قسط: 46
یہ کوئی عورت تھی جو میری طرف بڑھ رہی تھی..
میرے لئے سب کچھ ہی عجیب ہورہا تھا..
اس ویران جزیرے پر ایک عورت کی موجودگی حیران کن تھی..
زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ وہ جل پری نہیں تھی مکمل عورت تھی..
وہ قریب ائی تو میں حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا..
انتہائی خوبصورت حسن کی مالک, گھنی لمبی زلفیں, گہری کٹورا انکھیں, لب جیسے سرخ گلاب کی پنکھڑیاں..
اس نے نیلے رنگ کا ایک لمبا گائون نما لبادہ پہنا ہوا تھا جو ہوا سے پھڑپھڑا رہا تھا..
وہ ایک ادا سے چلتی ہوئی ائی اور میرے مقابل اکر ٹھر گئی..
اس نے اوپر سے نیچے تک میرا جائزہ لیا چند لمحوں کے لئے اس کی نظر میرے نچلے جسم پر رکی اور مجھے شرم محسوس ہوئی..
مگر بابا کی ہدایت تھی اس لئے میں انکار نہیں کر سکا تھا..
کون ہو تم..اور اس جزیرے پر کیا کر رہے ہو..اس نے کھنکھاتی ہوئی اواز میں پوچھا..
یہی سوال میں تم سے بھی کر سکتا ہوں اس ویران جزیرے پر تم کیا کر رہی ہو اور کون ہو تم..
میرا نام شالنی ہے اور میں بہت عرصہ قبل ایک جہاز سے اس جزیرے پر بھٹکتے ہوئے پہنچی تھی..
میرے اور بھی ساتھی تھی مگر ان میں زیادہ تر طوفان کی نظر ہوگئے..
ایک دو جو بچ گئے تھے وہ یہاں اکر چل بسے..
میں بہت وقت سے یہاں ہوں اور درختوں کے پھل کھا کر زندہ ہوں..
شالنی کی باتوں میں بہت سے جھول تھے یہ جزیرہ سمندر سے کئی میٹر بلند تھا..
میں بلندی سے اس کا جائزہ لے چکا تھا..
اس کا ناں ہی کوئی ساحل تھا اور ناں ہی کسی جہاز یا کشتی کے ذریعے اس جزیرے پر اترنا ممکن تھا..
مجھے اندازہ تھا شاید اس جزیرے پر پانی بھی موجود ناں ہو..
ایسے میں یہاں زندگی کا وجود تقریبا ناممکنات میں سے تھا..
شاید گھنے درختوں کے جھنڈ میں کوئی پانی کی چھوٹی موٹی جھیل ہو..
مگر میں حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا تھا..
مگر میری نظر میں سب سے بڑا جھول یہ تھا کہ اس کا لباس شکنوں سے پاک اور صاف ستھرا تھا..
اس پر اس کا چہرہ اور جسم بالکل صاف چمکدار تھا..
جیسے وہ اس ویران جزیرے پر نہیں کسی شہر میں موجود ہو..
میں نے تو اپنا بتا دیا..تم کون ہو اور یہاں تک کیسے پہنچے ہو..
میرا نام شاشین ہے..
ہم تین دوست تھے اور سمندری خزانے کی تلاش میں تھے..
ہم کامیاب بھی ہوگئے مگر میرے دوستوں نے دھوکا دیا..
سمندر میں بھٹک کر ہم یہاں پہنچے اور میرے دوست مجھے بیہوش کر کے…
اس جزیرے پر مرنے کے لئے چھوڑ گئے تاکہ خزانے میں حصہ داری ناں ہوسکے..
اور تم یہاں پہنچے کیسے…شالنی نے میری بات سن کر اگلا سوال کیا..
کشتی نما ایک چھوٹے جہاز پر بالکل تمھاری طرح..میں نے اس کی انکھوں میں دیکھا..
کچھ دیر وہ مجھے گھورتی رہی..
اسے بھی اندازہ ہوگیا تھا میں غلط بیانی کر رہا ہوں..
مگر جیسے میں نے اسے نہیں جھٹلایا تھا وہ بھی خاموش رہی..
تم ننگے کیوں ہو..
میں نے تم سے پوچھا کہ تم کپڑوں میں کیوں ہو..
شالنی میرے جواب پر کھلکھلا کر ہنس پڑی..
تمھارے دوست تمھارے کپڑے بھی ساتھ لے گئے ہونگے..
واہ..تم تو بہت عقلمند ہو شالنی..کتنا درست اندازہ لگایا ہے تم نے..
شالنی نے مجھے گھور کر دیکھا مگر کچھ کہا نہیں..
مجھے بھوک لگی ہے اور پیاس بھی..میں نے شالنی سے کہا..
جزیرے کے پچھلی طرف ناریل کے درخت موجود ہیں..
تم بندر کی طرح اگر ان پر چڑھ کر ناریل توڑ سکتے ہو تو پیاس بھی بجھ جائے گی اور بھوک بھی..
اگر یہ مشکل لگے تو یہاں درختوں پر سرخ رنگ کے سیب نما پھل لگتے ہیں تم ان سے اپنی بھوک مٹا سکتے ہو..
تمھیں پیاس لگتی ہے تو تم بھی بندریا کی طرح ناریل کے درختوں پر چڑھتی ہو کیا..
نہیں میں صرف پھلوں پر گزارہ کرلیتی ہوں شالنی نے جواب دیا..
اچانک میرے ذہن میں پھلجڑی سے پھوٹی..
یہ کوئی عورت نہیں تھی..
یہ یقینا موہنی تھی..