قسط: 47
موہنی سانپ کی ایک ایسی مادہ ہوتی ہے…
جو اگر بارہ برس تک پانی نہ پیئے تو اپنا روپ بدل سکتی ہے…
اور ایک انتہائی خوبصورت عورت کا روپ بنا دھار کر انسانوں کو اپنے دام میں پھنساتی ہے..
یہ یقینا کسی سانپ کی مادہ ہی تھی جو اس جزیرے پر پانی ناں ملنے کی وجہ سے..
اپنا روپ بدل کر عورت بننے پر قادر ہوچکی تھی..
برہنہ ہونے کی وجہ سے میں ناگ منی, خنجر اور چھلکوں وغیرہ کو زیرجامے یا کپڑوں میں نہیں رکھ سکتا تھا..
راستے میں سب چیزیں میرے ہاتھ میں تھیں…
مگر یہاں پہنچنے کے بعد میں نے ناگ منی اور خنجر کو درخت کی جڑ میں ریت میں چھپا دیا تھا..
میں واپس اس درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا..
موہنی یا شالنی میرے سامنے تھی اور اس کی نظر بار بار میرے جسم پر پڑ رہی تھی اور وہ بے چین نظر ارہی تھی..
یقینا وہ بے چین ہورہی تھی..
مگر میں جانتا تھا کہ اپنی طلب پوری ہونے کے بعد وہ مجھے موت کے گھاٹ اتار دے گی..
مجھے جلد از جلد اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا تھا تاکہ میں ناگ منی کا عمل شروع کرسکوں..
مگر یہاں میری کوئی شکتیاں کام نہیں کر رہی تھیں..
مجھے صرف اس جادوئی خنجر پر بھروسہ کرنا تھا جو بابا نے دیا تھا..
اخرکار موہنی میرے قریب اگئی..
اس کی سانسیں بہک رہی تھیں..
مجھے موقعے کی تلاش تھی کہ میں اس سے جان چھڑوا سکوں..
جس جگہ خنجر میں نے زمین میں دبایا تھا میرا ہاتھ عین اسی جگہ موجود تھا..
بہت احتیاط سے میں نے غیر محسوس انداز میں ریت ہٹا کر خنجر نکال لیا..
عین جس وقت شالنی مجھ سے قریب ہوئی میں نے خنجر اس کے سینے میں بھونک دیا…
وہ میری زندگی کا خوفناک تجربہ تھا..
موہنی لذت اور سرور کے نشے میں میرے قریب ائی تھی..
ایسے میں ہی میں نے اس کے سینے میں خنجر اتار دیا تھا..
خنجر نے اس کا دل چیر دیا تھا مگر اس کے بدن سے خون کا ایک قطرہ تک نہیں نکلا..
وہ بری طرح تڑپ اور مچل رہی تھی..
اس نے میری گردن اپنے ہاتھوں میں تھامنی چاہی…
مگر اس کی زندگی اس کے ہاتھوں سے تیزی سے پھسلتی جارہی تھی..
ناں ہی وہ اپنا روپ بدل سکی اور ناں ہی مجھ پر قابو پاسکی..
میں نے اس کے جسم کو خود سے پرے جھٹک دیا..
کچھ لمحے اس کا جسم تڑپتا رہا اور اخرکار وہ دم توڑ گئی..
اس کے مرتے ہی اس کا جسم اپنی حالت میں اگیا..
چند لمحے پہلے جہاں شالنی کی لاش تھی..
اب وہاں پر سیاہ رنگ کا ایک مرا ہو سانپ نظر ارہا تھا..
میں نے گہری سانس لی اور اٹھ کھڑا ہوا..
اس کے بعد خنجر کو واپس ریت میں دبایا اور شالنی کے مردہ وجود کو اٹھا کر پانی میں پھینک دیا..
اگلے تین دن کوئی اور قابل ذکر واقع پیش نہیں ایا..
میں کنارے کے پاس ہی درختوں پر موجود پھلوں پر گزارا کرتا رہا..
ساتھ ہی ساتھ ناگ منی کو سدھ کرنے کا منتر پڑھتا رہا..
یہ تیسرے دن شام کا وقت تھا میرا کام مکمل ہوچکا تھا اور میں ناگ منی کا عامل بن چکا تھا..
منتر سدھ کرنے کے بعد میں اسے ازما چکا تھا اور کامیاب ہوا تھا..
ابھی میں نے سکون کی سانس لی ہی تھی کہ کنارے کی طرف سے جل پریوں کا ایک غول نمودار ہوا اور میری طرف بڑھنے لگا..
میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور انھیں اپنی طرف اتا دیکھنے لگا..
یہ کل سات جل پریاں تھیں..
وہ قریب ائیں تو اندازہ ہوا ن میں سے ایک جل پری مکمل سنہرے رنگ کی اور ملکوتی حسن کی مالک تھی..
اس کے سر پر بھی نازک سا سنہرا تاج موجود تھا..
یہ یقینا جل پریوں کی ملکہ تھی.
اس کے ارد گرد موجود جل پریوں نے ایک مخصوص طرح کے نیزے تھامے ہوئے تھے..
سینی جو مجھ سے پہلے دن ملی تھی وہ بھی ان میں موجود تھی..
یہی ہے وہ ادم زاد وہ ملکہ میرے قریب اکر سینی کی طرف مڑی اور اس سے سوال کیا..
جی ہاں ملکہ عالیہ..سینی نے سر جھکا کر احترام سے جواب دیا..
یہ اب تک زندہ ہے تو اس کا مطلب ہے یقینا اس میں کچھ خاص ہے..
کون ہو تم اور مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے..اس بار ملکہ مجھ سے مخاطب ہوئی تھی..
میرا نام شاشین ہے..کیا میں اپ سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں..
نہیں ادم زاد..میں سینی کی بات سن کر یہاں تک اگئی ہوں کیونکہ اس جزیرے پر اج تک کسی انسان نے قدم نہیں رکھا..
یہ اچنبھے کی بات تھی کہ تم یہاں موجود بھی ہو اور ہمارے وجود سے لاعلم بھی نہیں ہو..
پھر تم نے مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی..
اب تم مجھے مطمئن کرو دوسری صورت میں یہ جزیرہ تمھاری قبر بن جائے گا..
ملکہ کی بات ختم ہوتے ہی تمام جل پریوں نے اپنے نیزے میری طرف تان لئے..
ملکہ کی بات سن کر میں درخت کی طرف بڑھا جہاں شالنی کا سرخ لبادہ میں نے سنبھال کر رکھا تھا..
لبادہ اور ناگ منی اٹھا کر میں ملکہ کے قریب پہنچ گیا..
میں اپنی بات اپ سے اکیلے میں ہی کروں گا..
مگر اپ کی تسلی کے لئے میں ثابت کردیتا ہوں کہ میرا یہاں انا بے مقصد نہیں..
میں نے ناگ منی ہاتھ میں تھام کر اپنے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا ملکہ کے ماتھے پر رکھ دیا..
جیسے ہی میں نے منتر پڑھ کر ملکہ کی طرف پھونک ماری..
ملکہ کا نچلا دھڑ جو مچھلی کا تھا وہ تبدیل ہونے لگا اور اہستہ اہستہ وہ دھڑ ٹانگوں کی صورت میں تبدیل ہوگیا..
ملکہ سمیت تمام جل پریوں کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں..
جیسے ہی ملکہ کا جسم انسانی شکل میں مکمل ہوا..
وہ شرم سے اپنی جگہ سمٹ گئی..
میں نے شںالنی کا لبادہ اس کی طرف بڑھایا اور نظریں جھکا لیں..
ملکہ نے جلدی سے لبادہ پہنا اور قدم بڑھانے کی کوشش کی مگر وہ لڑکھڑا گئی..
یقینا ٹانگوں کے ساتھ اسے چلنے کی عادت نہیں تھی اس لئے اسے چلنے کا بالکل اندازہ نہیں تھا..
میں نے ملکہ کا ہاتھ تھام لیا..
ناقابل یقین ہے یہ شاشین..ملکہ صرف اتنا ہی کہ سکی..
اگر اپ کو مجھ پر یقین اگیا ہو تو میں اپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں..
ملکہ نے پلٹ کر باقی جل پریوں کو دیکھا..ٹھیک ہے..چلو..
میں نے ملکہ کا ہاتھ تھاما اور سہارا دے کر اسے چلاتا ہوا کچھ دور لے ایا..
اب بولو کیا کہنا چاہتے ہو تم..
کیا میرا یہ روپ مستقل ہے..
ہاں ملکہ عالیہ..اگر اپ چاہیں تو مستقل بھی اس روپ کو اپنا سکتی ہیں..
مگر اس انسانی روپ میں اپ سمندر کی گہرائی میں نہیں جا سکیں گی..
اس کے لئے اپ کو واپس جل پری کا روپ ہی اختیار کرنا پڑے گا..
اور اس کے لئے مجھے ہر بار تمھاری مدد لینی پڑے گی ملکہ نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا..
نہیں..میں اپ کو مختصر اپنے بارے میں بتاتا ہوں تاکہ اپ کو میرے انے کے مقصد کا اندازہ ہوجائے..
پہلی بات یہ ہے کہ میں انسان نہیں جن زاد ہوں..
میرے علم میں ہے کہ اپ کا قبیلہ معدومیت کے خطرے سے دوچار ہوچکی ہے..
اپ کی نسل کا جل مانس سے ملاپ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ دنیا سے ناپید ہوچکے ہیں..
اور اپنی نسل میں صرف اپ ہی مزید جل پریاں پیدا کرنے کے قابل ہیں..
تو پچھلے ہزاروں سالوں سے اپکی نسل کم ہوتی چلی جارہی ہے..
میری باتیں سن کر ملکہ کے چہرے پر بے چینی کے تاثرات نظر ارہے تھے مگر وہ خاموشی سے میری بات سن رہی تھی..
میرے پاس ایک ایسا طریقہ موجود ہے جس سے ناں صرف اپ بلکہ کوئی بھی جل پری ایک مکمل عورت کا روپ دھار سکتی ہے اور..
کیا واقعی تم درست کہ رہے ہو..
کیا ایسا ممکن ہے…ملکہ نے میری بات کاٹ کر بے چینی سے میرے دونوں ہاتھ تھام کر کہا..
بالکل ممکن ہے ملکہ عالیہ بالکل اسی طرح جیسے اپ اس وقت ایک مکمل عورت کے روپ میں ہیں..
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس روپ میں اپ یا اپ کی نسل کی باقی جل پریاں انسانوں سے شادی کر کے یا بناء شادی کے ہی اپنی نسل بھی بڑھا سکتی ہیں..
اور تم یہ سب ہمارے لئے کیوں کرو گے اس میں تمھارا کیا مفاد ہے..ملکہ نے میری انکھوں میں دیکھ کر سوال کیا..
پاتال کی گہرائیوں میں ایک نیکروس نامی مخلوق اباد ہے جن کی عمر ہزاروں برس ہوتی ہے..
مگر ان میں بھی یہی خامی ہے کہ وہ اپنی نسل کو تیزی سے نہیں بڑھا سکتے..
ان کا جسم پارے اور دیگر دھاتوں سے مل کر بنا ہوتا ہے..
یعنی انھیں مارنا تقریبا ناممکنات میں سے ہے..
ہمارا علم بتاتا ہے کہ نیکروس عنقریب ہم پر حملہ اور ہونگے اور ہماری نسل کو ختم کردیں گے..
ان کو روکنے کا ایک یہی طریقہ ہے کہ انھیں کوئی ایسا لالچ دیا جائے جو انھیں ہم پر حملہ کرنے سے باز رکھ سکے..
تو میں اس معاملے میں تمھاری کیا مدد کر سکتی ہوں..ملکہ نے حیرانگی سے کہا..
کیا اپ کو پتہ ہے میں نے اپ کا جسم کیسے تبدیل کیا ہے..میں نے ملکہ کے سوال کے جواب میں سوال کیا..
نہیں..تم بتائو..
ناگ منی کے ذریعے..میں نے ملکہ کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا..
اسے حاصل کرنے کے لئے میں نے اپ کے لئے افریقہ کا سفر کیا اور ایک ناگن سے طویل معرکہ لڑ کر اسے لے کر یہاں ایا ہوں..
مجھے نیکروس قبیلے سے بات چیت کرنے اور انھیں قائل کرنے کے لئے اپ کے جسم کا..مطلب..وہ..پانی..درکار ہے..
ملکہ میری بات سن کر حیرانگی سے میری طرف دیکھتی رہ گئی..
تمام اقساط اور ناولز کے لئے