قسط: 14
عشاء کی نماز ادا کرکے وہ گھر میں داخل ہوا جب اسے مہرینہ بیگم لاونج میں بیٹھیں اپنا انتظار کرتی ملیں
”خیریت مام آپ کو کوئی کام تھا”
“ہاں کچھ ضروری بات بتانی تھی”
“بیٹھو یہاں”
اسے اپنے سامنے بٹھا کر انہوں نے پرجوش انداز میں کہا اور انکا یہ انداز دیکھ کر وہ مزید کچھ پوچھے بنا انکے سامنے بیٹھ گیا
“کل ہم گاؤں جارہے ہیں”
“کس لیے”
“سب کچھ تفصیل سے بتایا تو تھا ارہان بتایا تو تھا کہ تمہارے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے تم عصیرم کو تو جانتے ہی ہو تمہارے ڈیڈ کے کافی اچھے تعلقات ہیں انکے ساتھ بس وہ لڑکی عصیرم کی ہی بھتیجی ہے
پڑھنے کے لیے گئی ہوئی تھی اب آگئی ہے تو وہ لوگ چاہ رہے تھے کہ ہم وہاں جاکر اسے دیکھ لیں کیونکہ انہیں تو تم پسند آگئے ہو باقی لڑکی میں نے تصویر میں دیکھی تھی بہت پیاری ہے تمہارے ساتھ بھی بہت پیاری لگے گی”
انکی پوری بات وہ صرف خاموشی سے سنتا رہا اور اسکی اس خاموشی کو وہ اچھے سے سمجھ رہی تھیں
“ارہان بیٹا کچھ تو کہو ایسا لگ رہا ہے جیسے میں تمہارے ساتھ کوئی زبردستی کررہی ہوں”
انکی بات سن کر وہ تھوڑا شرمندہ ہوا
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے بس میں کچھ سوچ رہا تھا”
“ارہان جانتی ہوں تم کیا سوچ رہے ہو گے لیکن اس لڑکی کو بھول جاؤ میں تمہارے جذبات کی قدر کرتی ہوں پر وہ لڑکی تمہارے نصیب میں نہیں تھی اگر ہوتی تو اب تک تمہیں مل چکی ہوتی اور تم زرا سوچو اگر وہ لڑکی تمہیں مل بھی گئی تو کیا پتہ وہ شادی شدہ ہو یا پھر کسی اور کی امانت ہو”
انکی بات سن کر چھن سے جیسے اسکے اندر کچھ ٹوٹا تھا وہ لڑکی کسی اور کی ہوگی یہ خیال ہی اسے مارنے کے لیے کافی تھا
“ایسا مت کہیں مام”
“ارہان تم بھی جانتے ہو میں نے کچھ غلط نہیں کہا”
“لیکن ہوسکتا ہے آپ کا اندازہ غلط ہو”
“میرا بیٹا اگر میرا اندازہ غلط ہے تو یہ بہت خوشی کی بات ہے پر وہ لڑکی ملے بھی تو سہی اگر وہ لڑکی مل گئی تو میں کل ہی اسکے لیے تمہارا رشتہ لے کر چلی جاؤں گی”
انکی بات سن کر وہ اپنا سر جھکا گیا سارا مسلہ یہی تو تھا کہ وہ لڑکی تھی کون اور کہاں تھی
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو ارہان اگر تمہارا کہیں رشتہ ہوجاتا ہے اور پھر تمہیں وہ لڑکی ملی تو میں ہر گز اس لڑکی کے ساتھ تمہارا رشتہ نہیں کروں گی کیونکہ تم اس وقت کسی اور کی امانت ہو گے ارہان میں تمہاری زندگی کا بہت اہم فیصلہ کرنے جارہی ہوں جس کے بعد تمہاری زندگی میں ایک اور وجود آجائے گا اگر تم یہ ذمیداری ابھی نہیں سمبھال سکتے تو مجھے بتادو میں کسی لڑکی کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتی”
وہ یہ بات کس دل سے کہہ رہی تھیں وہ بخوبی جانتا تھا
ارہان انکا اکلوتا بیٹا تھا اور اسکی شادی کی خواہش تو انہیں کتنے وقت سے تھی
لیکن وہ کتنے وقت سے شادی جیسے رشتے سے بھاگتا آرہا تھا کیونکہ اسے اس لڑکی کو ڈھونڈنا تھا جس کی ایک جھلک ہی اسے اپنا دیوانہ بنا چکی تھی
پر وہ لڑکی تھی جو نہ جانے کہاں غائب ہوچکی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ آسمان سے اتری کوئی پری تھی جو واپس اپنی جگہ پر جاچکی تھی
“آپ اپنا دل خراب مت کریں ہم چلیں گے کل آپ جہاں کہیں گی میں جانے کے لیے تیار ہوں فلحال میں اب اپنے کمرے میں جارہا ہوں”
“ہاں تم آرام کرو”
انکی بات سن کر وہ اپنا سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
مہرینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے اسکی پشت کو دیکھا
وہ ماں تھیں اپنے بیٹے کی دلی کیفیت سے بخوبی واقف تھیں لیکن کیا کرتیں کب تک اسے ایسے ہی اسکے حال پر چھوڑتی رہتیں
کب تک اسے ایسی لڑکی کے پیچھے بھاگنے دیتیں جس کا اسے نام تک نہیں پتہ تھا جسے اتنے سالوں میں بھی وہ تلاش نہیں کر پایا تھا
°°°°°
“کیا ہورہا ہے”
چائے کی ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اسنے صوفے پر بیٹھے ساحر اور ماہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو نہ جانے کون سی اہم گفتگو میں مصروف تھے
صبح سے ہی حویلی میں شور مچا ہوا تھا اور کچن میں مختلف قسم کی ڈشز بن رہی تھیں
کیونکہ آج حورم کے لیے رشتہ آرہا تھا بلکہ آکیا رہا تھا آدھی بات تو تقریباً طے ہی تھی ممکن تھا ایک دو ملاقاتوں میں رشتہ بھی پکا کردیا جائے
“ہم شادی کی پلیننگ کررہے تھے”
چاہئے کا کپ اٹھا کر ماہر نے اسے اپنے ساتھ بٹھالیا
“حورم آپی کی”
اسنے اندازہ لگایا کیونکہ آج تو حورم کو دیکھنے کے لیے ہی آرہے تھے اور اگر اسکے علاؤہ اور کوئی ہوسکتا تھا تو وہ جنت تھی کیونکہ حویلی میں اسکی شادی کی باتیں بھی چل رہی تھیں
“ہاں بلکل حورم کی بھی جنت کی بھی اور منت کی بھی”
اسکی بات کا جواب ساحر نے دیا
کل اسنے ازمیر کے سامنے یہ بات صرف غصے میں کہی تھی کہ منت اور اسکی شادی کردی جائے اور پھر خود ہی اپنے فیصلے پر غور کیا کہ کیا ہی حرج تھا گھر کی دو شادیوں کے ساتھ ہی تیسری بھی نمٹا لی جاتی
اسکے اس فیصلے پر سب ہی راضی تھے لیکن گھر کے چھوٹے اس بات سے اب تک انجان ہی تھے میرال پہلی تھی جسے یہ بات پتہ چلی تھی اور یہ بات سنتے ہی جیسے چھن سے اسکے اندر کچھ ٹوٹا تھا
اسنے ازمیر کو کبھی دعاؤں میں نہیں مانگا تھا پر دل میں ایک آس تو تھی کہ شاید ازمیر اسکا ہو جائے لیکن آج وہ آس بھی ختم ہوگئی تھی کیونکہ ازمیر شاہ تو ہمشیہ سے منت شاہ کا تھا اور اسنے منت کا ہی رہنا تھا
“میں سوچ رہا ہوں تین شادیاں ہو تو رہی ہیں کیوں نہ میرال کی بھی کردیں”
ماہر کے کہنے پر اسنے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسکی طرف دیکھا
“میں آپ لوگوں کو اتنی جلدی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی”
اسنے مسکراتے ہوئے ٹیبل پر رکھی ٹرے اٹھائی اور وہاں سے چلی گئی
البتہ اسکی مسکراہٹ کے پیچھے کتنا درد تھا یہ تو صرف وہی جانتی تھی
“اے اللہ میرے دل سے ازمیر شاہ کی محبت نکال دیجیے میں اور اس ازیت میں نہیں رہ سکتی”
وہ دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوئی
ایک آنسو بےاختیاری میں آنکھ سے بہتا گال پر پھسلتا چلا گیا
°°°°°
اسنے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی حورم کو دیکھا
جس نے وائٹ کلر کی فراک پہن رکھی تھی اور کھلے بالوں کو کمر پر پھیلائے ڈوپٹہ ایک کندھے پر ڈالے وہ مسکراتے ہوئے مہرینہ بیگم کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی
وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی یہ بات ارہان نے قبول کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی لیکن وہ ارہان لاشاری کے دل کی ملکہ نہیں تھی
بڑے سے لاونج میں اس وقت حویلی میں رہتے تقریباً سارے افراد ہی بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ٹیبل کھانے کے لزومات سے بھری پڑی تھی
“حورم جاؤ ارہان کو حویلی دکھاؤ”
زریام کے کہنے پر وہ چونکی اور نظر بےاختیار وہاں بیٹھے ارہان پر گئی
اب تک کے وقت میں وہ اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی
وہ سر ہلا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور اسکے اٹھتے ہی معتصم نے وہاں بیٹھے ارہان کو اسکے ساتھ بھیج دیا
مقصد صرف یہ تھا کہ وہ دونوں اکیلے میں کچھ باتیں کرلیں
°°°°°
وہ اسے لان میں لے کر آئی تھی
کیونکہ حویلی کی سب سے خوبصورت جگہ اسے یہی لگتی تھی
اسکے ساتھ قدم بہ قدم چلتے ہوئے وہ بات کرنے کے لیے الفاظ تلاش کررہی تھی
کیونکہ سامنے والا بندہ تو خاموش تھا یا شاید اسکے بات شروع کرنے کا منتظر تھا
لیکن اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ تو خود حورم سے بات کرنے کے لیے الفاظ تلاش کررہا تھا
“میرا نام ارہان ہے”
جب سوچنے پر بھی کچھ نہیں سوجا تو اسنے اپنا نام بتادیا ویسے بھی پہلی ملاقات میں بات کی شروعات یہی سے تو ہوتی ہے
“بہت پیارا نام ہے میرا نام حورم ہے”
“جی میں جانتا ہوں جب سے میں ترکی سے آیا ہوں میری والدہ آپ کا ہی ہر وقت زکر کرتی رہتی ہیں”
اسکی بات سن کر وہ بےساختہ ہنسی جس کے باعث دونوں گالوں کے ڈمپل نمایاں ہوئے
“حورم مجھے جھوٹ نہیں پسند نہ ہی میں جھوٹ بولتا ہوں شادی ایک بہت بڑا رشتہ ہے اور میں اسکی شروعات کسی جھوٹ پر نہیں کرنا چاہتا”
اسکی تہمید پر وہ اپنے قدم روک کر اسے سننے لگی
“کہیں”
“میں کسی سے محبت کرتا ہوں بلکہ محبت سے بہت آگے نکل چکا ہوں”
“تو پھر آپ اس سے شادی کیوں نہیں کررہے”
“کیونکہ میں اس لڑکی کو نہیں جانتا میں بس ایک بار اس سے ملا تھا اسکے علاؤہ آج تک ملاقات نہیں ہوسکی پر وہ لڑکی اس ایک لمحے کی ملاقات میں ہی میری محبت بن چکی ہے میں بہت وقت تک اسے ڈھونڈتا رہا پر وہ مجھے کہیں نہیں ملی اور اب میری والدہ چاہتی ہیں کہ میں اس لڑکی کو بھول کر زندگی میں آگے بڑھ جاؤں”
“آپ یہ سب مجھے کیوں بتارہی ہیں”
“میں نے کہا نہ کہ میں جھوٹ سے رشتے کی شروعات نہیں کرنا چاہتا بس اسی لیے یہ سب آپ کو بتارہا ہوں اگر ہمارے درمیان کوئی رشتہ بن جاتا ہے تو میں نہیں چاہتا آگے جاکر ان باتوں سے آپ کے اور میرے درمیان کوئی مسلہ ہو”
“وہ لڑکی آپ کی زندگی اس وقت ہو یا نہ ہو مجھے پرواہ نہیں ہے لیکن اگر آپ میرے ساتھ رشتہ جوڑنے کے بعد بھی اس لڑکی کو ہمارے درمیان لائیں گے تو مجھے مسلہ ہوگا میں بس یہ چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھ وفادار رہیں”
“بلکل رہوں گا میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس لڑکی کی محبت میرے دل سے نکل جائے گی یہ شاید کبھی ممکن ہی نہیں ہے ہاں مگر یہ وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ آپ کی حق تلفی کبھی نہیں کروں گا میں اپنا ہر رشتہ بہت اچھے سے نبھاتا ہوں اگر آپ میری زندگی میں شامل ہو جائیں گی تو پھر چاہے وہ لڑکی میرے سامنے ہی کیوں نہ آجائے مجھے آپ کا ہی وفادار رہنا ہے اور میں رہوں گا بھی”
اسکی بات سن کر وہ مدھم سا مسکرائی اور اپنا سر ہلایا جسے دیکھ کر وہ خود بھی مسکرایا اور اسے اپنے ساتھ واپس اندر لے کر چلا گیا
°°°°°
“زریام میں چاہتی ہوں کہ آج حورم کو ارہان کے نام کی انگوٹھی پہنا کر جاؤں شادی بھلے آپ لوگ جب کرنا چاہیں مگر میں یہ چاہتی ہوں کہ یہ بات طے رہے کہ حورم میری بہو بنے گی انکار نہیں کیجیے گا”
مہرینہ بیگم کے کہنے پر زریام نے عالم کی طرف دیکھا جس نے چند لمحے سوچ کر اپنا سر ہولے سے ہاں میں ہلادیا
اسکا جواب اقرار میں سن کر زریام نے خود بھی مہرینہ بیگم کی بات کا جواب اقرار میں دے دیا اور نظر تب ہی اندر آتے حورم اور ارہان پر گئی
انکے بیٹھتے ہی مہرینہ بیگم نے اپنے بیگ سے انگوٹھی نکال کر ارہان کی طرف بڑھائی وہ تو شاید پوری تیاری کرکے آئی تھیں
“یہ کیا ہے مام”
” بیٹا میں چاہتی ہوں تم یہ انگوٹھی حورم کو پہنادو”
انکی بات سن کر اسنے گہرا سانس لے کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اتنی جلد بازی کی کیا ضرورت تھی
اسکا چہرہ دیکھ کر شازل صاحب نے ہنستے ہوئے اسے انگوٹھی پہنانے کا اشارہ کیا جسے دیکھ کر اسنے مہرینہ بیگم کے ہاتھ میں موجود بوکس اپنے ہاتھ میں لے لیا
“حوریب رسم ہوہی رہی ہے تو پھر میرال کو بھی بلاؤ وہ بھی اس میں شامل ہو جائیں گی
عصیم نے وہاں کھڑی حوریب کو اشارہ کیا جو اسکی بات سن کر جی کہتی اوپر کی طرف چلی گئی
عائزل سورہی تھی اور اگر اسکی نیند خراب کردی جاتی تو پھر وہ رونا شروع کردیتی تھی اسلیے اسے اٹھانا حوریب نے مناسب نہیں سمجھا جنت اس وقت شہر میں تھی اور منت تو پہلے ہی نیچے سب کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اب بچی میرال تو بس اسے ہی بلانا باقی تھا
وہ اجنبی لوگوں میں بیٹھنے سے جھجکتی تھی اسلیے گھر میں اگر کوئی مہمان بھی آتا تو تھوڑی دیر بیٹھ کر وہ اٹھ کر چلی جاتی تھی
مگر آج تو وہ نیچے ہی نہیں آئی تھی سب کی فکر مندی پر اسنے سر درد کا بہانہ بنادیا اسلیے کسی نے اسے تنگ نہیں کیا پر اصل وجہ تو سب سے چھپنے کی یہ تھی کہ کوئی اسکے چہرے پر بکھری اداسی نہ دیکھ لے
جب سے ساحر نے اسے منت اور ازمیر کی شادی کی بابت بتایا تھا تب سے ہی وہ کمرے میں بند تھی اور شاید اب بھی کمرے میں ہی بند رہتی اگر حوریب اسے بلانے نہیں آتی
°°°°°
وہ اپنے ہاتھ میں موجود اس بوکس کو دیکھ رہا تھا جس میں انگوٹھی تھی تو کیا واقعی وہ اس لڑکی کو بھول جاتا جس نے اسکے دل کی دنیا ہلا کر رکھ دی تھی
نہیں ایسا ممکن نہیں تھا یہ اسکے بس میں نہیں تھا ہاں لیکن ایک کام وہ کرسکتا تھا اور وہ تھا حورم کے ساتھ ہمیشہ وفادار رہنا
آج حورم اسکے نام کی انگوٹھی پہننے جارہی تھی اور یہ وعدہ اسنے خود سے کیا تھا کہ وہ اس رشتے کو پورے دل سے نبھائے گا
“اسلام و علیکم”
نرم سی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی جسے سن کر بھی اسکا سر جھکا رہا لیکن لڑکی کے اگلے جملے پر اسے اپنا جھکا سر اٹھانا پڑا کیونکہ یقیناً وہ اسی سے مخاطب تھی
“میں آپ کی سالی ہوں میرال شاہ”
اسے خود سے مخاطب ہوتے دیکھ کر ارہان نے اپنا چہرہ اٹھایا اور سامنے کھڑی میرال کو دیکھتے ہی جیسے اسکی ساری دنیا رک چکی تھی
ہاتھ میں پکڑے بوکس پر اسکی گرفت ہوئی
اسنے بےیقینی سے سامنے کھڑی ریڈ فراک میں ملبوس میرال کو دیکھا
اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ جس لڑکی کو وہ اتنے وقت سے ڈھونڈ رہا تھا وہ اسے یہاں پر ملے گی