قسط: 11
” وہ تینوں تین گھنٹے سے خریداری کرنے نکلی ہوئی تھیں عاتکہ نے تو ثوبیہ کو بھی ساتھ چلنے کا کہا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا عاتکہ اور ماریہ نے ایمان کے لیے شوخ رنگ کے کڑھائیوں والے ایک سے ایک مہنگے کپڑے، چوڑیاں ،چپل جیولری اور میک اپ کا سامان خریدا شاپنگ مکمل کر کے گھر آتے آتے انہیں کافی وقت لگ گیا تھا ۔۔۔۔ انہوں نے جلدی جلدی ایمان کا سامان پیک کرنے میں اس کی مدد کی ۔۔۔۔ اتنی دیر میں احتشام بھی آفس سے واپس آگیا شام بھی گزرنے لگی تھی جب وہ لوگ گاؤں کے لیے نکلنے لگے تو احتشام نے ماریہ سے بھی ساتھ چلنے کو کہا “-
” بھیا میں کیا کرونگی آپ دونوں کے ساتھ چل کر مجھے کالج بھی جانا ہے پہلے ہی بہت چھٹیاں ہوگئیں ماریہ نے صاف انکار کر دیا “-
” ماریہ میں تم سے پوچھ نہیں رہا بلکہ بتا رہا ہوں تم بھی ہمارے ساتھ چل رہی ہو میں مزید کچھ نہیں سنوں گا ۔۔۔۔ جاؤ جا کر اپنا سامان لے کر آؤ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں وہ بنا کچھ سنے باہر نکل گیا ۔۔۔ ماریہ پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی عاتکہ اور ایمان بھی اس کے پیچھے گئی جب تک ماریہ تیار ہوئی عاتکہ نے ایمان کے ساتھ مل کر دس منٹ میں ماریہ کا سامان پیک کراویا “-
“ٹھیک امی ہم لوگ چلتے ہیں لیکن آپ نے اپنا بہت خیال رکھنا ہے ماریہ عاتکہ کے گلی لگی وہ کبھی بھی عاتکہ کے بنا کہیں نہیں جاتی تھی”-
” ہمم ۔۔۔ تم لوگ بھی اپنا بہت خیال رکھنا میرے لیے بلکل پریشان نہ ہونا تمھارے بابا اور ثوبیہ ہیں میرے پاس ۔۔۔ تم لوگ آرام سے جاؤ “-
“ایمان میرے بیٹے اور اپنے شوہر کا خیال رکھنا گاؤں میں یہاں کے مقابلے سردی زیادہ ہوتی احتشام جلدی بیمار پڑ جاتا ہے تم اس کا بہت خیال رکھنا عاتکہ ایمان سے مخاطب ہوئیں ۔۔۔۔ رکھو گی نہ ؟؟ عاتکہ نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا تو ایمان نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔ خوش رہو ۔۔۔ایمان بیٹا یہ ایک اچھا موقع ہے اپنے اور احتشام کے فاصلے سمیٹ کر آنا ۔۔۔۔ عاتکہ بس اب یہی چاہتی تھیں احتشام بھی عام لوگوں کی طرح نارمل زندگی گزارے اپنے درد ناک ماضی سے باہر نکل آئے ایمان کے ساتھ نئی زندگی شروع کرے “-
” جی امی میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرونگی ایمان نے انہیں دلاسا دیا ۔۔ عاتکہ نے اسے میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں اچھی طرح سمجھایا تھا اور نہ صرف عاتکہ نے بلکہ میم سمیرا کو بھی جب اس کے نکاح کا ماریہ سے پتہ لگا تو وہ ایمان سے ملنے گھر بھی آئی تھیں احتشام سے بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی انہوں نے بھی ایمان کو یہی سمجھایا تھا کہ اسے اپنے رشتے کو ایک موقع دینا چاہیے احتشام اچھا لڑکا ہے وجہ جو بھی تھی لیکن ان دونوں کا نکاح ہوا تھا اور اس نے مشکل کے وقت میں ایمان کو تحفظ فراہم کیا تھا جو کہ بہت بڑی بات تھی آج کے وقت میں کون ایسا کرتا ہے اس لیے ایمان کو بھی اس کی قدر کرنی چاہیے وہ اس کا شوہر ہے ۔۔۔ ایمان کے دل میں تب سے ہی احتشام کے لئے جذبات ابھرنے لگے تھے لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی اس کے پاس جانے کی کل عاتکہ کے احتشام کے کمرے میں بھیجنے سے اس کی تھوڑی بہت جھجھک ختم ہونے لگی تھی لیکن احتشام کا رویہ بلکل روکھا تھا “-
” چلو !! ایمان بھیا ہارن بجا رہے ہیں ماریہ نے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔ اللہ حافظ امی ۔۔۔ وہ دونوں جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھ گئیں ان کے بیٹھتے ہی احتشام نے گاڑی اسٹارٹ کر دی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” اسلام وعلیکم !!! احتشام نے گاڑی سے نکل کر آگے بڑھ کر سلام کیا ۔۔۔ دادا سائیں اور زیبا نے ان لوگوں کا دروازے پر استقبال کیا ماریہ اور ایمان بھی اسے پیچھے گاڑی سے نکلی تھیں”-
” وعلیکم السلام !! کیسا ہے میرا شیر دادا سائیں نے گرمجوشی سے اسے گلے لگایا ۔۔۔ میں ٹھیک ہو دادا سائیں آپ بتائیں ۔۔۔ ہم بھی ٹھیک ہے چلو اندر آؤ “-
” اسلام وعلیکم دادا سائیں ماریہ نے شمشیر ملک کے آگے سرجھکا”-
” وعلیکم السلام !! شمشیر ملک نے ماریہ کے ساتھ ساتھ ایمان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان دونوں کو دعائیں “-
” آئیئے دیورانی جی زیبا آگے بڑھ کر ایمان سے ملی ۔۔۔۔ احمد میری دیورانی تو بہت پیاری ہے جتنے تم ہینڈسم ہو اتنی ہی خوبصورت ہے پرفیکٹ جوڑی ہے تم دونوں کی زیبا نے ایمان سے مل کر دل سے اس کی تعریف کی “-
” بھابھی آخر دوست کس کی ہے ؟؟ ماریہ نے گردن اکڑا کر اپنی تعریف کروانہ فرض سمجھا “-
” کیا مطلب ؟؟ زیبا نے نا سمجھی سے پوچھا “-
” زیبا بیٹا بعد میں بات کر لینے آرام سے بیٹھ کر ابھی بچے تھکے ہوئے آئیں ہیں انہیں تھوڑا آرام کرنے دو تم ان کے لیے اچھا سا کھانا تیار کرواؤ ۔۔۔ جاؤ بچو تم لوگ تھوڑا آرام کر لو پھر سب ساتھ میں کھانا کھائیں گے دادا سائیں نے ان سب کو جانے کا کہا ۔۔۔ ماریہ تم آ جاؤ میں تمھیں تمھارا کمرہ دکھا دیتی ہوں ماریہ زیبا کے ساتھ چلی گئی دادا سائیں گھر سے باہر نکل گئے وہ دونوں بچے ایمان کشمکش کا شکار ہو رہی تھی اسے کہاں جانا ہے “-
” آ جاؤ ۔۔۔ احتشام نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہا وہ دونوں کمرے میں آئے ۔۔۔ جب تک ہم یہاں ہیں تمھیں میرے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنا ہوگا ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ تھوڑا مشکل ہے لیکن فلحال تمھیں ایڈجسٹ کرنا پڑے گا وہ بولے جا رہا تھا اور ایمان کمرہ دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔ تم سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہ رہا ہوں ؟ احتشام کو لگا وہ اس کی بات سن ہی نہیں رہی ہے “-
” جی میں سمجھ گئی ہوں ۔۔۔ میں ایڈجسٹ کر لونگی ایمان کے لیے یہ بہترین موقع تھا اپنے شوہر کے دل میں جگہ بنانے کا اپنی زندگی شروع کرنے کا ۔۔۔ ٹھیک ہے تم فریش ہو کر آرام کرلو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو زیبا بھابی کو بتا دینا میں ماریہ کو بھی بول دیتا ہوں وہ تمھارے پاس آ جائے گی ۔۔۔ اسے اندازہ تھا وہ زیادہ تر باہر ملک رہی ہے اسے گاؤں کے رہن سہن کے بارے میں کم ہی معلومات ہوگی ماریہ اور وہ دونوں بہترین دوست تھیں ایک دوسری کی بات سمجھ جایا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ اسی لیے وہ ماریہ کو ساتھ لایا تھا تا کہ وہ اس کی مدد کر سکے یہاں کے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے کم سے کم بھی انہیں ایک ہفتہ یہاں ٹھہرنا تھا دادا سائیں نے صاف کہہ دیا تھا وہ گاؤں میں اس کی شادی کی دعوت رکھیں گے تاکہ گاؤں والے اور ان کے قریبی رشتے دار اس میں شرکت کر سکیں وہ ان سب سے خوش نہیں تھا لیکن دادا سائیں کے آگے مجبور ہوگیا تھا “-
” آپ کہیں جا رہے ہیں کیا ؟ ایمان اسے کمرے سے باہر نکلتا دیکھ کر پوچھ بیٹھی ۔۔۔۔ نہیں میں تو بس یونہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔ اس کے سوال پر احتشام نے اسے جن نظروں سے دیکھا تھا وہ گڑبڑا گئی تھی احتشام اسے چھوڑ کر کمرے سے چلا گیا”-
” ایک تو یہ بندہ جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی کھڑوس ہے ۔۔۔ مجال ہے جو کبھی مسکرا کر دیکھ لے ہر وقت ماتھے پر بل پڑے رہتے ہیں ایمان بیڈ کے اوپر لگی احتشام کی تصویر دیکھ کر خود کلامی کرنے لگی ۔۔۔ خیر جو بھی ہو مسٹر کھڑوس تم ہو تو میرے ۔۔۔ اس کمرے میں آپ کے ساتھ رہ کر میں آپ کو اپنا بنا لونگی ۔۔۔۔ احتشام کو مکمل طور پر اپنا تصور کر اس کے لبوں پر شرمیلی سے مسکان پھیل گئی “-
”چھوٹی بھابھی میں اندر آ جاؤں ؟ ملازمہ دروازے پر دستک دے کر اندر آنے کی اجازت مانگ رہی تھی ملازمہ اس کے لئے کھانے پینے کا سامان لائی تھی ۔۔۔ آ جاؤ ۔۔۔۔ یہ زیبا بھابھی نے آپ کے لئے بھیجوایا ہے ۔۔۔ ٹھیک ہے آپ ٹیبل پر رکھ دیں ۔۔۔۔۔ ملازمہ چلی گئی تو وہ بھی فریش ہونے کے لئے باتھ روم میں گھس گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” شادی کرلی باپ کو بلانے کی بھی زحمت نہیں کی اتنی بھی اہمیت نہیں رہی میری تمھاری زندگی میں … وہ لوگ اس وقت دائنگ ٹیبل پر بیٹھے رات کے کھانے میں مصروف تھے جب سجاول ملک بول پڑے “-
” بابا سائیں صرف نکاح کیا ہے ۔۔۔۔ اس نے وضاحت دینا اپنا فرض سمجھا “-
” نکاح کیا ہے لیکن باپ کو بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اجازت لینا تو بہت دور کی بات ہے ۔۔۔ نکاح کے ایک ہفتے بعد دادا کو فون کر کے اطلاع دے دی لیکن باپ کو بتاتے ہوئے تو موت پڑ جاتی ہے ۔۔۔ تم ایک انتہائی نافرمان اولاد ہو باپ کی تمھاری نظر میں کوئی عزت نہیں ہے ۔۔۔ سجاول ملک کو اس کے نکاح کا سن کر نئے سرے سے غصہ آ گیا تھا “-
” بابا سائیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ایمان کے فادر لندن جا رہے تھے اس لیے جلد بازی میں نکاح کرنا پڑا احتشام نے اصل بات گول کردی اس کے بات پر ایمان اور ماریہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اس نے جانے کیوں سچ چھپا دیا تھا “-
” کہاں تو تم مجنوں بنے رہتے تھے کہاں اچانک سے راتوں رات لڑکی پسند کر کے شادی بھی رچالی کیا بات ہے تمھاری عاشقی کی ۔۔ سجاول ملک کو احتشام کا جواب ہضم نہیں ہوا ان کے طنز پر احتشام نے سختی سے اپنے لب بھینچ لیے”-
” سجاول خاموش ہو کر کھانا کھاؤ شمشیر ملک ماحول میں تلخی پیدا ہوتے دیکھ کر زور سے بولے “-
” سنو لڑکی یہ تمھاری نئی نئی شادی ہوئی ہے ؟؟ ماں اور ساس نے کچھ سکھایا نہیں تمھیں ایسی ہوتی ہیں سہاگنیں نہ ہاتھ میں چوڑی ہے نہ ناک میں لونگ ہے نہ ہی کان میں جھمکے ایسی اجڑی دلہنیں نہیں ہوتی ہمارے یہاں ۔۔۔ ہماری گاؤں بھر میں بڑی عزت ہے کل سے رشتے داروں کی عورتیں ملنے آئیں گی اپنا ہلیہ ٹھیک کر لینا کہیں ناک ہی نا کٹوا دینا اپنے شوہر کی طرح ماں سائیں نے ایمان کو بلکل سادہ حال دیکھ کر چوٹ کی لیکن احتشام کو طنز کرنا نہ بھولیں “-
” آنٹی وہ دراصل آج ہم لوگ شاپنگ پر گئے تھے وہاں سے سیدھا یہیں آگئے بلکل بھی وقت نہیں ملا تیاری کا ۔۔۔ لیکن آپ پریشان مت ہوں بھابھی آپ کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دیں گی ماریہ نے بات سنبھالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔ واقعی میں ان لوگوں کو تیاری کا بلکل بھی موقع نہیں مل سکا تھا اگر احتشام انہیں ایک دن پہلے بتا دیتا تو وہ لوگ کم سے کم شاپنگ تو مکمل رکھتیں”-
“احمد یہ لو نہ میں نے تمھارہ من پسند سرسوں کا ساگ بنایا ہے کھا کر بتاؤ نہ کیسا بنا ہے ۔۔۔۔ زیبا نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے ڈش اس کی طرف بڑھائی تو ماں بیگم بول پڑیں “-
” بہو اپنے شوہر کی پلیٹ میں بھی کچھ ڈال دو وہ انتظار کر رہا ہے کھانے کا ۔۔۔ اس کی بیوی ہے وہ دے دے گی جو اسے چاہیے ہوگا ۔۔۔ تم اپنے شوہر کو دیکھو فرزانہ بیگم نے ایک چبھتی نظر زیبا پر ڈالی ۔۔۔ ایمان خاموش تماشائی بنی سب کے رویوں کو محسوس کر رہی تھی”-
” بھابھی رہنے دیں میں کھا چکا ہوں ۔۔۔ وہ مزید بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا اسی لیے جتنا کھانا کھا چکا تھا اس میں احتشام کا پیٹ بھرا تھا یا نہیں لیکن دل ضرور بھر گیا تھا وہ خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا پیچھے شمشیر ملک ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئے “-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ نماز پڑھ کر ابھی فارغ ہوئی تھی جب دروازہ کھول کر احتشام اندر داخل ہوا الماری سے اپنے لے کر باتھروم میں چلا گیا ایمان نے جانماز تہہ کر کے رکھا پھر بیڈ پر آ کر لیٹ گئی آج وہ بہت تھک چکی تھی شاپنگ پھر گاؤں لیٹتے ہی نیند آس پر مہربان ہو گئی ابھی چند منٹ ہی گزرے ہونگے کہ کھٹ پٹ کی آواز نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا ایمان نے مندی مندی آنکھیں کھول کر دیکھا احتشام الماری میں سر دیے نا جانے کیا تلاش کر رہا تھا ساتھ ساتھ منہ میں بھی کچھ بڑبڑا رہا تھا اس پہلے وہ کچھ سمجھتی احتشام الماری بند کر کے تن فن کرتا بیڈ پر آ کر بیٹھا ایمان کی نیند بھک سے اڑی تھی “-
” آپ یہاں سوئیں گے ؟ ایمان اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس دل اچھل کر حلق میں آیا تھا “-
” نہیں ہواؤں میں سوؤں گا ۔۔ وہ جل کر بولا ایک تو پہلے ہی اتنی ٹھنڈ ہو رہی تھی اوپر سے ایمان کا بے تکا سوال ۔۔۔ تمھیں اس کمرے میں اور کہیں اور جگہ نظر آ رہی ہے ؟؟؟ احتشام کی باتوں پر ایمان بے ساختہ کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی بیڈ کے علاوہ لکڑیوں کی بنی کرسیاں تھیں جس پر سونا ناممکن سی بات تھی “-
” میں فرش پر سو جاتی ہوں ۔۔ وہ اٹھنے لگی کہ احتشام بول پڑا “-
” تمھارے اندر عقل نام کی چیز ناپید ہے کیا ؟؟ میں اتنی دیر سے الماری میں بستر ہی ڈھونڈ رہا تھا یہاں پر کوئی اضافی بستر نہیں ہے ۔۔۔ ظاہر سی بات تھی پہلے وہ اس کمرے میں اکیلا رہتا تھا اب بیوی کے ساتھ تھا تو بیڈ پر کمبل پڑا تھا جو ان دونوں میاں بیوی کے لیے کافی تھا ۔۔۔ اب کسی کو کیا معلوم کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے لاتعلق تھے “-
“آپ مجھے بیوقوف کہہ رہے ہیں ؟؟ ایمان نے منہ بسورا”-
” دیکھو لڑکی !! ۔۔۔ ایمان نام ہے میرا احتشام کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی اس نے اپنا نام بتانا ضروری سمجھا ۔۔۔ اور آپ بے فکر رہیں میں آپ کو ہی دیکھ رہی ہوں ۔۔۔ اپنی تیزی سے چلتی زبان کی آخری بات پر اس نے زبان دانتوں تلے دبائی پھر نظریں اٹھا کر احتشام کی طرف دیکھا جو اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے نظروں سے نگل جائے گا ایمان نے دوبارہ نظریں جھکا لیں “-
” یہ آڑ بنائی ہے میں نے ۔۔۔ احتشام نے بیڈ کے پیچ میں تکیوں کو رکھ کر دو حصے بنا دیئے ۔۔۔۔ خبردار جو تم اس طرف آئی اس نے انگلی اٹھا کر آگاہی دی اور خود اپنی جگہ پر لیٹ گیا “-
“بلا وجہ ہی فضول سی آڑ بنا کر بیڈ پر جگہ کم کردی ۔۔۔ اتنی سی جگہ میں انسان کیسے سو سکتا ہے وہ اونچی آواز میں خود سے ہی بڑبڑانے لگی “-
” سنو لڑکی ۔۔ وہ اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔ ای۔۔ ما ۔۔۔ن ۔۔۔ ایمان نے اپنے نام پر زور دے کر تصیح کی وہ ایک بار پھر اس کا جملہ اچک چکی تھی “-
” ایمان ۔۔۔ احتشام نے دانت پیس کر پکارہ ۔۔۔ جی وہ تو چہک ہی اٹھی اس کی منہ پہلی بار اپنا نام سن کر “-
” مجھے تمھارے بڑبڑانے کی آوازیں آ رہی ہیں ۔۔۔ اب اگر مجھے تمھاری آواز سنائی دی تو میں تمھیں اس کھڑکی سے باہر پھینک دونگا وہ غصے میں دبا دبا چیخا ایمان بدک کر پیچھی ہٹی لیکن بیڈ پر جگہ نہ ہونے کے سبب وہ دھڑام سے فرش پر گر گئی ۔۔۔۔ ہائے اللہ !!! میری کمر وہ بلبلا اٹھی احتشام خاموشی سے کمبل سر تک تان کر سو گیا ۔۔۔ ایمان کو لگا تھا وہ اسے اٹھائے اس سے پوچھے گا کہ اسے چوٹ تو نہیں لگی لیکن احتشام کی اتنی بے رخی دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے اتنی تکلیف تو اسے کمر میں بھی محسوس نہیں ہوئی تھی جتنی احتشام کی لا تعلقی دیکھ کر دل میں محسوس ہورہی تھی وہ خود ہی اٹھتی اپنی سائیڈ پر آ کر خاموشی سے لیٹ گئی “-