حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 17

” صبح سے ہی گھر میں افراتفری کا ماحول تھا گھر میں کچھ دور کے رشتے دار بھی موجود تھے جن کے لیے ہر تھوڑی دیر بعد کھانا ، چائے وغیرہ انتظام پھر کپڑے استری کرنا اور بقیہ کاموں میں ہی دن گزرگیا شام کے چھ بجتے ہی سارے کام سمیٹتے ہوئے عاتکہ نے ان تینوں کو پالر کے لیے روانہ کر دیا مبشر حسین انہیں پالر چھوڑ کر آئے “-
” ماشاءاللہ !!!
” آپی آپ تو بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔ ثوبیہ کو مکمل تیار دیکھ کر اس نے دل سے تعریف کی ڈیپ ریڈ کلر کے شرارے میں ہیوی جیولری برائیڈل میک میں وہ جاذب نظر لگ رہی تھی “-
” ثوبیہ نے مسکرا کر خود سے چھوٹی ماریہ کو دیکھا جس نے نیوی بلو کلر کی نیٹ کی پیروں تک آتی گھیر والی فراک زیب تن کی تھی جس پر نیوی بلو کلر کے ستارے اور موتی کا انتہائی نفیس سا کام ہوا تھا بالوں کو اسٹائلش سے بنائے وہ بلکل پری لگ رہی تھی “-
” ان دونوں بہنوں کی تیاری مکمل ہو چکی بس انہیں ایمان کے آنے کا انتظار تھا جو دوسرے میک اپ روم میں تیار ہو رہی تھی “-
” کچھ دیر گزرنے کے بعد وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی میکسی اوپر اٹھاتے ہوئے سہج سہج کر چلتی ان دونوں کے پاس آئی “-
” گولڈن کلر کی میکسی میں ڈارک گرین کلر کا خوبصورت سا دوپٹہ جو پنوں کی مدد سے سر اور سینے پر نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا ،ہیوی میک, میچنگ جیولری کے ساتھ بالوں کو کرل کر کے دائیں کندھے پر کھلا چھوڑے وہ ہمیشہ کی طرح بے حد حسین لگ رہی تھی “-
” واؤ !!!
” ماریہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا جبکہ ثوبیہ کو اس کے حسن کے آگے اپنی خوبصورتی ماند لگی “-
“یہ ڈریس کہاں سے آئی تمھارے پاس ؟؟ ثوبیہ نے تیکھی نظروں سے اسے سر تا پا دیکھتے ہوئے سوال کیا “-
” وہ آپی ۔۔۔ یہ ساری چیزیں مجھے رات میں مسٹر شوہر نے دی ہے !! “
” ایمان نے شرماتے ہوئے بتایا ، اور دل ہی دل میں احتشام کی پسند کو داد دی ۔۔۔ وہ یہ سب دیکھ کر خود بھی بہت حیران ہوئی تھی نا جانے کیسے لیکن یہ ڈریس اسے بلکل فٹ آئی تھی جیسے اس کے لیے ہی بنی ہو اوپر سے اس کی میچنگ کی ہر ایک چیز بھی موجود تھی “-
” ایمی آج تو بھیا گئے !!!
” ماریہ نے اس کے کان میں گھس کر کہا جس پر ایمان مزید شرمانے لگی “
” ماریہ اگر تم دونوں کی فضول بکواس ہو گئی ہو تو بھیا کو فون کر دو !! میری کمر اکڑ گئی ہے بیٹھے بیٹھے !! ثوبیہ ماریہ کا جملہ سن چکی تھی اس لیے جل بھن کر بولی “-
” جی آپی میں کرتی ہوں فون !! “
ماریہ نے تاسف سے ایک نظر دلہن بنی اپنی بہن کو دیکھا ۔۔۔ خدا ہی جانے اسے ایمان سے کیا مسئلہ ہے ۔۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے احتشام کو کال ملانے لگی”-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ ابھی نہا کر ہی نکلا تھا جب اس کا فون بجنے لگا ماریہ کی کال آرہی تھی احتشام نے ٹاول سے بال رگڑتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے کال پک کی “-
” بھیا ہم لوگ تیار ہو چکے ہیں آپ جلدی سے لینے آ جائیں !!! “
ماریہ کال ریسیو ہوتے ہی بول پڑی “-
” ٹھیک ہے تم لوگ وہیں رہو میں تھوڑی میں آتا ہوں !!! “
” اس نے ماریہ کو کہہ کر کال کاٹی اور اپنے ہینگ کیے ہوئے کپڑے لے کر چینج کرنے چلا گیا “-
” بیس منٹ بعد وہ تیار ہو کر انہیں لینے کے لیے پالر پہنچ چکا تھا گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے وہ ان کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا “-
” تھوڑی دیر بعد وہ تینوں خود کو اچھی طرح چادر میں چھپائے باہر آئیں ماریہ نے ثوبیہ کا لہنگا سنبھالتے ہوئے اس گاڑی میں بیٹھنے میں مدد کی اور خود بھی اس کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئی ایمان خاموشی سے احتشام کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی ان کے بیٹھتے ہی احتشام نے گاڑی شادی حال کی طرف موڑ لی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” اسلام و علیکم !!! “
” عاتکہ مہمانوں سے مل رہیں تھیں جب شہرام کی والدہ نے پاس آ کر سلام کیا “-
” وعلیکم اسلام !!!
” ارے نسیمہ ( شہرام کی والدہ ) کیسی ہو تم !! “-
” الحمدللہ !!! اللہ کا کرم ہے تم سناؤ !!! نسیمہ گلے ملتے ہوئے بولیں “-
بہت اچھا لگا تم یہاں آئیں !! “
” عاتکہ انہیں کافی وقت بعد اس طرح اچانک دیکھ کر خوش دلی سے بولیں “-
” کیسے نہ آتی احمد نے اتنے پیار سے بلایا تھا شہرام کو !!! بچپن کے دوست ہیں دونوں ، یہ تو مجھے لانے کے لیے تیار ہی نہیں تھا میں ہی زبردستی چلی آئی “-
” ان کی صاف گوئی پر شہرام نے سر کھجایا نسیمہ واقعی میں زبردستی اس کے ساتھ آئیں تھیں وہ کافی دنوں سے بضد تھیں کہ وہ انہیں عاتکہ کے گھر لے جائے لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا مگر جیسے ہی آج انہیں پتہ چلا کہ وہ عاتکہ کی بیٹی کی شادی پر جا رہا ہے تو نسیمہ اس کے لاکھ منع کرنے پر بھی اس کے ساتھ چلی آئیں “-
” کیوں بھئی شہرام اپنی امی کو کیوں نہیں لاتے مجھ سے ملوانے کے لیے “-
” ایسی کوئی بات نہیں ہے خالہ بس مصروفیات ہوتی جس کی وجہ سے وقت نہیں ملتا وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔۔ساتھ ہی احتشام کو دیکھنے لگا جو اسے اسٹیج کے پاس کھڑا نظر آیا “-
” ٹھیک ہے امی آپ لوگ باتیں کریں میں احمد کے پاس جا رہا ہوں وہ انہیں چھوڑ کر چلا گیا “-
” ماریہ نہیں نظر آ رہی ؟؟ وہ آس پاس نظر دوڑاتی ہوئیں پوچھنے لگیں “-
“وہ ثوبیہ کے ساتھ اسٹیج پر ہے عاتکہ نے مسکرا کر بتایا”-
” ویسے عاتکہ بہت پیاری بیٹی ہے تمھاری !! بہت اچھی تربیت کی ہی تم نے !!! “
” شکریہ !!! ان کی تعریف پر دل سے شکریہ ادا کیا “-
“تم لوگ شادی سے فارغ ہو جاؤ پھر تمھاری طرف چکر لگاؤ گی میں ۔۔۔۔ انہوں نے سنسنی طور پر عاتکہ کے کان میں بات ڈالی “-
” عاتکہ ذرا ادھر آنا !! اس سے پہلے وہ کے وہ نسیمہ کو کچھ بولتی ان کی نند نے آواز دی جس پر عاتکہ انہیں بیٹھنے کا بول کر چلی گئیں “-
–––––––––––––––––––––––––––
” وہ اسٹیج سے نیچے تھوڑے فاصلے پر کھڑا کافی دیر سے اسٹیج پر ہونے والے شور شرابے کو ناگوار نظروں سے دیکھ رہا تھا جہاں سب جوتا چھپائی کی رسم کرنے میں مصروف تھے جس میں ماریہ کے ساتھ ایمان بھی پیش پیش تھی”-
” اب اس کی برداشت جواب دے چکی تھی ایک چوبیس پچیس سالہ لڑکا جو ایمان سے فاصلے پر کھڑا مسلسل ایمان کو گھور رہا تھا اس لڑکے کی نظروں سے بے پرواہ وہ مزے سے رسم دیکھ کر کھلکھلا رہی تھی ۔۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگا ہاتھوں کی مٹھی بنا کے اس نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا “-
” وہ لڑکا قدم قدم چلتا ایمان کے قریب جا رہا تھا اس سے پہلے کہہ وہ ایمان کے قریب پہنچتا احتشام اسٹیج کی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے لمحے میں ایمان تک پہنچا تھا احتشام کے آندھی طوفان کی طرح آنے کے باعث وہ لڑکا اس سے ٹکرا کر لڑکھڑاتے ہوئے زمین بوس ہو گیا “-
” اندھے ہو !!!
” وہ لڑکا دانتے پیستے ہوئے چیخا ۔۔۔۔ سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اسے زمین پر گرا دیکھ کر لوگوں کی کھی کھی بھی شروع ہو گئی وہ لڑکا جلدی سے کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوا “-
” احتشام نے لوگوں کی پرواہ کیے بغیر ایک ہاتھ ایمان کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کر کے وہاں موجود ہر شخص کو یہ باور کرا دیا کہ اس کے حصار میں کھڑی لڑکی کوئی عام نہیں بلکہ ملک احتشام احمد کی ملکیت ہے “-
“میں اندھا نہیں ہوں !! تمھیں دیکھا کر چلنا نہیں آتا شاید ۔۔۔۔ دوسری کی ملکیت پر نظر رکھ کر چلو گے تو اسی طرح منہ کے بل گرو گے !! احتشام نے ایک تیز نگاہ اس لڑکے پر ڈالتے ہوئے طنز کیا”-
” وہ لڑکا اپنی بے عزتی پر کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور کر تن فن کرتا خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا “-
“ہر کوئی ستائشی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا “-
” پرفیکٹ کپل !!
” میڈ فار ایچ ادھر !!
” آسمانی جوڑی !!
” اس طرح کی کئی اور سر گوشی ان دونوں با خوبی سنی تھی “-
” ایمان نے شرماتے ہوئے گردن موڑ کر اپنے “کھڑوس مسٹر شوہر” کو دیکھا جو لوگوں کے کمنٹس پر مسکرا رہا تھا مسکرانے سے اس کے گال میں ڈمپل ابھرا تھا جو اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہا تھا “-
” اف میرے خدا !! کہیں میں اندھی تو نہیں ہو گئی !! یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں ۔۔۔۔ یہ کھڑوس تو مسکراتے بھی ہیں !! ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں اس نے آج پہلی بار اپنے مسٹر شوہر کو مسکراتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔ ہائے اللہ !!! مسکراتے ہوئے کتنے پیارے لگ رہیں ہیں !!!! یااللہ میرے مسٹر شوہر کی مسکان اسی طرح ہمیشہ سلامت رکھ !!!
آمین !! “
” ایمان نے اپنے دل ہی دل میں دعا کی اور اس کے وجیہہ چہرے سے نگاہ ہٹا کر سر تا پیر اس کا جائزہ لیا بلو کلر کے پنٹ کوٹ میں وائٹ شرٹ ، کلائی میں سلور واچ ، بلیک شوز ، بالوں کو نفاست سے سیٹ کرے اپنی دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وہ کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا ایمان دل ہی دل میں اس کی نظر اتار لی “-
” تمھیں اگر مجھے دیکھنے سے فرصت ملے گئی ہو تو بتانا پسند کرو گی تم یہاں کیا کر رہی ہو !!
” احتشام اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس کے کان کے قریب زرا سا جھک کر بولا اس کی سخت گرفت پر ایمان کو اس کی انگلیاں کمر میں گھستی ہوئی محسوس ہوئی”-
“ایمان نے سٹپٹا کر اسے دیکھا بظاہر تو وہ سامنے دیکھ رہا تھا پھر اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ اسے ہی دیکھ رہی ہے “-
” میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے ؟؟ وہ اسے ہنوز خاموش کھڑا دیکھ اب کی بار باقاعدہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر بولا “-
” وہ میں یہ یونیک سی رسم دیکھ رہی تھی ماریہ کے ساتھ !!! اس کی آنکھوں میں سرد تاثر دیکھ کر ایمان تھوک نگلتے ہوئے ماریہ کا حوالہ دے کر منمائی”-
” ماریہ کا کزن ہے ثوبیہ کا شوہر اس لیے وہ یہ رسم کر رہی ہے !!! تمھارے کیا ماموں کا بیٹا ہے ؟؟؟ احتشام نے آنکھیں سکوڑ کر گھورا تو وہ جلدی سے نفی میں گردن ہلا گئی “-
” اب اگر میں نے کسی لڑکے کو تمھارے یا تمھیں کسی کے آس پاس دیکھا تو تمھاری ٹانگیں توڑ دونگا !!! وہ انگلی اٹھا کر تنبیہ کرتے ایک جھٹکے میں اس کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اسٹیج سے نیچے اتر گیا “-
” حد ہے !! آندھی طوفان کی طرح نازل ہوتے ہیں اور اسی طرح میرے دل میں طوفان مچا کر غائب ہو جاتے ہیں ، خود کو دیکھنے دیتے نہیں ہیں ، اب رسم بھی نہ دیکھوں میں ۔۔۔ وہ پر شوق نظروں سے رسم دیکھتی خود سے بڑبڑاتی ہوئی خود بھی اسٹیج سے نیچے اتر گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” احمد بس کر دے یار !!! اور کتنا نہارے گا تیری ہی ہے بھائی گھر جا کر فرصت سے بٹھا کر سکون سے دیدار یار کر لینا !!! “
” شہرام جو کب سے گاہے بگاہے اس کی نگاہ ایمان پر مرکوز دیکھ رہا تھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا !! آج چار سال بعد شہرام نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا ، چار سال بعد وہ اسے پہلے والا خوش مزاج احتشام محسوس ہو رہا تھا “-
“میں اسے نہیں دیکھ رہا !!! اپنی چوری پکڑی جانے پر وہ سرے سے ہی مکر گیا !! حالانکہ یہ سچ تھا وہ ایمان پر نظر گڑائے ہوئے تھا !!! ایمان کے لیے اس دل عجیب سے جذبات پیدا ہونے لگے تھے “-
” ہاں میں تو اندھا ہوں !! کب سے دیکھ رہا ہوں تو گھوم پر اپنی بیگم کو نظروں کے حصار میں رکھے ہوئے ہے ۔۔۔ اور تو اور ابھی تو نے اس لڑکے کی درگت بھی بنائی ہے جو تیری جانم کو دیکھ رہا تھا وہ بھی شہرام تھا اس کا بچپن کا یار “-
” تو اچھی طرح جانتا ہے شہری ۔۔۔ کوئی میری پرسنل پراپرٹی پر نظر رکھے یہ بات مجھے ہرگز برداشت نہیں ہے احتشام اس طرح دانت پیستے ہوئے گویا ہوا جیسے اس لڑکے کو دانتوں سے ہی کچل رہا ہو “-
” او ہو !!! تو فائنلی دی گریٹ کھڑوس ملک احتشام احمد اپنی بیگم کے آس پاس لڑکوں کو دیکھ کر جل رہا ہے !!! اس کا مطلب تو یہ ہوا تجھے بھابھی سے محبت ہو گئی ہے !!! “-
” ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تو سوچ رہا ہے ۔۔۔۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے !!! تو اچھی طرح جانتا ہے میں صرف حریم کو چاہتا ہوں !! نہ جانے وہ شہرام کو بیوقوف سمجھ رہا تھا یہ اپنے دل کو بیوقوف بنا رہا تھا “-
” دلچسپی نہیں ہے تو دلچسپی لے وہ تیری بیوی ہے تیری محبت کی حقدار ہے ، حریم کا قصہ اب ختم ہوچکا ہے ، احمد تو اپنے ماضی کو حال میں رکھ کر خود کو اور ایمان کو کیوں سزا دے رہا ہے !!! دیکھ احمد میرا تیرا بچن کا دوست ہوں تیری زندگی کے ہر حالات سے واقف ہوں میں یہی کہوں گا جو گزر گیا اسے بھول جا اپنی زندگی میں آ گے بڑھ ، میں نے خود ایمان بھابھی کی آنکھوں میں تیرے لیے بے پناہ عشق دیکھا ہے ، تیری بیوی تجھے چاہتی ہے یار !!! شہرام نے اسے ان دونوں کے رشتے کا احساس دلانے کی کوشش کی “-
” وہ چھوٹی ہے شہری !!! یہ محبت نہیں اس کا بچپنا ہے !! وہ بس میری خوبصورتی سے اٹریکٹ ہو رہی ہے اور کچھ نہیں ہے !!! اس نے شہرام کو بھی اپنا وہی گھسا پٹا سا بے مطلب جواز پیش کر دیا “-
” تو پاگل ہے !! یا اندھا ہے !! بیس سال کی بالغ ، باشعور لڑکی کی محبت تجھے بچپنا لگ رہی ہے ؟؟ شہرام کو اس کی احمقانہ سوچ پر شدید افسوس ہوا “-
” پتا نہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ اگر یہ بھی مجھے حریم کی طرح چھوڑ کر چلی گی پھر ؟؟؟ میں اب کسی سے دل نہیں لگانا چاہتا ۔۔۔ بہتر ہو گا تو مجھے ان فضولیات میں نہ الجھا مجھے اس ٹاپک پر بات ہی نہیں کرنی احتشام اسے سختی بول کر خود کھانا لگوانے کے لیے چلا گیا ۔۔۔۔ پیچھے شہرام تاسف سے اس کی پشت دیکھ کر رہ گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” اممم کہاں چلی گئ یہیں تو رکھی تھی میں نے اتار کر !!! وہ برائڈل روم میں آس پاس نظر دوڑاتے ہوئے بولی “-
” شکر ہے مل گئی !!! “
صوفے کے پیچھے پڑی ہوئی اس کی چادر اسے نظر آہی گئی اس نے جلدی سے چادر اٹھائی اسے جھاڑ کرا اپنے گرد لپیٹتے ہوئے پھرتی سے باہر نکلی “-
” ثوبیہ کی رخصتی ہو چکی تھی سب مہمان بھی جا چکے تھے ۔۔۔۔ وہ لوگ بھی نکلنے کی تیاری ہی کر رہے تھے جب ایمان کو یاد آیا کہ اس کی چادر تو اندر ہی رہ گئی اپنی چادر لینے وہ واپس آئی تھی “-
” وہ تیز قدم اٹھاتی باہر آئی گاڑی حال کے دوسرے طرف روڈ پر تھی اس سے پہلے وہ اس تک پہنچ پاتی احتشام گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا “-
” احتشام !!!
وہ چلاتے ہوئے روڈ پر چلتی ہوئی گاڑیوں سے بچتی بچاتی گاڑی کی طرف بھاگی لیکن افسوس اس کے پہنچنے سے پہلے ہی احتشام کی گاڑی فراٹے بھر گئی “-
” احتشام !!! ماریہ !!!
” وہ چیختے ہوئے گاڑی کے پیچھے بھاگی لیکن چند ہی لمحوں میں گاڑی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی وہ بے بسی تنہا روڈ کے بیچوں بیچ کھڑی رہ گئی “-
” پاگل ہو کیا ؟؟ مرنے کا اتنا ہی شوق چڑھا ہے تو کسی اور کی گاڑی کے آگے جا کر مرو !! میری ہی گاڑی نظر آئی تھی تمھیں خود کشی کرنے کے لیے !!! “
” ایک ادھیڑ عمر آدمی نے اس کا بازو ہلایا تو وہ ہوش میں آ کر پیچھے مڑی وہ شخص غصے سے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی پاگل ہو “-
” ہٹو بی بی !!! سنائی نہیں دیتا کیا ؟؟ اس شخص نے اس کے آگے ہاتھ لہرایا تو وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی”-
–––––––––––––––––––––––––––
” شکر ہے اللّٰہ کا سب خیریت سے وقت پر ہو گیا !! “
” عاتکہ نے گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا گھڑی میں قریباً ساڑھے بارہ بجنے ہی والا تھا … وہ لوگ کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے “-
” احتشام ایمان کہاں ہے بیٹا ؟؟؟ “
“عاتکہ نے اسے اکیلے گھر میں داخل ہوتے ہی سیدھا اپنے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر پوچھا “-
” وہ تو آپ لوگوں کے ساتھ آئی ہے نہ !! احتشام کو کسی انہونی کا احساس ہوا”
“وہ تو خود ابھی شہرام اور اس کی والدہ کو اپنے فلیٹ پر چھوڑ کر آیا تھا ۔۔۔۔ دیر ہونے کے باعث اس نے انہیں زبردستی روک لیا تھا سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس وقت گاؤں کا راستہ سنسان ہی ہوتا تھا جس کی وجہ سے اکثر کوئی نہ کوئی چوری ، لوٹ مار کی واردات پیش آتی رہتی تھیں “-
” بھیا ہماری گاڑی میں تو جگہ ہی نہیں تھی اسے آپ کے ساتھ آنا تھا !!! میں نے آپ کو بتایا بھی تھا !!
” وہ شہرام کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا جب ماریہ نے اس کو کہا تھا ایمان کو اپنے ساتھ لے آئے “-
” احتشام کہاں چھوڑ آئے ؟؟؟ جوان جہان لڑکی کو اتنی رات گئے !!! عاتکہ پریشان ہو گئیں “-
” ماں مجھے نہیں پتہ تھا ۔۔۔۔ میں تو سمجھ رہا تھا وہ ماریہ کے ساتھ تھی آپ لوگوں کے ساتھ ہی آ گئی ہو گی ۔۔۔۔۔ اس کی غیر موجودگی پر وہ خود بھی بے قرار ہونے لگا تھا “-
” تمھیں احساس بھی ہے اس بات کا تم شوہر ہو اس کے ، اور تمھیں ہی نہیں پتہ تمھاری بیوی کہاں ہے ؟؟؟ تم شروع دن سے ہی اس سے لاپرواہ تھے لیکن اسے اس طرح چھوڑ کر اپنی جان چھڑاؤ گے اس کی مجھے ہر گز امید نہیں تھی !! عاتکہ کو اس کی لاپرواہی غصہ دلا گئی”-
” آپ مجھے بعد میں ڈانٹ لیجیئے گا ماں !! فلحال میں ایمان کو لینے جا رہا ہوں ۔۔۔۔ وہ جلد بازی میں باہر نکلنے لگا “-
” بھیا !!! میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں !! ماریہ نے پیروں میں چپل پہن کر اپنی چادر اوڑھتے ہو کہا “-
“تم اس وقت کہیں نہیں جاؤ گی ماریہ !!گھڑی دیکھی ہے تم نے ساڑھے بارہ بجا رہی ہے اس وقت تم کہاں خورا ہوتی پھرو گی وہ اتنا سجے سنورے حلیے میں ۔۔۔۔ ویسے بھی یہ ان دونوں میاں بیوی کا ذاتی معاملہ ہے ، اس کی بیوی کوئی چھوٹی بچی نہیں ہے جو کھو جائے گی وہیں ہوگی یہ خود جا کر لے آئے گا ۔۔۔۔ تم گھر میں بیٹھو !!! مبشر حسین کے سختی سے بولنے پر ماریہ کے قدم تھمے “-
” ماریہ کے حوالے سے ان کی بات بلکل درست تھی وہ خود بھی اسے ساتھ نہیں لیے جانے والا تھا لیکن مبشر حسین کے لہجے میں اپنے اور ایمان کے لیے ناگواری پر وہ لب بھینچ کر اسے لانے کے لیے گھر سے نکل گیا اگر اس کی ماں نے اسے قسم نہ دے رکھی ہوتی تو وہ کبھی اس بے حس انسان کے گھر میں نہ رہ رہا ہوتا “-
” میں تو سونے جا رہا ہوں !! تم لوگوں کا بھی یہ ڈرامہ ختم ہو جائے تو آ کر سو جانا !!! یاد رہے صبح ثوبیہ کے گھر ناشتہ بھیجنا ہے !!! آپا نے مجھے ناشتے کی لسٹ دی ہے !! کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے !!! مبشر حسین اپنا حکم سنا کر چل دیے ۔۔۔۔ پیچھے دونوں ماں بیٹی انہیں افسوس سے دیکھ کر رہ گئیں “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial