جن زاد

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 35

تم لوگوں کے تو مذہبی عقائد ہیں مگر عام لوگوں کے لئے ناقابل یقین باتیں ہیں..میں نے نندا سے کہا..
تو تم لوگوں کے ہاں صرف لنگ کی پوجا ہوتی ہے یونی کی نہیں میں نے ازراہ مذاق کہا..
ہاں بالکل لنگ پوجا کے ساتھ ساتھ پاربتی کی یونی کی پوجا بھی کی جاتی ہے…
یونی کا سب سے بڑا مندر آسام میں گوہاٹی کے مقام پر ہے…
جہاں پاربتی کی یونی بنی ہوئی ہے…
روایت کے مطابق جب پاربتی اپنے باپ کے گھر چل کر مر گئی تھی…
تو شیو اس کی جلی ہوئی لاش لیے لیے پھر رہا تھا…
جس سے تینوں لوکوں کا نظام برہم ہوگیا تھا..
اس پر وشنو نے اپنے چکر مار کر اس لاش کے باون ٹکڑے کردیے تھے..
جو ٹکرا جہاں گرا وہاں ایک مندر بنا دیا گیا..
یہاں پاربتی کی یونی گری تھی اور یہاں یونی کا مندر بنا دیا گیا..
میں حیرت زدہ نظروں سے نندا کو دیکھتا رہ گیا..
انتہا ہوگئی تھی میں نے مذاق میں اس سے سوال کیا تھا..
مگر وہ سچ مچ حقیقت بتا رہا تھا کہ ان لوگوں میں اس کی بھی پوجا کی جاتی ہے…
میرا دماغ الجھ رہا تھا اس سے پہلے کہ میں کچھ کہ کر اس کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچاتا میں نے موضوع تبدیل کردیا..
اچھا مجھے جس سانپ نے کاٹا تھا کیا وہ زہریلا نہیں تھا..میں نے سوال کیا..
زہریلا تھا مگر اس کے زہر سے موت واقع نہیں ہوتی جسم سن ہوجاتا ہے اور بیہوشی طاری ہوجاتی ہے..
اس نسل کا نر سانپ جب مادہ سے ملاپ ناں کرسکے..
یا اسے مادہ میسر ناں ہو تو وہ غضبناک ہوجاتا ہے اور اپنے سامنے انے والی ہر شے کو ڈنگ مارتا ہے..
عجیب بے تکا قسم کا سانپ ہے بھئی مادہ تجھے گھاس نہیں ڈال رہی تو دوسروں کا کیا قصور اس میں..
اچھا نندا مجھے یہ بتائو تم یہاں کیا کر رہے ہو جنگل میں اپنے ملک سے ہزاروں میل دور یہاں انے اور اکیلے رہنے کا کیا مقصد ہے..
میں ٹائم اینڈ سپیس کو موڑنے کی کوشش کر رہا ہوں..نندا نے عجیب و غریب جواب دیا..
ٹائم ایک سپیس ایک چادر کی طرح ہے جس میں مادے کی وجہ سے خم اجاتا ہے..
ہم وقت میں ہمیشہ اگے کی طرف سفر کرتے ہیں..
اگر اس چادر کو ہم فولڈ کردیں تو اس کے دو کنارے قریب اجائیں گے..
اگر ہم اس پر گرہ لگا سکیں تو ہم وقت کو بدل سکتے ہیں..
میں سائنسدان نہیں ہوں ناں مجھے تمھاری بات سمجھ ائی ہے..
مگر میں اتنا جانتا ہوں ہم ماضی یا مستقبل میں نہیں جا سکتے..
ہم اپنے ماضی کو بدل نہیں سکتے ناں ہی مستقبل میں جا کر گزرے وقت کو دیکھ سکتے ہیں..
ماضی کو تو بدلنا بالکل ہی ممکن نہیں اگر تمھارے دادا یا باپ کو ماضی میں جاکر مار دیا جائے تو تم پیدا ہی نہیں ہوگے..
نہیں نندا وقت کو ماضی میں جا کر نہیں بدلا جاسکتا..
اس سے چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں..
صرف مستقبل کے حوالے ہم اپنے علوم کی مدد سے کسی حد تک جان سکتے ہیں بس..میں نے نندا کو جواب دیا..
ہم ماضی کو بدلنے کی ہی بات کررہے کسی ایک چیز کو بدلنے کا مطلب اس سے منسلک ہزاروں واقعات کی ترتیب بدل جائے گی..
اور یہ ممکن ہے..نندا نے اپنی بات پر زور دیا..
کیسے..میں نے سوال کیا..
شیوا جی کے لنگ کی مدد سے..
کیا بکواس ہے..مجھے غصہ اگیا..
تمھارے مذہبی عقائد کی حد تک تو میں نے سن لیا…
اب تم مجھے لنگ کی مدد سے ماضی میں جانے کی کہانی سنا کر بیزار مت کرو..
نندا نے مجروح نظروں سے مجھے دیکھا..
اچھا رہنے دو مجھے..تم اپنا بتائو تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو..نندا نے موضوع بدل دیا..
میرا نام ٹوماگا ہے اور میں ناگ قبیلے کی تلاش میں ہوں..
تم ٹھیک جگہ پہنچے ہو ٹوماگا..ناگ قبیلہ یہاں سے قریب ہی اباد ہے..مگر وہ اپنی حدود میں کسی اجنبی کو نہیں انے دیتے..
تمھیں وہاں کیا کام ہے کس مقصد کے لئے تم وہاں جانا چاہتے ہو..نندا نے سوال کیا..
میں نندا کو اپنا مقصد نہیں بتا سکتا تھا ناں ہی میں اسے جانتا تھا…
نندا..مجھے کسی خاص چیز کی تلاش ہے اور…
ہاہاہا ناگ منی..خاص چیز وہ ہی ہے اس قبیلے میں نندا نے میری بات کاٹ کر قہقہ لگاتے ہوئے کہا..
مجھے نندا کی بات سن کر جھٹکا لگا..
تم ناگ منی کے بارے میں کیسے جانتے ہو..میں نے سوال کیا..
میں شاید واحد شخص ہوں جو اس قبیلے میں جا کر زندہ واپس ایا ہے..
بہت عرصہ قبل میں بھٹکتے ہوئے اس قبیلے کی حدود میں داخل ہوگیا تھا..
انھوں نے مجھے قید کرلیا اور قید خانے میں موجود ایک قیدی نے مجھے ناگ منی کی کہانی بتائی..
اس قبیلے کی ملکہ ایک ناگن ہے جو اپنا روپ بدلنے پر قادر ہے..
جب میرا اس ناگن سے سامنا ہوا تو میں نے اسے ہندوستان اور لنگ کا پجاری ہونے کاحوالہ دیا تھا..
لنگ کا پجاری ہونے کی حیثیت سے مجھ میں اس حوالے سے کچھ خاص شکتی ہے…
اس نے کچھ عرصہ مجھ سے اپنی حوس پوری کی..
جب اس کا دل بھر گیا تو مجھے وہاں سے اس شرط پر نکال دیا..
کہ میں پلٹ کر کبھی واپس نہیں ائوں گا..
وہ ناگن بہت شکتی شالی ہے ٹوماگا تم کیا کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا..
ہوسکتا ہے تم ٹھیک کہ رہے ہو مگر میں تب بھی اس قبیلے میں ضرور جائوں گا اور ہاں ناگ منی حاصل کرنا ہی میرا مقصد ہے..
کیا تم میری کوئی مدد کرسکتے ہو میں نے نندا کی بات سن کر کہا..
اس ناگن کی ایک ہی کمزوری ہے کہ وہ ہوس پرست ہے..
اگر وہ تمھیں قید کرلیں گے تو اس کے سامنے ضرور پیش کریں گے..
اگر تم اسے پسند اگئے تو چند دن زندہ رہ لوگے جب تک اس کا دل تم سے بھر نہیں جاتا..
اس کے بعد وہ ادم خور قبیلہ تمھیں بھون کر کھا جائے گا..
واہ..بڑا ذائقہ پسند قبیلہ ہے..مطلب ادم خور وہ بھی بھنا ہو گوشت..میں نے مذاق میں کہا..
ہاں عام طور پر ادم خور کچا گوشت کھانے کے عادی ہوتے ہیں..
مگر شاید انسانی گوشت بھونے جانے کے بعد زیادہ مزیدار ہوجاتا ہوگا..
میں اس بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا میرا کوئی تجربہ نہیں نندا نے سنجیدگی سے جواب دیا..
کیا تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو..میں نے نندا سے پوچھا..
اگر تم میرے کام میں میری سہائتا کرو تو میرا وعدہ ہے میں ہر قیمت پر تمھاری مدد کروں گا..
تمھارا کام..وہ لنگ کی مدد سے ماضی میں جانے والا..میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا..
ہاں..نندا نے قطعی لہجے میں کہا اور میں حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا..
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial