حصار عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 9

” بھیا پلیز آپ ایمان سے نکاح کر لیں “-
” ماریہ !!! بس اب ایک اور لفظ مت بولنا ۔۔۔ تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے یہ کوئی فلم یہ ڈرامہ نہیں ہے احتشام کا دماغ ہی گھوم گیا ماریہ کی بات پر اس نے بڑی مشکل سے خود کو چیخنے سے بعض رکھا “-
” میں جانتی ہوں بھیا لیکن اسے ہماری مدد کی ضرورت ہے صرف یہی رشتہ بن سکتا ہے اس کا ہم سے جس کی بنا پر ہم اسے بچا سکتے ہیں ماریہ اس کے غصے سے بنا ڈرے بولی “-
” ماریہ میرا دماغ خراب نہ کرو تم بلکل فضول بات کر رہی ہو احتشام اٹھ کر جانے لگا “-
” بھیا آپ کو حریم بھابھی کا واسطہ ایمان سے نکاح کر کے اس کے محافظ بن کر اسے بچا لیں ۔۔۔ ماریہ کے جملے پر اس کے بڑھتے قدم تھمے تھے اس نے پلٹ کر اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے ماریہ کو دیکھا تو ماریہ نے گھبرا کر نظریں جھکائیں ماریہ نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بھائی کے زخموں کو کرید ڈالا تھا “-
” وہ شدید غصے میں ماریہ کی طرف بڑھا عاتکہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا ۔۔۔ احتشام ادھر بیٹھو !! بیٹھو ادھر !! عاتکہ نے اسے زبردستی اپنے برابر میں بٹھا لیا ۔۔۔ اب میری بات تحمل سے سنو ماریہ ٹھیک کہ رہی ہے ہم اسی طرح اس کی مدد کر سکتے ہیں تم ایمان سے نکاح کر لو “-
” ماں آپ بھی ۔۔۔ احتشام کو یقین نہیں ہوا عاتکہ اسے ایسا کرنے کا بول رہیں تھیں جبکہ وہ اس کی ہر تکلیف کو جانتی تھیں “-
” ہاں میں ایسا بول رہی ہوں کیونکہ اس عمل میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ نکاح سنت ہے اور پھر ایمان کی مدد کا فلحال یہی طریقہ ہے میں سچے دل سے ایمان کی مدد کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ تم خود سوچو اس لڑکی نے اسلام قبول کیا ہے بحیثیت مسلمان ایک نبی کی امت ہونے کے ہمارا یہ فرض نہیں بنتا کہ ہم اس کی مدد کریں عاتکہ بات کرتے کرتے رکیں تو احتشام انہیں دیکھنے لگا ۔۔۔۔ احتشام یاد رکھنا اگر آج ہم نے ایمان کی مدد نہیں کی تو کوئی بھی غیر مسلم اس ڈر سے ایمان نہیں لائے گا کہ اسے کوئی پناہ نہیں دے گا یا اسے مار دیا جائے گا ۔۔۔۔۔ اور بروز حشر ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس منہ سے جائیں گے حالانکہ ہم اس کی مدد کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ میرے بیٹے اپنی زات اور تکلیف کو پس پشت ڈال کر آخرت کی بھلائی کا سوچو اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے نیکی کرنے کا عاتکہ نے اسے آرام سے سمجھانے کی کوشش کی “-
“بھیا پلیز ماریہ نے اس کے قدموں میں بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام کر امید بھری نظروں سے کہا “-
” آپ کے شوہر غصے سے پاگل ہو جائیں گے اس کا اشارہ انوار علی کے رشتے والی بات کی طرف تھا “-
” انہیں بعد میں دیکھیں گے فلحال ایمان کو محفوظ کرنا ضروری ہے “-
” امی وہ لڑکی کتنی چھوٹی ہے مجھ سے ۔۔۔ ماریہ کی عمر کی ہے یہ نا انصافی ہوگی اس کے ساتھ پہلے آپ اس سے تو پوچھ لیں وہ ایسا چاہتی بھی کہ نہیں احتشام مان تو گیا تھا لیکن مطمئن نہیں تھا “-
“میں بات کرتیں ہوں اس سے عاتکہ اور ماریہ اٹھ کر اس کمرے میں گئیں جہاں ایمان تھی جبکہ احتشام وہیں بیٹھا رہا “-
” ثوبیہ مجھے اپنی ماں کی دواؤں کا پرچہ دے دو میں کچھ کام سے باہر جا رہا ہوں واپسی میں لیتا ہوا آؤنگا مبشر حسین لاؤنج سے گزرے ہوئے زور سے بولے صوفے پر بیٹھے احتشام نے ایک نظر انہیں دیکھا ثوبیہ نے انہیں پرچہ دیا تو وہ باہر نکل گئے “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان کمرے میں آئی کب سے روکے ہوئے آنسوں بند توڑ کر باہر نکل آئے اسے اپنی بے بسی کا شدت احساس ہوا اس وقت اس کی زندگی میں وہ لمحہ تھا جب اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوتا نہ ہی کوئی گھر تھا نہ ہی کوئی اپنا اتنی بڑی بھری دنیا میں وہ اکیلی تھی اس نے بول تو دیا تھا جانے کا لیکن اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں جائے کل رات بھی وہ بے بس تھی اور آج پھر زندگی نے اسے بے بس کر دیا تھا صرف ایک دن کے لیے اسے چھت نصیب ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس نے اپنے آنسوؤں کو آستینوں سے صاف کیا اور مرے قدموں سے اپنا خالی بیگ اٹھایا آنکھیں بہنے کے کو بے تاب تھیں دل کر رہا تھا پھوٹ کر روئے ابھی وہ نکلنے ہی لگی تھی کہ عاتکہ اور ماریہ آئیں “-
” یہ تم کہا جا رہی ہو ؟؟ دو مجھے ماریہ نے اس سے بیگ لے کر رکھا “-
” ماریہ پلیز مجھے جانے دو میں نہیں چاہتی میری وجہ سے تم لوگوں کو کوئی پریشانی ہو “-
” کہاں جاؤ گی ؟؟ ماریہ نے گھور کر پوچھا “-
” کہیں نہ کہیں چلی جاؤنگی ایمان بولی تو آواز نے ساتھ چھوڑ دیا بے بسی انتہا پر تھی “-
” ایمان بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ادھر آؤ عاتکہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔ اب میری بات غور سے سنو “-
” ایمان تم سے کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں لیکن صرف یہی طریقہ جس سے تمھیں روکا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ اگر تم کسی کو پسند کرتی ہو تو بتا دو ؟؟ عاتکہ نے تفصیل سے اسے ساری بات بتانے کے بعد ایمان سے اس کی پسند پوچھی “-
” نہیں عانٹی میں کسی کو پسند نہیں کرتی ۔۔۔ میں آپ کے بیٹے سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔ ایمان نے اسے بھی غنیمت جانا “-
” ٹھیک ہے !! میں احتشام کو بولتی ہو قاضی صاحب کو بلائے عاتکہ بول کر کمرے سے نکل گئیں “-
–––––––––––––––––––––––––––
” قاضی صاحب آ چکے تھے ایمان اور احتشام ایک ساتھ صوفہ پر بیٹھے ہوئے تھے گواہوں کے طور پر احتشام نے اپنے سکریٹری اور آفس کے ایک دو لوگوں کو بلا لیا تھا کیونکہ مبشر حسین گھر میں نہیں تھے اور ایک طریقے سے ان کا موجود نہ ہونا سب کے حق میں بہتر تھا ورنہ وہ واویلا ضرور کرتے عاتکہ اسی وقت نکاح کرنے کا کہہ رہی تھیں وہ نہیں چاہتی تھیں مبشر حسین ایمان کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوں “-
” ثوبیہ پریشانی سے بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ بھیا کا نکاح مطلب میرا رشتہ ختم ۔۔۔اف بابا کہا چلے گئے آپ جلدی سے آئیں “-
” آپ لوگ اپنے شناختی کارڈ دیں قاضی صاحب نے نکاح نامے کو بھرتے ہوئے ان لوگوں سے مانگا تو احتشام نے دے دیا جبکہ ایمان یونہی بیٹھی رہی اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا “-
” میرے پاس آڈی کارڈ نہیں ہے وہ ڈیڈی کے پاس ہے ایمان پریشانی سے بولی “-
” شناختی کارڈ کے بنا نکاح نہیں ہو سکتا قانون بہت سخت ہوگیا ہے قاضی صاحب کی بات پر ایمان کو محسوس ہوا جیسے اس کی ہر راہ مسدود ہو چکی ہے اس کے لیے ہر راستہ بند ہے وہ گھوم پھر وہی آ کھڑی ہوئی جہاں سے چلی تھی “-
” میں ایک منٹ میں آتی ہوں آپ لوگ جانا نہیں ماریہ بول کر فوراً اپنے کمرے میں گئی اور کچھ منٹوں میں واپس آئی “-
” یہ لیں ۔۔۔ اس کے ہاتھ میں کارڈ کی کاپی تھی جو اس نے قاضی صاحب کو دی تو انہوں نے نکاح شروع کردیا “-
” کچھ ہی دیر میں وہ ایمان انتھونی سے ایمان احتشام احمد بن چکی تھی نکاح ہوتے ہی احتشام اپنے کمرے میں چلا گیا اس کا اس طرح سے جانا اہمان نے بخوبی محسوس کیا تھا لیکن اس کے لیے یہ بھی بہت تھا کہہ احتشام اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا پھر بھی اس کا ہاتھ تھام کر اسے سہارا دیا تھا ایمان کے دل میں اس کے لیے ایک اونچا مقام بن گیا تھا “-
” مبارک ہو ایمان بھابھی !! ماریہ چہکتی ہوئی اس کے گلے لگی عاتکہ نے بھی اس کے سر پر بوسہ دے کر اسے دعائیں دی ۔۔۔ جبکہ ثوبیہ غصے سے تن فن کرتی اپنے کمرے میں گھس گئی “-
–––––––––––––––––––––––––––
” لڑکی تم ابھی تک اپنے گھر نہیں گئی میں نے تمھیں رات کو ہی جانے کا کہا تھا مبشر حسین آفس جانے لگے جب ایمان کو کمرے سے نکلتے دیکھ کر بول اٹھے”-
” جاؤ اپنا سامان لے کر آؤ میں تمھیں تمھارے گھر چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔۔۔ میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جاؤ ایمان کو حیران پریشان سا کھڑا دیکھ کر وہ دوبارہ بولے رات وہ دیر سے آئے تھے عاتکہ جاگ رہی تھی لیکن انہوں نے مبشر حسین کو نکاح کے بارے میں بتانا مناسب نہیں سمجھا ورنہ وہ رات کو ہنگامہ شروع کر دیتے “-
” مبشر صاحب ایمان اب اس گھر میں ہی رہے گی وہ کہیں نہیں جائے گی عاتکہ کی بات انہیں سمجھ نہیں آئی”-
“اس سے پہلے مبشر حسین ان سے کچھ بولتے ثوبیہ بھاگتی ہوئی ان کے پاس آئی ۔۔۔ بابا باہر پولیس آئی ہے اس کے فادر بھی ان کے ساتھ آئے ہیں ثوبیہ نے ایک چبھتی نگاہ ایمان پر ڈالتے ہو بتایا “-
” چلو لڑکی اب شرافت سے اپنے باپ کے ساتھ جاؤ ہمیں مصیبت میں مت ڈالو۔۔۔۔ جلدی آؤ اور آکر اپنے باپ اور پولیس کو بتاؤ کہہ تم خود اپنی مرضی سے آئی تھی تب تک میں معاملے کے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں مبشر حسین کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ایمان کو گھسیٹ کر اس کے باپ کے حوالے کر دیں ابھی وہ ایمان سے بات ہی کر رہے تھے کہ پولیس والے گھر میں گھس آئے”-
” آپ لوگ ایسے کیسے میرے گھر میں گھس سکتے ہیں “-
” انسپکٹر وہ رہی میری بیٹی مسٹر انتھونی ایمان کو دیکھ کر بولے ۔۔۔ میں نے کہا تھا ان لوگوں نے میری بیٹی کو اغواہ کر رکھا ہے مسٹر انتھونی کے الزام پر مبشر حسین کے پیروں تلے زمین نکلی سب لوگ پریشان کھڑے تھے کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہہ ہو کیا رہا ہے “-
” ہم نے ان کی بیٹی کو اغواہ نہیں کیا یہ خود اپنی مرضی سے یہاں آئی ہے آپ چاہیں تو ان کی بیٹی سے پوچھ لیں ۔۔۔۔۔ بتاؤ لڑکی ان لوگوں کو تم اپنی مرضی سے آئی ہو وہ پتھر بنی ایمان سے بولے ۔۔۔۔ میں تو خود اسے چھوڑنے آ رہا تھا “-
” اب جو بھی کہنا ہے تھانے جا کر کہنا پولیس نے مبشر حسین کو ہتھکڑی لگائی “-
” چلو کیرل !!! میکس نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹا تو وہ ہوش میں آئی ۔۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑو میکس میں کہیں نہیں جاؤ گی ایمان اپنا بازو میکس کی گرفت سے نکالنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی “-
“کیرل تمھیں بلکل بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اب انسپکٹر صاحب آگئے ہیں نا اب یہ لوگ تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے میکس نے اس کے انکار پر دانت پیستے ہوئے بات بنائی تاکہ پولیس والوں کو ان پر شک نہ ہوں “-
” میں نہیں جاؤ گی چھوڑو میرا ہاتھ !!! میکس اسے اپنے ساتھ گھسیٹ رہا تھا “-
” روکو !!! تمھیں سنائی نہیں دیتا جب وہ بول رہی ہے کہ وہ کہیں نہیں جائے گی تو کیوں پریشان کر رہے ہو … احتشام نے روتی ہوئی ایمان کا ہاتھ پکڑ کر میکس سے دور کیا ۔۔۔۔۔ احتشام کافی دیر سے شور سن رہا تھا اسے لگا وہ لوگ خود اس معاملے سے نبٹ لیں گے لیکن جب ایمان کے چیخنے کی آوازیں آنے لگی تو مجبوراً اتر کر نیچے آیا”-
” تم کون ہوتے ہو لڑکے میری بیٹی کو روکنے والے ہٹو آگے سے اب کی بار مسٹر انتھونی خود آگے بڑھے احتشام ان کے راستے میں حائل ہوا “-
” میں آپ کی بیٹی کو روکنے والا اس کا شوہر ہوتا ہوں احتشام نے گویا بم پھوڑا تھا ان کے سروں پر مبشر حسین نے سوچا وہ ایمان کو بچانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے “-
” یہ دیکھیں انسپکٹر صاحب ہمارا نکاح نامہ ان کی بیٹی بالغ ہے اس نے اپنی مرضی سے مجھ سے نکاح کیا ہے احتشام نے نکاح نامہ پولیس کے حوالے کیا “-
” مسٹر انتھونی یہ نکاح نامہ اصلی ہے آپ کی بیٹی قانونی طور پر ان کی بیوی ہے ہم انہیں گرفتار نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ یہ آپ لوگوں کا گھریلو معاملہ ہے آپ نے بلا وجہ ہمارا وقت برباد کیا پولیس والوں نے مبشر حسین کو چھوڑ دیا …. سوری سر ہماری وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی انسپکٹر ان لوگوں سے معزرت کر کے چلا گیا “-
” کیرل یہ تم نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔ اس سے بہتر ہے کہ تم مر جاؤ ۔۔۔۔۔ میں تمھارا گلا دبا دوں گا مسٹر انتھونی خطر ناک تیور لیے اس پر جھپٹے وہ ڈر کر احتشام کے پیچھے چھپی ۔۔۔۔ اپنے باپ کو رسوا کر کے پچھتاؤ گی تم یاد رکھنا ۔۔۔۔۔ تم دونوں کبھی سکون سے نہیں رہ سکو گے ۔۔۔۔ وہ احتشام کو انتہائی گندی گندی گالیوں سے نوازا”-
“چلو میکس !! اب اس سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں مر گئی یہ ہمارے لیے ہم اس کے لیے ۔۔۔ ان کے الفاظ تھے یہ پگھلا ہوا سیسہ ایمان لب بھینچ کر رونے لگی ۔۔۔ وہ میکس کو لیے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔ ماریہ ایمان کو اپنے ساتھ لگائے کمرے میں لے گئی “-
” واہ بیٹا میں نے جب رائقہ سے شادی کا بولا تو تمھیں شادی نام کے لفظ سے بھی نفرت تھی اب اس غیر لڑکی سے شادی کرتے ہوئے اپنے ہی الفاظ بھول گئے مبشر حسین نے واضح طنز کیا “-
” مبشر صاحب میں اپنے کسی عمل کا جواب دہ نہیں ہوں میرا جو دل کرے وہ میں کرونگا وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ان کا نام لے بولا مبشر حسین اس کے جواب پر بلبلا اٹھے مگر بولے کچھ نہیں احتشام ان کے قریب سے گزرتا آفس کے لیے نکل گیا”-
” عاتکہ میں شوہر ہوں تمھارا تم نے مجھ سے مشورہ کرنا تو دور بتانے کی بھی زحمت نہیں کی یہ حیثیت ہے تمھاری نظر میں ۔۔۔۔ اب ان کی توپوں کا رخ عاتکہ کی طرف تھا “-
–––––––––––––––––––––––––––
” ایمان چپ ہو جاؤ یار !!! میں جانتی تم دکھی ہو تمھارے فیملی نے تم سے تعلق ختم کر لیا ہے ۔۔۔ میں یہ تو نہیں کہونگی کہ میں تمھاری تکلیف کو سمجھ سکتی ہوں کیونکہ جس پر گزرتی وہی بہتر جانتا ۔۔۔۔ ایمان تم صبر کرو ان کے رشتہ ختم کرنے نہیں ہوتا وہ تمھارے والد ہیں ہمیشہ رہیں گے ماریہ کب سے اسے چپ کرانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی “-
” ایمی یار اب بس بھی کر دو ۔۔۔۔ اور کتنا روؤں گی کب سے تم بس روئے چلی جا رہی ہو ۔۔۔ اتنا روؤگی تو آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ جائیں گے میرے بھیا ڈر جائیں گے یار ماریہ اسے ہنسانے کی لیے مزاقاً بولی ایمان نے اسے گھورا “-
” ماریہ تمھارے پاس میرے آڈی کارڈ کی کاپی کہاں سے آئی تھی؟؟؟ ایمان اپنے آنسوؤں کو کرتی ہوئی پوچھنے لگے وہ کل سے ماریہ سے یہ بات پوچھنا چاہ رہی تھی لیکن اسے موقع نہیں مل پا رہا تھا “-
” جادو سے “-
” ماری فضول نہ بولو بتاؤ مجھے ؟ ایمان بضد ہوئی “-
“میری پیاری بھابھی آپ نے ہی مجھے عنایت کی تھی “-
“پاگل ہو گئ ہو کیا!! میں نے کب دے دی؟”-
” اف دفر !!! انتہائی کوئی ڈیش انسان ہو … تم نے ہی دی تھی ۔۔۔۔ فارم بھرنا تھا لیکن تمھاری آنٹی کی طبیعت خراب تھی تو تم نے مجھے اپنے فارم کے ساتھ یہ سب دیا تھا تاکہ میں تمھارا فارم جمع کروادوں ۔۔۔ اسی میں سے بچی ہوئی تھی میرے پاس رہ گئی تھی تمھیں دینا یاد نہیں تھا ۔۔۔ لیکن دیکھو کیسے کام آ گئ ۔۔۔ اسے اللہ کا کرشمہ بھی کہہ سکتے ہیں دیکھو نہ اللہ نے کب سے سب کچھ طے کیا ہوا تھا”-
” ہمم تم ٹھیک کہہ رہی ہو یہ اللہ کا ہی احسان ورنہ مجھے تو لگا تھا میری ساری راہیں مسدود ہو گئی ہیں “-
” خیر اب تم پریشان مت ہوں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بس تم اسی طرح ثابت قدم رہنا ماریہ کی بات پر وہ سر ہلا کر آسودگی سے مسکرا اٹھی بے شک اللہ نے اس پر احسان کیا تھا وہ خوش نصیب تھی جیسے ایمان کی دولت سے نوازا گیا تھا”-
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial