حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 8

“الارم کی آواز پر ان کی آنکھ کھلی تھی انہوں نے میکس کو بولنے کے باوجود اپنی طرف سے غلطی کی بلکل گنجائش نہیں چھوڑی تھی گھڑی میں 1 بجنے والا تھا وہ اٹھ کر فریش ہو کر باہر نکلے نیچے آئے میکس صوفے پر آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا وہ بھی دوسرے صوفے پر بیٹھ گئے کل رات ہی وہ پاکستان آئے تھے اور سارا دن کیرل کی وجہ سے خوار ہوئے تھے ابھی بھی وہ شدید تھکن کا شکار تھے ان کی ہمت تو نہیں تھی فلائٹ لینے کی لیکن وہ کیرل کو مزید یہاں نہیں رکھ سکتے تھے جتنی دیدہ دلیری وہ کیرل کی آنکھوں میں دیکھ چکے تھے وہ واضح بتا رہی تھی کہ وہ کبھی بھی بغاوت پر اتر سکتی ہے وہ شروع سے ہی کیرل کے پاکستان رہنے پر رضا مند نہیں تھے مگر کیرل کی بے جا ضد کی وجہ سے مجبور ہو گئے تھے”-
” میکس اٹھو ہمیں ایئر پورٹ کے لیے نکلنا ہے ۔۔۔ تمھیں میں نے منا بھی کیا تھا سونا نہیں لیکن تم پھر بھی سو گئے چلو اب جلدی اٹھو وہ اپنی دھن میں بولے جا رہے تھے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ میکس !!! میکس اب اٹھ بھی جاؤ ۔۔۔۔ ولما بھی اٹھ کر وہیں آ گئیں “-
” اٹھاؤ اسے ولما ۔۔۔۔میں کب سے آوازیں دے رہا ہوں لیکن یہ گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہا ہے سن ہی نہیں رہا یہ لڑکا دیر کروائے گا “-
” میکس اٹھو !!! ولما نے اسے ہلایا لیکن میکس پر کوئی فرق نہیں پڑا وہ یونہی بے سدھ پڑا رہا اب انہیں تشویش ہونے لگی تھی میکس !!! ولما نے پریشانی سے اسے جھنجھوڑا اس کی نیند اتنی پکی تو نہیں تھی مسٹر انتھونی کو بھی تشویش لاحق ہوئی وہ اٹھ کر ان کے پاس آگئے”-
“یہ اٹھ کیوں نہیں رہا ہے؟؟ ولما پریشان ہو رہیں تھیں “-
” مجھے لگتا ہے یہ بے ہوش ہے ۔۔۔۔ جاؤ ولما جلدی سے پانی لے کر آؤ ولما ہڑبڑا کر کچن میں گئی”-
“یہ لیں ولما نے پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھایا “-
” مسٹر انتھونی نے میکس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے میکس سر ہاتھوں میں تھامتا ہوا اٹھا اس کا سر بری طرح درد کر رہا تھا “-
” میکس میرے بیٹے تم ٹھیک ہو ؟؟ ولما اسے اٹھتا دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگیں جبکہ مسٹر انتھونی کو خطرے کے گھنٹی صاف سنائی دے رہی تھی وہ تقریباً دوڑتے ہوئے اوپر کیرل کے روم میں پہنچے دروازہ کھولا لیکن پورا کمرہ خالی تھا یعنی جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا کیرل ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جا چکی تھی وہ فوراً نیچے واپس آئے “-
” میکس کیرل کہاں گئی ؟ “-
” مجھے نہیں پتہ انکل میں یہاں ہی بیٹھا ہوا تھا پھر اچانک کسی نے میرے سر پر کچھ مارا میں بے ہوش ہو گیا مجھے کچھ نہیں پتہ وہ کہاں گئی “-
” میکس میں نے تمھیں کہاں تھا اس پر چیل کی نظر رکھنا پھر تم نے اتنی بڑی غلطی کیسے کردی مسٹر انتھونی سخت غصے میں تھے میکس کو بھی ان کے غصے سے ڈر لگنے لگا اب اسے افسوس ہو رہا تھا اپنے گیم کھیلنے پر “-
” لیکن وہ کہاں جا سکتی ہے اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے “-
” مجھے کیا پتہ کہاں گئی یہ تو تم دونوں بتاؤ ۔۔۔۔تم لوگوں کو پتہ ہونا چاہیئے اس کے رابطوں کے بارے میں وہ تم لوگوں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں اسی لیے اس کے یہاں رہنے پر رضا مند نہیں تھا اب سارا زمانہ مجھے ذلیل کرے گا کہ پادری کی بیٹی نے عیسائیت کو رد کر کے اسلام قبول کر لیا مسٹر انتھونی کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا “-
” مجھے کیرل ہر حال میں چاہیے اسے ڈھونڈنا ہی پڑے گا ۔۔۔۔ کوئی تو ہے جو اس کی مدد کر رہا ہے وہ اکیلے اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی مسٹرانتھونی کے دماغ نے فوراً کام کرنا شروع کر دیا “-
” انکل ہم اسے کہاں ڈھونڈیں گے اس وقت ۔۔۔ اتنا تو وہ لوگ بھی جانتے تھے کیرل ان کے جان پہچان کے لوگوں میں جانے کی غلطی ہر گز نہیں کرے گی “-
” میکس ٹھیک کہا رہا ہے ہمیں صبح ہونے کا انتظار کرنا چاہیے اگر ابھی اسے ڈھونڈنا شروع کر دیا تو سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا ولما کی بات بلکل ٹھیک تھی وہ صوفے پر بیٹھ گئے اب انہیں صبح کا انتظار تھا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” کیرل آ جاؤ ناشتہ کر لو !! ماریہ نے کمرے میں آکر اس سے اپنے ساتھ چلنے کا کہا تو کیرل اس کے ساتھ باہر نکلی رات کو ماریہ نے اسے کھانے کے بعد دوا دی پھر اپنے کپڑے دیے اور اپنے کمرے میں اسے سلایا ان کے گھر میں چار ہی کمرے تھے ایک اس کے والدین کا دوسرا اس کے بھیا کا تیسرا ان دونوں بہنوں کا جبکہ چوتھا کافی وقت سے بند پڑا تھا اس لیے ماریہ نے فلحال اسے اپنے بیڈ پر جگہ دی تھی اور خود فرش پر بستر لگا کر سوگئی تھی ابھی بھی ماریہ پتہ نہیں کب سے جگی ہوئی ناشتہ وغیرہ بنا رہی تھی جبکہ اس کی بہن ثوبیہ تو ابھی تک سو رہی تھی ثوبیہ کو اپنے کمرے میں اضافے کی بلکل خبر نہیں تھی”-
” تم ادھر بیٹھ جاؤ!! ماریہ نے کرسی کھسکا کر اسے بیٹھنے کو کہا اور خود اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی “-
” امی یہ کیرل ہے میں نے آپ کو بتایا تھا نہ ماریہ نے صبح اٹھتے ساتھ ہی عاتکہ اور مبشر صاحب کو اس کے بارے میں بتایا تھا مبشر حسین تو آفس کے لیے نکل چکے تھے اسی لیے ایمان ان سے نہیں مل سکی البتہ احتشام اس کے بکل سامنے والی کرسی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا اس نے ایک سرسری سی نگاہ ایمان پر ڈالی اور دوبارہ ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا “-
” بیٹا نیند تو ٹھیک طرح آئی آپ کو عاتکہ نے محبت بھرے لہجے میں سوال کیا “-
” جی آنٹی ایمان نے یک لفظی جواب دیا “-
” چلو آرام سے ناشتہ کرو بلکل تکلف نہیں کرنا اپنا ہی گھر سمجھو عاتکہ نے اپنے ہاتھوں سے اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالا تو وہ چپ چاپ کھانے لگی “-
” اچھا ماں میں چلتا ہوں احتشام نے اٹھ کر عاتکہ کے سر پر بوسہ دیا ایمان کو اس کے پیار کا انداز بہت بھایا “-
” ٹھیک ہے بیٹا خیر سے جاؤ اللہ حفظ عاتکہ سے دعا لے کر وہ نکل گیا “-
” امی میں سوچ رہی ہوں کیرل کے لیے کمرہ صاف کر دیتی ہوں تا کہ اسے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو “-
” ماریہ پلیز مجھے کیرل نہ کہو اب میرا نام ایمان ہے وہ لوگ اسے کیرل ہی بول رہے تھے کیرل نام سن کر اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ابھی بھی وہ عیسائی ہی ہو اسے پہلے ماریہ کچھ کہتی ثوبیہ بھی اٹھ کر آ گئی”-
” یہ کون ہے ؟؟ ثوبیہ نے آنکھیں چھوٹی کر کے ماریہ کے برابر میں بیٹھی لڑکی کو دیکھا جو نا جانے صبح صبح کہاں سے ٹپک گئی تھی “-
” آپی یہ ایمان ہے میری دوست اور اب سے یہ ہمارے ساتھ رہے گی ماریہ نے ایمان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر مسکرا کر بتایا “-
” ثوبیہ تم ناشتہ کرو پھر میں بتاتی ہوں عاتکہ نے ثوبیہ کو ایمان کو گھورتے دیکھ کر کہا وہ جن نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ایمان بے چین ہو رہی تھی”-
” ماریہ تم دونوں نے ناشتہ کر لیا ہے تو جا کر ایمان کے لیے کمرہ صاف کر لو “-
” جی امی آ جاؤ ایمان ہم اوپر چلتے ہیں ماریہ اسے لے کر اوپر چلی گئی ان کے جانے کے بعد عاتکہ ثوبیہ کو ایمان کے بارے میں بتانے لگی “-
–––––––––––––––––––––––––––
وہ لوگ صبح ہوتے ہی کیرل کو ڈھونڈنے کے لیے نکل گئے “-
” انکل ہم اکیلے کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں ہمیں پولیس کی مدد لینی چاہیے وہ لوگ صبح سے پتہ نہیں کہاں کہاں ڈھونڈ چکے تھے کیرل کا کچھ پتہ نہیں چلا تھا “-
” نہیں میکس ہمیں خود ہی ڈھونڈنا ہوگا ۔۔۔ وہ جہاں بھی گئی ہے کسی کی مدد سے گئی ہے مجھے یقین ہے وہ درلامان نہیں جا سکتی اور ہاسٹل یا کسی ہوٹل میں رہنے کے لیے اس کے پاس نہ ہی پیسے ہیں اور نہ شناختی کارڈز وہ یقیناً کسی سے رابطے میں تھی “-
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے انکل تین دن سے اس کا موبائل ہمارے پاس ہے “-
” اس کا موبائل اس وقت کہاں ہے ؟؟ مسٹر انتھونی کا دماغ برق رفتار سے کام کرنے لگا”-
” گھر پر ہے ۔۔۔ میکس کو سمجھ نہیں آیا اچانک فون کیوں چاہنے لگا انہیں”-
” گھر چلو اس کے موبائل میں اس کی کانٹیکٹ لسٹ دیکھتے ہیں اس سے ہی پتہ چلے گا وہ کہاں ہے مسٹر انتھونی نے گاڑی کا رخ گھر کی جانب کیا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان ایک بات تو بتاؤ تمھیں کیا لگتا ہے تمھارے ڈیڈی تمھیں ڈھونڈیں گے نہیں ؟؟ وہ دونوں بیڈ پر بیٹھی باتیں کر رہیں تھیں جب ماریہ کی ذہن میں سوال ابھرا ماریہ نے اس کے لئے کمرہ صاف کر دیا تھا اس میں ایمان نے بھی اس کی مدد کی تھی …. گھر کے باقی کام ختم کرنے کے بعد اب وہ دونوں باتوں میں مصروف تھیں ایمان نے اسے شروع سے لے کر ساری باتیں تفصیل سے بتائیں تھیں”-
” اب تک تو وہ مجھے ڈھونڈنا شروع ہو چکے ہونگے ایمان کو یقین تھا اب تک وہاں طوفان آ چکا ہو گا”-
” تم بلکل پریشان نہیں ہو ایمان میں ہوں تمھارے ساتھ تم نہیں چاہتی تو وہ تمھیں نہیں لے جا سکیں گے میں بابا اور بھیا سے بات کرونگی ہم پولیس کی مدد لیں گے “-
” نہیں ماریہ پولیس کی مدد لینی ہوتی تو میں پہلے ہی لے چکی ہوتی مگر میں نہیں چاہتی میرے ڈیڈ پولیس اور تھانے کے چکروں میں پھنسے میں انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی “-
” لیکن ایمان انہوں نے تمھارا یہ حال کر دیا ہے اگر تم انہیں مل گئی تو پتہ نہیں وہ کیا کریں گے ماریہ اس کے زخموں کو دیکھتے ہو فکر مند ہوئی اس سے پہلے ایمان اس کی بات کا کوئی جواب دیتی مسلسل بیل بجنے کی آواز پر کمرے سے باہرنکلیں”-
–––––––––––––––––––––––––––
” یہاں ماریہ مبشر کا گھر کون سا ہے ؟ میکس نے اپنے سامنے کھڑے ادھیڑ عمر آدمی سے پوچھا ان لوگوں کو کیرل کے موبائل سے صرف دو ہی نمبر ملے تھے اور ان نمبروں میں سے آخری بار جس نمبر پر بات ہوئی تھی وہ ماریہ کا تھا ان لوگوں نے ماریہ کے نمبر سے اس کی انفارمیشن نکالی تھی اور اس کے گھر کے پتے پر پہنچے تھے”-
” جی یہ برابر والا ماریہ کا گھر ہے لیکن آپ لوگ کون ہیں ؟؟ کبھی دیکھا تو نہیں اس علاقے میں ماجد صاحب نے اپنے سامنے خوبصورت نوجوان کو دیکھا وہ ماریہ کا نام لے رہا تھا کہیں مبشر صاحب کی بیٹی نے کوئی گل تو نہیں کھلا دیا اس دن ان کی بیوی کو کچھ ہوا تھا دال میں کچھ تو کالا تھا جس کی انہیں خبر نہیں تھی ( لوگوں کی بری عادت دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہنا ) “-
” آپ نے اس لڑکی کو یہاں کہیں دیکھا ہے میکس نے ان کے سوال کو اگنور کر کے اپنا موبائل ان کے سامنے کیا جس میں کیرل کی تصویر تھی “-
” نہیں بیٹا میں نے اس لڑکی کو کبھی یہاں نہیں دیکھا انہوں نے صاف انکار کیا تو میکس جانے لگا ۔۔۔۔ رکو !!! کل رات ساڑھے دس اور گیا رہ کے بیچ ان کے گھر ایک لڑکی آئی تھی لیکن میں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا ہو سکتا یہی ہو انہیں یاد آیا رات کو جب وہ چہل قدمی کر رہے تھے تب ایک لڑکی رکشے سے اتر کر ان لوگوں کے گھر گئی تھی حیرت تو انہیں بھی ہوئی تھی اکیلی لڑکی کو اس وقت دیکھ کر مگر وہ کیا کر سکتے تھے “-
” میکس ان کی بات سن کر گاڑی کے پاس آیا ۔۔۔ انکل آئی ایم ہنڈریڈ پرسنٹ شور کیرل اس گھر میں ہی ہے یہ انکل بتا رہے ہیں کل رات ایک لڑکی آئی تھی اور اسی وقت کے آس پاس جب کیرل گھر سے نکلی تھی “-
” تو دیر کس بات کی چلو مسٹر انتھونی آگئے بڑھے اور بیل بجائی”-
” کون ہے ؟ عاتکہ نے اندر سے ہی بلند آواز میں پوچھا “-
” میں کیرل کا باپ ہوں کیرل یہاں آئی ہے بلائیں اسے انہوں نے بنا کسی حیل و حجت کے سیدھا کیرل کو بلانے کا کہا “-
” کون کیرل ہم کسی کیرل کو نہیں جانتے آپ لوگ جائیں یہاں سے عاتکہ نے دروازے کی اوٹ میں سے ان لوگوں کو جانے کا کہا “-
” دیکھئے محترمہ ہمیں پتہ ہے میری بیٹی یہی آئی ہے آپ شرافت سے اسے بلا دیں ہم اسے لے کر چلے جائیں گے ان کے شور پر آس پاس کے لوگ جمع ہونے لگے “-
” میں نے کہا نہ ہم کسی کیرل کو نہیں جانتے آپ لوگ جائیں یہاں سے کیوں پیچھے پڑ گئے ہیں پیچھے کھڑی ایمان کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی آخر اس کے ڈیڈی نے اسے ڈھونڈ ہی لیا اب تو اس کی خیر نہیں تھی “-
” ایمان تم ایسا کرو کمرے میں جا کر چھپ جاؤ جب تک ہم نہیں بلائیں باہر مت آنا ماریہ نے پتھر بنی ایمان کو کمرے کے جانب دھکیلا تو وہ ہوش میں آتی اندر چلی گئ”-
“کیا ہو رہا ہے یہاں ؟؟ کون ہیں آپ لوگ ؟؟کیوں پریشان کر رہے ہیں ؟ احتشام گھر کے آگے شور شرابا دیکھ کر بولا وہ اس آفس سے کام ختم کر کے گھر آیا تھا “-
” ہم کسی کو پریشان نہیں کر رہے تمھارے گھر میں میری بیٹی آئی ہے اسے بلا دو ہم چلے جائیں گے “-
” کس نے کہا آپ کی بیٹی یہاں ہے آپ بنا کسی ثبوت کے کیسے ہم پر الزام لگا سکتے ہیں احتشام نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا “-
” دیکھو لڑکے تمھارے پڑوسی نے اسے یہاں آتے دیکھا ہے اب مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے اس لیے پریشان نہ کرو اسے بلاؤ نہیں تو میں پولیس بلاؤنگا مسٹر انتھونی کو اس کے مسلسل انکار پر سخت غصہ چڑھا “-
” میں بھی پولیس بلا سکتا ہوں کہ آپ بلا وجہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں آپ جائیں یہاں سے تماشا ختم کریں “-
” چلو میکس پولیس اسٹیشن چلتے ہیں یہ لوگ ایسے نہیں مانیں گے ۔۔۔ ابھی تو ہم جا رہے ہیں لیکن اب پولیس کو ساتھ لے کر آئیں گے مسٹر انتھونی نے انگلی اٹھا کر دھمکی دی اور میکس کو لے کر وہاں سے نکل گئے “- –––––––––––––––––––––––––––
” دیکھو لڑکی تمھارے باپ نے ہمارے گھر کے آگے بلاوجہ ہنگامہ کیا ہے اوپر سے پولیس کی دھمکی بھی دی ہے اگر پولیس واقعی میں ہمارے گھر سے تمھیں لے کر نکلی تو ہماری بڑی بدنامی ہو گی اور جو سزا ملے گی وہ الگ بھلائی اسی میں ہے تم اپنے باپ کے پاس لوٹ جاؤ ۔۔۔۔ سب لوگ اس وقت لاؤنج میں جمع ایمان کے مسئلے پر غور کر رہے تھے جب مبشر حسین سامنے بیٹھی ایمان سے بول پڑے ان کی بات پر احتشام نے نفی میں سر ہلایا انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی اس آدمی میں یہ بات احتشام سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا تھا “-
” لیکن مبشر وہ نہیں جانا چاہتی وہ مسلمان ہو چکی ہے اس کے والد بضد ہیں کہ وہ اسلام چھوڑ دے ہمیں بچی کی مدد کرنی چاہیے عاتکہ کو ان کی یہ بات بری لگی “-
” ہم اس مدد نہیں کر سکتے ہمارا اس سے کوئی رشتہ نہیں ہے اسے یہاں سے جانا ہی پڑے گا اب یہ اپنے باپ کے پاس جائے یا دارلامان مجھے نہیں پتہ مگر اس کی وجہ سے ہمارے گھر پولیس نہیں آنی چاہیے اب میں کچھ نہیں سننا چاہتا اسے ابھی کے ابھی یہاں سے روانہ کرو ورنہ میں خود اسے اس کے باپ کے حوالے کر دونگا وہ اپنا فیصلہ سنا کر بنا کسی کی بات سنے اٹھ کر کمرے میں چلے گئے ثوبیہ کو انہوں کھانا لانے کہا تو وہ بھی چلی گئی”-
” آئی ایم سو سوری آنٹی میری وجہ سے آپ لوگوں کو تکلیف ہوئی انکل ٹھیک کہہ رہے ہیں میں چلی جاتی ہوں ایمان نے اپنے امڈتے ہوئے آنسوؤں کو اندر دھکیلا اور کمرے سےاپنا بیگ لانے چلی گئی اسے شاید اکیلے ہی یہ جنگ لڑنی تھی کوئی نہیں تھا اس کا جو اس کی مدد کرتا “-
بھیا آپ کچھ کریں ایمان کہاں جائے گی اس کوئی بھی نہیں ہے پاکستان میں وہ اپنی آنٹی کے ساتھ ہی رہتی تھی ماریہ نے عہد کیا تھا اس کا ساتھ دینے کا وہ ہر ممکن کوشش کرنا چاہتی تھی ایمان کو بچانے کی”-
” تمھارے بابا ٹھیک کہ رہے ہیں ماریہ ہم اس کی مدد نہیں کر سکتے اس کے فادر اس کے گاردین ( سر پرست ) ہیں وہ اسے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں ہم انہیں روک نہیں سکتے احتشام نے صاف گوئی سے کام لیا “-
” اگر ایمان کی شادی ہوجائے تب تو اس کے ڈیڈی اسے نہیں لے جا سکیں گے نہ ماریہ نے تصدیق چاہی “-
” ہاں احتشام نے سر ہلایا “-
” تو بھیا آپ ایمان سے شادی کر لیں ماریہ نے گویا بم پھوڑا تھا ان کے سروں پر عاتکہ اور احتشام نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا “-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial