قسط: 10
” ایک ماہ ہو چکا تھا ایمان کو اس گھر میں رہتے ہوئے وہ کافی حد تک ان لوگوں کے ساتھ گھل مل گئی تھی عاتکہ اور ماریہ تو اسے بہت عزت اور محبت دیتیں تھی عاتکہ نے تو اس سے صاف کہہ دیا تھا کہ ایمان انہیں ماریہ کی طرح امی کہے ۔۔۔ مبشر حسین اور ثوبیہ اس کی زات میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے انوار علی کو جب احتشام کے نکاح کی خبر ہوئی تو انہوں نے مبشر حسین کو خوب سنائی اور قطع تعلق کر لیا ثوبیہ تو خوب روئی اس کے دل میں ایمان کے لیے نفرت پیدا ہو گئی ۔۔۔۔ رہی بات احتشام کی تو اس کا ایمان سے کم ہی سامنا ہو پاتا تھا یا شاید وہ اس کا سامنا کرنا ہی نہیں چاہتا تھا صبح وہ ایمان کے کمرے سے نکلنے پہلے ہی آفس چلا جاتا تھا رات دیر سے آتا تھا وہ اپنے کاروبار کو اونچائی پر پہنچانے کے لئے بہت محنت کر رہا تھا جب وہ گھر آتا تب ایمان اپنے کمرے میں ہوتی تھی ۔۔۔ عاتکہ نے بھی فلحال ایمان کے حوالے سے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔ ایمان نے بھی اس بات پر غور نہیں دیا تھا وہ دین کو سمجھنے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے رہی تھی “-
” ماریہ احتشام کے کپڑے لے جا کر اس کی الماری میں رکھ دو عاتکہ نے صوفے پر آڑی ترچھی لیٹی ماریہ کو کہا جو ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھنے میں مگن تھی آج انہوں سردی کے کپڑے نکال کر استری کروائے تھے “-
” امی میں تھکی ہوئی ہوں آپ ایمان بھابھی کو بولیں ۔۔۔ ماریہ نے سوچ لیا تھا کہ اسے ہی بھیا اور پیاری سہیلی کی لو سٹوری شروع کروانی پڑے گی باقی سب تو ٹھنڈے پڑے تھے ایک مہینہ ہو چکا تھا ان دونوں کے نکاح کو لیکن بات کرنا تو دور کی بات ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی عاتکہ نے احتشام کے کمرے میں جانے کا بولا تو اس نے سوچا آج ہی پہل کی جائے کیونکہ اتوار ہونے کی وجہ سے احتشام گھر پر اپنے کمرے میں ہی موجود تھا “-
” او ہو ماریہ تم بھی حد کرتی ہو ایمان کو کیا معلوم کپڑے کیسے رکھنے ہیں “-
” اف امی آپ بھی نہ وہ بچی تھوڑی آپ انہیں بتائیں گی تو وہ کر لیں گی ویسے بھی آگے جا کر یہ کام انہوں نے ہی کرنے ہیں ۔۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا اب ہمیں انہیں تھوڑی پرائویسی دینی چاہیے تاکہ وہ قریب ہوں ایک دوسرے کو سمجھیں اپنی زندگی شروع کریں اسی طرح تو قریب آئیں گے جب ملیں گے “-
” ماریہ تمھیں اپنے بھائی کا اچھی طرح پتا ہے وہ ایسا کچھ نہیں چاہتا “-
” او ہو امی بھیا انہیں دیکھیں گے تو کچھ چاہیں گے نہ آپ یاد کر کے بتائیں ان دونوں کا آخری بار سامنا کب ہوا تھا ؟؟ مجھے تو بلکل یاد نہیں دونوں اپنے اپنے کمروں میں قید رہتے ہیں “-
” مایہ احتشام نے زبردستی یہ نکاح کیا ہے عاتکہ نے اسے یاد دلا یا وہ تو مطمئن بھی نہیں اس رشتے سے”-
” مجھے یاد ہے امی لیکن جس وجہ سے بھی نکاح ہوا ہے بھیا مطمئن ہو یا نہ ہو ہیں تو وہ دونوں میاں بیوی ہی نہ اور آپ ہی تو کہتی ہیں کہ اللہ پاک نے نکاح میں برکت رکھی وہی دلوں میں محبت ڈالتا ہے بھیا کے دل میں بھی اطمینان ڈال دے گا ۔۔۔ آپ اور میں تو بس کوشش کریں گے ۔۔۔۔ اور امی آپ کا دل نہیں کرتا کیا دادی بننے کا ۔۔۔ میرا تو بڑا دل کرتا میں پھپھو بنو ہمارے گھر میں بھی کوئی بےبی آئے میں اسے گود میں کھلاؤں ماریہ نے اپنے دل کی بات کہی “-
” دل تو میرا بھی بہت کرتا ہے دادی بننے کا اب دیکھو نہ پڑوس والے ماجد بھائی کا پوتا تو ماشااللہ سے چلنے بھی لگا ہے بڑا پیارا لگتا ہے مجھے عاتکہ کا بھی دل مچلا اس بات سن کر “-
” ایسے کیا خاک آپ دادی بننے گی بات تک تو کرتے نہیں وہ دونوں خود سے اب ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔ جائیں بھابھی کو بھجیں بھیا اوپر اپنے کمرے میں ہیں ۔۔۔ ماریہ کی بات پر غور کرتی عاتکہ ایمان کے کمرے کی طرف بڑھیں ماریہ کی تو باچھیں کھل گئیں کہ عاتکہ بھی اس کے ساتھ مل گئیں “-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ کب سے دروازے پر کھڑی کشمش کا شکار تھی عاتکہ کے بھیجنے پر وہ آ تو گئی تھی مگر اندر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس نے دروازے پر دستک دی اور اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ایمان نے بڑی مشکل سے سوئچ بورڈ ڈھونڈ کر لائٹ جلائی پورا کمرہ خالی دیکھ کر اسے ڈھارس ملی ۔۔۔۔ عاتکہ نے اسے اچھی طرح سمجھا کر بھیجا تھا کہ کون سے کپڑے کہاں رکھنے ہیں ایمان نے ہاتھ میں لیے کپڑوں کو بیڈ پر رکھا اور الماری میں ایک ایک کر کے انہیں ترتیب سے رکھنے لگی ۔۔۔۔۔ ایمان نے محسوس کیا وہ بہت نفاست پسند تھا اس کے کمرے کی ہر چیز بہت سلیقے سے رکھی ہوئی تھی ایمان نے دل ہی دل میں اس کی نفاست پسندی کو داد دی اسے تو یقین نہیں آیا کہ لڑکے بھی نفاست پسند ہو سکتے ہیں اسے یاد تھا میکس کس قدر کمرے کو کباڑ خانہ بنائے رکھتا تھا اکثر وہ اس کا کمرہ صاف کرنے میں ولما کی مدد کیا کرتی تھی اور بعد میں میکس کو خوب سناتی تھی ۔۔۔۔ وہ ماضی کی یادوں میں کھوئی ہوئی تھی۔۔۔۔ دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ حال میں لوٹی نظر سامنے کھڑے احتشام پر پڑی تو پلٹنا ہی بھول گئی ایمان نے آج پہلی بار اسے غور سے دیکھا تھا وہ نہا کر نکلا تھا بلیک ٹراؤزر میں شرٹ لیس گندمی رنگت پر بڑھی ہوئی شیو بھوری آنکھیں ماتھے پر بکھرے گیلے بال جن سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے وہ بہت پرکشش تھا اوپر سے نکاح جیسا پاک رشتہ ایمان کا دل زور سے دھڑکنے لگا “-
” اپنے کمرے میں ایمان کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟ احتشام نے پہلی فرصت سے الماری سے شرٹ نکال کر پہن کر اس کے سامنے آکر بولا “-
” وہ میں ۔۔۔ وہ میں آپ کے کمرے میں ۔۔۔ ہاں کپڑے رکھنے آئی ہوں امی نے بھیجا ہے ایمان اسے دیکھنے میں اتنی محو تھی کہہ اسے یاد ہی نہیں رہا وہ یہاں کیوں آئی ہے “-
” رکھ لیے کپڑے ؟؟
” نہیں ابھی رہتے ہیں ایمان بیڈ سے کپڑے اٹھا کر پھر سے رکھنے لگی “-
“تم رہنے دو !! باقی کا میں خود ہی کرو لونگا تم جاؤ اپنے کام کرو احتشام کا لہجے میں نرمی کا شائبہ بھی نہیں تھا “-
“میں رکھ دیتی ہو ۔۔۔ جانے کیوں ایمان کا دل کیا وہ کچھ لمحے اس کے پاس رکے “-
” نہیں میں نے کہا نہ میں خود کر لونگا ۔۔۔ تم جاؤ یہاں سے ۔۔۔اسنے اپنے لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کی پتہ نہیں کیوں ایمان پیچھے پڑ گئی تھی”-
” وہ خود اپنے کپڑے الماری میں رکھنے لگا تو ایمان بھی کمرے سے نکل گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” او ہیلو !!! میڈم کن خیالوں میں گم ہو ۔۔۔ اکیلے مسکرائے جا رہی ہو ماریہ نے اس کے آگے ہاتھ لہرایا وہ کافی دیر سے اسے اس طرح دیکھ رہی تھی وہ جانتی تھی ایمان احتشام کے کمرے سے آئی ہے پھر انجان بنی ایمان کی مسکراہٹ اس کے پلان کی کامیابی ظاہر کر رہی تھی “-
” تم کب آئی ؟اس کے ہاتھ لہرانے سے ایمان ہوش میں آئی ماریہ کی موجود گی کی اسے خبر ہی نہیں ہوئی “-
” میں تو کب سے یہاں بیٹھی ہوئی ہوں تم ہی کہیں گم ہو ۔۔۔ کس کے خیالوں میں گم ہو ؟ “-
” کسی کے نہیں ۔۔۔ وہ سرے سے مکر گئی “-
” ہاں میں تو اندھی ہوں نہ جیسے ماریہ نے اسے گھورا ۔۔۔۔ کب سے تمھیں اکیلے اکیلے مسکراتے شرماتے ہوئے دیکھ رہی بتاؤں کیا بات ہے … ارے ہاں امی بتا رہیں تھیں تم بھیا کے کمرے میں گئی تھی ۔۔۔ اب سمجھ آیا اسی لیے اتنا شرما رہی ہو ۔۔۔ ویسے میرے بھیا ہے ہی اتنے پیارے کوئی بھی دل ہار سکتا ہے ماریہ نے فخر سے گردن اکڑائی ۔۔۔ ویسے ایمی کیا بولا بھیا نے جو تم اتنا مسکرا رہی ہو ؟”-
” کہاں کچھ بولا انہوں نے الماری بھی سیٹ نہیں کرنے دی کہنے لگے تم جاؤ میں خود کر لونگا ایمان کا منہ لٹکا “-
” تو تمھارے اندر بھی تو بیویوں والے زرا جراثیم نہیں ۔۔۔۔۔ رہی تو تم یورپ میں ہو مگر جال ہے وہاں سے تھورا سا بھی رومینس سیکھا ہو ۔۔۔ ایک مہینہ ہو گیا تمھارے نکاح کو لیکن ایک بار بھی تم نے ان سے بات نہیں کی دوسری لڑکی ہوتی تو اب تک شوہر کو دیوانہ بنا چکی ہوتی “-
” شوہر کو دیوانہ کیسے بنا سکتے ہیں ؟ ایمان کے سوال پر ماریہ کو اس کی عقل پر افسوس ہوا “-
” پاگل لڑکی کبھی فلم ڈرامے نہیں دیکھتی ؟؟ “-
” نہیں ۔۔ میں تو بس بپ جی کھیلتی ہوں میرا پسندیدہ ہے تم کہ سکتی ہو میں پب جی کی دیوانی ہوں “-
” بیٹا پھر تو تم پب جی ہی کھیلو اچھی بیوی بن کر شوہر سنبھلنا تمھارے بس کی بات نہیں ماریہ نے اس کے گال تھپتھپائے “-
” ماری !! تو تم کس لیے ہو بتاؤ مجھے اچھی بیوی کیسے بنتے ہیں ؟ایمان کو بھی پتا نہیں آج کیا ہو گیا تھا ماریہ کے پیچھے پڑ گئی”-
” ٹھیک ہے بتا دیتی ہوں ماریہ کا انداز ایسا تھا مانو بہت بڑا احسان کر رہی ہو ۔۔۔ تو سنو غور سے ۔۔۔اچھی بیویاں شوہر کا خیال رکھتی ہیں مطلب ان کے کھانے پینے کا ان کے آرام کا شوہر کو کیا پسند ہے کیا نہیں ۔۔ تیار رہتی ہیں ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن تم ایسا کچھ نہیں کرتی ان کے آفس جانے کے بعد کمرے سے نکلتی ہو اور گھر آنے سے پہلے کمرے میں بند ہو جاتی ہو تم سے ایسا کچھ نہیں ہوگا تم چھوڑو یہ سب میں سونے جا رہی ہوں ماریہ اسے سوچوں میں گم چھوڑ کر چلی گئی اور دروازے کے پیچھے چھپ کر ایمان کی کاروائیوں کو دیکھنے لگی “-
” ایمان اٹھ کر آئینے کے سامنے آئی ۔۔۔پیاری تو میں ہوں بس خود کو تھوڑا پالش کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور کیا بتایا تھا ماریہ ہاں کھانے پینے کا خیال رکھنا ہے مطلب مجھے کوکنگ بھی سیکھنی چاہیے ۔۔ ٹھیک ہے کل سے اپنا مشن شروع کرونگی ۔۔۔ لیکن میرے پاس تو نہ اچھے کپڑے ہیں نہ میک اپ میں کیسے تیار ہونگی ایمان کا دل اداس ہوا دروازے کے پیچھے کھڑی ماریہ جو اس کی حرکتوں پر مسکرا رہی تھی ایمان کی بات پر اس کی مسکراہٹ سمٹی ان لوگوں کو تو یاد ہی نہیں تھا ایمان کو بھی ان سب چیزوں کی ضرورت ہے ماریہ کچھ سوچ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
اندھی ہو کیا ؟ دیکھ کر نہیں چل سکتی ماریہ اپنے خیالوں میں گم کمرے میں آئی کمرے سے باہر نکلتی ہوئی ثوبیہ سے ٹکڑائی ثوبیہ کے ہاتھوں سے پانی کا جگ چھوٹ کر گرا تو وہ چیخ پڑی “-
” آئی ایم سو سوری آپی میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا “-
” یہ دو آنکھیں استمعال کرنے کے لیے ہی ہیں سجانے کی لئے نہیں پتہ کہاں دیکھ کر چل رہی ہو “-
” آپی کیا ہوگیا پانی ہی تو گرا آپ بلاوجہ اتنا غصہ کر رہیں ہیں”-
” ہاں پانی ہی گرا صاف بھی تو کرنا پڑے گا ۔۔۔۔ تم لوگوں نے تو مجھے نوکرانی سمجھا ہوا ہے نہ میں صرف کام کروں اور یہیں سڑ سڑ کر مر جاؤں میری تو کوئی زندگی ہی نہیں ثوبیہ منہ جو آیا بھڑاس نکال کر پانی لینے چلی گئی جبکہ ماریہ کو سمجھ نہیں آیا صرف پانی گرنے پر اتنا غصہ کون کرتا ہے “-
” پتا نہیں کہاں کی بات کہاں جوڑ دی۔۔۔۔ چھوڑا ربیان نے ہے غصہ ہم لوگوں پر نکالتی ہیں ہر وقت منہ مرچیں رکھے رہتیں ہیں نہ خود خوش رہتی نہ ہمیں رہنے دیتی ہیں ۔۔ہنہہ ماریہ سر جھٹک کر بستر میں گھس گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
“اس وقت وہ کچن میں عاتکہ کی مدد کروا رہی تھی کوئی خاص کام تو اسے آتا نہیں تھا ۔۔۔۔ صبح ہوتے ہی فجر کی نماز کے بعد قرآن پاک جو اب تک وہ سیکھ چکی تھی پڑھ کر کمرے سے باہر نکل آئی روز بھی وہ جلدی ہی اٹھتی تھی لیکن کمرے میں ہی رہتی تھی رات ماریہ کے بات کا اس پر بڑا اثر پڑا تھا “-
” ایمان بیٹا میں یہ لے کر جارہی ہوں تم چائے لے آؤ احتشام آنے والا ہوگا ۔۔۔ میں تمھارے انکل کو ناشتہ دے دوں انہیں دیر ہو رہی ہے عاتکہ جلدی میں باہر نکل گئی “-
” کچھ دیر میں وہ چائے لے کر آئی اتنے دیر میں احتشام بھی نیچے آتا دکھائی دیا رات کو تو وہ رف سے حلیے میں تھا لیکن اس پینٹ شرٹ پر جیکٹ پہنے مکمل دریس میں وہ اور بھی زیادہ پیارہ لگ رہا تھا ایمان نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری وہ ایمان کے سامنے ولی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا “-
” بھابھی آپ ادھر بیٹھ جائیں !!! ایمان کرسی کھینچ کر بیٹھنے لگی تھی جب ماریہ تیزی سے آ کر اس پر بیٹھ گئی ۔۔۔ مجھے کالج کے لئے دیر ہو رہی ہے سب نظر خود پر محسوس کر کے اس نے وضاحت دی ایمان خاموشی سے جا کر احتشام کی برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی مبشر حسین کا ناشتہ ہو چکا تھا وہ آفس کے لیے نکل گئے “-
” بھابھی بھیا کے لیے چائے نکال دیں ۔۔۔ ماریہ کے ایمان کو بار بار بھابھی بولنے پر احتشام نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا جس کا ماریہ نے اثر لینے کے بجائے ڈھٹائی سے اپنے دانتوں کی نمائش کی “-
” میں خود نکال لونگا تم ناشتہ کرو اپنا ۔۔۔ ایمان چائے نکالنے لگی تو احتشام اسے منع کر کے خود نکالنے لگا اسی دوران ایمان کا ہاتھ احتشام کے ہاتھ سے لگ گیا ایمان کے اندر کرنٹ سا دوڑ گیا دل ایک عجیب ہی کیفیت میں مبتلا ہوتا جا رہا تھا “-
” ماں مجھے شام کو گاؤں کے لیے نکلنا ہے ۔۔۔ ہاں تو جاؤں بیٹا ۔۔۔۔ وہ ماں بات یہ ہے دادا سائیں ایمان سے ملنا چاہتے ہیں میں نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ ایمان کے ساتھ لانے پر بضد ہیں ۔۔۔ رات کو ششمیر ملک نے اسے فون کیا تھا اور سختی سے کہا تھا کہ وہ کل ہر حال میں ایمان کو ان سے ملوانے لائے نہیں تو وہ اس سے ناراض ہوجائینگے بول تو وہ تب سے رہے جب سے انہیں احتشام نے اپنے نکاح کے بارے میں بتایا تھا نکاح کا سن کر پہلے تو وہ شدید ناراض ہوئے کہ احتشام نے انہیں اتنا غیر کردیا کہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا لیکن پھر جب احتشام نے انہیں ساری بات تفصیل سے بتائی تو انہوں نے ناراضگی ختم کر لی اور احتشام کو اپنی بیوی کو ان لوگوں سے ملوانے لانے کا کہا وہ اپنے لاڈلے پوتے کی بیوی سے ملنا چاہتے تھے”-
” ماں آپ اس سے پوچھ کر مجھے بتا دیجئے گا اگر یہ چلنا چاہے تو اس کی مرضی ہے ۔۔۔۔ نہیں تو میں دادا سائیں کو سمجھا لونگا ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا یہ مجبوری کا رشتہ ہے وہ کیوں چلنا چاہے گی پھر بھی اس نے عاتکہ کو کہ دیا کہ اس کی مرضی معلوم کر لے دل میں ایک موہم سی امید تھی اگر وہ ساتھ چل لیتی تو سجاول ملک ماں بیگم اور دلاور کے سامنے اس عزت رہ جاتی ورنہ انہیں موقع مل جاتا اسے ذلیل کرنے کا “-
” ماریہ نے ٹیبل کے نیچے سے اسے پیر مار ہلایا اور نظروں ہی نظروں میں احتشام کو ہاں کرنے کا کہا ایمان نے انکار کرنے کی کوششں تو ماریہ نے سختی سے اسے گھورا ایمان نے عاتکہ کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی اسے جانے کا اشارہ کیا احتشام اپنی پلیٹ پر جھکا ناشتے میں مصروف تھا وہ ان لوگوں کے اشارے نہیں دیکھ سکا۔۔۔”میں آپ کے ساتھ چل لونگی ۔۔ ایمان بولی تو احتشام کا منہ میں جاتا ہاتھ رکا تھا اس نے ہاں میں سر ہلایا “-
” امی بھابھی کے پاس تو کپڑے ہی نہیں ہیں اب تک وہ میرے کپڑے استعمال کر رہی ہیں انہیں گاؤں جانے کے لیے نئے کپڑوں اور چیزوں کی ضرورت ہے ماریہ نے رات سے ہی سوچ رکھا تھا کہ وہ عاتکہ کو ایمان کی خریداری کا کہے گی “-
“یہ میرا کریڈٹ کارڈ ہے جس چیز کی بھی ضرورت ہو لے لینا احتشام نے اپنا کارڈ اس کی طرف بڑھایا تو ایمان نے تھوڑا ہچکچا کر تھام لیا ۔۔۔۔ ماریہ کی بات پر اسے احساس ہوا بے شک وہ اس رشتے تھا مطمئن نہیں تھا لیکن جو بھی ہو فلحال وہ احتشام کی ذمے داری تھی ۔۔۔ ٹھیک ہے ماں چلتا ہوں جلدی آ جاؤں گا ۔۔۔وہ ہاتھ صاف کر کے کھڑا ہوا عاتکہ کے سر پر بوسہ دے کر چلا گیا “-
“ماریہ اب کالج کی چھٹی کرو ایمان کے لئے شاپنگ کرنے چلنا میرے ساتھ ۔۔۔۔ شام تک سارے کام نمٹانے ہیں عاتکہ برتن سمیٹے کر کچن میں چلی گئی”-
“او ہو میڈم کو سیاں جی ہنی مون پر لے کر جا رہے ہیں ماریہ نے اسے چھیڑا ایمان بنا کچھ کہے چپ چاپ اٹھ کر چلی گئی … ہیں اسے کیا ہوا ۔۔۔ ایمی روکو !!! ماریہ اس کے پیچھے لپکی “-
” یہ تمھارا منہ کیوں اترا ہو ہے ؟ ماریہ اس کے پیچھے کمرے میں آئی ۔۔۔۔ تم خوش نہیں ہو کیا ان کے ساتھ جانے کے لیئے “-
” ماری بات خوشی یا غم کی نہیں ہے تمھارے بھیا کا کوئی کام کرو تو وہ فوراً منع کر دیتے ہیں کل میں نے ان کی الماری سیٹ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے روک دیا ابھی چائے نکالنے لگی تب بھی منع کردیا کیا کرونگی میں ان کے ساتھ جا کر ایمان کو برا لگا اس کا منع کرنا “-
” او ہو ڈفر ابھی تم اتنی سی بات پر مایوس ہوگئی یہ تو موقع ہے بھیا کے دل میں اپنی جگہ بنانے کا ان کے ساتھ جاؤ وقت گزارو اپنے رشتے کا احساس دلاؤ اب تھوڑی محنت تو تمھیں کرنی پڑے گی اتنے ہینڈسم شوہر کو اپنا بنانے کے لیے۔۔۔ چلو اب منہ ٹھیک کرو اپنا ماریہ کی بات پر اسے تھوڑی ڈھارس ملی”-