قسط 31
یارم نے سب سے پہلے کچن میں آکر کھانا نکالا جو کہ وہ اپنے ساتھ لایا تھا ۔اسے پتہ تھا اب تک تو روح کو بہت سخت بھوک لگی ہوگی ۔صبح بھی بہت ہلکا پھلکا ناشتہ کیا تھا وہ اس نے کمرے تک آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔
دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا ۔یعنی کہ وہ جو کس سے سمجھ رہا تھا کہ وہ اس سے ناراض ہے اندر سے دروازہ لاک کر کے بیٹھی ہے وہ اس کی غلط فہمی تھی وہ اندر آیا تو وہ بیڈ کے پاس زمین پر بیٹھی اپنے گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے گھٹنوں پر سر رکھے شاید رو رہی تھی ۔وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا ۔
روح۔میں جانتا ہوں میری جان آج جو کچھ بھی ہوا ہے وہ بہت غلط تھا ۔میں بھی ڈر گیا تھا لیکن اس جانور سے نہیں تمہیں کھونے سے ۔تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔ادھر دیکھو میری طرف ، اس نے روح کو اپنی طرف کرتے ہوئے کہا ۔جو غصے سے دوبارہ منہ پھیر گئی۔
تمہارے علاوہ کوئی نہیں ہے میرا ۔اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو کیا ہوتا میرا میں تو جیتے جی مر جاتا نہ۔۔۔۔۔
یارم پلیز ایسی باتیں مت کریں ۔وہ جو اس سے منہ پھیرے دوسری طرف دیکھ رہی تھی اس کے ایسا بولنے پر تڑپ کر اس کی طرف ہوئی۔
تو پھر کیا کروں روح ۔میں اپنی زندگی تمہارے بغیر سوچ بھی نہیں سکتا ۔اور تمہیں کس نے کہا تھا باہر جانے کے لئے ہاں منع کرکے گیا تھا پھر کیوں گئی تم باہر ۔وہ اس سے پوچھنے لگا۔
یارم مجھے لگا باہر کوئی آدمی ہے شاید اس طرف راستہ بھٹک گیا ہے میں تو صرف اسے راستہ بتانے جا رہی تھی ۔وہ معصومیت سے سوں سوں کرتی بولی۔
تمہیں ایک خطرناک جانور کوئی آدمی لگ رہا تھا یارم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنی بے وقوف ہے ۔
پیچھے سے تو آدمی ہی لگ رہا تھا ۔نہ جانے وہ کون سی مخلوق تھی اور تو اور وہ دو پیروں پہ چل رہی تھی جانور تو چار پیروں پہ چلتے ہیں نہ ۔اس کی سوں سوں اب بھی جاری تھی۔
جس پر یارم کے ڈمپلز نمایاں ہوئے جو وہ جلدی سے چھپا گیا یہ نہ ہو کہ روح بُرا منا جائے ۔ویسے تمہیں خود یہاں کا راستہ پتہ ہے جو اس بے چارے آدمی میرا مطلب ہے اس دو پیر والے جانور کو بتانے جا رہی تھی ۔یا انسانیت کے جوش میں یہ بات سوچی ہی نہیں یارم اب اس کی کلاس لے رہا تھا ۔
یہ بات میں نے واقعی اس وقت نہیں سوچی تھی اس نے شرمندگی سے اپنی غلطی قبول کی ۔
اب بھی ڈر لگ رہا ہے وہ اس کے قریب بازو کا گھیرا بناتے ہوئے بولا ۔
یارم آپ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔مجھے اس سے زیادہ آپ سے ڈر لگ رہا تھا آپ کر کیا رہے تھے یارم آپ کو ہو کیا گیا تھا؟
اس وقت پتا ہے اس وقت آپ میرے یارم بالکل نہیں لگ رہے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اور انسان ہے۔وہ جو اس کے غصے اور بے رحمی کی وجہ سے اس سے دور ہوئی تھی اس میں اپنا پرانا یارم دیکھ کر پھر سے اس کے قریب آ گئی اور اس کے سینے پے سر رکھے پوچھنے لگی ۔تم نہیں جانتی روح وہ بہت خطرناک جانور تھا ۔تمہاری سوچ سے زیادہ خطرناک ۔اگر میں اسے ٹھیک سے نہیں مارتا تو وہ ہمارے لیے مزید خطرناک ہو سکتا تھا ۔وہ اسے پیار سے اپنی باتوں میں پھنسلا رہا تھا ۔تمہیں پتا ہے ۔وہ ایک برفانی سوور تھا ۔وہ انسانوں کی طرح اس لئے چلتا ہے کیونکہ اس کے کمر کی ہڈی بالکل سیدھی ہوتی ہے ۔انسانوں کی طرح ۔لیکن مجھے یہ بات سمجھاو کہ تمہیں وہ انسان کیوں لگا ۔۔۔؟
مطلب تمہیں کیسے لگا کہ وہ انسان ہے ۔یارم اپنی ہنسی چھپائے پوچھنے لگا ۔
آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں روح نے روٹھتے ہوئے کہا
بالکل نہیں میری جان میں تو بس پوچھ رہا ہوں اتنا خطرناک جانور جو پیچھے سے بھی اتنا بڑا لگتا ہے ۔یارم کو اپنی ہنسی رکنا مشکل لگ رہا تھا ضبط سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
وہ بڑا نہیں لگ رہا تھا مجھے لگا اس نے کوئی جمپر پہنا ہوا ہے جیسے عام انسان پہن کے چلتے ہیں ۔اب وہاں ہوٹل میں کتنے لوگ تھے جو اس طرح کے جیکٹ پہنے ہوئے تھے ۔مجھے لگا اس نے سردی سے بچنے کے لئے اس طرح سے اپنے آپ کو ڈریساپ کیا ہوا ہے ۔
روح نے اس کی بات کاٹتے ہوئے منہ بنا کر کہا ۔
اور کب سے اپنی ہنسی روکے یارم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا مزید اپنا قہقہ روک نہ سکا۔
اچھا دفع کرو اسے جو ہونا تھا ہو چکا ہے اب کھانا کھاؤ ۔وہ ہنستے ہوئے سے کھانے کی طرف متوجہ کرنے لگا ۔
°°°°°°°
سفر کی وجہ سے یارم کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔وہ روح کے لئے کافی ساری شاپنگ کر کے لایا تھا۔روح کو ان میں سے بھی کم ہی چیزیں پسند آئی تھی ۔چیزیں دیکھتے ہوئے اسے ایک بار پھر سے وہی جانور یاد آگیا۔
یارم واپس چلتے ہیں مجھے یہاں نہیں رہنا ۔وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔
بس پانچ دن اور ہم واپس چلیں گئے یارم نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا ۔
نہیں یارم مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز واپس چلے ہم یہاں نہیں رہیں گے ۔یارم اس کا ڈر بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا وہ ابھی تک اس جانور سے ڈری ہوئی تھی یا شاید اس سے۔
اب وہ جانور واپس نہیں آئے گا ۔یارم۔نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔
یارم ہم اگلے سال اپنے بچے بھی یہاں نہیں لائیں گے ۔اچانک اس کے کندھے سے سر اٹھا کرمعصومیت سے بولی تو یارم مسکرائے بنا نہ رہ سکا ۔
میرا مطلب ہے کتنی خطرناک جگہ ہے یہ ۔اس نے یارم کی مسکراہٹ کو دیکھے بنا دوبارہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا ۔
ہمارے بچے ڈر جائیں گے ۔روح کا انداز بالکل کسی بوڑھی ماں کی طرح تھا جو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے ۔
اوکے جان ہم یہاں نہیں آئیں گے دوبارہ ۔آخر ہمارے بچوں کا سوال ہے ۔یارم کے ڈمپلز گہرے ہو رہے تھے۔یارم کے کہنے پر روح نے اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھی پھر شرما کر اس کے سینے میں سر چھپا گئی۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا وہ منمنائی ۔
یارم آپ کے ہاتھ میں دوپہر میں وہ جو چھڑی تھی وہ کہاں ہے ۔روح کے سوال پر وہ اسے دیکھنے لگا۔
میرے پاس ہی ہے تم کیوں پوچھ رہی ہو ۔
میں نے ویسی ہی چھڑی کسی اور کے پاس بھی دیکھی ہے پتہ نہیں کس کے پاس ۔دکھائیں مجھے وہ میں یاد کرنے کی کوشش کروں۔
چھوڑو یار تم نے کس کے پاس دیکھ لی فی الحال میرے بارے میں سوچو ۔یارم نے اسے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے کہا اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی وہ اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھااس وقت وہ صرف اپنے اور روح کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا کسی چھری یا چاقو کے بارے میں نہیں
°°°°°°°°°
رات کا ناجانے کون سا پہر تھا روح کی آنکھ کھل گئی۔
یارم اس کے ساتھ گہری نیند میں تھا ۔نیند میں بھی اس نے روح کے گرد اتنا گھیرا بنائے رکھا تھا ۔جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ اپنا کوئی عزیز کھلونا اپنے پاس رکھ کر سوتا ہے ۔
دوپہر میں بھی وہ کافی دیر تک سوتی رہی مزید لیٹے رہنا روح کو مشکل لگا ۔
وہ اٹھ کر کھڑکی کی طرف آئی ۔دن کا منظر اب بھی اس کے سامنے تھا ۔دن کے بارے میں سوچ کر ایک بار پھر سے خوف نے اس کے گرد حصار بنا لیا۔اس جگہ اس نے دوپہر کو وہ انسان نما جانور دیکھا تھا ۔
برف کی سفیدی اور گھر کے اندر سے سارے لائٹ اون ہونے کی وجہ سے باہر کافی روشنی لگ رہی تھی۔
اس نے باہر اسی جگہ پر دیکھا جہاں دوپہر کو یارم نے اس جانور کو مارا تھا ۔اس وقت وہاں اسی نسل کے بہت سارے جانور تھے ۔اس نے دیکھا کہ وہ سارے جانور وہاں پہ اس مردہ جانور کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں ۔
کوئی کیسے اپنی ہی نسل کو اس طرح سے کھا سکتا ہے ۔
یا اللہ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہمیں اس نسل میں سے نہیں بنایا ۔لیکن کیا ہم میں اور ان میں کوئی فرق ہے ۔کیا ہم لائق ہیں اشرف المخلوقات کہلانے کےاللہ نے ہمیں عقل دی ہے شعور دیا ہے ۔صحیح اور غلط کی پہچان دی ۔لیکن آج بھی ایسے لوگ ہیں جو اپنے ہی رشتے داروں کا خون چوس رہے ہیں ۔ خون چوسنے کا مطلب یہ نہیں ہے کے وہ ان کے ساتھ کوئی درندگی نما کام کر رہے ہیں ۔بلکہ جس طرح سے وہ ان کی دولت کو ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں ان کی لائف سٹائل کو اپنا رہے ہیں ۔ ان کی جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے مقام کو چھیننا چاہتے ہیں ۔
ہاں کوئی فرق نہیں ہے ان میں اور ہم میں ۔ہماری اس عقل اور شعور رکھنے والی قوم اور انسان نما یہ جانور بالکل ایک جیسے ہیں ۔فرق بس اتنا ہے کہ وہ اپنے جیسی مردہ نسل کو کھاتے ہیں۔ پر ہم زندہ انسانوں کو ایسے نوچتے ہیں