قسط: 44
ناگ منی..میں نے حیرانگی سے بابا کی طرف دیکھا..
میرے علم کے مطابق تو ناگ منی سے صرف سانپ کا روپ اپنایا جاسکتا ہے..
تمھارا علم محدود ہے شاشین..
اگر ناگ منی کو منہ میں رکھ کر ناگ کا روپ دھارنے کا تصور کیا جائے تو انسان یا جن ناگ یا ناگن کا روپ اپنا سکتے ہیں..
مگر ناگ منی کا ایک منتر بھی ہے ناگ منی کو ہاتھ میں رکھ کراگر اس منتر کو پڑھا جائے تو کسی بھی جاندار کا روپ اپنایا جاسکتا ہے..
بابا نے وضاحت کی..
تو میں جل مانس کے روپ میں جل پریوں کے قبیلے میں پہنچوں گا..
ہاں شاشین..مگر اس سے پہلے تمھیں اپنے جسم پر موجود بال ختم کرنے ہوں گے..
بال ختم کرنے ہوں گے..کیا مطلب بابا میں نے حیران ہوکر پوچھا..
جل مانس کے جسم پر بال نہیں ہوتے اور خاص طور پر ناف سے نیچے کے بال جو جل پریاں پسند نہیں کرتیں..
اگر تم جل مانس کا روپ اپنائو گے تو تمھیں ان سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارہ حاصل کرنا ہوگا..
ٹھیک ہے بابا جیسا اپ کا حکم..
اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا..
کیکر کے درخت کی پھلیوں اور اخروٹ کے چھلکوں کے استعمال سے غیر ضروری بال ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتے ہیں..
تم سب سے پہلے ان سے چھٹکارہ حاصل کرو اس کے بعد شمال کی طرف ایک رات کی مسافت پر ایک جزیرہ ہے تمھیں اس جزیرے کے پاس سمندر میں اترنا ہے..
اس کے بعد بابا نے مجھے بالوں سے چھٹکارے کا طریقہ اور ناگ منی استعمال کرنے کا منتر بتایا اور روانہ ہونے کا حکم دیا..
میں بابا سے اس جزیرے کی جگہ کے بارے میں اچھی طرح سمجھ چکا تھا تاکہ غلطی کی گنجائش ناں رہے..
اس جزیرے کی سب سے بڑی پہچان یہ تھی کہ فضاء میں دیکھنے سے وہ دل کی طرح نظر اتا تھا..
یعنی اس کی قدرتی ساخت ایسی تھی جیسے سمندر میں دل بنا ہوا ہو..
اس نشانی کی مدد سے میں اسانی سے اس جزیرے کو تلاش کر سکتا تھا..
مگر اس سے پہلے مجھے کیکر کی پھلیاں اور اخروٹ کے چھلکوں کا انتظام کرنا تھا..
میں بابا سے اجازت لے کر رخصت ہوگیا..
میرا ارادہ تھا کہ اس جزیرے پر پہنچ کر ہی بالوں سے چھٹکارہ حاصل کروں اور ناگ منی کا منتر سدھ کروں..
ناگ منی کے منتر کو استعمال کرنے کے لئے مجھے تین دن اس کا جاپ کرنا تھا..
اسی دوران میں بالوں والا مسئلہ بھی حل کرلیتا..
پھلیوں اور چھلکوں کا انتظام کرکے میں نے بابا کی بتائی ہوئی سمت پرواز شروع کردی..
یہ شام کا وقت تھا اور بابا کے مطابق علی الصبح میں اس جزیرے تک پہنچ پاتا..
یہ سفر بہت طویل تھا اور راستے میں سمندر یعنی دوران سفر میں کہیں راستے میں رک نہیں سکتا تھا..
میری زندگی بھی عجیب تھی..
ہزاروں سال گزر گئے تھے..
سینکڑوں لوگ میری زندگی کا حصہ بنے اور وقت کی گرد میں کھو گئے..
طویل زندگی نعمت کے بجائے زحمت ہوتی ہے..
خاص کر جب اپ اپنے پیاروں کو کھو دیں اور تنہا رہ جائیں..
میں نے زندگی کا زیادہ تر وقت انسانوں کے درمیان گزارا تھا..
اور انسانوں کی عمر بہت کم ہوتی ہے اس لئے میں نے بہت سے لوگوں کو کھو دیا تھا..
اب میں اپنے قبیلے میں واپس گیا تھا تو ہماری بقاء کا معاملہ کھڑا ہوگیا تھا..
بابا سے کئے ہوئے عہد کی پاسداری کے لئے مجھے ان مرحلوں سے گزرنا پڑ رہا تھا..
مگر بابا ناں بھی ہوتے تب بھی اپنی نسل کی بقاء کے لئے مجھ سے جو ہوسکتا ضرور کرتا..
جزیرے تک کا سفر بے حد تھکا دینے والا اور اکتا دینے والا تھا..
میں مختلف سوچوں میں گم ماضی کو یاد کرتا رہا..
اخرکار جب سورج کی کرنیں نمودار ہوئیں تو مجھے دور سے جزیرے کے اثار نظر انے لگے..
یہ بہت چھوٹا سا درختوں میں گھرا ہوا جزیرہ تھا جس کے چاروں طرف سے سمندر تھا..
میں جزیرے پر اترا تو تھک کر چور ہوچکا تھا..
میں نے ایک مناسب جگہ تلاش کی اور گھنے درخت کے نیچے لیٹ کر انکھیں موند لیں..
میرا ارادہ تھا کہ کچھ دیر سونے کے بعد میں اپنے کام نپٹائوں گا..
نہیں جانتا سوتے ہوئے کتنی دیر گزری تھی کہ اچانک مجھے اپنے جسم پر وزن محسوس ہوا..
میں نے انکھیں کھولیں تو دل دھک سے رہ گیا..