قسط: 19
“باہر گاڑی کے رکنے کی آواز آئی تو عاتکہ مہمانوں کو خوش آمد کرنے کے لیے آگے بڑھیں “-
” اسلام علیکم !! “
“سلام کی آواز پر احتشام نے بے اختیار سر اٹھا کر آنے والے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ اس آواز کو تو وہ سیکڑوں میں بھی پہچان سکتا تھا “-
” ایمان !! “
” اس کے لب سرگوشی میں ہلے ۔۔۔ وہ عاتکہ سے مل رہی تھی احتشام پلکیں جھپکائے بغیر یک ٹک اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اگر اس نے پلکیں جھپکائیں تو وہ غائب ہو جائے گی”-
” وعلیکم اسلام !! “-
“کیسی ہی میری بیٹی !! “
عاتکہ نے ایمان کو سینے لگا کر اس کا ماتھا چوما !! “-
” میں بلکل ٹھیک ہوں امی !! وہ مسکرا کر بتانے لگی نظریں سامنے کھڑے اپنے مسٹر شوہر سے جا ٹکرائی جو مسلسل سے ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھنے میں مشغول تھا “-
(” کل رات “
” آپ ایمان کو لے آئیں بس !! میں اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں !! وہ مل جائے گی تو میں کچھ نہیں کروں گا ۔۔۔ وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا “-
” میں لے کر آؤنگی یہ میرا وعدہ ہے !! اب میں اپنے بیٹے کی خوشیوں کے بیچ کسی کو نہیں آنے دونگی !! عاتکہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں تو وہ سکون سے آنکھیں موند گیا “-
” کافی دیر گزرنے کے بعد جب عاتکہ کو اس کے سونے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے آرام سے اس کا سر تکیے پر رکھتے ہوئے اس پر کمبل ڈال کر کمرے کی لائٹ بند کر کے کمرے سے نکلیں ان کا رخ ماریہ کے کمرے کی طرف تھا “-
” ماریہ اب بس !! بہت ہو گیا یہ ڈرامہ ایمان کو واپس بلاؤ !! وہ ماریہ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بول پڑیں “-
” کیا ہو گیا امی ؟؟ اچانک ایمان کو کیوں بلوانا ہے ؟؟ ماریہ سونے کے لیے بستر ٹھیک کر رہی تھی ہاتھ روک کر پوچھنے لگی “-
” احتشام کی حالت دیکھو میرا بیٹا تڑپ رہا ہے !! وہ ماں تھی اپنے جوان بیٹے کو بچوں کی طرح بلکتا دیکھ کر ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوا تھا “-
” امی ابھی کچھ دن اور رہنے دیں !! جب بھیا قبول کریں گے کہ انہیں ایمان سے محبت ہے !! تب ایمی کو واپس بلا لینگے !! ماریہ نہایت تحمل سے بولی “-
” وہ ایمان سے محبت کرتا ہے !! اس نے خود قبول کیا ہے ۔۔۔ تم بس اسے واپس بلاؤ !!! میں نے احتشام سے وعدہ کیا ہے ایمان کو واپس لانے کا !! وہ بضد ہوئیں “-
” لیکن امی ابھی کچھ دن اور ۔۔۔۔۔ ماریہ نے احتجاج کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے بات مکمل کرنے سے قبل ہی عاتکہ نے مداخلت کر دی “-
” ماریہ تم کیا چاہتی ہو کہ وہ تیسری بار خودکشی کی کوشش کرے !! وہ صاف الفاظ میں بتا چکا ہے اگر اسے ایمان نہیں ملی تو وہ خود کو نقصان پہنچا لے گا !! تم اچھی طرح جانتی ہو اس کا کہنا محض کہنا ہی نہیں رہتا وہ کر بھی لے گا !!! میں اپنے بیٹے کو کچھ نہیں ہونے دوں گی !! تمھاری بات مان کر میں نے اتنے دن ایمان کے لاپتہ ہونے والے ڈرامے میں تمھارا ساتھ صرف اس لیے دیا تھا تاکہ احتشام کو احساس ہو کہ ایمان اس کی بیوی ، اس کی ذمہ داری ہے لیکن اب بس میرا بیٹا بکھر رہا ہے !! اسے اپنی بیوی کی ضرورت ہے !!! بچپن سے آج تک وہ رشتوں کے لیے ترسا ہے ، میرے لیے ، اپنے باپ کے لیے ، حریم کے لیے ۔۔۔۔ لیکن اب بس میں اسے ایمان کے ترسنے نہیں دوں گی !! تم نسیمہ آنٹی کو فون ملا کر دو میں خود ان سے کہوں گی کل وہ لوگ آتے ہوئے ایمان کو بھی ساتھ لے کر آئیں “-
” جی امی !!
” ماریہ نے ان کے کہنے پر اسی وقت کال ملائی “-
“ہیلو !! وہ کال ریسیو ہوتے ہی بول پڑی “-
” اسلام و علیکم !!! شہرام بھا ۔۔۔۔۔۔ وہ شہرام کو بھائی کہتے کہتے زبان دانتوں تلے دبا گئی ۔۔۔۔۔ اس کے بھائی کہنے کی وجہ سے عاتکہ نے اسے سخت گھوری سے نوازہ جس پر ماریہ نے اشارے میں انہیں سوری کہا “-
” ماریہ کے منہ سے اپنے لیے بھائی لفظ پر شہرام نے فون کو کان سے ہٹا کر ایسے گھورا جیسے ماریہ کو گھور رہا ہو پھر فون کو دوبارہ کان سے لگا کر تپ کر بولا “-
” ماریہ اگر تم نے مجھے بھائی کہنے کے لیے فون کیا ہے ؟؟ تو مجھے تمھاری کوئی بات نہیں سننی !! وہ دانت پیستے ہوئے بولا اس سے پہلے وہ فون کاٹ دیتا ماریہ بول پڑی “-
” آئی ایم سوری !!! وہ آہستہ آواز میں منمنائی جسے شہرام بمشکل سن سکا “-
” میں نے تمھیں پہلے بھی ہزار مرتبہ سمجھایا ہوا ہے ۔۔ تمھارا بھائی احتشام ہے !! میں تمھارا بھائی نہیں ہوں !!! وہ اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولا “-
” بھائی کے دوست کو بھی بھائی ہی کہتے ہیں !! وہ اب بھی باز نہیں آئی “-
” شٹ اپ !! بیوقوف لڑکی !! وہ جل کر بولا اس کے منہ سے اپنے لیے بیوقوف لفظ سن کر ماریہ نے جواب دینے کے لیے لب کھولا ہی تھا کہ عاتکہ نے فون اس کے ہاتھ لے کر خود شہرام سے بات کرنے لگیں “-
“امی مجھے ان سے شادی نہیں کرنی !! بلاوجہ ہی مجھے باتیں سنانے لگتے !! عاتکہ کے فون بند کرتے ہی وہ غصے سے ناک پھلا کر بولی “-
” تم بھی تو اپنی حرکت سے باز نہیں آتی !! پہلے کی بات اور تھی اب اس سے تمھارا رشتہ بدلنے والا ہے !! کیا ضرورت تھی بھائی کہنے کی ۔۔۔ عاتکہ نے اسے آڑے ہاتھوں لیا “-
” سب مجھے ہی سنائیں ۔۔۔ ابھی تو رشتہ پکا بھی نہیں ہوا اور آپ ان طرف داری کرنے لگیں ۔۔۔ پہلے جب بھائی نہیں بولتی تھی تو سب کہتے بھائی بولو اب زبان پر رٹ چکا ہے تو اتنی آرام سے کیسے اترے گا ؟؟ وہ ناک منہ پھلائے خود سے بڑبڑاتی کمبل میں گھس گئی ۔۔۔ عاتکہ کو “شب بخیر ” بھی نہیں کہا مطلب صاف تھا وہ ناراض ہو گئی ہے “-
” عاتکہ مسکرا کر اسے دیکھتی اپنے کمرے میں چل دیں جانتی تھیں وہ صبح تک خود ہی ٹھیک ہو جائے گی “-)
” ارے نسیمہ کھڑی کیوں ہو اندر آؤ !! شہرام بیٹا تم بھی اندر آ جاؤ احتشام اندر ہی ہے !!
“عاتکہ نے انہیں اندر بلایا ان لوگوں کو ڈراپ کرنے کی وجہ سے شہرام خود بھی ساتھ آیا تھا “-
” ایمان جاؤ بیٹا ماریہ کو دیکھو وہ تیار ہوئی !! اور ثوبیہ آپی کو یہاں بھیجو !! عاتکہ نے شہرام اور اس کے والدین صوفے پر بٹھا کر ایمان کو کہا “
” جی امی !! وہ عاتکہ کو جواب دیتی احتشام کے برابر میں سے گزرتے ہوئے اسے نظر انداز کرتی آ گے بڑھ گئی “-
” احتشام اس کے ہونے کا یقین کرتا فوراً اس کے پیچھے گیا “-
” ایمان نے ابھی دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ احتشام نے ہینڈل پر رکھا اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے اپنے پیچھے کیا “-
” ثوبیہ تمھیں ماں بلا رہیں ہیں !! احتشام نے دستک دینے کے بعد ہلکا سا دروازہ کھول کر ثوبیہ کو بتایا ۔۔۔ اور خود ایمان کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچتے ہوئے ایمان کے کمرے میں لے گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” کمرے میں آ کر اس نے ایمان کا ہاتھ چھوڑا اور محبت پاش نظروں سے اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے لگا “-
“اس کے ہاتھ چھوڑتے ہی ایمان واپس جانے لگی احتشام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے اپنی جانب کھینچا وہ سیدھا احتشام کے سینے سے آ لگی “-
“ہاتھ چھوڑیں میرا مجھے باہر جانا !! وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی جدوجہد میں ہلکان ہو رہی تھی “-
” چپ چاپ کھڑی رہو !! مجھے خود کو محسوس کرنے دو !! احتشام اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کی کمر سے لگاتے ہوئے اس کے ماتھے سے پیشانی ٹکا کر آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔ احتشام کا چہرہ اپنے قریب تر دیکھ کر اس کا دل زور و شور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔ اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر کے ایمان بھی آنکھیں بند کر گئی “-
” چند لمحے گزرنے کے بعد اپنے چہرے پر نمی محسوس کر کے ایمان نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں احتشام کی آنکھوں سے آنسوں نکل کر ایمان کے چہرے پر گر رہے تھے “-
” آپ رو رہے ہیں !!! ایمان کو یقین نہ آیا “-
” کیوں مرد نہیں رو سکتے ؟؟ انہیں درد نہیں ہوتا ؟؟ یا وہ انسان نہیں ہوتے ؟؟؟ وہ آنکھیں کھول کر ایمان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مسکرا کر استفسار کرنے لگا ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں نظر آتے جذبات پر ایمان کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھنا مشکل ہونے لگا وہ فوراً نظریں جھکا گئی “-
” ادھر دیکھو میری طرف !! دیکھو تمھارے لیے رو رہا ہوں !! کیوں چھوڑ کر گی تھی ؟؟ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو چھوڑ کر دائیں ہاتھ کو اس کی ٹھوڑی پر رکھ کر اس کا چہرہ اونچا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔اس کے چھوڑ کر جانے والے الزام پر ایمان نے تڑپ کر اسے دیکھا “-
” آپ مجھے چھوڑ کر آ گئے تھے !!! میں نے آپ کو بہت آوازیں دیں تھی !!! گاڑی کے پیچھے بھی بھاگی تھی لیکن آپ نے میری آواز نہیں سنی !!! وہ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں لیے شکوہ کرتی اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دونوں کے درمیان فاصلے بنا گئی “-
” میری جان !! میں جان بوجھ کر تمھیں چھوڑ کر نہیں آیا تھا !! مجھے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا تم وہیں ہو !! احتشام نے دوبارہ اسے خود کے قریب کر کے اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھ لیے “-
” چھوڑیں مجھے باہر جانا ہے !!! وہ ناراضگی سے بولتی ہوئی اپنی کمر سے اس کے ہاتھ ہٹانے لگی “-
” یہ میرے عشق کا حصار ہے جانم !!! جسے تم ساری زندگی بھی نہیں توڑ پاؤ گی !! اللہ سے رو رو کر دعائیں کرتی تھی نا تم ” اللہ مجھے میرے احتشام دے دے ” تمھاری دعائیں قبول ہو گئیں !! دیکھو میں تمھارا ہو گیا !! ایمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا یعنی وہ جانتا تھا کہ وہ اسے اللہ سے مانگتی ہے”-
” محسوس کرو میری دھڑکنوں کو تمھاری موجودگی میں یہ دل کتنی شدت سے دھڑک رہا ہے !! تم نہیں تھیں تو ایسا لگتا تھا میرا دل بند ہو جائے گا !! وہ ایمان کا ہاتھ اپنے دل پر رکھتا ہوا بولا “-
” ایمان اگر تم واپس نہ آتی تو میں اپنی جان لے لیتا !!! مر جاتا میں تمھارے بنا !! وہ جنونی انداز میں بولا ۔۔۔ اس کے لفظوں پر ایمان نے بے اختیار اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا “-
” یہ آپ میرے سامنے مرنے کی باتیں مت کیا کریں !! ایمان نے اسے گھورا “-
” اتنے دنوں مجھ سے دور تھی ایک بار بھی یاد نہیں آئی میری !! وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا “-
” یاد انہیں کیا جاتا ہے جنہیں ہم بھول چکے ہوں !! جو ہر وقت ہماری سوچوں پر قابض رہیں انہیں یاد کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی !! ایمان اس کے دل پر رکھے اپنے ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے دل بناتے ہوئی بولی نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں “-
” اس کے اظہار پر احتشام کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔۔ اس نے جھک کر ایمان کی پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی مہر لگائی احتشام کے لمس پر ایمان کے اندر تک سکون اتر گیا وہ سکون سے آنکھیں موند گئی اس محبت بھرے لمس کے لیے وہ کتنا تڑپ رہی تھی ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسوں ٹوٹ کر گرا جسے احتشام نے انتہائی نرمی سے اپنے انگوٹھے کے پوروں سے چن لیا “-
“میری جان !! احتشام نے اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔۔ ایمان نے بھی اس کے گرد اپنے دونوں ہاتھ باندھ دیے “-
” جانے کتنے لمحے یونہی بیت گے ۔۔۔ دروازے پر ہونے والی دستک سے انہیں ہوش آیا ثوبیہ انہیں آوازیں دے رہی تھی “-
” چلو چلتے ہیں !! احتشام اس سے دور ہو کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے ساتھ لیے کمرے سے باہر نکل گیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” اس دن احتشام کے جانے کے بعد وہ سڑک پر نتہا کھڑی تھی ایک بار پھر وہ اکیلی ہو گئی تھی !! وہ تو شکر تھا اس روڈ پر کئی شادی حال تھے جن میں سے کئی میں ابھی بھی کوئی نہ کوئی فنکشنز چل رہے تھے ۔۔۔۔ وہ روتی ہوئی سڑک پر چلنے لگے “-
” سب مجھے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔ امی بھی مجھے بھول گئیں ، ماریہ کو بھی میں یاد نہیں رہی ۔۔۔ کوئی میرا نہیں ہے !! وہ دلبرداشتہ سی سوں سوں کرتی بری طرح اپنی آنکھیں کو رگڑتی ہوئی ایک شادی حال کی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ گئی ۔۔۔ آس پاس سے گزرتے لوگ اس سجی سنوری لڑکی کو تنہا فٹ پاتھ پر روتے ہوئے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے “-
“دوسری طرف احتشام کے گھر سے نکلتے ہی ماریہ نے ایمان کا نمبر ڈائل کیا ایمان کو یہ موبائل فون میم سمیرا نے اونلائن اسلامی تعلیمات سیکھنے کے لیے دیا تھا اس موبائل میں صرف دو ہی نمبر سیو تھے جس میں سے ایک نمبر تو میم سمیرا کا تھا اور دوسرا ماریہ نے اپنا سیو کر دیا تھا “-
” اپنے پرس سے مسلسل فون کی آواز پر ایمان نے بے دلی سے کال ریسیو کر لی “-
“ایمی کہاں ہو تم ؟؟ ماریہ کی پریشان سی آواز ابھری “-
” سڑک پر بیٹھی ہوں !! ایمان کی روتی ہوئی آواز سنائی دی “-
” ایمی تم جہاں ہو وہیں رہنا !!! کہیں جانا نہیں !! اور جلدی سے مجھے اپنا ایڈریس بھیجو !!! ایمی کسی محفوظ جگہ رک کر انتظار کرو بھیا تمھیں لینے آ رہے ہیں !! ماریہ نے اسے ہدایت دی “-
” تمھارے بھیا ہی مجھے چھوڑ کر گئے ہیں !! اسے ایک بار پھر احتشام کا چھوڑ کر چلے جانا رولا گیا “-
“ایمی تم پلیز رو مت !! بس تھوڑی دیر کی بات ہے !! اچھا میں تمھیں پانچ منٹ بعد فون کرتی ہوں !! ماریہ نے بول کر کال کاٹ دی “-
” ماریہ نے فوری طور پر شہرام کو کال کی اور اسے ایمان کا ایڈریس سینڈ کر کے کہا کہ وہ ایمان کو اپنے ساتھ لے جائے ۔۔۔۔ ٹھیک دس منٹ بعد شہرام ماریہ کے دیے ہوئے پتے پر پہنچ گیا احتشام کا فلیٹ شادی حال سے دس منٹ کے فاصلے پر ہی تھا جبکہ مبشر حسین کا گھر چالیس منٹ کے فاصلے پر تھا اسی وجہ سے شہرام احتشام سے پہلے پہنچ گیا تھا۔۔۔ شہرام وہاں پہنچا تو ایمان ایک شادی حال کی داخل سیڑھی پر بیٹھی ہوئی نظر آئی وہ اسے ساتھ لے کر احتشام کے فلیٹ پر آ گیا جہاں اس کی ماں نسیمہ بھی موجود تھیں”-
“ایمان کو لانے کے بعد شہرام نے ماریہ کو اس کے خیرت سے ملنے کی خبر دی ۔۔۔ تب ماریہ نے شہرام ، عاتکہ اور نسیمہ تینوں کو کہا کہ کوئی بھی احتشام کو نہیں بتائے گا کہ ایمان شہرام لوگوں کے ساتھ ہے ۔۔۔ تاکہ احتشام کو اپنے اور ایمان کے رشتے احساس ہو ۔۔۔۔ عاتکہ کو بھی ماریہ کا یہ فیصلہ بلکل مناسب احتشام کی لاپرواہی پر انہیں بھی شدید غصہ آیا تھا اسے احساس دلانا بہت ضروری تھا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایسا کرتے ہیں اس جمعے کو منگنی کر دیتے ہیں !! آپ لوگ کیا کہتے ہیں !! شہرام کے والد نے اپنی رائے دینے کے بعد عاتکہ اور مبشر حسین سے ان کی رائے پوچھی “-
” میں کچھ کہنا چاہتا ہوں !! شہرام نے اجازت طلب نظروں سے سب کو دیکھا “-
” ہاں بولو !! مبشر حسین نے اسے اجازت دی “-
” میں نکاح کرنا چاہتا ہوں !! بلاوجہ ہی ہم لوگ منگنی پر فضول خرچی کرینگے اس بہتر ہے نکاح کر لیا جائے !!! اگر آپ سب کو مناسب لگے تو !! ۔۔۔۔ رخصتی ماریہ کی گریجویشن مکمل ہونے کے بعد تب تک میں بھی سیٹل ہوجاؤں گا !! شہرام نے سب کی آنکھوں سوال دیکھ کر تفصیل سے اپنی بات رکھی “-
” مشورہ اچھا ہے ۔۔۔ آپ لوگ کیا کہتے ہیں شہرام کے والد نے ایک بار پھر سب کی رائے دریافت کی “-
” ٹھیک ہے تو اس جمعے کو ہم منگنی کے بجائے سادگی سے نکاح کر دیتے ہیں !! مبشر حسین نے عاتکہ کی طرف دیکھتے ہوئے رضامندی دے دی “-
” ہاں تو ہیرو مل گئی تمھاری ہیروئین !! وہ ایمان کو لے کر لاؤنج میں داخل ہوا ۔۔۔۔ انہیں ساتھ مسکراتا دیکھ کر شہرام نے اسے چھیڑا سب ان کی جانب متوجہ ہو گئے “-
” میری لو سٹوری فلاپ کرنے میں تم کا سب کا ہاتھ تھا !! اس نے شہری کو گھور کر کہا جس پر وہ ڈھٹائی سے ہنسا “-
” ماں آپ بھی ان لوگوں کے ساتھ ملی ہوئی تھیں !! احتشام نے عاتکہ کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھا “-
” سوری میری جان !! لیکن تمھیں احساس دلانا بھی تو بہت ضروری تھا !! عاتکہ نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگائی “-
” اچھا تو مبشر صاحب اب ہمیں اجازت دیجئے !!! کچھ دیر بعد شہرام کے والدین جانے کے لیے کھڑے ہوئے ۔۔۔مبشر حسین شہرام کے والد کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے باہر نکل گئے نسیمہ نے عاتکہ سے اجازت چاہی”-
” تم کہاں چل دی ؟؟ احتشام نے ایمان کو ان کے پیچھے نکلتے دیکھ کر پوچھا “-
“میں بھی واپس جا رہی ہوں !! ایمان نہایت تحمل سے بولی “-
” کس خوشی میں ؟؟ احتشام نے بھونیں سکوڑ کر کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا “-
” میں شہرام بھائی کا رشتہ لے کر آئی تھی تو واپس بھی ان کے ساتھ ہی جاؤنگی نا !! ویسے بھی میں آپ سے شدید قسم کی ناراض ہوں !! آپ مجھے چھوڑ کر آ گئے تھے ۔۔۔۔ اور ابھی تک مجھے منایا بھی نہیں ہے !! وہ نروٹھے پن سے بولی “-
” کس طرح تمھاری ناراضگی دور ہو گی ؟؟ احتشام نے لب دبا کر اپنی مسکراہٹ روکتے ہوئے اس کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر نرمی سے پوچھا “-
“امممم !! جب آپ سب کے سامنے گھٹنے پر بیٹھ کر پھول دے کر مجھے آئی لو یو بولیں گے اور شادی کا کہیں گے !! وہ ایک لمحہ سوچنے کے بعد دانتوں کی نمائش کرتی ہوئی بولی ۔۔۔ احتشام تو اس کی فرمائش پر عش عش کر اٹھا “-
” اور اگر میں ایسا نہ کروں پھر ؟؟ “-
” تب تک میں شہرام بھائی کے گھر میں ہی رہوں گی !! وہ تحمل سے بول کر آگے بڑھ گئی “-
” ماں اسے روکیں !! یہ کیوں واپس جا رہی ہے ؟؟ احتشام نے اسے عاتکہ کے گلے دیکھ کر کہا “-
” امی آپ مجھے نہیں روکیں گی !! پہلے ان سے کہیں میری بات مانیں ۔۔۔ ایمان بضد ہوئی “-
” تو مان لو نہ احتشام !! پہلی مرتبہ تو کچھ کہ رہی میری بہو !! آج عاتکہ نے پہلی بار احتشام کے سامنے ایمان کو بہو کہہ کر پکارا ورنہ پہلے تو وہ تپ جاتا تھا “-
” ماں آپ کو نہیں پتا یہ کیسی فرمائش کر رہی ہے !! احتشام نے اسے گھور کر دیکھا جو عاتکہ کے ساتھ چپکی اس کے گھورنے کی پرواہ کیے بغیر ڈھٹائی سے مسکرا رہی تھی “-
” ایسا بھی کیا کہہ دیا ہے میری بہن نے جو تو اس کی فرمائش پوری نہیں کر رہا ؟؟ شہرام نے بھی ایمان کی طرف داری کی “-
” بتاؤ نہ احتشام کیا کہا کہہ رہی ایمان ؟؟ اب کی بار نسیمہ بھی بیچ میں بول پڑیں ۔۔۔ اتنے دنوں میں ایمان انہیں بھی عزیز ہو گئی تھی ۔۔۔ ایمان تھی ہی ایسی محبت کرنے والی نرم گو باآسانی وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتی تھی “-
” کہہ رہی سب کے سامنے گھٹنے پر بیٹھ کر اسے شادی کے لیے پرپوز کروں !! ورنہ واپس چلی جائے گی “-
” احتشام کے بتانے پر سب ہنس پڑے “-
” واہ میری بہن کیا فرمائش کی ہے اس کھڑوس سے !!! میں اس فیصلے میں تمھارے ساتھ ہوں !! شہرام نے ایمان کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کی حمایت کی “-
” ویسے ایمان یہ آئیڈیا کہاں سے آیا تمھارے دماغ میں شہرام نے اس سے پوچھا “-
” ون اینڈ اونلی دی گریٹ ماریہ نے دیا ہے !! ایمان کے چہک کر بتانے پر ۔۔۔۔ سب نے ایک ساتھ صوفے پر بیٹھی ماریہ کو دیکھا جس پر وہ بری طرح سٹپٹا گئی “-
” شہرام آ بھی جاؤ بیٹا !! شہرام کے والد نے ان لوگوں کو آواز دی “-
” جی بابا آتے ہیں !! شہرام وہیں سے بولا “-
” چل بیٹا احمد !! تیار ہو جا پرپوز کرنے کے لیے !! جب تو پرپوز کرے گا تب ہی میں تجھے اپنی بہن دونگا ۔۔۔۔ شہرام نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو احتشام نے اس کا ہاتھ جھٹکا “-
“احتشام تمھاری بیگم کو ساتھ لے کر جا رہی ہوں برات لے کر آنا میری بیٹی کو لینے کے لیے !! ۔۔۔ چلو ایمان !! نسیمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا وہ مسکرا کر احتشام کے دل کے تار چھیڑتی ہوئی ان کے ساتھ چل دی “-
” ماں آپ نے روکا کیوں نہیں اسے !! وہ ناراضگی سے ماں کو دیکھنے لگا “-
” ٹھیک ہی تو کہہ رہی !!! کتنی سادگی سے تم دونوں کا نکاح ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ بھی تو لڑکی ہے اس کے بھی ارمان ہونگے کہ اس کی بھی باقی لڑکیوں کی طرح دھوم دھام سے شادی ہو !!! تم پریشان نہیں ہو ماریہ کے ساتھ میں تم دونوں کی بھی شادی کر دونگی !!! احتشام کے چہرے کے بگڑے زوایے پر عاتکہ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کا گلہ گھونٹا”-
” ماریہ کی شادی کب ہے ؟؟ اس نے بے چینی سے پوچھا “-
” یہی کوئی ایک سال بعد !! عاتکہ کے جواب پر اس کے کان کھڑے ہوئے “-
” کیا ایک سال بعد ؟؟؟ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے انہیں دیکھنے لگا … میں اتنا انتظار نہیں کروں گا آپ اسے بولیں شرافت سے واپس آ جائے میں اس لے کر اپنے فلیٹ پر شفٹ ہونگا پھر بڑا سا ولیمہ کر لیں گے !! اس نے منہ بنا کر اپنا فیصلہ سنایا”-
” اتنا بے چین ہو گیا ہے میرا بیٹا !! عاتکہ نے ہنس کر اس کے ماتھے پر بکھرے بال درست کر کے اسے گلے لگایا … جیسا میرا بیٹا چاہے گا ویسا ہی ہوگا !! “-
” مجھے تو بھول ہی گئے آپ دونوں !! ماریہ جو کب سے مہمانوں کی موجودگی کا احساس کر کے خاموشی بیٹھی تھی ان دونوں سے آ کر لپٹ گئی “-
“پرپوز کرنے والی بات کے علاؤہ تم نے اورکتنے فضول مشورے دیے ہیں میری بیوی کو ؟؟ احتشام نے ماریہ کا کان کھینچا “-
” آہ آہ میرا کان چھوڑ دیں بھیا !! ابھی تو صرف ایک ہی دیا ہے لیکن آپ کہینگے تو میں اور بھی مشورے دے دونگی !! ماریہ نے اپنے دانتوں کی بھر پور نمائش کی “-
” ثوبیہ تم بھی آ جاؤ !! عاتکہ نے اپنے بازو وا کیے اسے بھی آواز دی جو اکیلی کھڑی تھی “-
” میں ایسے ہی ٹھیک ہوں !! وہ بول کر رکی نہیں اپنے کمرے میں چلی گئی … پیچھے وہ تینوں اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئے “-