حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 20

” وہ ہاتھوں پر سر رکھے چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا جب سے ایمان واپس گئی تھی وہ مزید بے چین ہو گیا تھا اتنے دنوں سے وہ اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن آج اتنے دنوں بعد اس دیکھنے کے دل مزید بے قرار ہو گیا تھا ۔۔۔۔ دل اس وقت اس کا ساتھ چاہتا تھا ۔۔۔ کروٹیں بدلتے بدلتے وہ تنگ آ گیا تھا “-
” لعنت ہے مجھ پر !! کم از کم ایک فون تو دلانا چاہیے تھا تاکہ بات ہی کر لیتا وہ خود کو ملامت کرنے لگا ۔۔۔ اسے کیا معلوم کہ ایمان کے پاس ہے لیکن اس کے پاس نمبر نہیں ۔۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے اپنا فون اٹھا کر کال ملا کر وہ کمرے میں یہاں وہاں ٹہلتا کال کے ریسو ہونے کا انتظار کرنے لگا “-
–––––––🌹 Novels of Akasha Ali
🌹–––––––
” وہ لوگ اس وقت کھانا کھا رہے تھے جب اس کا فون بجنے لگا ۔۔۔۔ نمبر دیکھ کر شہرام نے کال ریسیو کی “-
” شہری ایمان سے بات کروانا ۔۔۔۔۔ احتشام اس کے کال ریسیو کرتے ہی بنا سلام دعا کے بول پڑا اس کی آواز میں چھپی بے قراری شہرام سے مخفی نہ رہ سکی “-
” کیوں ؟؟ شہری کو اسے تنگ کرنے کا موقع ملا تھا وہ کیسے جانے دے سکتا تھا “-
” کیا مطلب کیوں ؟؟ میری بیوی ہے !! مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ شہرام کا کباب میں ہڈی بننا اسے سخت برا لگ رہا تھا دل تو کر رہا تھا اسے شوٹ کر دے بلا وجہ ہی وہ اس کی لو سٹوری کو فلاپ کرنے پر تلا ہوا تھا “-
” ایسی بھی کونسی ضروری بات رہ گئی ہے جو تجھے اس وقت کرنی ہے !! ابھی دن میں ہی تو اس سے ملا ہے !! شہرام نے مسکراہٹ دبا کر حد درجے اپنا لہجہ نارمل رکھا “-
” تیرے پیٹ میں کیوں تکلیف اٹھ رہی ہے !! میری بیوی ہے !! جتنا میرا دل کرے گا اتنی بات کروں گا !! وہ تپ کر بولا شہرام کے سوال جواب اس وقت اسے زہر لگ رہے تھے “-
” احتشام کی بے قراری محسوس کرتے ہو شہرام کا حال ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے والا تھا لیکن اس وقت ڈائینگ ٹیبل پر سب کی موجودگی دیکھ کر وہ بہت مشکل سے اپنے ابلتے قہقہے کا گلا گھونٹ رہا تھا جس کے باعث اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا “-
” شہرام بھائی یہ لیں پانی پی لیں !! ایمان جو اس کے بلکل سامنے والی کرسی پر بیٹھی تھی شہرام کے سرخ ہوتے چہرے پر اس نے پانی کا گلاس شہرام کی جانب بڑھایا ۔۔۔ ایمان کو محسوس ہوا شاید اسے کھانے میں مرچیں تیز لگ رہی ہیں “-
” ایمان کی آواز احتشام کے کانوں سے ٹکرائی !! یہیں اس کا صبر جواب دے گیا ۔۔۔شہری شرافت سے اس کو فون دے ورنہ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں !! وہ دھمکی دینے پر اتر آیا”-
” نہیں دے رہا میں اسے فون جو کرنا ہے کر لے !! شہرام نے ڈھٹائی سے بولتے ہوئے کھٹاک سے فون کاٹ دیا “-
” انتہائی کوئی گھٹیا آدمی ہے , بدتمیز ، خبیث !! ماریہ کیا کم تھی ایمان کے میں دماغ میں خرافات بھرنے کے لیے جو اس نے بھی اس کے نقشے قدم پر چلنا شروع کر دیا !! ۔۔۔ دوبارہ شہرام کا نمبر ڈائل کرنے پر جب اسے کمپنی کی جانب سے فون سوئچ آف ہونے کی خبر ملی تو وہ دل ہی دل میں شہرام کو کوئی القابات سے نواز گیا “-
” کس کا فون تھا ؟؟ نسمیہ نے اس کے لال پیلے چہرے کو دیکھ پوچھا “-
” ایک عاشق کا !! وہ ایمان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا “-
” شہرام کی بات کا مطلب سمجھ کر ایمان جھینپ کر اپنی پلیٹ پر مزید جھک گئی “-
” کون عاشق ؟؟ نسمیہ اس کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پائی “-
” میرے آفس میں کام کرتا ہے !! آپ کھانا کھائیں امی ٹھنڈا ہو رہا ہے !! شہرام ان کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کرا گیا “-
–––––––🌹 Novels of Akasha Ali
🌹–––––––
” وہ اپنی کار سے ٹیک لگائے ہوئے کھڑا تھا ۔ ہاتھ پر بندھی ہوئی گھڑی پر تیسری بار نگاہ ڈال کر اس نے بند دروازے کو دیکھا ۔ وہ آج صبح جلدی اٹھ گیا تھا کیونکہ اسے ایمان کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا ۔ جمعے والے دن ماریہ اور شہرام کے نکاح کے ساتھ ہی ایمان کو احتشام کے ہمراہ اس کے فلیٹ میں رخصت ہونا تھا وہ اپنی نئی زندگی کی شروعات پر ہر چیز اپنی اور ایمان کی پسند سے لینا چاہتا تھا “-
“وہ کب سے شہرام کے نئے گھر کے باہر کھڑا ایمان کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ کل ہی شہرام اپنے والدین کو لے کر اس گھر میں شفٹ ہوا تھا ۔ نسیمہ نے اسے اندر آنے کا کہا تھا لیکن احتشام نے منع کر دیا وہ جانتا تھا اندر جائے گا تو ان لوگوں سے باتوں میں اچھا خاصہ وقت لگ جائے گا ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا وہ اس وقت کو صرف ایمان کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا “-
“دروازہ کھلتا دیکھ کر وہ سیدھا ہوا ایمان اس کی طرف آ رہی اسے دیکھ کر احتشام کے بے چین دل کو سکون ملنے لگا لیکن اس کے پیچھے آتے شہرام کو دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہو گیا جانتا تھا شہری رنگ میں بھنگ ضرور ڈالے گا ۔۔۔ آخر اس کے بچن کا دوست تھا احتشام اس کی رگ رگ سے واقف تھا “-
” تو کہاں آ رہا ہے ؟؟ شہرام کو فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے دیکھ کر احتشام کے ماتھے پر بل پڑے اس نے بھونیں اچکا کر شہرام سے پوچھا “-
” میں بھی تم لوگوں کے ساتھ چل رہا ہوں راستے میں اتر جاؤں گا !! شہرام مسکرا کر جواب دیتا گاڑی کا دروزاہ کھول چکا تھا اس سے پہلے وہ بیچارہ گاڑی میں بیٹھتا احتشام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی سے دور کیا “-
” شہری کباب میں ہڈی بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے !! تیرے پاس اپنی گاڑی ہے نہ شرافت سے اس میں جا ورنہ پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کر احتشام نے اس کی گردن دبوچ کر کہا جس وہ کراہ کر رہ گیا “-
” کیا ہوگیا یار احمد زرا سی لفٹ ہی تو مانگ رہا ہوں !! راستے میں ہی اتر جاؤنگا شہرام اپنی گردن چھڑواتا ہوا بیچارگی سے بولا “-
” شہری عزت سے واپس چلا جا ورنہ میرے ہاتھوں ضائع ہو جائے گا ۔۔۔۔ ویسے ہی مجھے اس وقت تجھ پر رات والی بات پر سخت خار آ رہی ہے !! اس سے پہلے میں تیرا حشر کر دوں دفعہ ہو جا !! احتشام نے اسے آگے کی طرف دھکیلا جس پر وہ گرتے گرتے سنبھلنا “-
” زن مرید !! شہرام منہ ہی منہ میں بڑبڑایا “-
” اس کے جملے پر احتشام اسے آنکھ مارتے ہوئے آ گے بڑھ گیا ۔۔۔ اس کی حرکت پر شہرام کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔ وہ قطعی ان دونوں کے ساتھ نہیں جانے والا تھا بس احتشام کو تنگ کرنے کے لیے گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا ۔۔۔۔ شہرام مسکراتی آنکھوں سے ان کی گاڑی کو نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ کر خود واپس گھر میں گھس گیا “-
–––––––🌹 Novels of Akasha Ali
🌹–––––––
” تمھارا ہی ہوں جانم !! پورے حق سے دیکھا کرو اس طرح چور نظروں سے نہیں ۔۔۔ احتشام لب دبا کر مسکراہٹ روکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔وہ کب سے گاہے بگاہے ایمان کی نظروں کو خود پر محسوس کر رہا تھا وہ جیسے ہی اس کی طرف دیکھتا وہ فوراً نگاہ پھیر لیتی تھی “-
“وہ لوگ اس وقت ایمان کے لیے شادی کا جوڑا لے کر دکان سے نکلے تھے احتشام اسے ہر چیز اپنی پسند سے دلا رہا تھا ایمان خاموشی سے ہر چیز اس کی مرضی سے لے رہی ۔۔۔۔۔ لیڈیز شاپنگ کے معاملے میں اس کی پسند بہت اچھی تھی “-
” مجھ سے بات مت کریں !! ناراض ہوں میں آپ سے !! اپنی چوری پکڑے جانے پر جب اس سے کوئی بات نہیں بن سکی تو ایمان ناراضگی سے منہ موڑ کر آ گے چلنے لگی ۔۔۔ یہ سچ تھا وہ اپنے مسٹر شوہر کو ہی دیکھ رہی تھی وہ لگ ہی اتنا پیارا رہا تھا ۔۔۔ بلیک پینٹ پر وائٹ ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک لیڈر کی جیکٹ میں آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ ہمیشہ کی طرح ہی خوبصورت نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔ مسکرانے کی وجہ سے گال میں پڑنے والے ڈمپل نے اس کی وجاہت میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔۔۔۔ ایمان کو وہ دنیا کا خوبصورت ترین انسان لگتا تھا جب وہ سامنے ہوتا تھا تو ایمان کو اس کے علاؤہ کچھ نظر نہیں آتا تھا “-
” یہ ناراضگی تم بیڈ روم میں دکھایا کرو میری جان !! تاکہ میں تمھیں سینے سے لگا سکوں ۔۔۔ احتشام نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا “-
” یہ اچانک آپ کو کونسے کیڑے نے کاٹ لیا ہے ؟ جو اتنے رومانٹک ہو گئے ہیں !! پہلے تو ہر وقت سڑے رہتے تھے ۔۔۔ ایمان نے آنکھیں چھوٹی کر کے تفتیشی نظروں سے اسے دیکھا “-
“جس کیڑے نے تمھیں کاٹا تھا اس نے مجھے بھی کاٹ لیا اسے عشق کا کیڑا کہتے ہیں جانم !! وہ ایمان کے چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا جس پر وہ نظریں جھکا گئی “-
” چلو !! تمھارے لیے فون بھی لینا ہے !! تمھارا وہ بھائی میری بات نہیں کرواتا تم سے !! وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے موبائل شاپ کی طرف بڑھنے لگا “-
” میرے پاس فون ہے !! ایمان نے اپنے بیگ سے فون نکال کر اسے دکھایا “-
” یہ کہاں سے آیا تمھارے پاس ؟؟ وہ حیرت سے اس کے ہاتھ میں پکڑے فون کو دیکھنے لگا “-
” یہ تو کافی وقت سے ہے میرے پاس !! میم سمیرا نے گفٹ کیا تھا !! “-
” مجھے کیوں نہیں بتایا اس کے بارے میں !! مجھے پتہ ہوتا تو کل تمھارے نمبر پر فون کرتا !! وہ ایمان کو گھورنے لگا “-
” اس میں بتانے والی کونسی بات ہے ؟؟؟ آپ نے کبھی مجھے غور سے نہیں دیکھا !!! فون کو کیا دیکھتے ؟؟؟ وہ عام سے انداز میں اس کی بے رخی پر شکوہ کر گئی “-
” بہت ہو گئی شاپنگ چلیں مجھے آئس کریم کھلائیں ؟؟؟ ایمان نے آئس کریم پارلر دیکھتے ہوئے اس کا بازو پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹا ۔۔۔۔ ان دونوں کے رشتے میں ایک بات سب سے اچھی تھی ایمان احتشام سے بات کرتے ہوئے بلکل بھی گھبراتی نہیں تھی بلکہ اپنا بھر پور حق جتاتی تھی “-
–––––––🌹 Novels of Akasha Ali
🌹–––––––
“چابی سے دروازے کھولتے وہ دونوں اندر داخل ہوئے ۔۔۔۔ کھانا وہ لوگ باہر سے ہی کھا کر آئے تھے ایمان نے آس پاس نظریں دوڑائی دو کمروں پر مشتمل یہ چھوٹا لیکن خوبصورت سا فلیٹ تھا احتشام اسے لیے سیدھا بیڈ روم میں چلا آیا “-
” آآ میں تو بہت تھک گیا ہوں یار !! احتشام نے اپنے ہاتھ میں پکڑے سارے شاپنگ بیگز کمرے میں رکھے صوفے پر رکھ دیے اور خود بیڈ پر گرنے کے انداز میں آڑا ترچھا لیٹ گیا “-
” آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم نے پورا مال خرید لیا ہے ؟؟ ایمان نے اپنی چادر اتارتے ہوئے آنکھیں گھما کر کہا “-
” مال تو نہیں خریدا لیکن میں پھر بھی بہت تھک گیا ہوں !! پہلے حریم کو شاپنگ لے کر جاتا رہتا تھا تو عادت تھی !!! تم سوچ بھی نہیں سکتی وہ کتنی زیادہ شاپنگ کرتی تھی ہر پندرہ دن بعد مجھے اسے شاپنگ پر لے جانا پڑتا تھا ، نہیں لے کر جاتا تھا تو ناراض ہو جاتی تھی !! وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا ایمان خاموشی سے سنتی ہوئی اس پاس گئی “-
” یہ کیا کر رہی ہو تم ؟؟ ہاتھ ہٹاؤ ؟؟ ایمان کو اپنے جوتوں پر ہاتھ رکھتے دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا “-
” آپ کے جوتے اتار دوں !! آپ تھک گئے ہیں نہ !! ایمان نے پھر سے اس کے جوتوں کی طرف ہاتھ بڑھایا جس احتشام نے فوراً تھام لیا “-
” یہ تمھارا کام نہیں ہے ؟؟ میں خود کر لوں گا ؟؟ وہ خفگی سے بولا ۔۔۔ تمھاری جگہ یہاں ہے میرے پاس ، میرے دل میں ، ادھر آ کر بیٹھو !! احتشام نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے بیڈ پر اپنے پاس بٹھایا اور خود اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا “-
” سر دباؤ میرا !! اس نے ایمان کا ہاتھ اپنے سر پر رکھتے ہوئے اسے حکم دیا جس پر وہ آہستگی سے اس کا سر دبانے لگی “-
” حریم کون ہے احتشام ؟؟ اس سوال نے اس کا سکون غارت کر رکھا تھا اس نے کئی بار ماریہ اور عاتکہ سے بھی حریم کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تھی لیکن ان دونوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اس سوال کا جواب وہ احتشام سے لے آج وہ خود حریم کا نام لے رہا تھا اس لیے ایمان کو پوچھنے کا موقع مل گیا “-
” تمھاری سوتن !! وہ سکون سے بولا اس کے لفظوں پر ایمان کے اس کے بالوں میں حرکت کرتے ہاتھ تھمے تھے دل میں تکلیف کی ایک لہر سی اٹھی تھی ۔۔۔ مطلب وہ مکمل طور پر اس کا نہیں تھا ایمان کو اسے حریم کے ساتھ بانٹنا تھا “-
” ابھی کہاں ہے وہ ؟؟ ایمان نے بجھے دل کے ساتھ پوچھا اسے لگا شاید احتشام کے ساتھ وہ اسی فلیٹ میں رہتی ہوں کیونکہ گاؤں میں تو وہ نہیں تھی نا ہی مبشر حسین کے گھر میں دکھائی دی “-
“اللہ تعالیٰ کے پاس ؟؟ اب بھی وہ سکون سے بولا “-
” کیا مطلب ؟؟ ایمان نے چونک کر اس کی جانب دیکھا اس کی آنکھیں بند تھیں لیکن چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے “-
” حریم مر چکی ہے !! چار سال پہلے وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی ایمان کو اس کی آواز رندھائی ہوئی محسوس ہوئی !!! وہ ضبط کی انتہا پر تھا “-
” میں ، شہرام ، اور حریم ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے لیکن ہمارا ڈپارٹمنٹ الگ الگ تھا ، وہ شہرام کے ڈپارٹمنٹ میں پڑھتی تھی ، شہرام کی وجہ سے میری بھی اس سے ملاقات ہو جاتی تھی ، روز روز کا ملنا باتیں کرنا دوستی میں بدل گیا اور دوستی کب محبت میں بدلی ہم دونوں کو احساس بھی نہیں ہوا ۔۔۔۔ میں ہمیشہ سے ہی محبتوں کا ترسا ہوا تھا ڈرتا تھا کہیں حریم بھی میری محبت کو ریجیکٹ نہ کر دے اسی ڈر سے میں نے اسے پرپوز بھی نہیں کیا وہ میرا انتظار کرتی رہی کہ کب میں اسے پرپوز کروں ۔۔۔۔۔ ہمارا یونیورسٹی میں آخری سال تھا حریم کے کسی کزن کا اس کے لیے رشتہ آیا ہوا تھا اس کے والدین وہاں اس کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن وہ مجھے چاہتی تھی آخر کار اس نے ہمت کر کے خود ہی مجھے پر پوز کر دیا ۔۔۔۔ میں نے بھی اس سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا ۔۔۔ اس نے مجھے اپنے والدین سے ملوایا میرے کہنے پر دادا سائیں اور ماں اس کے گھر رشتہ لے کر گئے ہمارا رشتہ طے ہو گیا ہم دونوں بہت خوش تھے ۔۔۔۔۔ حریم کی بڑی بہن کی شادی تھی اس کے والدین اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ ہی حریم کی بھی شادی کرنا چاہتے تھے ، ایک ماہ کے اندر اندر ہماری شادی ہو گئی میں حریم کو لے کر اس فلیٹ میں رہنے لگا ہم دونوں ایک ساتھ بہت خوش تھے ۔۔۔ دادا سائیں گاؤں میں ہمارا ولیمہ کرنا چاہتے تھے لیکن ابھی ہمارا لاسٹ سمسیٹر چل رہا تھا اس لیے دادا سائیں نے ہماری ڈگری مکمل ہونے کے بعد ولیمہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ جب تک ہماری ڈگری مکمل ہوئی ہماری زندگی میں ایک نئی زندگی کا اضافہ ہو گیا حریم امید سے تھی ہم دونوں والدین کے رتبے پر فائز ہونے والے تھے ۔۔۔۔ دادا سائیں نے گاؤں میں سے ولیمے کے ساتھ ساتھ حریم کی گود بھرائی کا بھی بندوبست کیا ہوا تھا ہم لوگ ولیمے سے ایک دن پہلے ہی پہنچے تھے سب تیاریاں مکمل تھی “-
” اس دن گھر کے پچھلے حصے میں بنائے گئے اسٹیج پر بیٹھا میں حریم کے آنے کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا اس دن بھی میں بہت خوش تھا ۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد حریم کچھ لڑکیوں کے ساتھ سہج سہج کر چلتی میرے پاس آ گئی میں اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا میں نے اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلایا جسے اس نے فورا تھام لیا اس کے ہاتھ تھامتے ہی ہوٹنگ شروع ہو گئی ، گاؤں میں جشن منانے کے لیے بڑے لوگوں کے ہاں گولیاں بھی چلائی جاتی ہیں ، وہاں بھی چلائی گئی انہیں گولیوں میں سے اچانک کہیں سے ایک گولی حریم کے سینے آ کر لگی اس کے خون کے چھینٹے میرے چہرے کو داغ دار کر گئے چند ہی لمحوں میں میری دنیا اجڑ گی حریم میری باہوں میں جھول گئی میرے تو حواس ہی کام نہیں کر رہے تھے بڑی مشکل سے میں اسے لے کر بھاگا تھا حریم کا بہت خون بہہ چکا تھا گاؤں میں کوئی ہسپتال نہیں تھا ۔۔۔۔ جب تک ہم شہر پہنچے حریم نے دم توڑ دیا تھا ۔۔۔۔۔ وہ مر گئی ایمان ۔۔۔۔ وہ مر گئی !! میری بیوی میرا چند ماہ کا بچہ جو ابھی اس دنیا میں بھی نہیں آیا تھا دونوں مر گئے !! لمحوں میری دنیا اجڑ گئی !! سب کچھ ختم ہوگیا “-
” ایمان بے آواز رو رہی تھی اس کے آنسوں احتشام کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔ احتشام کے آنسوں ایمان کی گود میں گر رہے تھے ۔۔۔۔ کمرے میں ان دونوں کی سسکیوں کی آواز گونج رہی تھی “-
” تمھیں پتہ ہے ایمان میرے لیے سب سے زیادہ ازیت کیا تھی ؟؟ وہ ایمان کے گود سے سر اٹھا کر اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا پوچھنے لگا ۔۔۔۔ ایمان نے نفی میں گردن ہلائی تو وہ پھر بول اٹھا “-
” میں وہ بد نصیب شوہر تھا جس نے اپنی محبوب بیوی کا آخری دیدار نہیں کیا ، میں اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکا ، میں اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں نہیں اتار سکا ۔۔۔۔۔ جیسے ہی ڈاکٹر نے مجھے حریم کی موت کی خبر دی میرا نروس سسٹم بریک ڈاؤن ہو گیا ۔۔۔۔ میں دو دن تک بےہوش رہا ۔۔۔ جب ہوش آیا تو پتہ چلا اس کا سوئم بھی ہو چکا تھا ۔۔۔۔ مجھے زندگی سے نفرت ہونے لگے تھی !! میں نے ہاسپٹل میں ہی اپنے ہاتھوں کی نس کاٹ کر خود کشی کرنے کی کوشش کی لیکن بچ گیا ۔۔۔۔ میں ایک زندہ لاش بن گیا تھا ، دادا سائیں ، ماں ، شہرام ،زیبا بھابھی ،ماریہ سب نے مل کر میرا بہت خیال رکھا لیکن میں نیم پاگل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔ تین سال !!! تین سال میں نے سائیکریسٹ سیشنز لیے ہیں !! وہ اپنی انگلیاں ایمان کے آگے لہراتے ہوئے بولا “-
” تمھیں یاد ہے ایمان جب تم پہلی بار مبشر صاحب کے گھر آئی تھی تو میں نے ہی دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔ پتہ ہے میں وہاں کیوں رہ رہا تھا جب کہ مبشر صاحب مجھے بلکل پسند نہیں کرتے “-
” کیوں رہ رہے تھے آپ وہاں ؟؟ ایمان نے خود ہی سوال کر لیا “-
” تمھارے مبشر صاحب کے گھر آنے سے ایک ہفتے پہلے کی بات ہے !! اس دن حریم کی چوتھی برسی تھی میرا غم انتہا پر تھا ، مجھے شدت سے حریم کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ مجھے ڈپریشن اٹیک ہوا تھا میں نے دوسری بار اپنی جان لینے کے لیے نیند کی گولیاں کھا لیں تھیں ، ماں اس دن ماریہ کو لے کر مجھ سے ملنے کے لیے میرے فلیٹ پر آئی تھیں مجھے فرش پڑا دیکھ کر انہوں نے ایمبولینس کو کال کی مجھے ہاسپٹل لے کر گئیں دادا سائیں کو انہوں نے اطلاع دے کر بلا لیا ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے میرا اسٹامک واش کیا تھا ۔۔۔ میں ایک بار پھر بچ گیا لیکن اس بار ماں نے مجھے نہ دادا سائیں کے ساتھ جانے دیا نہ ہی فلیٹ میں اکیلے رہنے نہیں دیا وہ مجھے اپن ساتھ مبشر صاحب کے گھر لے گئیں مبشر صاحب مجھے اس حال میں بھی اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں میں بھی وہاں نہیں رہنا چاہتا تھا لیکن ماں نے مجھے قسم دے رکھی تھی کہ اگر میں وہاں نہیں روکا تو وہ ساری زندگی مجھے بات نہیں کریں گی !! میری شکل نہیں دیکھیں گی صرف ماں کے وعدے کی وجہ سے میں وہاں رہا تھا “-
” میں ایک ناپسندیدہ شخص ہوں !! میرے بابا سائیں کو ہی میری پرواہ نہیں ہے !! وہ اپنی بیوی بیٹے کے ساتھ خوش ہیں ، ماں مبشر صاحب کے ساتھ سیٹل ہیں بے شک وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں لیکن میں خود ان کی زندگی میں دخل نہیں دینا چاہتا !! اس لیے اکیلا رہتا ہوں ۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی کی ہر تلخی کو ایمان کے ساتھ بانٹ چکا تھا “-
” میرے پاس ایسا کوئی نہیں ہے ایمان جو صرف اور صرف میرا ہو !! میں بہت اکیلا ہوں !! میں بکھرا ہوا ہوں !! کیا تم ہمیشہ کے لیے مجھے سمیٹ لو گی ؟؟ہمیشہ کے لیے میری بن جاؤ گی ؟؟ صرف میری ؟؟ احتشام اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کر اس سے پوچھ رہا تھا “-
” میں صرف آپ کی ہی ہوں !! اور ہمیشہ آپ کی ہی رہوں گی !! کوئی مجھے آپ سے دور نہیں کر سکتا !! آپ خود مجھے اپنے آپ سے دور کرینگے نہ تب بھی نہیں جاؤں گی !! آپ میرے لیے سانسوں کی طرح اہم ہیں احتشام !!!! جیسے سانسوں کے بنا جسم بیکار ہوتا ہے اسی طرح میرا وجود بھی آپ کے بنا بے معنی ہے !! اتنے دں میں نے آپ کو دیکھے بنا کیسے گزارے ہیں یہ صرف میرا دل ہی جانتا ہے !! میں نہیں رہ سکتی آپ کے بنا !! میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں !! بہت زیادہ … ایمان نے بھی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نرمی سے صاف کرتے ہوئے کہا “-
“تم کیوں رو رہی ہو میری جان !! تمھاری آنکھوں میں آنسوں اچھے نہیں لگتے !! جو گزر گیا وہ میرا ماضی تھا میں اسے بھول کر تمھارے ساتھ نئی زندگی جینا چاہتا ہوں !! احتشام نے اس کی آنکھوں کو صاف کر کے خود میں بھینچ لیا “-
” اب تو کہہ دو !! جانم … احتشام اس کے سر پر اپنی ٹھوڑی ٹکائے ہوئے بولا دونوں ہاتھ ایمان کی کمر کے گرد مظبوطی سے بندھے ہوئے تھے “-
” کیا کہہ دوں ؟؟ ایمان اس کے سینے لگی اس کی ٹی شرٹ سے آتی پرفیوم کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے خمار آلودہ لہجے میں پوچھنے لگی “-
” وہی تھری میجیکل ورڈز !! جو اظہار کو اور خوبصورتی دیتے ہیں !! “-
” پہلے آپ بولیں !! پھر میں بولونگی !! وہ سمجھ گی تھی وہ کیا سننا چاہتا ہے “-
” نہیں پہلے تم ہی بولو گی !! مجھے تمھاری خوبصورت آواز میں سننا ہے !! وہ بضد ہوا “-
” اگر میں نہ بولوں تو !! وہ بھی دو بدو بولی “-
” تو میں تمھیں چھوڑ کر ہی نہیں آؤنگا !! وہ ایمان سے دور ہو کر تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا “-
“ٹھیک ہے !! پھر میں خود ہی چلی جاؤنگی !! جب تک آپ مجھے سب کے سامنے پرپوز نہیں کرینگے میں بھی تب تک کچھ نہیں بولونگی !! ایمان اسے جواب دیتی بیڈ سے اترنے لگی ۔۔۔۔ احتشام نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا وہ سیدھا اس کے اوپر آ کر گری “-
” میں جانے دونگا تو جاؤ گی نا میری جان !! وہ مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے “-
” یہ آپ کچھ زیادہ ہی چھچھورے نہیں ہو گے !!! اف اتنے بھاری ہاتھ ہیں آپ کے چھوڑیں مجھے اس کی مظبوطی پکڑ پر وہ مچل کر رہ گئی “-
“اسے چھچھورا پن نہیں رومانس کہتے ہیں میری جان !!! اور رہی بات تمھیں چھوڑنے کی تو میں نے تمھیں کل بھی کہا تھا جانم !! یہ میرے عشق کا حصار ہے تم ساری زندگی بھی اسے توڑ نہیں پاؤ گی !! اس لیے بہتر ہے خود بھی سکون سے رہو اور مجھے بھی رہنے دو وہ اس کے گرد حصار تنگ کرتا آنکھیں موند گیا”-
” ایمان جان چکی تھی وہ آج اسے چھوڑ کر آنے کے ارادے میں نہیں ہے اسی لیے مزاحمت ترک کرتی اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی “-
” آئی لو یو سو مچ !!!اس کی خاموشی محسوس کر کے ایمان نے اظہار کر دیا لیکن جواب نہ پا کر اس نے چہرہ اوپر اٹھا کر دیکھا وہ سو چکا تھا …. ایمان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اتنے وقت میں وہ اس کے ساتھ رہ کر یہ تو جان گئی تھی کہ وہ نیند کا بہت کچا ہے ۔۔۔ اس نے آہستگی سے اٹھ کر لائٹس آف کر کے سائیڈ لیمپ آن کیا واپس آ کر دونوں پر کمبل ڈالتی اس کے سینے پر سر رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial