قسط: 22
طلاق دو !! رائقہ چیخی !! “
” میں احتشام احمد اپنے پورے ہوش و حواس میں ایمان تمھیں ….. احتشام سے اس سے آگے بولا نہیں جا رہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے سر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی تھی وہ بے اختیار اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے گٹھنوں کے بل زمین پر گیا “-
“احمد !!
دادا سائیں سب سے پہلے احتشام کی طرف بڑھے ، عاتکہ ، ماریہ ، ثوبیہ ،شہرام حتکہ سب ہی لوگ احتشام کی طرف بڑھے – سوائے مبشر حسین اور انوار علی کے احتشام کی آنکھیں حد درجے سرخ ہو رہی تھی وہ بے بسی سے ایمان کو تک رہا تھا “-
” احتشام میری جان !! کیا ہوا تمھیں !! عاتکہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر پوچھا “-
” ماں ایمان کو بچا لیں !! وہ بمشکل اپنے منہ سے جملہ ادا کر سکا ۔ احتشام کی حالت دیکھتے ہوئے
ایمان نے اس وقت شدت سے موت کو یاد کیا – احتشام سے تعلق ختم ہونے سے بہتر تھا کہ وہ مر جاتی کم سے کم اس کے نام نے منسوب تو رہتی اس دنیا میں نہ سہی آخرت میں ہی اسے احتشام کا ساتھ نصیب ہو جاتا – وہ خالی خالی نظروں سے احتشام کو تک رہی تھی “-
” لگتا ہے آپ لوگوں کو اس کی زندگی پیاری نہیں ہے !! رائقہ احتشام کو خاموش دیکھ کر دانت پیستے ہوئے بولی “-
” مجھے لگتا ہے تمھیں اپنی زندگی پیاری نہیں ہے مس رائقہ انوار علی !! شرافت سے ایمان کو چھوڑ دو !! ورنہ یہ گولی سیدھا تمھارے دماغ میں مارونگی !! ایمان کا گلہ کٹنے پر تو شاید وہ بچ بھی جائے لیکن دماغ میں گولی لگنے پر تم سیدھا جہنم میں جاؤ گی !! زیبا نے اس کے سر پر پسٹل سے دباؤ ڈالتے ہوئے کہا اس کی بات پر رائقہ کا چہرہ فق ہوا “-
” زیبا اپنی بیٹی کو سلانے اوپر کمرے میں گئی تھی ابھی وہ پارس کو سلانے کی کوشش میں ہی تھی کہ نیچے سے آتی شور کی آواز سن کر اس نے کمرے سے باہر نکل کر راہداری میں بنی گیلری سے نیچے کا منظر دیکھا جہاں رائقہ ایمان کی گردن پر چاقو رکھے کھڑی تھی – زیبا خاموشی سے واپس کمرے میں چلی آئی !! کیا کروں یا اللہ مجھے کوئی راستہ دکھا یہ پاگل لڑکی کہیں ایمان کو کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دے !! اگر ایمان کو بھی کچھ ہوگیا تو احتشام تو مر جائے گا !! نہیں میں اپنے بھائی کو کچھ نہیں ہونے دے سکتی !! لیکن کروں کیا کچھ سمجھ نہیں آ رہا – زیبا پریشانی سے ادھر سے ادھر ٹہلتی سوچنے لگی جب اس کے زہن میں ایک دم سے جھماکہ ہوا اس نے سب سے پہلے فون اٹھا کر پولیس کو کال ملائی – پولیس کو کال کرنے کے بعد وہ خاموش سے دبے پاؤں بنا آواز کیے نیچے چلی آئی رائقہ دوسری طرف منہ کر کے کھڑی تھی وہ زیبا کو نہیں دیکھ سکی – رائقہ کو ڈرانے کے لیے اسے کسی چیز کی ضرورت تھی لیکن اس پاس کچھ نہیں تھا کچن بھی دوسری طرف ورنہ وہ بھی چاقو اٹھا لاتی – ابھی وہ اسی کشمکش میں کھڑی تھی کہ اس کی نظر ٹیبل پر رکھے گلدان پر پڑی اس نے آہستگی سے گلدان اٹھا لیا زیبا کا ارادہ صرف اسے تب تک ڈرا کر رکھنے کا تھا جب تک پولیس نہ آ جاتی رائقہ اس وقت غصے سے پاگل ہو رہی تھی – غصے میں انسان کی ویسے ہی عقل کم ہو جاتی ہے یہیں وجہ تھی کہ وہ اپنے سر پر رکھے گلدان کو پسٹل سمجھنے لگی “-
” ایمان کو چھوڑو !! زیبا کے بولتے ہی رائقہ نے ایمان پر اپنی گرفت ڈھیلی کر دی ۔ ایمان اسے دھکا دیتی احتشام کی طرف بھاگی ۔ زیبا بھی رائقہ پر دو حروف بھیجتی پریشانی سے احتشام کی طرف بھاگی “-
” احتشام آپ ٹھیک ہیں !! ایمان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بے قراری سے پوچھا احتشام نے صرف ایک نظر اسے دیکھا اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا “-
” کوئی ڈاکٹر کو فون کرو !! دادا سائیں چیخ پڑے ۔ شہرام نے ہوش میں آتے ڈاکٹر کو کال ملائی ۔ احتشام کو شہرام اور ایمان روم میں لے کر چلے گئے دادا سائیں اور عاتکہ بھی ان کے پیچھے گئے”-
” تم کہاں بھاگ رہی ہو ڈائن !! رائقہ جو پولیس موبائل کے سائرن کی آواز سنتے خاموشی سے فرار ہونے کے چکروں میں تھی ماریہ نے اسے فرار ہوتا دیکھ کر اس بازو پکڑ لیا ۔ ماریہ کو اسے پکڑے رکھنا انتہائی مشکل کام تھا وہ ماریہ کو دھکا دیتی ہوئی آگے بڑھی ماریہ کو زیبا نے تھام کر گرنے سے بچا لیا “-
پڈث
” بس رائقہ بہت کر لی تم نے لوگوں کی زندگیاں برباد اب میں تمھیں مزید کسی کی زندگی برباد نہیں کرنے دونگی !!
“رائقہ ماریہ کو دھیکلتی آ گے بڑھی ہی تھی کہ سائرہ بیگم رائقہ کے رستے میں حائل ہو گئیں انہوں ایک زرودار تھپڑ رائقہ کے منہ پر مارا ۔ اتنے میں پولیس آ گئی سب کے بیان پر رائقہ کو گرفتار کر لیا گیا”-
” بابا مجھے چھڑوائیں !! رائقہ نے انوار علی کو پکارا تو سائرہ بیگم بیچ میں بول پڑیں “-
” انسپکٹر صاحب مجھے اور انوار علی کو بھی گرفتار کر لیجئے !! ہم بھی اس کے گناہ میں برابر کے شریک ہیں جب رائقہ نے حریم پر گولی چلوائی تب مجھے اس بات کا بلکل علم نہیں تھا لیکن جب مجھے پتہ چلا تو میں نے اپنے شوہر کے کہنے پر اپنی بیٹی کا گناہ چھپایا اس لیے ہم بھی گنہگار ہیں ۔ ہم نے بچپن سے اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر پردہ ڈالا ہمیشہ یہ کہہ کہ بات ختم کر دی کہ بچی ہے ، اکلوتی ہے ، لاڈلی ہے ، ہم اس کی جائز ناجائز بات کو مانتے رہے ۔کاش ہم نے اس کی پہلی غلطی پر ہی سزا دے دی ہوتی تو آج اس عمر میں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا !! یہ سچ ہے میری بیٹی قاتلہ ہے !! اس نے نہ صرف اور اس کے بچے کا قتل کیا ہے بلکہ ایمان کی بھی جان لینے کی کوشش کی ہے !! ہمیں بھی جیل میں ڈال دیجئے !! سائرہ بیگم نے روتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پولیس کے آگے کر دیے “-
” لے چلو ان دونوں کو بھی !! انسپیکٹر کے کہنے پر انوار علی اور سائرہ بیگم کو بھی ہتھکڑیاں لگا کر پولیس اپنے ساتھ لے گئی …. ان سارے معاملات میں ربیان کچھ نہیں بولا وہ پتھر کی طرح اپنی جگہ جمع رہا ہوش تو اسے تب آیا جب ثوبیہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پکارا “-
” ثوبیہ مجھے یقین آ رہا رائقہ اتنا گر سکتی ہے !! اور میرے والدین وہ بھی اس کے گناہوں پر پردہ ڈالتے رہے صرف میں ہی انجان ہوں !! ربیان سکتے کی کیفیت میں تھا آج جو کچھ بھی ہوا تھا اس پر یقین کرنا ہر کسی کے لیے مشکل تھا ۔ اس کے لیے تو حد درجے مشکل تھا اس کے والدین اس کی اکلوتی بہن سب اس وقت پولیس کی حراست میں تھے “-
” ربیان میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں تھمیں تسلی دے سکوں بس میں اتنا ہی کہوں گی صبر کرو !! ثوبیہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا جس پر ربیان اسے دیکھ کر رہ گیا “-
––––––––
Novels of Akasha Ali
––––––––
” میں نے آپ لوگوں کو پہلے بھی سختی سے کہا تھا احتشام کی دماغی حالت عام لوگوں جیسے نہیں رہی ہے ماضی میں ہوئے حادثے سے وہ ابھی تک مکمل طور پر باہر نہیں آ سکا ہے اس کے اعصاب اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ وہ بار بار ایسی صورت حال کا سامنا کر سکے !! احتشام کے ڈاکٹر اس کا معائنہ کرنے کے بعد دادا سائیں اور عاتکہ سے مخاطب تھے وہ لوگ اس وقت شہرام کے کمرے میں موجود تھے ایمان اس کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھی “-
” شمشیر صاحب آپ لوگوں کو احتشام کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے !! اگر وہ اسی طرح اسٹریس لیتا رہا تو اس کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے ابھی دو ماہ پہلے ہی اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی میں نے اس وقت بھی آپ لوگوں کو یہی کہا تھا اس کے لیے ذہنی باؤ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے !! پلیز اس کا بہت خیال رکھیں !! فلحال میں نے اسے نیند کا انجیکشن دے دیا ہے صبح تک انشاء اللہ بہتر ہو جائے گا !! ڈاکٹر انہیں مزید ہدایات دے کر جا چکے تھے “-
” عاتکہ رات کافی ہوگئی ہے تم لوگ یہیں رک جاؤ !! نسیمہ نے مبشر حسین کو عاتکہ اور ماریہ کو لے جاتے دیکھ کر کہا دادا سائیں اور زیبا وہیں رکنے والے تھے ایمان پہلے سے ہی وہاں موجود تھی احتشام فلحال گنودگی میں تھا ۔ ثوبیہ ربیان کے ساتھ پہلے ہی گھر کے لیے نکل چکی تھی ۔ نسمیہ نے عاتکہ کی حالت سوچ کر انہیں بھی رکنے کا کہا لیکن مبشر حسین کسی حال نا مانے نا چار ان لوگوں کو اپنے گھر ہی جانا پڑا “-
” سب اپنے کمرے میں جا چکے تھے ۔ احتشام انجیکشن کے زیر اثر پر سکون سا سو رہا تھا ایمان اس کا بازو پر سر رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی ۔ آج ان کی زندگی میں طوفان آ کر گزر گیا تھا اگر احتشام واقعی اسے طلاق دے دیتا تو ؟؟ ایمان کے لیے یہ سوچ ہی جان لیوا تھی ۔وہ سر جھٹک کر آنکھیں موند گئی “-
––––––––
Novels of Akasha Ali
––––––––
” ہر طرف روشنیاں بکھری ہوئی تھیں آج ان دونوں کا ولیمہ تھا احتشام کے ساتھ ایمان اس کے پہلو میں بیٹھی ہوئی تھی ان دونوں کے لبوں سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ شہرام اور ماریہ کا ابھی کچھ دیر پہلے ہی نکاح ہوا تھا وہ دونوں بھی بہت خوش نظر آ رہے تھے”-
“مسٹر شوہر آپ زیادہ مسکرائے نہیں !! ایمان مسکرانے کی وجہ سے اس کے گال میں پڑنے والے خوبصورت ڈمپل کو دیکھ کر بولی جس کی وجہ سے وہ بے انتہا پیارا لگ رہا تھا”-
” کیوں جانم !! احتشام نے اس کے قریب ہو کر اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا “-
“لڑکیاں آپ کو دیکھ رہی ہیں یہ بات مجھے کسی صورت برداشت نہیں کوئی میرے علاوہ آپ کو دیکھے !! آپ صرف میرے ہیں !! ایمان کے بازو میں ہاتھ ڈال کر اس کے قریب ہوتی اس کے کان میں گھس کر بولی نظریں سامنے کھڑی لڑکی پر تھی جو مسلسل ان دونو کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ احتشام نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو ایمان کی پریشانی سمجھتے ہوئے مسکرانے لگا
“-
” جانم !! جو دیکھ رہا ہے اس دیکھنے دو !! ہم سب کی آنکھیں نہیں بند کر واسکتے !! تم بس مجھے دیکھو میں صرف تمھارا ہوں اور تمھارا ہی رہوں گا !! احتشام گھمبیر لہجے میں بولا “-
” آئی لو یو بہت سارا میرے مسٹر شوہر !! ایمان چہکتی ہوئی اس کے مزید قریب ہوگئی”-
” لو یو ٹو میری جان !! احتشام نے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے لیا تو ایمان آسودگی سے مسکرا دی “-
” تھینک یو مسسز شہرام !! شہرام نے اپنے برابر میں بیٹھی ماریہ کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا ۔۔ ماریہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ ایمان کو تو تم شوہر کو دیوانہ بنانے کی بہت پٹیاں پڑھاتی تھی اب اپنی باری پر کیا ہوگیا !! شہرام نے اس کے شرمانے چوٹ کی
“ہاتھ چھوڑیں میرا کوئی دیکھ لے گا !! ماریہ آس پاس نظر دوڑاتی اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کے لیے مزاحمت کرنے لگی “-
” جان جی یہ ہاتھ میں نے چھوڑنے کے لیے تھوڑی نا پکڑا ہے !! آٹھ سال کی تھی تم جب میں نے تمھیں پہلی بار دیکھا بالوں کی دو پونیاں بنائے منہ پر چاکلیٹ لگائے ہوئے تم اپنے بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے گھور رہی تھی جب میں احتشام کے ساتھ پہلی بار تمھارے گھر آیا تھا اسی دن سے محبت کرتا ہوں میں تم سے ۔۔۔۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ میں نے اپنی محبت کو کبھی کسی ہر ظاہر نہیں ہونے دیا کیونکہ میں چاہتا تھا اپنی محبت کا اظہار میں اس دن کروں جب تم میرے نکاح میری دسترس میں آؤ گی ۔۔۔۔ بہت چاہتا ہوں تمھیں جان ” آئی لو یو سو مچ ” شہرام نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا ایمان شرما کر سر جھکا گئی “-
” لو یو کا جواب بھی ہوتا ہے !! شہرام اسے خاموش دیکھ کر اپنے ہاتھ میں تھما اس کا ہاتھ دبا کر گھورتے ہوئے بولا “-
” تھینک یو !! ماریہ آہستہ سے بولی”-
” ماریہ کے جواب سننے کے بعد شہرام کا دل کیا سر پیٹ لے”-
“مجھے معاف کر دو عاتکہ !! ہماری وجہ سے احتشام کے ساتھ بہت برا ہوا ہے !! سائرہ بیگم عاتکہ کے آ گے ہاتھ جوڑ کر بولیں ۔۔۔ عاتکہ نے ان کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا “-
” آپا اس طرح مجھ سے معافی مت مانگیں !! آپ مجھ سے بڑی ہیں مجھے بلکل اچھا نہیں لگ رہا !! جو ہوا اسے بھول جائیں !! جب آپ کو احتشام نے معاف کر کر دیا ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے !! عاتکہ نے نرمی سے ان کے آنسوں صاف کرتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔ اس وقت وہ ایک ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے احتشام کو جب رائقہ اور انوار کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ سائرہ بیگم کے بیان کے بارے پتہ چلا تو اس کے دل میں نرمی آ گئی بے شک سائرہ بیگم نے ان دونوں کا گناہ چھپا کر بہت بڑی غلطی کی تھی لیکن اپنی بیٹی اور شوہر کے خلاف بیان دے کر انہیں سزا دلوا کر انہوں نے اہنی غلطی کا کفارہ ادا کیا تھا ۔۔۔۔۔” معاف کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے ” یہیں سوچ کر احتشام نے اپنا دل بڑا کرتے ہوئے سائرہ بیگم کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی تھی ایمان نے بھی اس فیصلے میں اس کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔ ایمان اور احتشام کے اس فیصلے نے ثوبیہ اور ربیان کے دل میں بھی نرم گوشہ پیدا کردیا تھا ثوبیہ نے بھی ایمان سے اپنے رویے کی معافی مانگ لی تھی ۔۔۔۔ انوار علی اور رائقہ کا کیس عدالت میں جا چکا تھا … سب کو یقین تھا کہ ان دونوں کو سخت سزا ہی ملے گی “-
نوٹ !!
(“رائقہ اور انوار علی جیسے لوگ ہمارے معاشرے کا حصہ ۔۔۔۔ والدین اپنے بچوں کی جائز نا جائز ہر خواہش کو پورا کرتے کرتے انہیں حسدی اور خود سر بنا دیتے ہیں ۔ بے شک آپ اپنے بچوں کو پیار سے رکھیں ، ان کی خواہشات کو پورا کریں لیکن ان کی اچھی تربیت بھی کریں انہیں اپنی چیزوں اور دوسروں کی چیزوں فرق کرنا سکھائیں انہیں اسلام سکھائیں صیح اور غلط کی تمیز سکھائیں صرف خواہشات پورا کر دینے سے والدین کا فرض ادا نہیں ہوتا بلکہ اولاد کی بہترین تربیت اس فرائض میں اول درجے پر ہے اس کے بارے سوال بھی کیا جائے گا “-)
––––––––
Novels of Akasha Ali
––––––––
” پانچ سال بعد !!
” دادو میں ادھر ہوں !!! آئیں مجھے پکڑ لیں وہ چار سالہ بچہ اپنے دادا کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھا “-
” ابہام دادو کے ساتھ اندر آ جاؤ !!تمھیں تیار کرنا ہے دیر ہورہی ہے ہم نے ماریہ خالہ کی طرف بھی جانا ہے !!
” ایمان نے اپنے چار سالہ بیٹے کو آواز لگائی جو اپنے دادا سجاول ملک کے ساتھ میں کھیلنے مصروف تھا ۔۔۔۔ سجاول ملک کے احتشام کے ساتھ رویہ تو کچھ خاص نہیں تھا لیکن جب سے ابہام پیدا ہوا تھا وہ بہت حد تک بدل گئے تھے ابہام میں ان کی جان بستی تھی وہ کہتے ہیں نا “اصل سے سود پیارا “-
” ماں آپ میے کپئے دے دیں میں دادو شے تیال ہو داؤں وا ( ماں آپ میرے کپڑے دے دیں میں دادو سے تیار ہو جاؤں گا ) ابہام ایمان کے پاس آ کر اس قمیض کھنچتے ہوئے بولا “-
” آپ دادو کو تنگ کرو گے !! میں خود آپ کو تیار کر دیتی ہوں !! ایمان اس کا ہاتھ تھام کر باتھروم میں لے جانے لگی “-
” ارے بہو تم اس کے کپڑے دے دو ہم خود اپنے شیر کو تیار کریں گے !! تم اپنی اور اس کے باپ کی تیاری کرو !! سجاول ملک جو کمرے کے باہر کھڑے تھے اندر آتے ہوئے بولے “-
” جی بابا سائیں !! ایمان نے جھٹ سے ابہام کا سارا سامان ان کے حوالے کیا “-
” اوئے بھالو کہاں جانے کی تیاری ہے !! احتشام نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ابہام کو سجاول ملک کی انگلی پکڑ کر جاتے دیکھ کر اسے گود میں اٹھا کر اس کے پھولے پھولے گالوں کو چوما ۔۔۔۔ وہ ابھی ابھی ہسپتال سے آیا تھا احتشام نے گاؤں میں ایک چھوٹا سے ہسپتال کا کام مکمل کروا لیا تھا تا کہ آئیندہ گاؤں والوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے تا کہ پھر کبھی کسی احتشام کی حریم کو بر وقت امداد نہ ملنے پر جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے “-
” بابا آپ مدے بھالو نئی تہا کریں ( بابا آپ مجھے بھالو نہیں کہا کریں ) ابہام نے اپنے لیے بھالو سن کر برا سا منہ بنا لیا بے شک وہ ایک گول مٹول سا بچہ تھا لیکن موٹا سننا اسے برداشت نہیں تھا “-
” احمد ہمارے پوتے کو نظر لگانے کی ضرورت نہیں ہے !! ہمارا بچہ موٹا بھالو نہیں ہے بلکہ صحت مند ہے !! سجاول ملک فوراً پوتے کی حمایت میں بولے احتشام تو ابہام کے لیے ان کی محبت پر عش عش کر اٹھتا تھا “-
” تلیں دادو !! ( چلیں دادو ) ابہام نے اپنے دادا کی انگلی کھینچتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ لے گیاا باپ سے وہ ناراض ہو چکا تھا “-
” اتنا پیار تو بابا سائیں نے کبھی مجھ سے تو کیا دلاور سے بھی نہیں کیا ہو گا !! جتنا وہ اس بھالو سے کرتے ہیں !! احتشام ایمان کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا جس نے کالے رنگ کی بڑی سی چادر اپنے اوپر پھیلا رکھی تھی وہ ایک بار پھر امید سے تھی “-
” آپ یہ رونا بعد میں رو لیجئے گا !!ابھی جاکر تیار ہو جائیں میں نے آپ کے کپڑے باتھروم میں رکھ دیے ہیں !! شہرام بھائی اور ماریہ بار بار کال کر رہے ہیں !!”-
” آج ماریہ کی بیٹی تین سال کی ہوئی تھی اس نے اور شہرام نے اس کے لیے سالگرہ رکھی تھی ان لوگوں کو بھی وہیں جانا تھا ۔۔۔۔۔۔ شہرام نے اپنے والدین کو لے کر مکمل طور پر شہر میں سکونت اختیار کرلی کی تھی ۔۔۔۔۔۔ احتشام اور ایمان اپنے فلیٹ میں ہی رہتے تھے لیکن ہر ہفتے کو وہ لوگ گاؤں آتے تھے کیونکہ دادا سائیں احتشام کو دیکھنے کے لیے بے قرار رہتے تھے اور سجاول ملک ابہام کے لیے فرزانہ اور دلاور اپنی اپنی زندگی میں مگن تھے زیبا کی بیٹی پارس چھے سال کی ہو گئی تھی اللہ نے اسے ایک بیٹے سے نوازہ تھا جس کا نام اس نے بہرام رکھا تھا ڈیڑھ سالہ بہرام نے ان کی فیملی مکمل کر دی تھی “-
” ماں ٹھیک کہتی تھی !! احتشام نے اس کے کندھے پر بازو پھیلائے “-
” کیا کہتی تھیں !! ایمان نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا “-
” یہی کہ اللہ ایک دن مجھے بہت نوازے گا !!! دیکھ لو آج الحمدللہ میرے پاس سب کچھ ہے !!! والدین کا پیار ، خوبصورت، نیک ، محبت کرنے والی فرمانبردار بیوی ، پیارا سا بیٹا کسی چیز کی کمی نہیں بے شک اللہ صبر کرنے والوں کو دنیا اور آخرت میں بہترین اجر دیتا ہے !!! احتشام نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایمان کو اپنے حصار میں لے لیا “-
” مسٹر شوہر !! چھوڑیں مجھے جا کر تیار ہوں دیر ہو رہی ہے !! ایمان نے اپنے کندھے سے اس کے بازو ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا “-
” میں نے پہلے بھی کہا ہوا ہے جانم !! یہ میرے عشق کا حصار ہے جسے تم ساری زندگی بھی نہیں توڑ پاؤ گی !! احتشام نے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا پھر اسے چھوڑ کر باتھروم میں گھس گیا “-
––––––––
Novels of Akasha Ali
––––––––
” ایمان اب کیسی طبعیت ہے تمھاری !! ثوبیہ نے ایمان کو جوس کا گلاس تھماتے ہوئے اس کی خیریت پوچھی “-
” الحمداللہ آپی اب پہلے سے بہتر ہے !! ایمان نے مسکرا کر جواب دیا …… امی کہاں ہیں ؟؟ نظر نہیں آ رہیں ؟؟؟ ایمان نے عاتکہ کا پوچھا “-
” تمھیں پتہ تو ہے امی اپنے پوتے اور نواسے نواسی کو دیکھ لیتی ہیں تو سب کچھ بھول جاتی ہیں !!! ابہام ، سکینہ (ماریہ کی بیٹی ) ، تبیان ( ثوبیہ کا بیٹا ) کو کھانا کھلانے میں مصرف ہیں نسیمہ آنٹی بھی ساتھ ساتھ ہیں !! ثوبیہ نے صوفے پر بیٹھی عاتکہ اور نسیمہ کی طرف اشارہ کیا انہیں دیکھ کر ایمان بھی مسکرا دی “-
” ایمی تم نے کچھ کھایا !! ماریہ اس کی پریگنینسی کا خیال کرتے ہوئے اسے سے پوچھنے لگی “-
” نہیں ماری ابھی بھوک نہیں ہے !!! ثوبیہ آپی نے جوس لا دیا ہے فلحال بس وہی پیوں گی !! ایمان نے جوس کا گلاس لبوں سے لگایا”-
” ٹھیک ہے بھابھی اور کوئی حکم !!! ماریہ ہسنتے ہوئے فرمانبردار نند بنی تو وہ دونوں بھی ہنس پڑیں “-
” سب کی زندگی نارمل ہو چکی تھی ۔ سب اپنی زندگیوں میں خوش اور مطمئن تھے ربیان اور ثوبیہ کا ایک بیٹا تبیان تھا ثوبیہ اور ربیان سائرہ بیگم کو لے کر مبشر حسین اور عاتکہ کے ساتھ رہنے لگے تھے کیونکہ وہ دونوں اکیلے تھے ۔۔۔۔۔ عاتکہ تو اکثر احتشام کی طرف ہی چلی جاتی ہیں کئی کئی دن ان دون کے ساتھ ہی رہتی تھیں ابہام اور احتشام میں تو ان کی مکمل دنیا تھی جب احتشام ایمان گاؤں جاتے تھے تب وہ مبشر حسین کے پاس لوٹ جاتی تھیں مبشر حسین آج بھی ویس ہی تھے لیکن اپنے نواسے کا ساتھ ان کی بھی اچھی گزرہی تھی “-
ختم شد !!!
––––––––
Novels of Akasha Ali
––––––––