جنون محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 11

اسکی گہری نظریں باہر سڑک پر دوڑتی گاڑیوں پر تھیں
جبکہ سامنے رکھی ٹیبل پر ان چھوا قہوہ رکھا ہوا تھا
“ایسی بھی کیا بات تھی جو اتنا جلدی بلانا پڑا”
المیر کی آواز سن کر وہ چونکا
“میں پاکستان جارہا ہوں چار گھنٹے بعد میری فلائٹ ہے”
اسکی بات سن کر المیر نے حیرت سے اسے دیکھا
لیکن جلد ہی اپنی حیرت ہر قابو پاکر اسکے سامنے رکھا قہوہ اپنی جانب کرکے خود پینے لگا
“کوئی خاص وجہ”
“مام کی ضد ہے”
ارہان انہوں نے پہلی بار تو ضد نہیں کی ہے
اسنے اپنے سامنے بیٹھے ارہان کو غور سے دیکھا جس کا چہرہ ہر تاثر سے عاری تھا
ارہان لاشاری اپنے والدین کے ساتھ ترکی میں ہی رہتا تھا
پر کچھ مہینے پہلے اسکے والدین پاکستان شفٹ ہوچکے تھے اور انکا ارادہ اپنا سارا بزنس بھی وہیں شفٹ کرنے کا تھا
المیر اور اسکی ملاقات کام کے سلسلے میں ہی ہوئی تھی ارہان اس سے چند سال بڑا تھا لیکن ان دونوں میں گہری دوستی اور کافی بےتکلفی تھی
“وہ چاہتی ہیں میں شادی کرلوں انہوں نے تو وہاں میرے لیے لڑکی بھی دیکھ لی ہے”
المیر غور سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا
ارہان کے چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی کے ساتھ گھنی مونچھیں تھیں جو اس پر خوب جچتی تھیں
لیکن روز کی نسبت آج اسکا کھلا چہرہ کچھ بجھا سا لگ رہا تھا
“وہ ٹھیک کہتی ہیں ارہان کب تک ایک ایسی لڑکی کے پیچھے بھاگو گے جسے تم جانتے تک نہیں پورا لاہور دیکھ چکے ہو تم پر وہ لڑکی نہیں ملی تمہیں ارہان اسے ایک خواب سمجھ کر بھول جاؤ اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ اسی میں بہتری ہے”
اسکی بات سمجھ کر ارہان نے ہولے سے اپنا سر ہلایا جسے دیکھ کر وہ مطمئن ہوتا اپنا قہوہ پینے لگا
جبکہ ارہان دوبارہ اپنی سوچوں میں گم ہوگیا
وہ اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی پاکستان گیا تھا اور تب ہی ملاقات اس معصوم حسینہ سے ہوئی جس کا اسے نام تک نہیں پتہ تھا
وہ لاہور کا کونا کونا چھان چکا تھا لیکن وہ لڑکی اسے کہیں نہیں ملی
ہوسکتا ہے کہ وہ لڑکی کسی دوسرے شہر یا ملک میں رہتی ہو اور لاہور کسی وجہ سے آئی ہو لیکن وہ کہاں رہتی تھی یہ بات ارہان نہیں جانتا تھا اور انتی بڑی دنیا میں وہ اسے کہاں کہاں ڈھونڈ سکتا تھا
وہ رب کی رضا پر ہمیشہ راضی رہنے والا بندہ تھا یہ معاملہ بھی اسنے اپنے رب پر ہی چھوڑ دیا تھا
جتنی کوشش وہ اس لڑکی کو ڈھونڈنے کی کرسکتا تھا کرچکا تھا
اب اگر اس لڑکی نے ارہان لاشاری کے نصیب میں آنا تھا تو خدا کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا کر اس لڑکی کو اس سے ملوادینا تھا
اب بس دیکھنا یہ تھا کہ اسکی منزل نے اسے کہاں لے جانا تھا
°°°°°
“جنت میں دیکھ رہی ہوں تم صبح سے کافی بلش کررہی ہو”
نور کے کہنے پر اسنے مصنوعی غصے سے اسکی طرف دیکھا
آئرہ کے فون کے بعد وہ اسے ایسے ہی تنگ کیے جارہی تھی جبکہ اسے تو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح ری ایکٹ کرے
آئرہ کے پوچھنے پر اسے جو کچھ بھی زاویان کے بارے میں پتہ تھا وہ سب کچھ بتا چکی تھی
پر اسکی حیرت تھی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
زاویان اسکے بارے میں اس طرح سوچتا ہوگا اسے تو کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا
ایک تو وہ اپنی حیرت سے نہیں نکل پارہی تھی اور دوسرا نور تھی جو اسے چھیڑنے سے باز نہیں آرہی تھی
“نور آپی مجھے کھانا کھانے دیں”
“میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا جس سے تم ڈسٹرب ہو”
“نور اسے کھانا کھانے دو”
اسنے شکر گزار نظروں سے ہیڈ چئیر پر بیٹھے عصیرم کو دیکھا
جس نے اسکے دیکھنے پر مسکراتے ہوئے اسے دوبارہ کھانا کھانے کا اشارہ کیا
عصیرم نے نور کو ٹوک دیا تھا اسلیے اسنے کھانا اب سکون سے کھانا تھا
°°°°°
دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر وہ اپنے لیے دعا سوچنے لگی
کیا تھی اسکی خواہش کیا تھا جو وہ اللہ سے مانگنا چاہتی تھی
“ازمیر شاہ”
ازمیر شاہ اسکی واحد خواہش تھا لیکن بےبسی ایسی تھی کہ وہ اسکی خواہش بھی نہیں کرسکتی تھی
کیونکہ وہ کسی اور کی امانت تھا جو اسکی بچپن کی سہیلی تھی
ازمیر شاہ سے اسے محبت تھی پر منت سے زیادہ نہیں
منت اسکی سہیلی تھی اسکی بہنوں جیسی جس کے خاطر اسکے لیے ازمیر شاہ کو چھوڑنا ناممکن نہیں تھا
بس دل میں کبھی کبھی یہ خیال ضرور آتا تھا کہ کاش ازمیر اسکے نصیب میں لکھ دیا جاتا پر اگلے ہی پل وہ اپنے اس خیال کو جھٹک دیتی
اسکی ماں اسکی دلی کیفیت سے ہمیشہ واقف رہی تھی اور اسنے ہمیشہ اسے یہی سکھایا تھا
کہ جو چیز آپ کے نصیب میں ہوگی اسے کسی بھی طرح آپ کے پاس ہی آنا ہے اور جو چیز آپ کے نصیب میں نہیں ہوگی پھر چاہے وہ آپ کے ہاتھوں میں ہی کیوں نہ ہو اسنے آپ کا نہیں ہونا تھا
اور اسے پتہ تھا کہ ازمیر شاہ اسکا نہیں تھا اور اسنے کبھی گلہ بھی نہیں کیا تھا کیونکہ اسے پتہ تھا اسکے خدا نے اسکے نصیب میں ایسا شخص لکھا ہوگا جو اسکے لیے ازمیر سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا
ازمیر شاہ صرف منت شاہ کا تھا جبکہ میرال شاہ کے لیے تو خدا نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا
اسے یقین تھا کہ خدا نے اسکے نصیب میں ایک ایسا ہمسفر لکھا ہوگا جو اپنی محبت سے اسے ازمیر شاہ کو بھلانے پر مجبور کر دے گا
ضروری نہیں کہ محبت صرف لڑکوں کو ہوتی ہے محبت جیسا خوبصورت احساس لڑکیوں کے دل میں بھی پیدا ہوتا ہے
اور اگر اس محبّت کے ملنے کا تمام راہیں بند ہو جائیں تو پھر وہ اپنا ہر معاملہ خدا کے سپرد کردیتی ہیں
کیونکہ خدا سے زیادہ بہتر تو ہمارے لیے کوئی نہیں کرسکتا
ہم بہتر کی تمنا کرتے ہیں اور وہ ہمیں بہترین سے نوازتا ہے
°°°°°
جائے نماز طے کرکے اسنے سائیڈ پر رکھی جب کمرے کا دروازہ بجنے لگا
“آجائیں”
نماز اسٹائل میں بندھا اپنا ڈوپٹہ کھول کر اسنے اندر آنے والی شخصیت کو دیکھا جسے دیکھتے ہی لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی
“کوئی کام تھا اماں سائیں”
“کیوں میں اپنی بیٹی کے پاس بنا کسی کام کے نہیں آسکتی”
اسنے پیار سے اپنے سامنے کھڑی میرال کو دیکھا اور جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی
“بلکل آسکتی ہیں”
شانزے کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر اسنے اپنا سر شانزے کی گود میں رکھ دیا جو پیار بھری نظروں سے اسکا معصوم چہرہ دیکھ رہی تھی
میرال زیادہ باتیں نہیں کرتی تھی نہ گھر میں نہ گھر سے باہر
وہ سادہ طبیعت کی لڑکی تھی جس کے شوق بھی سادہ ہی تھے
“کیا کررہی تھیں”
“نماز پڑھ رہی تھی اماں سائیں”
“تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا جانتی ہو اگر آہان کو پتہ چلا نہ کہ تم نے کھانا نہیں کھایا تو میری شامت آئے گی”
اسکے کہنے پر میرال کے گلابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے
“کچھ بھی تو نہیں کہتے وہ آپ فضول میں میرے بابا سائیں کو الٹا سیدھا کہتی ہیں”
“نہیں کہتی میں تمہارے بابا سائیں کو کچھ پر تم اٹھو اور چل کر کھانا کھاؤ”
“اچھا ٹھیک ہے چلیں”
اسکی بات سن کر میرال نے اپنا سر اسکی گود سے اٹھایا اور اسکے ساتھ اپنے کمرے سے چلی گئی
°°°°°
ہلکی ہلکی برف پر طرف گر رہی تھی جس سے لطف اندوز ہوتی وہ دونوں ہاتھ لانگ کوٹ کی جیبوں میں ڈالے ارتضیٰ کے ہم قدم چل رہی تھی
برف باری میں واک کرنا حورم کا پسندیدہ کام تھا جسے اس وقت بھی وہ بڑے آرام سے سر انجام دے رہی تھی
“آپ کو پتہ ہے ارتضیٰ اماں سائیں کا فون آیا تھا”
“اچھا کیا کہہ رہی تھیں”
اسنے حورم کی طرف دیکھتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا
وہ اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات اسے بتاتی تھی
“وہ کہہ رہی تھیں کہ میرے لیے ایک بہت اچھا رشتہ آیا ہے اور یہ بات سنتے ہی مجھے سب سے پہلا خیال آپ کا آیا مطلب میری شادی ہو جائے گی پھر میرے بچے ہو جائیں گے جو آپ کو دادا سائیں بلائیں گے لیکن آپ کنوارے ہی پھرتے رہیں”
اپنی بات کہہ کر وہ خود ہی کھلکھلا کر ہنسی اور اسی وجہ سے سامنے والے کے سخت تاثرات نہیں دیکھ پائی تھی
“تم انکار کردو ان سے کہو کہ تمہیں ابھی کوئی شادی نہیں کرنی ہے”
“میں نے تو یہ فیصلہ اماں سائیں اور بابا سائیں پر چھوڑ دیا ہے وہ جو کہیں گے میں وہی کروں گی”
“ٹھیک ہے تم نے فیصلہ ان پر چھوڑا ہے تو پھر میں انہی سے بات کروں گا”
“کیا بات کریں گے”
اسنے اچھنبے سے پوچھا
“یہی کہ تمہاری شادی صرف مجھ سے ہونی چاہیے”
اسکے سنجیدگی سے کہنے پر حورم حیرت سے اسے دیکھنے لگی
لیکن پھر دوبارہ سے کھلکھلا کر ہنس پڑی
“ارتضیٰ ایسا مذاق مت کریں”
“تمہارے معاملے میں،میں کبھی مذاق نہیں کرتا حور”
حورم کا بازو پکڑ کر اسنے اسے اپنی طرف کھینچا جو اسکے اس کی اس حرکت پر سہمی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
“گھر چلیں ارتضیٰ”
اسکی بات سن کر ارتضیٰ نے گہرا سانس لے کر اسکا بازو چھوڑا اور اسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا
جو اس بار بنا اسکی طرف دیکھے تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف بڑھنے لگی
ارتضیٰ کا یہ رویہ ہمیشہ سے اسکی سمجھ سے باہر تھا وہ کیوں کرتا تھا ایسی باتیں اور جب بھی وہ ایسی باتیں کرتا تھا تو حورم کو لگتا تھا کہ وہ اس شخص کو جانتی ہی نہیں ہے
اور یہ سچ بھی تو تھا وہ ارتضیٰ کو اتنے سالوں بعد بھی ٹھیک سے نہیں جان پائی تھی
وہ ارتضیٰ آفندی تھا
ماں باپ کی اکلوتی اولاد
ایک ضدی انسان
جو اپنی پر آجاتا تو کسی کی نہیں سنتا
جس کا عشق اپنے سے سترہ سال چھوٹی لڑکی تھی اور اسے حاصل کرنے کے لیے ارتضیٰ آفندی کسی بھی حد تک جاسکتا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial