حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 12

” آذان کی آواز پر اس نے کسمسا کر کروٹ بدلی نظر سیدھا اس دشمن جان پر پڑی جو سوتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کی طرح نظر آ رہا تھا ایمان کو جی بھر کر اس پر پیار آیا ایمان کا دل کیا اس کے گھنے بالوں کو چھو کر ان کی نرماہٹ کو محسوس کرے ابھی اس نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ احتشام نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر اس کی کمر پر رکھا ایمان کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا اس کی اتنی سی حرکت پر ایمان کی ساری نیند اڑ گئی اسے اچانک ہی اپنی پوزیشن کا خیال آیا وہ اپنی جگہ چھوڑ کر احتشام کے قریب تھی رات کو تکیوں سے بنائی گئی دیوار کو وہ پھلانگ چکی تھی “-
“یا اللہ مجھے بچالے اگر یہ کھڑوس جاگ گیا تو مجھے سچ میں کھڑکی سے باہر پھینک دے گا رات والا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ایمان نے جھرجھری لی ۔۔۔ اسے بے ساختہ اپنی کمر یاد آئی تھی اس نے آنکھ بند کر کے سچے دل سے دعا مانگنی شروع کردی اتنے میں احتشام نیند میں ہی اس کے مزید قریب ہو گیا اپنے چہرے پر اس کی گرم سانس محسوس کر کے ایمان نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اس کا چہرہ ایمان کی چہرے کے بلکل قریب تھا اگر وہ زرا بھی ہلتی تو اس کی ناک احتشام کے ہونٹوں سے مس ضرور ہو جاتی خود کو اس کی بانہوں کے حصار میں قید دیکھ کر ایمان کے اوسان خطا ہوئے تھے احتشام کی سانسوں کی مہک اس کے حواسوں پر طاری ہو رہی تھی وہ بری طرح پھنس چکی تھی نہ ہی وہ ہل سکتی نہ ہی وہ اس حصار میں اپنا آپ چھوڑ سکتی تھی اگر احتشام اسے اتنے قریب دیکھ لیتا تو یقیناً اسے کچا چبا جاتا ۔۔۔ لیکن فلحال وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی اگر ہلتی تو یقیناً وہ اٹھ جاتا پھر کیا پتہ واقعی اسے کھڑکی سے باہر پھینک دیتا اسی لیے خاموشی سے لیٹی اسے دیکھنے لگی “-
“احتشام آپ مجھے دیوانہ کر دینگے میرا دل آپ کو دیکھ کر بے اختیار ہونے لگا ہے … میرا دل کرنے لگا ہے کہ آپ کو سنوں ۔۔۔ آپ کو دیکھتی رہوں لیکن آپ ہیں کہ نہ ہی مجھ سے بات کرتے ہیں نہ ہی مجھے خود کو دیکھنے دیتے ہیں ۔۔۔ پتہ نہیں یہ کیسا جزبہ ہے میں سمجھ نہیں پا رہی ہوں پر جو بھی ہے نہ جانے کیوں میرا دل اسی طرح آپ کے حصار میں قید ہونے کی تمنا کرنے لگا ہے مجھے اچھا لگتا ہے جب سب مجھے احتشام کی بیوی کہ کر پکارتے ہیں ایمان اسے تکتی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی احتشام نے کروٹ بدلی تو اس کا خمار بھی ٹوٹا تھا وہ تیزی سے بیڈ سے اتری تھی کہ کہیں وہ کھڑوس جاگ ہی نہ جائے بیڈ سے اتر کر اس نے جلدی سے احتشام کی بنائی ہوئی دیوار ٹھیک کی تا کہ اسے پتہ نہ چلے کہ وہ دونوں اتنے قریب تھے اور پھرتی سے باتھ روم میں گھس گئی نماز کا وقت نکل رہا تھا “-
” کچھ دیر میں وہ وضو کر کے باہر آئی جانماز بچھا کر نماز ادا کرنے لگی دل تو کر رہا تھا اپنے شوہر کو بھی جگائے وہ دونوں مل کر اللہ کی بارہ گاہ میں سجدہ ریز ہوں آج پہلی بار وہ دونوں ایک چھت کے نیچے موجود تھے بے شک فاصلے بہت تھے تو کیا ہوا ایمان کو اللہ تعالیٰ کی زات سے امید تھی کہ ایک دن ان کے فاصلے بھی سمٹ ہی جائیں گے لیکن
احتشام کی بیگانی پر ہمت نہیں ہورہی تھی کہ اس اٹھا سکے ۔۔۔ اس نے نماز ادا کر کے اللہ سے اپنے اور شوہر کے لیے ڈھیروں دعائیں مانگیں پھر اٹھ کر اپنا فون لیئے کمرے میں رکھی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی اونلائن قرآن پاک سیکھنا شروع ہوگئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ کمرے سے نکل کر لاؤنج کی طرف بڑھی تو کچن سے ماریہ کی آوازیں آ رہی تھی ایمان بھی وہیں چل دی “-
” اسلام وعلیکم !! ایمان نے کچن میں داخل ہو کر کہا وہاں زیبا ناشتہ بنا رہی تھی ماریہ بھی اس کے ساتھ مدد کروارہی تھی ایک بات ایمان نے نوٹس کی تھی ماریہ صبح سویرے اٹھنے کی عادی تھی “-
” وعلیکم السلام !!! ان دونوں مسکرا کر اسے جواب دیا”-
“آئیے آئیے دیورانی جی ۔۔۔ ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو زیبا نے دل سے ایمان کی تعریف گلابی رنگ کے ہلکی سی کڑھائی والے جوڑے میں ہم رنگ دوپٹہ سر پر ٹکائے ہاتھوں میں گلابی رنگ کی ہی چوڑیاں پہنے ہلکی سے لپ گلوز لگائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی گلابی رنگ میں اس کی صاف رنگت مزید نکھر رہی تھی ۔۔۔ رات فرزانہ بیگم کی بات پر عمل کرتے ہوئے وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی تھی تاکہ انہیں مزید کوئی بات کہنے کا موقع نہ ملے “-
“آپ کے سائیں تو آج فدا ہو رہے ہونگے بیگم پر ؟؟ زیبا نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔ لیکن وہ تو سائیں لفظ پر ہی اٹک گئی تھی “-
” سائیں مطلب شوہر ماریہ نے اس کی کنفیوژن دور کی “-
” نہیں بھابھی وہ ابھی سو رہے ہیں “-
” اٹھایا نہیں تم نے ؟ خیر اچھا کیا سونے دو ابھی جب ناشتہ بن جائیگا پھر اٹھا دینا ابھی نیند پوری کرنے دو ۔۔ ورنہ بنا ناشتے کے ہی ہسپتال کے چکروں میں بھوکا ہی نکل جائے گا پھر شام کو لوٹے گا ۔۔ زیبا پراٹھا بناتی ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔۔ آجاؤ ایمان احمد کے لیے اس کے من پسند پراٹھے بنا لو اب تو اسے تمھارے ہاتھ کے کھانے کی عادت ہو گئی ہوگی “-
” مجھے کھانا پکانا نہیں آتا ۔۔۔ ایمان کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی “-
” کوئی بات نہیں ہم تمھیں سیکھا دیں گے ۔۔۔۔ اگر تم سیکھنا چاہو تو “-
“سچی بھابھی !! آپ مجھے سکھائیں گی اس کی آنکھیں چمکنے لگیں “-
“ہاں کیوں نہیں زیبا خوش دلی سے کہا …. ایسا کرتے ابھی کھیر بناتے ہیں ۔۔۔ ہم تمھیں بتاتے ہیں تم بنانا ۔۔۔ اسی بہانے تمھارے کھیر چلائی کی رسم بھی ہوجائے گی ۔۔۔کیوں ماریہ تم کیا کہتی ہوں ؟ “-
” جی بھابھی یہ تو بہت اچھا آئیڈیا ہے ۔۔۔ ماریہ کو اس کا آئیڈیا بہترین لگا “-
“چلیے دیورانی جی شروع ہو جائیے ۔۔۔ پہلے دودھ ابالنا ہے پھر اس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زیبا اس بتانے لگی تو ایمان نے بھی پوری توجہ سے کھیر بنانے لگی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ماریہ ایک بات پوچھوں ؟؟ زیبا نے ساتھ کھڑی ماریہ سے پوچھا اس وقت وہ دونوں ڈائنگ ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھیں کھیر بن چکی تھی ایمان کو ان لوگوں نے احتشام کو اٹھانے بھیج دیا تھا نہ جانے کیوں وہ ابھی تک اٹھا نہیں تھا وہ سویرے اٹھنے کا عادی تھا آج پتہ نہیں کیوں اتنا سو رہا تھا “-
” جی بھابھی پوچھیں … ماریہ میں نے ایسا محسوس کیا ہے جیسے ایمان ہمارے رہن سہن کے بارے بلکل بھی نہیں جانتی نہ ہی اسے رسموں کا پتہ ہے نہ ہی وہ یہ جانتی ہے شادی کے بعد لڑکیاں کس طرح سسرال میں رہتے ہیں جبکہ آج کل ہر لڑکی یہ بات جانتی ہے ۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ہمارے ماحول سے ہی نہیں ہو ۔۔۔اور پھر اچانک احمد کا نکاح کر لینا جب کہ ہم سے سب جانتے ہیں اس کے ماضی کو کہ وہ ایسا کچھ نہیں چاہتا پھر کیسے ایمان سے نکاح کیسے ؟ ۔۔۔ یہ سب باتیں مجھے تھوڑی عجیب سی لگ رہی ہیں ۔۔۔ شمشیر ملک نے ان لوگوں صرف نکاح کا بتایا تھا وجہ جاننے میں کسی نے کوئی دلچسپی نہیں لی سجاول ملک کو بھی صرف اس بات پر غصہ آیا تھا کہ احمد نے ان سے اجازت کیوں نہیں لی ۔۔۔۔ باقی ان لوگوں کی بلا سے وہ کچھ بھی کرے انہیں کیا “-
” جی بھابھی آپ جو محسوس کر رہی ہیں ویسا ہی ہے ایمان ہمارے ماحول سے نہیں ہے نہ ہی یہ نکاح بھیا کی دلی خواہش سے ہوا ہے بلکہ ۔۔۔۔۔۔ ماریہ نے زیبا کو اب تک کی ساری باتیں سرسری سے انداز میں بتائیں ۔۔۔ بھابھی ایمان اچھی لڑکی ہے میں اسے بہت اچھی طرح جانتی ہوں وہ ہی بھیا کو سنبھال سکتی ہے کیونکہ آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں بھیا اس حادثے کے بعد سے کتنا غصہ کرنے لگے ہیں ۔۔۔ انہیں صرف ایمان جیسی نرم مزاج سلجھی ہوئی لڑکی سمجھ سکتی ہے ۔۔۔ لیکن فلحال وہ دونوں ایک دوسرے سے بہت دور ہیں ۔۔۔ کیا آپ دونوں کو قریب لانے میں میری مدد کرینگی ؟ ماریہ جانتی تھی زیبا کا اپنا کوئی بھائی نہیں تھا وہ احتشام کو ہی اپنا سگا بھائی مانتی تھی “-
” ضرور کرونگی میں تو خود یہی چاہتی ہوں میرا بھائی بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھے خوش رہے ۔۔۔۔ دادا سائیں اور باقی گھر والوں کو آتے دیکھ کر وہ دونوں خاموش ہو گئیں “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان آئی تو اسے جگانے کے لیے تھی لیکن اب پھنس گئی تھی کہ اسے کیسے جگائے ۔۔۔ امممم کیا بول کر اٹھاؤں !!! نام لے لیتی ہوں ۔۔۔ نہیں اف میرے اللہ ایک تو یہ انسان اتنا کھڑوس ہے دیکھتا بھی ہے تو لگتا ہے آنکھوں سے ہی نگل جائے گا ۔۔۔ چل ایمان بیٹا اٹھانا تو پڑیگا …. سنیے سب آپ کو ناشتے کے لیے بلا رہی ہیں اٹھ جائیے وہ بیڈ سے کچھ فاصلے پر کھڑی دھیمی آواز میں اسے جگانے لگی ۔۔۔ احتشام اٹھ جائیں … احتشام ایمان پہلے تو سنیے پھر کئی بار اس کا نام لے کر بھی پکارہ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا ایک بات تو ایمان کو اچھی طرح سمجھ آ گئی تھی اس کی نیند بہت گہری تھی ۔۔۔ ایسا لگ رہا ہے نیند کی گولیاں کہا کر سوئے ہیں ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔۔۔ احتشام اٹھ جائیں !!! اس مرتبہ ایمان نے اس کا بازو پکڑ زور سے جھنجھوڑا تو احتشام ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا “-
” یہ کیا طریقہ ہے جگانے ؟؟ اس طرح اٹھاتے ہیں کسی کو ؟؟ وہ اپنے سامنے ایمان کو دیکھ کر غصے سے غرایا آنکھوں میں سرخ ڈورے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ بہت گہری نیند سے جاگا ہے “-
” کب سے آپ کو آوازیں دے رہی تھی آپ سن ہی نہیں رہے تھے وہ منمنائی “-
” کس کو موت پڑی ہے جو تم صبح ہی صبح آفت کی طرح میرے سر پر سوار ہو گئی ہو ؟ وہ بھڑک اٹھا تھا “-
” نو بج گئے ہیں سب آپ کو ناشتے کے لیے بلا رہے ہیں اس کے غصے سے وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹ کر بتانے لگی “-
” کیا ؟؟ نو بج گئے ہیں ؟ احتشام نے گھڑی پر نگاہ ڈالی ۔۔۔ میں اتنی دیر تک سوتا رہا وہ کمبل ہٹاتا اٹھ گیا پیروں میں چپل ارسٹتے باتھروم کا رخ کیا “-
” آج میں احتشام کے لیے کپڑے نکالتی ہوں ۔۔۔ ایمان نے اپنی مرضی سے اس کے لیے کپڑے نکال کر رکھے احتشام فریش ہو کر آیا اپنے کپڑے نکلے دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔ یہ تم نے کس کی مرضی سے میری چیزوں کو ہاتھ لگایا ؟”-
” دیر ہو رہی اسی لیے آپ کی مدد کرنے کی کوشش کری ہے “-
” کوئی ضرورت نہیں مجھے کسی کی مدد کی میں اپنے کام خود سے کر سکتا ہوں آئندہ زحمت کرنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے احتشام نے اس کے نکالے کپڑے واپس رکھ کر دوسرے نکال لیئے اس کی اس حرکت پر ایمان کا دل دکھا تھا وہ بنا کچھ کہے کمرے سے چلی گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” دادا سائیں آج ایمان نے کھیر بنائی ہے ۔۔۔۔ چکھ کر بتائیں کیسی بنی ہے سب ناشتے میں مصروف تھے جب زیبا نے دادا سائیں کے آگے کھیر کا پیالہ رکھ کر کہا پھر باقی گھر والوں کے آگے بھی کھیر کے پیالے رکھے”-
” ہممم بہت مزیدار ہے !! شمشیر ملک نے چمچہ بھر کھیر کھانے کے بعد تعریف کی سب نے کھیر چکھی کھیر واقعی مزیدار بنی تھی ۔۔۔ اتنی اچھی کھیر بنانے پر نیگ تو بنتا ہے دادا سائیں مسکرا کر اپنی کرسی سے اٹھے “-
” بابا سائیں آپ کہاں جا رہے ہیں ناشتہ تو کرئیے سجاول ملک انہیں کمرے کی جانب بڑھتا دیکھ کر پوچھ اٹھے ۔۔۔۔ زرا ٹھرو ہم ابھی آتے ہیں دادا سائیں اپنے کمرے میں گئے چند منٹوں میں واپس آئے ان کے ہاتھ میں ایک مخملی ڈبہ تھا “-
” یہ لو ایمان بیٹی یہ تمھارا نیگ ہے ۔۔۔۔ یہ ہم نے تمھاری دادی کو منہ دکھائی میں دیا تھا ان کے مرنے کے بعد سے ہمارے پاس ہی رکھا ہوا تھا آج سے یہ تمھارا ہوا ۔۔۔ دادا سائیں نے وہ مخملی ڈبہ کھول کر ایمان کی طرف بڑھایا اس ڈبے میں ایک خوبصورت سا بریسلیٹ تھا ایمان نے کچھ توقف کے بعد مسکرا کر تھام لیا ۔۔۔۔ خوش رہو !! دادا سائیں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی پھر دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے “-
” واہ ایمان یہ بریسلیٹ تو بہت پیارا ۔۔۔ زرا پہن کر دکھاؤ کیسا لگ رہا ہے ۔۔۔ بلکہ ایسا کرو احمد تم پہنا دو ایمان خود سے کیسے پہن سکے گی ۔۔۔ زیبا نے جان بوجھ کر احتشام کو بولا “-
” بھابھی میں کیسے ؟ وہ ہچکچایا جب کہ ایمان لاپروا سی اپنی پلیٹ کو گھور رہی تھی ابھی کچھ دیر پہلے احتشام نے اس کے ہاتھ کے نکلے کپڑے تو پہنے نہیں تھے وہ کیا اسے بریسلیٹ پہنائے گا وہ تلخی سی سوچنے لگی “-
” اف ہو بھیا آپ ہی بھابھی کے برابر میں ہیں تو آپ ہی پہنائے گے نہ بریسلیٹ خود سے نہیں پہنا جا سکتا ۔۔۔ اب پہنا بھی دیں آپ ہی کی بیگم ہیں ۔۔۔ ہمیں دیکھنا ہے … وہ ماریہ کو گھور رہا تھا لیکن پھر بھی اس کی زبان چلے ہی جا رہی تھی ۔۔۔ سب کی نظریں خود پر محسوس کر کے اس نے ڈبہ سے بریسلیٹ نکالا اور ٹیبل پر رکھا ایمان کے چوڑیوں بھرا ہاتھ تھام کر اس میں بریسلٹ پہنایا ۔۔۔ ایمان تو اس کے ہاتھ پکڑنے پر بری طرح سٹپٹائی دل میں خوشی کی لہر دور گئی اس کے صبح والے رویے کا اثر بھی زائل ہوگیا “-
” یہ کیا بے ہودگی مچا رکھی ہے تم لوگوں نے ۔۔۔۔ زیبا تم بھی اپنی تہزیب بھول رہی ہو تمھیں زرا لحاظ نہیں رہا کہ یہاں بابا سائیں کے علاوہ تمھارے سسر اور دلاور بھی موجود ہیں فرزانہ بیگم جو کب سے یہ سب دیکھ رہی تھیں کر رہی تھیں آخر بول ہی پڑیں ۔۔۔ یہ سب چونچلے کمروں میں ہی اچھے لگتے ہیں وہیں تک محدود رکھنے چاہیے نہ کے گھر والوں کے سامنے اپنی بے شرمی دکھانا شروع ہوجائیں ان کا طنز احتشام نے بخوبی محسوس کیا تھا “-
” ماں احمد نے صرف بریسلیٹ ہی پہنایا ہے اس میں بے شرمی والی تو کوئی بات نہیں ہے زیبا کو ان کا بلا وجہ بات کا بتنگڑ بنانا برا لگا تو اس نے احتجاج کیا “-
“تم چپ کرو تمھیں کیا پتہ ہمارے وقت میں تو بیویاں گھر والوں کے سامنے شوہروں کے ساتھ بیٹھتی بھی نہیں تھیں اور اب شہری لڑکیوں کو دیکھو کوئی شرم و لحاظ ہی نہیں رہا ۔۔۔۔ فرازنہ بیگم کی توپوں کا رخ ایمان کی جانب ہو گیا ایمان بچاری تو حیران ہی ہو گئی ان سب میں اس کیا قصور تھا “-
” ارے بہو بچے ہیں کچھ نہیں ہوتا وہ دور اور تھا اب کے کا دور اور ہے ۔۔۔۔ تم ناشتہ کرو دادا سائیں نے انہیں ٹھنڈا کرنا چاہا “-
” سجاول ایمان بیٹی نے اتنی اچھی کھیر بنائی ہے تم اس کے سسر ہو تم بھی بہو کو نیگ دو ۔۔۔۔ یہی تو چھوٹی چھوٹی رسمیں ہوتی ہیں جن سے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ۔۔۔۔۔ دادا سائیں کے بولنے پر سجاول ملک نے اپنی جیب سے ہزار ہزار کے کے چند نوٹ نکال کر ایمان کو دیے “-
” سائیں آپ بھی ایمان کو نیگ دیں نہ آپ جیٹھ ہیں اس کے ایسے اچھا نہیں لگے گا زیبا نے دلاور کے قریب ہو کر آہستہ آواز میں کہا ۔۔۔ اس کی بات سن کر دلاور نے بھی ایمان کو نیگ دیا “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial