قسط: 42
جنگلی بیرونی غار سے جاچکے تھے اور بہت دیر گزر چکی تھی اس لئے میں نے نندا سے ذکر کرنے یا اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی..
مگر میرا اندازہ غلط تھا اور اس کا نتیجہ بھیانک نکلا تھا..
جنگلی یقینی طور پر مجھے گرفتار کر کے لے جاتے اس کے بعد کیا حالات ہوتے کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا..
نندا موجود ہوتا تو شاید وہ ان جنگلیوں کو سنبھال لیتا مگر اب اس کا چانس بھی نہیں تھا..
میں نے سارے راستے بند پاکر اپنے زیرجامے میں محفوظ ناگ منی نکال کر پلک جھپکتے منہ میں رکھی اور اگلے ہی لمحے تصور کرتے ہی میں سانپ کے روپ میں اگیا..
میں جانتا تھا جنگلی ناگ کی پوجا کرتے ہیں اس لئے مجھے نقصان پہنچنے کا کوئی سوال نہیں تھا..
مگر سانپ کا روپ اختیار کرنا ایک عجیب و غریب اور ناقابل یقین تجربہ تھا..
دروازہ اب کھل چکا تھا اور اٹھ نو جنگلی اندر داخل ہوچکے تھے..
میں نے ایک زور دار پھنکار ماری اور پھن کاڑھ کر کھڑا ہوگیا..
سانپ کے روپ میں میری سوچ اور دماغ بالکل عام انسانوں اور جنوں کی طرح تھی..
مگر میرا بدن سانپ کا تھا اور میں بولنے سے قاصر تھا..
پھنکار سن کر جنگلی ٹھٹھک کر رک گئے اور اگلے ہی لمحے خوفزدہ انداز میں سجدے میں گر گئے..
میرے لئے یہاں سے نکلنا ہی مناسب تھا اس لئے میں بل کھاتا ہوا باہر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا..
جنگلی مجھے جاتا دیکھ کر پرسکون ہوگئے تھے اور حیرانگی سے چاروں طرف دیکھ رہے تھے..
پوری غار میں صرف دیوار میں موجود یونی اور اس میں گڑا ہوا لنگ ہی قابل ذکر تھے اس کے علاوہ وہاں کوئی چیز نہیں تھی..
اگر نندا لنگ کو یونی میں پچھلی بار کی طرح پورا داخل کردیتا تو شاید جنگلیوں کی نظر میں ناں اتا..
مگر اس نے تجرباتی طور پر صرف ایک دو انچ ہی داخل کیا تھا جس کی وجہ سے وہ دیوار میں ایک موٹے کیل کی شکل میں نظر ارہا تھا..
جنگلی اس کی طرف بڑھے اور ان میں سے ایک شخص پتھر پر چڑھ گیا..
میں اب دروازے کے کافی نزدیک تھا تمام جنگلی اس لنگ کی طرف متوجہ تھے..
پتھر پر چڑھنے والے جنگلی نے لنگ کو تھام لیا تھا..
کسی بھی لمحے وہ اسے باہر کھینچتا اور نندا کا جسم واپس اجاتا..
مگر لازمی نہیں جیسا سوچا جائے ویسا ہو بھی جائے..
پتھر پر موجود جنگلی لنگ تھامے شاید سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس کا یہاں گاڑے جانے کا مقصد کیا ہے..
یا شاید کچھ اور مگر اسے چند لمحے لگ گئے..
پتھر سے نیچے موجود ایک اور جنگلی نے جلد بازی میں اس پتھر پر چڑھنے کی کوشش کی..
پتھر کی چوڑائی اتنی نہیں تھی کہ اس پر دو ادمی اسانی سے کھڑے ہوسکتے..
نتیجتا پہلے سے موجود جنگلی جس نے لنگ کو تھاما ہوا تھا دھکا لگنے سے اس کا توازن بگڑ گیا..
اس نے خود کو سنبھالنے لے لئے لنگ کا سہارا لیا جس سے اس کے جسم کا وزن لنگ پر اگیا..
بجائے باہر نکلنے کے وہ لنگ ٹوٹ کر اس جنگلی کے ہاتھ میں اگیا..
یہ ناقابل یقین بات تھی وہ لنگ پتھر کا تھا اور کم سے کم چار انچ سے زیادہ موٹا تھا..
مگر شاید کسی ایسے رخ سے اس پر وزن پڑا تھا کہ وہ ٹوٹ گیا..
دونوں جنگلی پتھر سے نیچے گر پڑے..
لنگ کے ٹوٹتے ہی خوفناک گڑگڑاہٹ اور بجلی کوندنے کی اوازیں گونجنے لگیں میں تیزی سے دروازہ پار کر گیا کیونکہ وہ غار ٹوٹ رہی تھی..
میں نے ناگ منی منہ سے اگل دی اور انسانی روپ میں اگیا..
تمام جنگلی اندرونی غار میں تھے اور وہ غار منہدم ہورہی تھی..
میں اپنی پوری جان سے باہر کی طرف بھاگا..
جنگلیوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی مگر انھیں اتنی مہلت نہیں مل سکی اور وہ پتھروں میں دفن ہوگئے..
اندرونی غار منہدم ہونے کے بعد اب بیرونی غار کی چھت میں بھی دراڑیں پڑ رہی تھیں اور بڑے بڑے پتھر ٹوٹ کر زمین پر گر رہے تھے..
میں غار سے باہر نکل گیا اور بھاگتا ہوا اس سے دور ہٹ گیا..
چند لمحوں میں ہی اس غار کی جگہ اب پتھروں کا ڈھیر رہ گیا تھا اور وہ غار مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی..
نندا اپنے تجربے کی بھینٹ چڑھ کر ماضی میں کھو چکا تھا..
وہ لنگ جو ماضی میں جانے کا راستہ تھا ان جنگلیوں کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا..
جس کے نتیجے میں وہ سارا غار تباہ ہوگیا تھا اور سارے جنگلی بھی ان پتھروں کے نیچے دفن ہوگئے تھے..
میری قسمت شاید اچھی تھی کہ مجھے وقت پر ناگ منی کا استعمال سوجھ گیا تھا اور میں اسے استعمال کر کے وہاں سے نکل ایا تھا..
میں نے ناگ منی کو چوم کر واپس زیرجامے میں محفوظ کرلیا..
مجھے نندا کا افسوس تھا اس نے میری مدد کی تھی..
مگر جو ہوچکا تھا اب اسے پلٹا نہیں جاسکتا تھا..
میں نے بوجھل قدموں سے واپسی کا رخ اختیار کیا..
اگلے کئی دن مجھے جنگل میں بھٹکتے گزر گئے..
کئی بار میں راستہ بھولا..
کئی جانوروں سے نبرد ازما ہوا..
مگر اخرکار جنگل سے باہر نکل ایا..
یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں سے میں جنگل میں داخل ہوا تھا..
مگر میرے لئے یہی اہم تھا کہ میں جنگل کی حدود سے باہر نکل ائوں تاکہ میری شکتیاں واپس مل سکیں..
جنگل سے باہر اتے ہی مجھے محسوس ہوا جیسے میں نے نیا جنم لیا ہو..
میں نے گہری سانس لی اور خود کو نادیدہ کر کے ہوا میں پرواز کرنے لگا..
میرا رخ بابا کی غار کی طرف تھا..