیں گے میرے نمائندے کے طور پر..
اگر کسی بھی قبیلے کے کسی شخص کو سرداری کے لئے لڑنا ہو تو اسے مجھ سے لڑنا پڑے گا کیونکہ میں تمام قبیلوں کا سردار ہوں اور اپنے نمائندے منتخب کر رہا ہوں..
میرا دوسرا فیصلہ یہ ہے کہ تمام قبیلوں کے کاہن اور سرداروں پر مشتمل ایک مشترکہ اتحاد تشکیل دیا جارہا ہے جو قبائل کے اپس کے جھگڑوں اور مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کریں گے اور اکثریت کا فیصلہ قبول کیا جائے گا..
اگر کوئی ایسا معاملہ اجاتا ہے جس میں تمام لوگ کسی نتیجہ پر ناں پہنچ سکیں تو پھر میں فیصلہ کروں گا اور میرا فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا..
میری بات مکمل ہوتے ہی میدان ہزاروں لوگوں کے خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا..
میں پتھر سے نیچے اتر ایا اور اس جانب بڑھ گیا جہاں تمام سردار اپنی نشستوں پر موجود تھے…
تاشین..میں نے اواز دی..
چند لمحوں بعد تاشین میرے سامنے تھا..مگر اس بار اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں..
میں نے اسے اپنے قبیلے کی سرداری نشست پر جانے کا اشارہ کیا..
تاشین کی انکھوں میں حیرانگی کا سمندر برپا تھا..
اج سے میں اپنے قبیلے کی سرداری تاشین کو سونپ رہا ہوں اور ارشانہ اس کی نائب ہوگی اور ارشانہ تمام قبیلوں میں میرا نمائندہ تصور ہوگی..
تاشین کی انکھوں میں ممنونیت کے جذبات تھے اس نے جھک کر میرے ہاتھ پر بوسہ دیا اور سرداری کی نشست کیطرف بڑھ گیا..
اس کے بعد میں نے ہر سردار کے پاس خود جاکر اسے سرداری کی مہر عطا کی اور مبارک دی…
تمام سرداروں نے میرا ہاتھ چوم کر وفاداری کا عہد کیا اس میں تاشین بھی شامل تھا جو اب سمانتن قبیلے کا سردار تھا..
یہ سب ختم ہونے کے بعد میں نے دونوں قیدیوں کو لانے کا حکم دیا…
ارشانہ جنگجئوں کے ساتھ ان قیدیوں کو سامنے لے ائی..
سردار..میں نے تاشمر قبیلے کے سردار کو مخاطب کیا..
اگرچہ یہ تمھاری بیوی ہے اور دونوں مجرم ہیں اور دونوں نے قانون بھی توڑا ہے..
مگر میری خواہش ہے کہ ان کا فیصلہ مشترکہ مشاورت سے قانون کی روشنی میں کیا جائے..
ٹھیک ہے سردار اعلی..سردار نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا کر اپنی رضامندی کا اظہار کیا..
ارشانہ دعوت کے بعد تمام سردار اور کاہن مل کر مشترکہ طور پر ان کا فیصلہ کریں گے تب تک انھیں قید کردو..
ارشانہ نے میری بات سن کر سر ہلایا اور جنگجوئوں کو اشارہ کیا تو وہ ان دونوں قیدیوں کو لے کر میدان سے باہر کی طرف بڑھ گئے..
دعوت شروع کروائو..میں نے ارشانہ سے مخاطب ہوکر کہا..
سب لوگ اپنی نشستوں سے نیچے اتر ائے تھے..
تاشین تم میزبان ہو سارے مہمانوں کو سنبھالو مجھے کچھ اہم معاملات نپٹانے ہیں..
اس کے بعد میں تمام سرداروں سے مل کر وہاں سے واپس اپنی رہائش گاہ پر اگیا..
سب کی خواہش تھی کہ میں ان کے درمیان موجود رہوں اور ان کا ساتھ دوں مگر میرا کام ختم ہوچکا تھا..
ارشانہ میرے ہمراہ تھی میں اس وقت اپنے بستر پرنیم دراز تھا اور ارشانہ میرے سامنے کھڑی تھی..
ارشانہ تم جانتی ہو میرے تمام معاملات…
میں نے بابا کو عہد دیا تھا..
کہ میرا کام جیسے ہی ختم ہوگا میں لوٹ ائوں گا..
اسی لئے میں جلد از دعوت سے لوٹ ایا ہوں..
کہ مجھے واپس بابا کے پاس جانا ہے..
یہ راز ہمیشہ راز رہے اگر میرے لئے ممکن ہوا تو میں تم سے رابطہ رکھوں گا..
میں تمھیں سب سے اہم ذمہ داری کنول کی سونپ رہا ہوں..
میری غیر موجودگی میں تم اس کا خیال رکھو گی اور اس کا ہر مسئلہ حل کرو گی..
مگر سردار..
میں جانتا ہوں تم کیا کہنا چاہتی ہو میں نےارشانہ کی بات کاٹ دی..
میں تمھیں کچھ شکتیاں دان کر رہا ہوں تم وہاں جائے بناء اس پر نظر رکھ سکو گی اور اس کا خیال بھی..
میرے پاس ائو..میں نے اسے بستر پر انے کا اشارہ کیا..
ارشانہ کی انکھوں میں شرم اورحیاء کے تاثرات ابھر ائے..
وہ بستر پر اگئی تو میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے لباس کی بندشیں کھول دیں..
اس کے بعد میں نے اپنے ناخن سے اس کے سینے پر سیدھی طرف دل کی جگہ پر چھوٹا سا کٹ لگا دیا جس سے خون بہنے لگا..
ارشانہ قیامت خیز جسمانی خوبصورتی کی حامل تھی..
میرے جذبات میں ہلچل ہونے لگی مگر میں برداشت کرتا رہا..
ارشانہ انکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی..
میں نے دوسرے ہاتھ سے اپنی پہلی انگلی پر ناخن سے کٹ لگایا اور اسے ارشانہ کے سینے پر موجود زخم سے ملا دیا..
ارشانہ کو جھٹکا سا لگا..
مگر میرا خون اس کے خون میں شامل ہوگیا..
اس کے بعد میں نے اپنے ہونٹوں سے وہ خون چوس کر ارشانہ کو ہونٹوں سے پلا دیا..
میرا خون ملا لعاب ارشانہ کے اندر اتر رہا تھا اور وہ میری قربت سے بے چین ہورہی تھی..
میں نے اسےبانہوں میں بھر لیا..
ارشانہ میری بانہوں میں تڑپ رہی تھی مگر میرے اندر سے کوئی اواز تھی جو مجھے حد پار کرنے سے روک رہی تھی..
میں چاہ کر بھی حد پار نہیں کر پایا اور ارشانہ کی تشنگی دور نہیں کرپایا..
میں نے اسے خود سے جدا کیا..
ارشانہ میں نہیں جانتا مگر کوئی چیز ہے جو اندر سے مجھے اگے بڑھنے سے روک رہی ہے..
مگر یہ ادھار رہا جسے میں ضرور چکائوں گا..
میں نے ارشانہ کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اپنی رہائش گاہ سے باہر اگیا اور فضاء میں بلند ہوگیا..
میرا رخ کوہ ارارات کی طرف تھا جہاں بابا میرے منتظر تھے..