قسط 30
وہ خطرناک ترین جانور جس کے منہ اور ہاتھوں پر خون لگا تھا اس نے کسی چھوٹے سے جانور کے جسم کا کوئی حصہ اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا تھا ۔اس کا پورا جسم سفید تھا پیچھے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی آدمی لمبا سا جمپر پہن کے کھڑا ہے ۔
لیکن پاس آنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ کوئی آدمی نہیں بلکہ ایک جانور ہے۔اس کا قد کسی عام آدمی کی طرح تھا، مگر جسمانی لحاظ سے کافی موٹا تھا ۔اور بالکل عام آدمیوں کی طرح دو پیروں پر چل رہا تھا۔شکل خطرناک ترین سوورجیسی تھی ۔روح کی تو جیسے سانس ہی تھمنے لگی ۔
وہ خطرناک جانور تیزی سے اس کی طرف لپکا ۔روح کو لگا کہ جیسے وہ اپنی آخری سانسوں کے بہت قریب ہے ۔بس کچھ ہی دیر میں اس کی زندگی ختم ہونے والی ہے۔ وہ خطرناک ترین جانور اس کی طرف بڑھنے لگا تھا ۔اور اب کچھ ہی لمحوں میں اس پر حملہ کرنے والا تھا ۔
وہ چیخ مارتی جیسے ہی پیچھے کی طرف بھاگنے لگی۔
کوئی اس کے اوپر سے چھلانگ لگاتا اس خطرناک جانور اور روح کے بیچ آ رکا ۔اور اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی کوئی چیز جانور کی گردن کے اندر گھسا دی۔
°°°°°°°°
یارم۔۔۔ بببھاگیں ۔یہاں سے۔۔۔ چلے یارم ۔۔پلیز چلے۔۔۔ یہاں سے۔روح کہتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی ۔لیکن روح کے لئے سمجھنا مشکل تھا کہ وہ جانور ابھی تک پیچھے کیوں کھڑا ہے ان پر حملہ کیوں نہیں کر رہا ۔
روح نے جب اسے کھینچنے کی کوشش کی تو جانور بھی ساتھ قدم اٹھا رہا تھا ۔
چلے یہاں سے ورنہ ۔۔۔۔
اندر جاو روح۔۔۔۔، وہ بنا کسی ڈر کے بولا ۔لیکن روح نے اسے کھینچنا نہ چھوڑا ۔جب روح نے یارم کے ہاتھ پر خون لگا دیکھا ۔
وہ خون یارم کا نہیں بلکہ اس خطرناک جانور کا تھا ۔یارم کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جو اس جانور کے گردن کے اندر تھی ۔اور گردن سے نکلتا ہوا خون یارم کے ہاتھ پر گر رہا تھا یارم نے ایک جھٹکے سے وہ چیز اس کی گردن سے نکال کر جانور کو دھکا مارا ۔
وہ دور جا کر زمین پر گرا ۔ خون تیزی سے اس کی گردن سے نکل رہا تھا ۔
یارم ۔۔۔۔چلیں۔ ۔۔ یہاں سے ۔روح نے سہمے ہوئے انداز میں کہا ۔
نہیں یہ زندہ ہے ۔جب تک میں اسے مار نا دوں نہیں جاؤں گا ۔یارم نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑایا اور پھر سے اس جانور کی طرف بڑھا ۔اور پھر اس کے قریب بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا وہ درد سے تڑپ رہا تھا ۔
یارم چھوڑیے اسے چلے یہاں سے ۔روح نے اونچی آواز سے کہا ۔جبکہ یارم اگلے ہی لمحے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز اس کی گردن پر زور زور سے مارنے لگا ۔
جانور عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھا ۔جس سے روح اور زیادہ ڈر رہی تھی ۔
یارم بس کریں وہ مر چکا ہے ۔گیارہ سے بارہ بار چاقو اس کے جسم کے اندر گھسانے کے بعد بھی یارم کو چین نہ ملا تھا ۔
نہیں روح یہ ابھی بھی زندہ ہے وہ ۔عجیب جنونی انداز میں بولا اور ایک بار پھر سے اپنی کاروائی شروع کر دی۔
یارم بس کردیں وہ ویسے بھی مر جائے گا ۔روح نے ایک بار پھر سے اس کے قریب آ کر کہا
نہیں اسے مارنے کا حق صرف مجھے ہے ۔اس کی ہمت کیسے ہوئی تم پر حملہ کرنے کی ۔یہ تمہیں مجھ سے دور لے کے جانے والا تھا ۔یہ تمہیں مار دینے والا تھا روح یہ میرا مجرم ہے ۔میں اسے ایسے نہیں چھوڑوں گا۔
وہ دیوانوں کی طرح کہتا ایک بار پھر سے چاقو جانور کے جسم کے اندر باہر کرنا شروع کر چکا تھا ۔
عجیب انداز تھا اب روح کو اس سے ڈر لگنے لگا تھا وہ کیسے کسی کی اتنی بے دردی سے جان لے سکتا ہے ۔
وہ اس سے کچھ فاصلے پر اسے دیکھنے لگی ۔
اس کے نس نس میں یارم کا ڈر گردش کر رہا تھا
°°°°°°°°
جانور کے جسم سے ہر قسم کی حرکت ختم ہوچکی تھی یقیناً وہ مر چکا تھا لیکن یارم اب تک اسے مارے جا رہا تھا وہ ہمت کرکے اٹھی اور اس کے پاس آئی
یارم ۔۔۔۔اب۔۔۔تو مر گیا ۔۔۔۔۔اب بس۔۔۔ کردیں۔ ۔۔روح ڈرتے ہوئے اس کے قریب آکر بولی ۔مگر یارم اس کی بات سن کہاں رہا تھا اس نے تو اپنی کاروائی اب تک جاری رکھی تھی ۔
وہ مسلسل چاقو جانور کو مارے جا رہا تھا ۔کہتے ہیں کسی مردہ جسم کے اندر سے چاقو نکالنے کے لئے بہت ہمت چاہیے ۔نہ جانے یہ ہمت یارم کہاں سے لا رہا تھا ۔
لیکن اس نے یہ کام ابھی تک روکا نہیں تھا ۔مزید یہ سب کچھ دیکھنا روح کے بس سے باہر تھا جانور مکمل طور پر خون سے لت پت تھا اور اس کا خون پوری طرح سے برف پر گرا ہوا تھا ۔ وہ دیوانہ وار ایسے مارے جا رہا تھا
روح کو اس کی دیوانگی سے عجیب خوف آنے لگا ۔روح وہاں سے اٹھی اور اپنے گھر کی طرف بھاگ گئی ۔
یارم نے اسے دور جاتے ہوئے دیکھا ۔اور ایک بار پھر سے دیوانوں کی طرح اور زیادہ غصے سے اسے مارنے لگا ۔
تم میری روح کو مارنے آئے تھے۔میری روح کو مجھ سے دور کرنا چاہتے تھا۔دیکھو کیا انجام ہوا تمہارا۔کوئی بھی میری روح کو مجھ سے دور کرے گا میں اس کا ایسا ہی حال کروں گا ۔روح بس صرف میری ہے ۔صرف میری سنا تم نے ۔وہ چلاتے ہوئے کہہ رہا تھا اور اپنا کام جاری رکھا
°°°°°°°°
وہ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو اس کے پورےکپڑے خون سے بھرے ہوئے تھے ۔روح زمین پر بیٹھی مسلسل رو رہی تھی ۔وہ اس کا ڈر سمجھ کر اس کے قریب آیا ۔اسے روح پر اس طرح سے باہر نکلنے پر بہت غصہ آرہا تھا لیکن یہ وقت غصہ نکالنے کا نہیں تھا بلکہ روح کو اس ڈر سے باہر نکالنے کا تھا۔
تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے روح میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔کچھ نہیں ہوگا تمہیں ۔ اپنے ہاتھ سے بہتا خون صاف کرتے ہوئے یارم اس کی طرف بڑھا ۔
جو بری طرح سے ڈری سہمی ہوئی تھی ۔
یارم ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔نے۔۔۔ اسے ۔۔یارم۔ ۔۔ آآآپ ۔ اااایسا ۔۔۔۔۔۔کیسے کر ۔۔۔سکتے۔۔۔ ہیں ۔روح نے سہمے ہوئے انداز میں یارم کا ہاتھ اپنے سے دور ہٹانے کی کوشش کی ۔
توح میں ایسا نہیں کرتا تو وہ تمہیں مار ڈالتا ۔
لیکن اب تمہیں گھبرانے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ جانور اب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
مجھے ۔۔۔اس ۔۔۔جانور سے ۔۔۔ڈڈڈر نہیں ۔۔۔۔۔لگ رہا یارم ۔۔۔ مجھے آپ سے ڈڈرررر۔ ۔۔۔ لگ رہا ہے ۔
یارم۔ ۔۔ آپ کو اندازہ ۔۔۔۔۔بھی ہے آپ نے ۔۔۔۔۔کیا کیا ہے۔۔۔۔۔ اس کے۔۔۔ ساتھ ۔پلیز میرے پاس مت آئیں۔۔۔۔۔ پلیز مجھ سے۔۔۔۔ دور رہیں ۔۔۔۔ روح کہتی ہوئی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اندر سے دروازہ بند کر چکی تھی۔
تمہیں مجھ سے لگ ڈر رہا ہے روح مجھ سے اپنے یارم سے وہ دیوانہ وار اپنے ہاتھ میں لگا خون دیکھتا اور پھر دروازے کی طرف جو اندر سے بند تھا ۔
اپنا سارا غصہ وہ جانور پر نکال کے آیا تھا ۔
اس لیے روح پر غصہ نکال کر اسے مزید ڈرا نہیں سکتا تھا ۔
مجھے یہ سب کچھ روح کے سامنے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔روح کو وہاں سے بھیج کر مجھے اس جانور کو مارنا تھا ۔لیکن اب کیا ہوسکتا ہے ۔آج نہیں تو کل تو تمہیں سب کچھ پتہ چل ہی جائے گا نہ ۔تمہیں ویسے بھی تو سب کچھ پتہ چل جائے گا تو پھر کیا ہر بارایسے ڈرتی رہو گی تم ۔تمہیں سمجھنا ہوگا ۔تمہیں سمجھنا ہوگا کہ میں ایسا ہی ہوں ۔۔۔” اور ہمیشہ ایسا ہی رہوں گا ۔اور اگر تم ایسے ہی ڈرتی رہو گی ۔تو کیسے گزارا ہوگا ہمارا۔۔۔۔؟
آج جانور کی موت پر تم اتنی اداس ہو رہی ہو اور جب کل تم میرے ہاتھوں کہیں لوگ مرتے دیکھو گی تب تمہارا کیا حال ہوگا ۔تمہیں اس سب کے لئے تیار رہنا ہوگا لیکن اگر تم مجھ سے دور ہو گی تو ۔۔۔۔،نہیں میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔نہیں میں تمہیں یہ سب کچھ نہیں بتاؤں گا ۔
پھر بھی پتہ چل گیا تو ۔تو میں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔فی الحال سب کچھ ٹھیک ہیں سب کچھ نورمل ہے تمہیں کچھ بھی نہیں پتا اور میں کچھ بھی پتا نہیں چلے دوں گا ۔وہ اپنے آپ کو ریلیکس کرتے ہوئے بولا
لیکن ایک عجیب سی وحشت تھی جو اندر تک چھا چکی تھی ۔وہ صرف ایک جانور تھا جو روح کی جان لے سکتا تھا ۔وہ ابھی تک نیچے صوفے پر بیٹھا اپنے کمرے کا بند دروازہ دیکھ رہا تھا ۔
وہ اٹھا اور باہر گاڑی سے آکر اپنا سامان نکالا ۔
اس نے آج روح کے لئے بہت ساری شاپنگ کی تھی جس کی وجہ سے اسے اتنا وقت لگ گیا ۔وہ سارا سامان لے کر اندر آیا اور وہاں سے اپنے لئے ایک سوٹ نکال کر اپنے گندے خون آلود کپڑے اتارے۔اورباتھ لے کر فریش ہوا ۔
تاکہ جسم سے اس گندے جانور کے جسم کے خون کی بدبو ختم ہو اب اس کا ارادہ روح کو منانے کا تھا ۔مجھ سے روٹھ کر گئی تھی ۔میں اسے منا لوں۔گا
یارم فرق نہیں کر پایا تھا کہ وہ اس سے روٹھ کر نہیں بلکہ ڈر کر دور ہوئی ہے