جنون محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 13

“عائزل جاؤ تمہیں حیات ڈھونڈ رہی ہے”
اسنے وہاں کھڑی عائزل سے کہا جو اسکی بات سنتے ہی اپنا سر ہلاتے ہوئے کمرے سے چلی گئی اور عائزل کے جاتے ہی منت کی اٹکی سانس مزید اٹکی
“کیا ہے یہ سب کہاں سے آئی یہ تمہارے پاس”
اسنے منت کے ہاتھ آگے کرکے اس میں پکڑی ڈریس چھننے والے انداز میں لی
“و-وہ اماں سائیں میری غلطی نہیں ہے یہ ازمیر لے کر آئے تھے”
“ازمیر لایا تھا”
“ہاں ہاں وہی لائے تھے”
اسنے جلدی سے کہا
اچھا ہی تھا جو ساری بلا ازمیر پر ڈل جاتی ویسے بھی اس ڈھیٹ انسان کو کون سا کسی کی ڈانٹ سے کوئی فرق پڑھنا تھا
“ازمیر لایا تھا اور تم نے رکھ لی کچھ شرم ہے تم میں منت”
“ارے مجھے کیا پتہ یہ تو عائزل لائی تھی یہ کہہ کر کہ ازمیر نے بھیجا ہے میں نے تو بس دیکھا تھا اگر پتہ ہوتا اس میں کوئی ایسی چیز ہے تو توبہ میں ایسی کوئی چیز ان سے نہیں لیتی”
اسنے باقائدہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی
“جاؤ اور یہ ازمیر کے کمرے میں پھینک کر آؤ”
ماہیم نے اسے ڈریس پکڑاتے ہوئے کہا
جس پر وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے جلدی سے جانے لگی
جب ماہیم نے اسے پھر روکا
“منت پھینک کر ہی آنا ترتیب سے اسکی الماری میں سجا کر مت آنا”
“فکر مت کریں اماں سائیں پھینک کر ہی آؤں گی”
کہتے ہوئے وہ جلدی سے کمرے سے نکل گئی
اسکی ماں پھینکنے کی بات کررہی تھی جبکہ اسکا تو دل چاہ رہا تھا اس واہییات کپڑے کو ہی جلادے
“اف ازمیر شاہ تم مجھے ایک بار ملو تو سہی”
اسنے غصے سے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتی ازمیر کے کمرے کی طرف چلی گئی
°°°°°
ناشتے سے فارغ ہوتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور پہلی نظر کمرے کے کونے میں پڑے بوکسس پر گئی
“یہ کیا ہے”
بوکس بیڈ پر رکھ کر وہ انہیں کھولنے لگی اور کھولتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ وہ بوکس ناولز سے بھرا ہوا تھا
وہ ایک ایک کتاب نکال کر حیرت سے دیکھنے لگی
“ہائے اللہ یہ مجھ غریب پر کسے رحم آ گیا جو یہ تحفہ مجھے بھیج دیا ہوسکتا ہے کسی لڑکے نے مجھے بک شاپ میں دیکھ لیا اور اسی لیے اس نے مجھے یہ سب بھیج دیا ہو کہیں کوئی لڑکا مجھ پر فدا تو نہیں ہوگیا”
یہ بات زہہن میں آتے ہی وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی اور بےاختیار ہاتھ میں پکڑی کتاب پر اپنے لب رکھ دیے
°°°°°
کلاس ختم ہوتے ہی وہ باہر جانے لگی جب پیچھے سے اسے زاویان کی آواز سنائی دی
“جنت”
ایک پل کی لیے اسنے آنکھیں میچ کر کھولیں
جب سے زاویان نے اسکے گھر رشتہ بھیجا تھا تب سے وہ اس سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کرپا رہی تھی
ایک عجیب سی جھجک ان دونوں کے درمیان پیدا ہوگئی تھی جسے پیدا کرنے والی وہ خود تھی
پر وہ جتنا اس بندے سے دور بھاگ رہی تھی وہ اتنا ہی اسکے پیچھے آرہا تھا
“جی سر”
اسنے مڑ کر سامنے کھڑے زاویان کو دیکھا جس نے اس وقت بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک جینز زیب تن کی ہوئی تھی اور ہمیشہ کی طرح خاصا فریش اور خوش گوار لگ رہا تھا
جنت سے ہمیشہ وہ خوش گوار لہجے میں ہی بات کرتا تھا مگر اسکی یہ خوش گواری صرف چند لوگوں تک ہی محدود تھی
باقی دنیا کے لیے وہ ایک بد دماغ اور مغرور ڈاکٹر تھا
“تم مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو”
“میں تو نہیں بھاگ رہی”
اسکے کہنے پر دھیمی سی مسکراہٹ زاویان کے چہرے پر نمودار ہوئی
اسکی جھجک وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا
“خیر یونی کے بعد میں ہاسپٹل جاؤں گا تم بھی میرے ساتھ چلو گی تو مجھے اچھا لگے گا”
“میں ساتھ چلوں”
اسنے حیرت سے پوچھا
“ہاں اپنے پیرنٹس سے اجازت لے لو اگر پرمیشن مل جائے تو مجھے بتا دینا یونی کے بعد ہم ہاسپٹل چل لیں گے تمہیں وہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا”
“جی میں پوچھ کر آپ کو جواب دے دیتی ہوں”
اسکا ہلتا سر دیکھ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور اسکے جانے کے بعد جنت کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی
حویلی میں زاویان اور اسکے رشتے کی بات چل رہی تھی
ممکن تھا کہ جلد ہی کوئی فیصلہ بھی ہوجاتا اور اسے یقین تھا کہ کوئی مثبت فیصلہ ہی ہونا تھا
پر اس سب کے باجود بھی یہ مشکل تھا کہ عالم اسے زاویان کے ساتھ اکیلے جانے کی اجازت دے دیتا
کیونکہ ابھی ان دونوں کے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں تھا جس کی بنا پر وہ زاویان کے ساتھ کہیں اکیلے جاپاتی
وہ عالم کا جواب جانتی تھی اسلیے بہتر تھا یونی کے بعد گھر چلی جاتی اور زاویان کو میسیج کرکے اپنے نہ آنے کا بتا دیتی
وہ اسکے سامنے خود جانا نہیں چاہ رہی تھی کیونکہ زاویان کی نظریں اسے کنفیوژ کرتی تھیں
°°°°°
چہرہ دھو کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی ارادہ ازمیر کو ڈھونڈنے کا تھا جو اسے کچن میں مل گیا
“دیکھو میری ڈانٹ پٹوا کر خود مزے سے چائے پی رہے ہیں”
بڑبڑاتے ہوئے اسنے سامنے کھڑے ازمیر کو دیکھا جو وہاں بیٹھا مزے سے چائے پی رہا تھا
اسکے قریب جاکر منت نے غصے سے اسکے ہاتھ میں پکڑا کپ ہاتھ مار کر دور پھینکا
جس کے باعث صاف فرش پر چائے اور ٹوٹے کپ کے ٹکڑے گر گئے
“یہ کیا حرکت ہے”
اسنے غصے سے منت کے سرخ چہرے کی طرف دیکھا
“یہ کیا حرکت ہے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے جو حرکت آپ نے کی ہے مجھے اس کا جواب دیں”
“کیا حرکت کی ہے میں نے”
اسنے ناسمجھی سے پوچھا لیکن پھر جلد ہی سمجھ آگیا کہ وہ کس حرکت کی بات کررہی تھی
“تحفہ پسند نہیں آیا تمہیں میں چاہتا ہوں تم اسے ہماری شادی والی رات پہنو”
اسکی بےباک بات سن کر وہ مزید سرخ ہوئی
“ازمیر اماں سائیں نے آپ کا بھیجا وہ حسین تحفہ دیکھ لیا تھا اور آپ کی وجہ سے مجھے اتنی ڈانٹ پڑی”
“تو کیا ہوا اگر انہوں نے دیکھ لیا مجھے یقین ہے چاچا سائیں بھی انکے لیے ایسے تحفے لاتے ہوں گے”
“آپ نے کیا انکی وارڈروب چیک کی ہے جو آپ کو پتہ ہے”
منت نے اپنی بھیگی آنکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھا اور اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر اس سے پہلے ازمیر کچھ کہہ پاتا
کچن میں داخل ہوتے ماہر کو دیکھ کر اسنے اپنے الفاظ روک لیے
“کیا ہورہا ہے”
اسکی آواز سن کر منت نے مڑ کر دیکھا اور مزید آنسو بہاتی اسکے سینے سے لگ گئی
اسکی یہ حرکت دیکھ کر ازمیر وہیں بیٹھ گیا جانتا تھا یقیناً اب منت اسکی شکایت لگانے والی تھی
ویسے بھی اسکی شکایت وہ زیادہ تر ماہر سے ہی لگاتی تھی کیونکہ ساحر سے زیادہ وہ ماہر کے قریب تھی
“منت کیا ہوا ہے”
“آپ کے بیٹے کی وجہ سے مجھے ڈانٹ پڑی ہے”
“ہاں یہ بھی بتاؤ کہ میری وجہ سے ڈانٹ کیوں پڑی ہے”
ازمیر کے ٹوکنے پر ماہر نے گھور کر اسے دیکھا
“یہ اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ انکی وجہ سے اماں سائیں نے مجھے ڈانٹا ہے”
اسنے سوں سوں کرتے ہوئے ماہر کو پھر سے اپنی جانب متوجہ کیا
“ماہیم نے ڈانٹا ہے”
“ہاں وہ بھی انکی وجہ سے”
اسنے ہاتھ سے ازمیر کی طرف اشارہ کیا
“بس کرو منت بابا سائیں آپ خود بتائیں کیا میں اپنی منگ کو نائٹی بھی گفٹ نہیں کرسکتا”
اسکے کہنے پر ماہر اور منت نے حیرت سے اسے دیکھا
منت کی حیرانگی اسلیے تھی کیونکہ اسے امید نہیں تھی کہ ازمیر یہ بات ماہر ہے سامنے کہہ دے گا
جبکہ ماہر کی حیرانگی اسلیے تھی کیونکہ اسے امید نہیں تھی کہ ازمیر اس طرح کی کوئی حرکت کرے گا
“کیا کہا تم نے”
اپنا وہم سمجھتے ہوئے اسنے دوبارہ پوچھا اور اسکے پوچھنے پر ازمیر نے بڑے ہی آرام سے اپنے الفاظ دہرا دیے
اسکی ڈھٹائی پر منت شرمندہ ہوتی وہاں سے جانے لگی جب پیچھے کھڑے ساحر کو دیکھ کر شرمندگی مزید بڑھ گئی یقیناً وہ بھی ازمیر کی بات سن چکا تھا
بنا لمحہ ضائع کیے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی
کیونکہ یہاں مزید کھڑے ہونا اسکے بس میں نہیں تھا
°°°°°
اسنے اپنے سامنے صوفے پر بیٹھے ماہر اور ساحر کو دیکھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کٹہرے میں کھڑا ہو
“کیا کھا کر پیدا ہوئے ہو تم ازمیر شاہ”
“مجھے کیا معلوم آپ بتائیں میرے پیدا ہونے سے پہلے اماں سائیں کو آپ نے کیا کھلایا تھا”
اسکی بات سن کر ماہر اپنا سر پکڑ کر رہ گیا
“کیا ضرورت تھی منت کو یہ تحفہ دینے کی”
ساحر کی بات سن کر ازمیر نے اپنی نظریں ماہر کے چہرے سے ہٹا کر ساحر کی طرف مرکوز کیں
“قسم کھا کر بتائیں چاچا سائیں کیا آپ نے کبھی ماہیم چاچی کو ایسا کوئی تحفہ نہیں دیا”
اسکی بات سنتے ہی ساحر کے زہہن میں کتنے ہی حسین منظر لہرائے
“جاؤ اسے پہن کر آؤ”
“یہ پہن کر آؤں یہ پہننے لائق ہے”
“ہاں ماہیم جان یہ پہن کر آؤ”
“آپ خود ہی پہن لیں”
“اگر یہ مجھ پر اچھا لگتا تو میں ضرور پہنتا لیکن یہ میرے لیے نہیں ہے اسلیے شرافت سے جاکر اسے پہن کر آؤ”
“نہیں پہننی مجھے”
“تم جانتی ہو نہ میں پہلے بھی تمہارے کپڑے چینج کرچکا ہوں دوبارہ کرنے میں بھی مجھے کوئی پرابلم نہیں ہوگی”
“دیکھا خیالوں میں کھو گئے مطلب صاف ہے یقیناً آپ نے بھی یہ کام کیا ہوگا پھر مجھے کیوں اس کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے”
ازمیر کی آواز سن کر وہ خیالوں سے باہر نکلا اور اپنا گلا کھنکھارنے لگا
“ایسی کوئی بات نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو میں نے اپنی بیوی کو وہ تحفہ جب دیا تھا جب وہ میری بیوی کے عہدے پر فائز ہوگئی تھی”
“تو کردیں نہ منت کو میری بیوی کے عہدے پر فائز میں تو تیار بیٹھا ہوں”
“ماہر گھر میں حورم اور جنت کی شادی کی باتیں چل رہی ہیں میں کہہ رہا ہوں ساتھ میں اسے بھی فارغ کر میں اب اسکی یہ حرکتیں مزید برداشت نہیں کرسکتا”
اسنے اپنے ساتھ بیٹھے ماہر سے غصے میں کہا جبکہ اسکی یہ بات سن کر ازمیر کی خوشی کا تو جیسے کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا
“چاچا سائیں دل خوش کردیا میرا ایسے ہی تو آپ میرے فیورٹ نہیں ہو نہ لائے اپنا ہاتھ دکھائیں”
ساحر کا ہاتھ پکڑ کر ازمیر نے اسکے ہاتھ کی پشت کو زور سے چوما اور ہنستے ہوئے وہاں سے چلا گیا
اسکے جانے کے بعد ماہر اور ساحر نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بےاختیار ہی دونوں کا قہقہہ گونجا
°°°°°
“ارتضیٰ حورم سے شادی کرنا چاہتا ہے”
حفضہ کا کہا گیا ایک ایک لفظ کب سے اسکے کانوں میں گونج رہا تھا
ارتضیٰ کی ضد سے وہ خود بھی بخوبی واقف تھا
لیکن یہاں ارتضیٰ اپنی ضد نہیں دکھا سکتا تھا کیونکہ یہاں معاملہ اسکی بیٹی کا تھا
“حوریب”
خیالوں سے نکل کر اسنے بال بناتی حوریب کو مخاطب کیا
“ہاں”
“اس لڑکے کی فیملی کو کب بلانے کا ارادہ ہے”
“تم جب کہو گے میں تو تب ہی بلا لوں گی”
“کل کا پروگرام بنا لو اور ان سے کہنا کہ لڑکے کو بھی اپنے ساتھ لے آئیں میں چاہتا ہوں کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے بھی مل لیں
اسکی بات سن کر بال بناتی حوریب نے مڑ کر اسے دیکھا اور اسی گھورتی نظروں کا مطلب زریام کی سمجھ سے باہر تھا
“کیا ہوا”
“ہمارے یہاں لڑکے اور لڑکی نکاح سے پہلے نہیں ملتے”
“اچھا ہم تو نکاح سے پہلے ایک دوسرے سے ملتے تھے”
“تو کیا تم نہیں جانتے ہمارا نکاح ہوا کیسے تھا”
“ہمارا نکاح قبول ہے کہنے سے ہوا تھا”
“اف زریام”
اسکے چڑ کر کہنے پر وہ بےساختہ ہنسا مسکرایا
“اچھا چھوڑو اس بات کو نور کو فون کرکے بتادو تاکہ کل ہی ان لوگوں سے ملاقات ہو جائے”
اسکی بات پر وہ اپنا سر ہلاکر پھر سے اپنے بال بنانے لگی
°°°°°
کمرے سے نکلتے ہی اسکی نظر کچن کی طرف جاتی ماہیم پر گئی جسے دیکھ کر وہ خود بھی کچن میں چلا گیا
“چاچی سائیں”
اسکی آواز سن کر وہ چونک کر مڑی
“آپ نے میری منگ کو کیوں ڈانٹا ہے”
“جب تمہاری منگ نے یہ بتادیا کہ میں نے اسے ڈانٹا ہے تو یہ نہیں بتایا کہ کیوں ڈانٹا ہے”
“بلکل یہ بھی بتایا ہے مگر یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ چاچا سائیں نے بھی آپ کو نائٹی گفٹ کی ہے تو پھر میرے گفٹ دینے پر ایسا کیا ہوگیا جو آپ نے اس بیچاری کو ڈانٹا”
اسکے کہنے پر ماہیم سرخ ہوئی اور ازمیر سمجھ نہیں پایا کہ اسکے سرخ ہونے کی اصل وجہ کیا تھی
“ازمیر شاہ سدھر جاؤ”
وہ ماہیم کے جواب کا منتظر تھا لیکن اسکی بات کا جواب کچن میں داخل ہوتی آئرہ نے دیا
یقینا وہ اسکی پوری بات سن چکی تھی تب ہی اسے سدھرنے کا کہہ رہی تھی
“میں نے سنا ازمیر شاہ بگڑ جاؤ”
اسکے کہنے پر آئرہ نے گھور کر اسے دیکھا
اپنی عادت کے مطابق اسنے عالم کی بےباک سرگوشی پر اسے یہ بات کہی تھی اور ہمیشہ کی طرح عالم کا وہی جواب ملا
اور جب سے ازمیر نے یہ بات سنی تھی تب سے وہ آئرہ کے اس جملے پر خود بھی یہی بات کہتا تھا
اور اپنی بات کے جواب میں اسکا تپہ ہوا چہرہ دیکھ کر اسے ہمیشہ ہی مزہ آتا تھا
“ازمیر شاہ دفعہ ہوجاؤ”
“میں نے سنا ازمیر شاہ پاس آو”
“نہیں میں نے کہا دفعہ ہوجاؤ”
آئرہ کی بات سن کر وہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial