قسط: 14
” سرخ رنگ کی کڑھائی والی پیروں تک آتی فراک میں نفاست سے کیے گئے میک اپ اور کھلے بالوں نے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دئیے تھے سرخ رنگ میں اس کی شفاف رنگت مزید نکھری نکھری نظر آ رہی تھی “-
” ایمان تمھارا میک اپ مکمل ہوگیا ہے بس زیورات پہنانے ہیں پھر میں دوپٹہ سیٹ کر دونگی ۔۔۔۔ تم ایسا کرو زیور پہن لو تب تک میں پارس ( زیبا کی بیٹی) کو دیکھ کر آتی ہو اس نے دلاور سائیں کو بہت پریشان کر دیا ہے اتنی دیر وہ کسی کے پاس نہیں رہتی ۔۔۔۔ زیبا پریشان ہو رہی تھی اسے ابھی خود بھی تیار ہونا تھا ۔۔۔۔ ماریہ بھی ابھی ابھی تیار ہونے کے لیے گئی تھی ۔۔۔۔ زمینوں سے آ کر ان دونوں نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر ظہر کی نماز پڑھ کر کے آرام کی غرض سے لیٹیں تو تھکن کی وجہ نیند آ گئی عصر کے وقت زیبا نے ہی ان دونوں کو بمشکل جاگایا کیونکہ مہندی لگانے کے لیے گاؤں کی لڑکی آ چکی تھی جسے فرزانہ بیگم نے بلوایا تھا ماں بیگم کے احتشام سے لاکھ اختلافات تھے لیکن تقریب کی تیاری میں انہوں نے کوئی کمی نہیں تھی کیونکہ یہاں بات ان کے خاندان کی عزت کی تھی جس پر وہ بلکل آنچ نہیں آنے دینا چاہتیں تھیں “-
” لیکن بھابھی میری نیل پینٹ خراب ہو جائے گی !!! ۔۔۔ وہ منہ سے پھونک مار کر سکھانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی جو ابھی ابھی ماریہ لگا کر گئی تھی “-
” بھابھی ماں بیگم ایمان بھابھی کو بلوا رہی ہیں مہمان آ گئے ہیں ۔۔۔۔ ملازمہ نے آ کر ان دونوں کو بتایا تو وہ مزید پریشان ہونے لگیں دلاور بھی دو تین بار ملازم بھیج چکا تھا زیبا کو بلوانے کے لیے وہ شدید الجھن کا شکار ہو رہی تھی صبح سے وہ تیاریوں میں گھن چکر بنی ہوئی تھی ایک طرف بچی اور اس کی خود کی تیاری تو دوسری طرف ایمان کے لیے ماں بیگم کا بلاوا زیبا کا تو سر ہی چکرانے لگا تھا “-
” احمد اچھا ہوا تم آگئے ۔۔۔۔ اب جلدی سے میری مدد کرو ۔۔۔ زیبا احتشام کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر بولی جو خود بھی ابھی باہر سے ہی تھکا ہوا آیا تھا “-
” میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟ احتشام اپنی شرٹ کے کف فولڈ کرتا ہوا الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگا “-
” ابھی تم یہ سب چھوڑو بعد میں کر لینا ابھی تم ادھر آؤ !!! زیبا نے اس کا ہاتھ پکڑ الماری سے باہر نکالا اور اپنے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس لے آئی ۔۔۔ اپنی بیگم کو جیولری پہنے میں مدد کر دو !!! احتشام کو خود کو سوالیہ نظروں سے دیکھتا پا کر زیبا نے کہا “-
” بھابھی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ؟ زیبا کی بات اسے انتہائی فضول لگی ۔۔۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں مجھے فریش ہونا ہے آپ لوگ اپنے کام خود کریں اس نے ایک نظر بھی ایمان کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی دوبارہ الماری کی طرف بڑھنے لگا زیبا نے اس کے رستے میں حائل ہو کر اسے روکا “-
” احمد پلیز میرے پیارے بھائی ۔۔۔ سائیں مجھے بار بار بلوا رہے ہیں پارس رو رہی ہے مجھے خود بھی تیار ہونا ہے ماں بیگم بھی بار بار ایمان کو بلوا رہی ہیں مہمان آنے شروع ہوگئے ہیں ۔۔۔۔ پلیز میری مدد کر دو “-
” بھابھی آپ ماریہ کو بول دیں وہ کر دے گی ۔۔۔ وہ کسی صورت تیار نہیں تھا “-
” ماریہ ہوتی تو میں تمھیں کبھی نہ بولتی وہ ابھی ابھی تیار ہونے گئی ہے”-
” ہنہ لوگوں کے شوہر ترستے ہیں ایسے موقعوں کے لیے اور ایک میرے مسٹر شوہر ہیں کھڑوس کہیں کے ۔۔۔ ہائے اللہ کون ہوتی ہیں وہ اتنی خوش قسمت لڑکیاں جن کے شوہر بیوی پر دل و جان سے فدا ہوتے ہیں اسے زیبا کو مسلسل انکار کرتے دیکھ کر ایمان دل ہی دل میں خود سے بڑبڑانے لگی “-
” بھابھی جیولری ہی تو پہننی ہے یہ خود بھی پہن سکتی ہے اس نے شیشے سے نظر آتے ایمان کی طرف اشارہ کیا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی “-
” تمھاری بیگم نے نیل پالش لگا رکھی ہے خراب ہو جائے گی ۔۔۔ احمد پلیز اگر اتنی دیر نہ ہوئی ہوتی تو میں تمھیں کبھی پریشان کرتی !! پلیز میرے پیارے بھائی زیبا تھک ہار کر منت سماجت پر اتر آئی اس سے پہلے احتشام مزید کسی کا نام لے کر انکار کرتا ملازمہ روتی ہوئی پارس کو لے آئی جو رو رو کر اپنا حال بے حال کر چکی تھی زیبا نے بچی کو گود میں لیا ۔۔۔ احمد اب تم ایمان کو تیاری میں مدد کرو ماریہ ابھی آتی ہی ہوگی پھر وہ سنبھال لے گی زیبا اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر تھپکتے ہوئے احتشام کو بول کر ملازمہ کو ساتھ لے کر چلی گئی پیچھے وہ دونوں اکیلے رہ گئے “-
” احتشام قدم قدم چلتا آئینے کے سامنے ایمان کے بلکل پیچھے آ کر رکا شیشے سے نظر آتی ایمان کو دیکھا تو نظریں ہٹانا ہی بھول گیا اس نے آج پہلی بار ایمان کو غور سے دیکھا تھا گورا رنگ بڑی بڑی آنکھیں ، سرخ لپسٹک سے پوشیدہ ہونٹ ، گھنی پلکیں بلاشبہ وہ خوبصورت شاہکار تھی وہ بے خود سا اسے تکنے لگا وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی اوپر سے تھی بھی اس کے نکاح میں کیسے ممکن تھا وہ جائز رشتہ ہوتے ہوئے اس کی طرف مائل نہ ہوتا ۔۔۔۔ اس کی خاموشی محسوس کر کے ایمان نے سر اٹھا کر شیشے میں دیکھا دونوں کی نظریں ملیں اس کے دیکھنے کا انداز ایسا تھا کہ ایمان نے فوراً نظریں جھکالیں دل زور زور سے دھڑکنے لگا ایسا محسوس ہونے لگا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا ۔۔۔۔ چند لمحے یونہی گزر گئے تو ایمان کی آواز نے ماحول پر چھایا سکوت توڑا “-
” مجھے پتہ ہے میں بہت پیاری لگ رہی ہوں اب دیکھتے ہی رہینگے کیا !!! جلدی میری ہیلپ کریں دیر ہو رہی ہے !!! وہ اسے بت بنے کھڑا دیکھ گویا ہوئی”-
” چھوٹی سی لڑکی تمھاری زبان کچھ زیادہ ہی نہیں چلتی !! اتنی جلدی ہے تو خود ہی کر لو میں جا رہا ہوں وہ تنک کر بولتا جانے کے لیے مڑنے لگا ہی تھا کہ ایمان نے اس کا ہاتھ تھام لیا”-
” اچھا اچھا میں اب کچھ نہیں بولوں گی ایمان نے اس کا ہاتھ پکڑے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی ہونٹوں پر رکھ کر معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی ہو بولی !!! “-
“پلیز ہیلپ می !!! “-
” احتشام نے نہ محسوس انداز میں اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر ہاتھ بڑھا ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ڈبے سے ہار اٹھایا ایک ہاتھ سے ایمان کے بالوں کو گردن سے ہٹا کر دائیں کندھے پر رکھا اس کے ہاتھ کی ٹھنڈک اپنی گردن پر محسوس کر کے ایمان نے جھرجھری لی ۔۔۔۔ احتشام جھک کر ہار کا ہک بند کرنے لگا اس کی سانسوں کی گرمائش کو محسوس کر کے ایمان نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ ایمان کے بالوں سے آتی شیمپو کی دل فریب خوشبو احتشام کے حواسوں پر طاری ہو رہی تھی احتشام نے ایک نظر آئینے میں دیکھا لیکن اس میں نظر آتے ہنستے مسکراتے ہوئے عکس پر وہ ٹھٹھک گیا وہ چہرہ جو اس کے درد ناک ماضی کا حصہ تھا شیشے میں اس کے ساتھ کھڑا نظر آ رہا تھا اس کے ہاتھ سے ہار چھوٹ کر ایمان کی جھولی میں جا گرا ۔۔۔ ہار کے گرنے سے ایمان نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں “-
” مجھے نہیں آتا یہ سب خود پہن لو ۔۔۔۔ اس کے چہرے کے تاثرات حد درجے تک سنجیدہ ہو چکے تھے مزید کچھ کہے اور سنے بغیر وہ اپنے کپڑے لیتا باتھروم میں بند ہو گیا ۔۔۔۔ ایمان کو اس کا اچانک سے بدلتا رویہ سجھ نہیں آیا احتشام کا رویہ اس کا دل دکھا رہا تھا ابھی بھی اس کی حرکت سے اس کے اندر کچھ ٹوٹا تھا وہ خاموشی سے باتھروم کے بند دروازے کو تکنے لگی”-
” ایمی تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ماریہ کمرے داخل ہو کر اسے اکیلے گم سم بیٹھے دیکھ کر حیرت سے بولی “-
” بس جیولری رہتی ہے ۔۔۔۔ ایمان چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا کر بولی تا کہ ماریہ کو پتہ نہ چلے کہ وہ اداس ہو گئی ہے “-
” ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔ اسے جیولری پہنانے کے بعد اس کے سر پر دوپٹہ اوڑھا کر ماریہ نے اس کے گالوں سے اپنے چہرے سے مس کرتے ہوئے کہا “-
” تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو ماری ۔۔ “-
” شکریہ !! چلو ایمی اب چلتے ہیں اس سے پہلے فرازنہ آنٹی جلاد بن کر ہمیں سولی پر ٹانگ دیں ماریہ اسے ساتھ لیتی کمرے سے باہر نکل گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” تقریب اپنے عروج پر تھی یہ ایک چھوٹی سی تقریب تھی جس میں خاندان کے لوگ ، قریبی رشتے دار ، اور گاؤں کی چند خواتین تھیں ایمان ان سب لوگوں میں بیٹھی ہوئی تھی خواتین باری باری آ کر اس کے سر پر پیسے نچھاور کرتیں اور اسے تحفے دے کر جا رہی تھیں ماں بیگم اس کے آس پاس تھی زیبا کو انہوں نے مہمانوں کی خاطر تواضع میں لگایا ہوا تھا ، ماریہ کبھی زیبا کی مدد کرتی تو کبھی ایمان کے پاس آ جاتی ابھی بھی وہ ایمان کو ملنے والے تحائف میز پر رکھ رہی تھی جب ایک ادھیڑ عمر خاتون نے اسے آواز دی”-
” سنو بیٹی !!! “-
” اسلام وعلیکم !!! جی آنٹی .. ماریہ ان کے پاس آئی اور انہیں سلام کیا “-
“وعلیکم اسلام !! بیٹا مجھے پانی لادو !! “-
” جی میں لا دیتی ہوں وہ بول کر آگے بڑھنے لگی جب ایک جانی پہچانی آواز سن کر رک گئی “-
” یہ لیں امی پانی !!! وہ شخص اس کے بھیا کا دوست شہرام تھا “-
” ارے سنو بیٹی رہنے دو میرا بیٹا پانی لے آیا ۔۔۔۔ شہرام کی والدہ نے مسکرا اسے منا کیا تو وہ پلٹ کر جانے لگی ۔۔۔ رکو !!! تم عاتکہ کی بیٹی ہو نا ؟؟ انہوں نے غور سے اسے دیکھتے ہوئے پہچانے کی کوشش کی “-
” جی میں عاتکہ کی بیٹی ہوں “-
” کیا نام تھا تمھارا ؟؟؟ امممم انہوں نے اپنے ذہن پر زور ڈالا “-
” ماریہ ۔۔۔۔ انہیں اپنے ذہن پر زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑی ماریہ نے خود ہی بتا دیا “-
” ہاں ماریہ ۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ بہت ہی پیاری ہو گئی ہو بلکل اپنی ماں پر گئی ہو ۔۔۔ ہو بہو عاتکہ ہو ۔۔۔۔ چار سال پہلے دیکھا تھا تمھیں تب تو بہت چھوٹی نظر آتی تھی ۔۔۔۔ان کی بات پر ماریہ ہنسی وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں ان چار سالوں میں ہی اس کی نشونما اچھی ہوئی تھی ورنہ تو وہ بچی لگتی تھی “-
” کہیں رشتہ ہوا ہے تمھارا ؟؟؟ ۔۔۔۔ مطلب منگنی یا کہیں بات چل رہی ہو یا پھر کسی کو پسند کرتی ہو ؟؟ ان کے سوال پر جہاں ماریہ چونکی تھی وہیں شہرام نے انہیں ٹوکا “-
” امی آپ کس طرح کے سوال کر رہی ہیں ؟؟ تم چپ کر کے کھڑے رہو میں نے ماریہ بیٹی سے پوچھا ہے ۔۔۔ تم بتاؤ ماریہ !! شہرام کو جھڑک کر انہوں نے دوبارہ ماریہ سے پوچھا ان کی حرکت پر اس نے لب دبا کر مسکراہٹ روکی جبکہ شہرام شرمندہ ہو گیا “-
” نہیں آنٹی فلحال ایسا کوئی سین نہیں ہے “-
” شکر ہے !! خدا کا وہ ہاتھ اٹھا کر منہ ہی منہ میں بولنے لگیں “-
” آپ نے کچھ کہا آنٹی !! ماریہ ان کی بڑبڑاہٹ سمجھ نہ سکی “-
” ماریہ !!! ادھر آنا زرا ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ مزید ماریہ سے کوئی سوال پوچھتی یا کچھ بولتیں زیبا کے بلانے پر ماریہ وہاں سے چلی گئی اس کے جانے پر شہرام نے سکھ کا سانس لیا”-
” امی کیا ہے آپ کو جہاں جاتی ہیں لڑکیوں کو روک کر ایسے ہی سوال پوچھنے لگتی ہیں حد ہوتی ہے شہرام تنک کر بولا وہ جب بھی کسی شادی یا تقریب میں جاتیں جو لڑکی انہیں سب سے اچھی لگتی اس سے اسی طرح بائیو ڈیٹا لینے لگتی بعد میں جب پتہ چلتا لڑکی تو پہلے ہی کسی رشتے میں ہے تو ان منہ اتر جاتا “-
” تم چپ کرو ۔۔۔ مجھے تمھارے لیے دلہن لانی ہے ۔۔۔ میں اکیلے رہ رہ کر تھک گئی ہوں مجھے ساس اور دادی بننے کا شوق ہے ۔۔۔ تم تو یہ خواہش پوری کرتے نہیں تو میں خود ہی اپنے لیے بہو ڈھونڈ رہی ہوں ۔۔۔ خبردار جو تم نے اس بار شادی کے لیے انکار کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔ ماریہ مجھے بہت اچھی لگی ہے تمھارے لیے بلکل مناسب رہے گی ، یہی تمھاری دلہن بنے گی بس !!!! “-
” یہ جملہ آپ ہر لڑکی کے لیے ہی بولتی ہیں شہرام نے اپنے ابلتے قہقہے کا گلا گھونٹا “-
” ہاں بولتی تھی لیکن تم میری بات لکھ لو ماریہ ہی کو تمھاری دلہن بناؤ گی ۔۔ اس کی نا تو منگنی ہوئی ہے نا کہیں بات چل رہی ہے اور نہیں وہ کسی کو پسند کرتی ہے باقیوں کے ساتھ یہ سارے مسئلے تھے اس کے ساتھ نہیں ہے یہ میری بہو بنے گی انشاء اللہ !!! “-
“وہ تو دیکھیں گے ۔۔۔ شہرام نے ان کی بات ہوا میں اڑائی “-
” دیکھیں گے نہیں ۔۔۔۔ تم دیکھو میں ابھی عاتکہ کے گھر کا پتہ لے کر آتی ہوں خود جاؤں گی رشتہ لے کر وہ پر جوش سی آگے بڑھیں “-
” امی امی !!! رکیں تو سہی بعد میں لے لینا ابھی تقریب چل رہی ہے ۔۔۔۔ شہری نے انہیں روکنا چاہا لیکن وہ سنی ان سنی کرتی چلی گئیں پیچھے وہ سر پکڑ کر رہ گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” رات کا جانے کونسا پہر تھا جب کمرے میں ہونے والی بڑبڑاہٹ سے اس کی نیند میں خلل ہوا ایمان نے زبردستی آنکھیں کھولیں کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی آواز اس کے برابر سے آ رہی تھی وہ پوری طرح جاگ گئی “-
” احتشام آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟ وہ زرا سا اس کے قریب ہوئی نہ وہ جانے نیند میں کیا بڑبڑا رہا تھا “-
” پلیز مجھے چھوڑ کر مت جاؤ !!! میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا وہ نیند میں سر کو دائیں بائیں جانب جنبش دے رہا تھا “-
” احتشام !! احتشام کیا ہوا آپ کو ؟؟ ایمان نے پریشانی سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے جھنجھوڑا ۔۔۔۔ شاید وہ کوئی برا خواب دیکھ رہا تھا “-
” حریم مجھے چھوڑ کر مت جاؤ !!! میں مر جاؤں گا پلیز مت جاؤ !!!! ۔۔۔۔۔ احتشام نے اس کا اپنے سینے پڑا ہاتھ پکڑ کر زور سے اپنی جانب کھینچا تو ایمان اس کے سینے سے آ لگی احتشام نے اسے زور سے خود میں بھینچ لیا جیسے وہ کہیں دور جا رہی ہو ۔۔۔۔ سوتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے “-
“حریم !!! ایمان کے ہونٹوں نے ہلکی سی سرگوشی کی ۔۔۔۔ اس کے منہ سے کسی حریم کا نام سن کر ایمان اس کی قربت کو بھی فراموش کر گئی …. وہ نیند میں مسلسل حریم کو پکار رہا تھا ۔۔۔ نیند میں بھی اس کی پکڑ اتنی مظبوط تھی کہ ایمان اس کے حصار کو توڑ نہیں پا رہی تھی “-
” احتشام آپ کو تو بہت تیز بخار ہے !!! احتشام کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانے کے لیے جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ کے اس کے ہاتھ پر رکھا تو محسوس ہوا اس کا جسم انگاروں کی طرح دہک رہا تھا ایمان ایک دم پریشان ہوئی عاتکہ نے اسے آگاہ بھی کیا تھا کہ وہ جلدی بیمار ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس کی پکڑ ہلکی ہوئی تو ایمان دور ہٹی وہ اب بھی مدہم آواز میں بڑبڑا رہا تھا لیکن بخار کی شدت کی وجہ سے غنودگی میں تھا ایمان سائیڈ لیمپ اون کر کے کمبل ہٹاتی بیڈ سے اتری ایک نگاہ اس نے گھڑی پر ڈالی جو ساڑھے تین بجا رہی تھی وہ کسی بلانے کی نیت سے دروازے کی جانب بڑھی لیکن اس وقت کسی کو بھی بلانا مناسب نہیں لگا وہ خود بھی تو اپنے شوہر کا خیال رکھ سکتی تھی اپنا ارادہ ترک کرتی وہ واپس آئی باتھروم کے نلکے سے پانی لا کر احتشام کے سرہانے بیٹھ کر اس نے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنا شروع کردی اسے یاد تھا جب بھی اسے شدید بخار ہوتا تھا ولما ایسا ہی کرتیں تھیں ۔۔۔ پٹیاں کرنے سے اس کا بخار کم ہونے لگا تھا”-
” اوآ ۔۔اوآ ۔۔۔ احتشام کو زور سے ابکائی آئی وہ خود پر سے کمبل ہٹاتا اٹھنے کی کوشش میں تھا لیکن اٹھ کر جا نہیں سکا اور وہیں بیڈ پر الٹیاں کرنا شروع ہو گیا ایمان کے لیے تو اب اصل امتحان تھا کسی کو الٹیاں کرتے دیکھ کر اسے بھی بری طرح الٹیاں آتی تھی وہ پریشان سی احتشام کو دیکھ رہی تھی جس کے پوری شڑٹ اور بیڈ کی چادر بری طرح خراب ہوچکی تھی وہ نڈھال سا الٹیاں کیے جا رہا تھا اپنی حالت کو پس پشت ڈالتی ایمان اس کی پشت سہلانے لگی ( نہ جانے یہ کونسا جذبہ تھا جس نے اسے خود کی حالت سے بھی لاپرواہ کر دیا تھا اسے بس احتشام کی فکر تھی ) “-
” احتشام آپ اٹھ کر کپڑے تبدیل کر لیں تب تک میں چادر بدل دیتی ہوں پھر آپ سو جائیے گا !!! “ایمان نے اس کا بازو پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ تو جیسے ہوش میں ہی نہیں تھا دوبارہ سونے لگا ۔۔۔ کئی بار بولنے کے با وجود وہ ٹس سے مس نہ ہوا “-
” مسٹر شوہر تنگ مت کریں !! اٹھیں ادھر سے پورا بیڈ گندہ ہو گیا ہے کہاں سوئیں گے آپ ؟ میں بیڈ شیٹ چینج کر دیتی ہوں پھر سو جائیے گا ایمان نے بمشکل اسے اٹھایا “-
” بیٹھیں !! زبردستی کرسی پر بٹھا کر اس نے بیڈ کی چادر تبدیل کی ۔۔۔۔۔ اب باری تھی احتشام کی شرٹ بدلنے کی اس کی شرٹ مکمل گندی تھی لیکن وہ ایک تو نیند کا بہت پکا تھا دوسرا اس وقت غنودگی میں تھا تو یہ کام بھی ایمان کو ہی کرنا تھا الماری سے لائی ایک سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ ہاتھ میں تھامیں وہ کشمکش کا شکار تھی “-
” احتشام کیا ہے آپ کو ؟؟ کیوں مجھے اتنا پریشان کر رہے ہیں !!! ۔۔۔۔ جیسے ہی اس کی شڑٹ کے بٹن کھولنے شروع کیے اس نے ایمان کا ہاتھ دور جھٹک دیا ۔۔۔۔ ایمان اب رونے کو تھی وہ بچوں کی طرح تنگ کر رہا تھا بار بار اس کے ہاتھوں کو جھٹک رہا تھا ۔۔۔ اس نے بڑی مشکل سے اس کی شرٹ تبدیل کرائی پھر احتشام کو زبردستی سہارا دیتے ہوئے اٹھا کر بیڈ پر لا کر لٹایا ، اسے کمبل اوڑھا کر گندے کپڑے وغیرہ سمیٹ کر وہ دوبارہ اس کے سرہانے بیٹھ گئی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا بخار میں کمی آ چکی تھی وہ پر سکون سا سو گیا تھا ۔۔۔۔ ایمان نے غور سے اسے دیکھا ماتھے پر بکھرے بال اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے اس کے دل میں ایک شدید خواہش جاگی اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتی وہ بے ساختہ اس کے چہرے پر جھکی اس کی پیشانی سے بال ہٹا کر وہاں اپنے لب رکھے ….. “میرے مسٹر کھڑوس شوہر” !!! اس چہرے سے سر اٹھا کر مسکرا کر زیر لب بولی … بیڈ پر رکھے اس کے ہاتھ کو تھام کر اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر دوسرے ہاتھ سے دونوں پر کمبل درست کرتی اس کے سر پر اپنی ٹھوڑی ٹکائے وہ حریم کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔ وہ جانتی اگر وہ جاگ گیا تو اسے اپنے قریب دیکھ کر شدید غصہ کرے گا لیکن اس کے غصے سے زیادہ ایمان کو اس وقت اس کی طبیعت کی پرواہ تھی فلحال وہ اس سے دور نہیں رہ سکتی تھی”-
” کون ہے یہ حریم ؟؟ احتشام کیوں اس کا نام لے رہے تھے ؟ کیا رشتہ ہے ان کا اس سے ؟؟ وہ کیوں اسے دور جانے سے روک رہے تھے اس طرح کے ڈھیروں سوالات اس کے زہن میں ابھرنے لگے ۔۔۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی نے جگہ لے لی تھی نا جانے کون تھی وہ ؟؟ جس کے لیے وہ تڑپ رہے تھے جو ان کے دل کے قریب تھی جس کے لیے ان کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے ہیں !!! وہ خود تو سکون سے سو گیا تھا لیکن اس کے پیچھے ایمان ضرور بے سکون ہو گئی تھی “-