جنون محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 15

ریڈ کلر کی فراک پہنے اسکے سامنے وہ پری پیکر کھڑی تھی جسے وہ چار سال سے ڈھونڈ رہا تھا
جس کا تصور ہی ارہان لاشاری کے لبوں پر مسکراہٹ لے آتا تھا اور اب وہ ملی بھی تو کہاں
“میں اپنا ہر رشتہ بہت اچھے سے نبھاتا ہوں اگر آپ میری زندگی میں شامل ہو جائیں گی تو پھر چاہے وہ لڑکی میرے سامنے ہی کیوں نہ آجائے مجھے آپ کا ہی وفادار رہنا ہے اور میں رہوں گا بھی”
اسے اپنا کچھ دیر پہلے کیا گیا وعدہ یاد آیا
وہ وعدہ خلاف تو کبھی بھی نہیں تھا پر آج دل چاہ رہا تھا کہ سارے وعدے سارے رسم و رواج توڑ کر اس لڑکی کو اپنے ساتھ یہاں سے لے جائے
پھر دنیا چاہے جو بھی کہتی پھرے اسے پرواہ نہیں تھی
“میرال بچہ تم یہاں بیٹھ جاؤ”
ارہان کے کوئی جواب نہ دینے پر آہان نے اسے اپنے پاس بٹھالیا
جو پھیکا سا مسکراتے ہوئے اسکے قریب بیٹھ گئی
اور اس سب میں ارہان نے ایک پل کے لیے بھی اپنی نظریں میرال کے چہرے سے نہیں ہٹائی تھیں جیسے اگر وہ نظریں ہٹا دیتا تو میرال کا وجود غائب ہوجاتا
“ارہان کیا ہوا ہے”
مہرینہ بیگم کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس کرکے وہ جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا
“حورم کو انگوٹھی پہناؤ بیٹا”
اسنے غائب دماغی سے ہاتھ میں پکڑے بوکس سے انگوٹھی نکالی اور ہاتھوں کی لرزش کو بمشکل قابو کرتے ہوئے اسکی انگلی میں انگوٹھی پہنادی
ارہان کے ایسا کرتے ہی لاونج تالیوں کی گونج سے چمک اٹھا جبکہ اس سب میں اسکی نظروں کا مرکز میرال ہی بنی رہی جو اب اٹھ کر وہاں سے جارہی تھی
اسکا دل کہہ رہا تھا کہ اسے روک لے اور اب اپنی نظروں سے کہیں دور نہ جانے دیں لیکن زبان سے جیسے کوئی لفظ ہی ادا نہیں ہورہے تھے
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے قسمت نے اسکے ساتھ کتنا بڑا مذاق کردیا ہو
اسکے برابر میں بیٹھی لڑکی بےانتہا حسین تھی لیکن اسے یہ حسین لڑکی نہیں چاہیے تھی اسے تو بس وہ لڑکی چاہیے تھی جس کا نام بھی اسے آج ہی پتہ چلا تھا
“میرال شاہ”
عالم اس سے کچھ کہہ رہا تھا جسے سن کر اسنے غائب دماغی سے اپنا سر ہلادیا
اس ماحول میں اسے گھٹن ہوری تھی دل کررہا تھا کہ اٹھ کر یہاں سے کہیں بھاگ جائے اور شاید قسمت کو اسکے حال پر رحم آہی گیا تھا
جب ہی اسکا جیب میں رکھا فون زور و شور سے بجنے لگا
معذرت کرتا وہ اٹھ کر باہر چلا گیا کال ضروری نہیں تھی نہ ہی اسکا سننے کا کوئی ارادہ تھا اسے تو بس اس ماحول سے نکلنا تھا
باہر لان میں آکر اسنے گہرا سانس لیا اور کال کاٹ کر موبائل واپس جیب میں رکھ لیا
اور نظریں بےاختیار کچن کی کھلی کھڑکی سے نظر آتی میرال پر گئی
جو شانوں پر ڈوپٹہ پھیلائے چائے کے لزومات ٹرے میں سجا رہی تھی
اسے دیکھ کر ارہان نے ضبط سے آنکھیں بند کر لیں اور تیز تیز قدم اٹھاتا حویلی سے باہر نکل گیا
یہاں مزید رکنا اسکے بس میں نہیں تھا اگر مزید یہاں رکتا تو جس دل کو اب تک سمبھالا ہوا تھا وہ بےقابو ہوجاتا
°°°°°
“اب تو بھائی کی شادی بھی ہورہی ہے تمہارا کب آنے کا ارادہ ہے”
اسنے کال پر موجود المیر سے کہا جو اسکی شادی کی خبر سن کر ابھی تک حیرت میں تھا
“ویسے چاچا سائیں مان کیسے گئے مجھے تو لگا تھا کہ دو چار سال تک تو انہیں منت کی شادی نہیں کرنی ہے”
اسکے پوچھنے پر ازمیر نے قہقہہ لگایا اور پھر اسے تفصیل سے ساری بات بتادی جسے سن کر المیر اسے بیغیرت اور بےشرم کے علاؤہ کچھ کہہ ہی نہیں سکا
“میرا تو دل چاہ رہا ہے اس نائٹی کو کسی شوکیس میں سجا دوں جس کی وجہ سے میری شادی طے ہوگئی”
“ازمیر حد ہوتی ہے کسی چیز کی”
“اچھا چھوڑ بتاؤ کب آرہے ہو میں تو کہہ رہا ہوں بھابھی کو بھی ساتھ ہی لے آؤ”
اسکے کہنے پر المیر نے ہنستے ہوئے شہروز کو دیکھا
اس وقت وہ صوفے پر چت لیٹا ہوا تھا اور اسکے سینے پر شہروز سو رہا تھا
میرب کے علاؤہ وہ زیادہ تر بی جان یا خود اس کے پاس ہی رہتا تھا
وہ دکھنے میں بلکل اپنی ماں کی طرح تھا اور شاید یہ بھی ایک وجہ تھی جو المیر اس سے اتنا پیار کرتا تھا
میرب کے بارے میں حویلی کے تقریباً تمام افراد ہی جانتے تھے اور انکی یہی خواہش تھی کہ وہ جلدی سے انکی بہو کو لے آئے
وہ شادی شدہ تھی اور ایک بیٹے کی ماں بھی اور اس بات سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا بلکہ کسوا کا تو یہ کہنا تھا کہ وہ پر دادی بھی بن چکی ہے
سب کے کہنے کے باوجود بھی اسنے آج تک میرب یا بی جان سے اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی تھی اسکا کہنا تھا کہ جب اسے کوئی وقت مناسب لگے گا تو وہ خود ساحر یا ماہر کو انکے گھر بات کرنے کے لیے بھیج دے گا
“ابھی بھابھی آنے کے لیے تیار نہیں ہے اسلیے میں خود اکیلا آؤں گا اور گھر کی ایک ساتھ ہونے والی تینوں شادیوں کو خوب انجوائے کروں گا”
اس سے تھوڑی دیر مزید بات کرکے المیر نے فون رکھ دیا
کیونکہ اسکے سینے پر سویا شہروز اب جاگنے کی تیاریوں میں تھا
°°°°°
جب سے وہ گھر آیا تھا تب سے اپنے کمرے میں بند پڑا تھا
شازل صاحب کو میسیج وہ کرچکا تھا کہ اسے ضروری کام سے جانا ہے اسلیے وہ باہر سے ہی چلا گیا لیکن اسکے باوجود بھی اسے پتہ تھا کہ مہرینہ بیگم اس کے وہاں سے بنا بتائے اٹھ کر آنے پر اس پر غصہ ضرور کریں گی
دروازہ ناک ہونے کی آواز پر اسنے باہر کھڑے شخص کو اندر آنے کی اجازت دی اور اٹھ کر بیٹھ گیا
“ارہان یہ کیا حرکت تھی تم ایسے بنا بتائے وہاں سے اٹھ کر کیسے آسکتے ہو”
“میں نے ڈیڈ کو میسیج کردیا تھا”
“اگر اتنا ہی ضروری کام تھا تو کم از کم بتا کر سب سے مل کر تو جاتے”
انکے کہنے پر اسنے جھکی نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا اور اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر انکا سخت لہجہ نرم ہوا
“ارہان کیا بات ہے سب ٹھیک ہے”
انہوں نے فکرمندی سے اسکے قریب بیٹھ کر پوچھا
“میں حورم سے شادی نہیں کرنا چاہتا”
“کیا”
“ہاں مجھے حورم سے شادی نہیں کرنی ہے میں میرال سے شادی کرنا چاہتا ہوں”
“میرال سے”
انکی حیرت ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی
“میرال ہی وہ لڑکی ہے جسے میں اتنے وقت سے تلاش کررہا تھا”
اسکا ایک جملہ انہیں پوری بات سمجھا چکا تھا
“بات اب آگے بڑھ چکی ہے ارہان اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں حورم کے لیے انکار کرکے میرال کا رشتہ مانگوں گی تو کیا وہ اسے دے دیں گے”
“تو پھر آپ اس رشتے سے انکار کردیں کیونکہ میں اس جگہ پر رشتہ نہیں جوڑنا چاہتا جہاں وہ ہر وقت میرے سامنے ہو اور میں اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھتا رہوں”
“ارہان تم جانتے ہو مرد جب محبت کرتا ہے تو وہ اپنی محبت کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے تم نے بھی کی تھی پر میرال تمہارے نصیب میں نہیں ہے میری جان اگر ہوتی تو وہ تمہیں پہلی ہی مل چکی ہوتی اب نہ ملتی جب تم کسی اور کے نام ہوچکے ہوتے”
“تو پھر میں کیا کروں مام”
اسکا لہجہ بھیگ گیا
وہ ایک مرد تھا اور اپنی محبت کو حاصل کرنا اسکے لیے مشکل نہیں تھا لیکن زبردستی کرنا اسے کبھی بھی پسند نہیں تھا
اسکا خیال تھا کہ کسی انسان کو زبردستی اپنے ساتھ باندھنے سے وہ آپ کے قریب آنے کے بجائے آپ سے مزید دور ہوجاتا ہے
اگر میرال کو وہ زبردستی اپنی زندگی میں شامل کر بھی لیتا تو بھی وہ زندگی بھر اسے قبول نہیں کرپاتی اور اس طرح سے وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا بھی نہیں چاہتا تھا
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اپنی محبت کی بے رخی وہ کبھی برداشت نہیں کرپاتا
“وہی کرو جو ہمیشہ کرتے ہو اللہ سے مانگتے ہو نہ تم تو پھر میرا بچہ یہ فیصلہ بھی اللہ کے سپرد کردو دیکھنا وہ تمہاری زندگی میں کیسے خوشیاں بکھیر دے گا”
اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر وہ کمرے سے باہر چلی گئیں
انکے جانے کے بعد بیڈ پر لیٹ اسنے آنکھیں موند لیں
°°°°°
سامان گاڑی میں رکھ کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی
“کچھ رہ تو نہیں گیا حیات”
“نہیں سب کچھ ہی لے لیا”
وہ دونوں شاپنگ کرنے کے لیے آئے تھے جس میں بھی شاہ میر کو گھر جانے کی جلدی لگ رہی تھی کیونکہ عائزل کو گھر پر اکیلے چھوڑ کر وہ ایسے ہی بےچین ہوجاتا تھا
حیات عائزل کے پاس ہوتی تھی تو جب اسے اتنی فکر نہیں ہوتی تھی لیکن جب حیات بھی کہیں باہر ہو تو تب اسکے زہہن پر صرف عائزل سوار رہتی تھی
بھلے حویلی میں سب اسکا خیال رکھتے تھے لیکن اپنی بیٹی کے معاملے میں وہ ایسا ہی فکرمند رہتا تھا
حیات کی ضد پر وہ اسے آج شاپنگ کروانے لایا تھا اور عائزل کو ساتھ وہ اسلیے نہیں لایا تھا کیونکہ زیادہ لوگوں میں وہ گھبرا جاتی تھی
“شاہ میر ایک بات کہوں”
“حیات تم کب سے بات کرنے سے پہلے اجازت لینے لگ گئیں”
وہ ہلکا سا ہنسا
“عائزل کے بارے میں آپ فکر مند رہتے ہیں یہ اچھی بات ہے لیکن عائزل کی وجہ سے آپ سالار کو ہمیشہ اگنور کرتے ہیں”
“ایسی کوئی بات نہیں ہے حیات سالار بڑا ہے سمجھدار ہے وہ اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے بس اسی لیے میں اس پر اتنا دھیان نہیں دیتا”
“لیکن ہمارے لیے تو وہ دونوں ہی ہمارے بچے ہیں نہ تو پھر آپ ایسے کیوں کرتے ہیں سالار بھلے بڑا ہے سمجھدار ہے لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ اسے آپ کی ضرورت نہیں ہے جتنا دھیان عائزل پر دیتے ہیں پلیز اتنا دھیان سالار پر بھی دیا کریں مجھے ڈر ہے آپ کی لاپروائی کے باعث وہ آپ سے دور نہ ہو جائے”
حیات کے کہنے پر شاہ میر نے نظروں کا زاویہ موڑ کر اسکی طرف دیکھا
ایسا لگ رہا تھا جیسے حیات کی بات سن کر اسکا دل بند ہورہا تھا
بھلے اسنے سالار پر کبھی بھی اتنا دھیان نہیں دیا تھا جتنا وہ عائزل پر دیتا تھا لیکن سالار تھا تو اسکے دل کا ٹکڑا اس سے دوری وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا
پر یہ بات بھی سہی تھی کہ اسنے سالار پر اتنا دھیان کبھی نہیں دیا تھا لیکن حیات کی باتیں سن کر وہ اپنی یہ غلطی اب سدھارنے کا ارادہ رکھتا تھا
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو حیات تھینک یو”
اسنے مسکراتے ہوئے حیات کا ہاتھ تھاما اور اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھ دیے
°°°°°
“کیا بات ہے پھوپھو بڑی خوش لگ رہی ہیں”
کچن میں داخل ہوتے ہی اسنے سبزی کاٹتی نور کو دیکھتے ہوئے کہا
جو عام دنوں کی نسبت آج کچھ زیادہ ہی خوش لگ رہی تھی
اسے کوئی اتنی خاص کوکنگ نہیں آتی تھی کچن میں وہ کچھ پکانے صرف جب ہی آتی تھی جب اسے عصیرم کے لیے کچھ بنانا ہوتا یا جنت اور سالار کوئی فرمائش کر دیتے
“خوشی کی تو بات ہے سالار اسفند آرہا ہے”
اسنے خوشی سے بھرپور لہجے میں بھیگی آنکھوں سے کہا اسے بنا دیکھے ہی نور کا یہ حال ہورہا تھا
وہ سامنے آجاتا تو پھر تو شاید نور نے خوشی سے رو رو کر تالاب تیار کرلینا تھا
اتنے عرصے میں وہ پہلی بار واپس آرہا تھا وہ بھی اپنی ماں کی ضد پر کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر کی یہ شادیاں وہ مس کرے اسے واپس بلانے کے لیے نور نے اسکی کتنی منت کی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی
اسفند سے اتنے وقت میں اسنے صرف فون کال پر ہی بات کی تھی ویڈیو کال پر بھی وہ اس سے بہت مشکل سے بات کرپاتی تھی
وہ بےچین تھی اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے اور بلآخر اسکی ممتا کی تڑپ ختم ہونے والی تھی کیونکہ اسفندیار آنے والا تھا
“یہ تو بہت خوشی کی بات ہے پر آنے کی کوئی خاص وجہ یا بس ایسے ہی آرہے ہیں”
“گھر میں تین تین شادیاں ہونے والی ہیں اس سے زیادہ خوشی کی اور کیا بات ہوگی”
نور کی بات سن کر وہ چونکا
حورم کی شادی سے تو وہ اچھے سے واقف تھا یقیناً دوسری شادی منت اور ازمیر کی ہی ہونی تھی پر یہ تیسری شادی کس کی ہورہی تھی
“ازمیر لالا اور حورم آپی کے علاؤہ تیسری شادی بھلا کس کی ہورہی ہے پھوپھو”
“سالار تم کب سے گھر کے معاملات میں اتنی بے خبری دکھانے لگ گئے خیز بتادیتی ہوں تیسری شادی جنت کی ہورہی ہے”
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے یا تو نور نے کچھ غلط کہا تھا یا پھر اسنے کچھ غلط سن لیا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial