قسط 35
یارم وہ معصومہ کو کچھ شاپنگ کرنی ہے آج کوئی خاص کام نہیں ہے تو کیا میں اور وہ شاپنگ پر جائیں۔ہوسپیٹل والے دن کے بعد وہ کم ہی یارم سے مخاطب ہوتی تھی ۔آج کافی دنوں کے بعد وہ اس کے آفس میں بھی آئی تھی ۔
اس کے لئے کام نہیں ہے لیکن تمہارے لئے ہے ۔یارم نے بات ختم کرتے ہوئے کہا ۔
ہم جلدی آجائیں گے ۔میں اپنے سارے کام ختم کر چکی ہوں ۔بس جسٹس احمد تیمور کے بیٹے کا اکاؤنٹ ہیک کرنا رہ گیا ہے ۔وہ میں واپس آکے کرونگی مجھے ریفریشمنٹ بھی چاہیے۔لیلیٰ نے کہا تو یارم نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
ٹھیک ہے لیکن مجھے احمد تیمور کے بیٹے کا اکاونٹ جلد از جلد چاہیے ۔یارم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے گردن ہاں میں ہلائی ۔میں آتے ہی کام شروع کر دوں گی۔
°°°°°°°°
یہ کام جسٹس احمد کے بیٹے نے نہیں کیا ۔اس نےاپنے آپ پر الزام لیا ہے تاکہ اس کا دوست بچ سکے خضر نے کمپیوٹر پر دیکھتے ہوئے شارف کو بتایا ۔جو کب سے کبھی اسے اور کبھی سکرین کو گھور رہا تھا ۔
تم خود کو بہت اسمارٹ سمجھتے ہو نہ ۔۔۔؟
وہ جو کب سے ضروری کام دیکھ رہا تھا شارف کی بات پر اسے دیکھنے لگا یقیناً وہ کل والی بحث ابھی تک بھولا نہیں تھا ۔
نہیں میں اپنے آپ کو اسمارٹ نہیں سمجھتا بلکہ میں اسمارٹ ہوں ۔خضر نے تیوری چڑھا کر کہا ۔اور نظریں پھر سے کمپیوٹر پر جمالی ۔
اگر اتنے ہی اسمارٹ ہو تو بتاؤ ۔ایک دیوار کو ایک مزدور دس دن میں بناتا ہے ۔اسی دیوار کو دس مزدور کتنے دن میں بنائیں گے ۔
اس کے بے فضول اور کام سے ہٹ کر سوال پر خضر نے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔پھر بھی اپنی اسمارٹنس بتانے کے لئے اسے اس سوال کا جواب تو دینا ہی تھا۔
ایک دن میں ۔خضر نے جواب دیا اور ایک بار پھر سے کمپیوٹر سکرین پر دیکھنے لگا ۔
انتہائی بے وقوف انسان ہو تم ۔آگر وہ دیوار پہلے سے بنی ہوئی ہے تو دس مزدوروں اسے واپس بنائیں گے ہی کیوں ۔۔؟شارف اسے زبان دیکھتا باہر نکل گیا تھا ۔
جبکہ خضر گردن نفی میں ہلاتاایک بار پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔خضر اکثر شارف کی بچکانہ باتوں کو ایسے ہی نظر انداز کردیتا تھا ۔لیکن شارف بدلہ ضرور لیتا تھا اس سے ۔خضر کے لئے یہی سب لوگ اس کی فیملی تھے ۔ یارم، شارف، لیلیٰ ۔ہاں لیلیٰ جن سے وہ بہت پیار کرتا تھا
°°°°°°°°°°°
لیلیٰ کیوں نہ ہم اسے بھی اپنے ساتھ لے چلیں ۔معصومہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا
کسے ۔۔۔۔؟ لیلیٰ نے سوچا شاید وہ شارف کا نام لے گی۔
ارے وہ ڈیول سر کی بیوی کو اور کسے ۔آخراسے بھی تو پتہ چلے کہ تم اس سے بہتر ہو ۔میرا مطلب ہے وہ اپنے آپ کو شاید دنیا کی سب سے حسین لڑکی سمجھ رہی ہوگی کیونکہ ڈان نے اس سے شادی کرلی ۔جبکہ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ تم سے زیادہ حسین نہیں ہے ۔
کیا پلان کر رہی ہو تم ہاں ۔تمہیں کیا لگتا ہے مجھے سمجھ نہیں رہی ۔ہمم کیا سمجھتی ہو تم مجھے ۔لیلیٰ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں ایک رنگ ص رہا تھا دوسرا جا رہا تھا ۔تم مجھے ذلیل کرانا چاہتی ہو اس لڑکی کے سامنے ۔تاکہ بار بار وہ مجھے یہ کہے کہ ڈیول اسکا ہے ۔اور میں اس لڑکی سے جلوں۔ لیلیٰ نے کہا تو معصومہ کی اُڑئی رنگت ایکدم ہی واپس لوٹ ئی شکر ہے وہ نہیں سمجھی تھی کہ معصومہ آخر کر رہی تھی ۔
ہرگز نہیں میں بس اس لڑکی پر یہ ظاہر کرنا چاہتی ہوں ۔کہ وہ ڈیول سر کے لائق نہیں ہے ۔ڈیول سر کا جوڑ تم سے بنتا ہے ۔میرا مطلب ہے وہ خود کتنے حسین ہیں ان کی جوڑی تمہارے ساتھ اچھی لگتی ہے۔اس روح کے ساتھ نہیں ۔میرا خیال ہے ہمیں اس لڑکی کو اس بات کا احساس دلانا چاہیے ۔
ویسے خیال برا نہیں ہے لیلیٰ نے اسکی بات کاٹتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی ۔
ڈیول سر سے تو اجازت لینی پڑے گی ۔معصومہ نے کہا
نہیں اسے میں سنبھال لوں گی ۔پہلے ہم اسے سنبھالتے ہیں لیلیٰ نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا ۔جبکہ معصومہ اب چوری چوری صارم کو میسج کرنے میں مصروف ہو چکی تھی۔
°°°°°°°°°
کیا کر رہا ہے میرا بچہ ۔یارم نے اپنے کام نپٹا کر اسے فون کیا تھا ۔
شونو کے ساتھ نہیں ہوں اندر ہوں میں وہ باہر صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے ۔روح نے جواب دیا جبکہ آواز بہت ہی کم تھی ۔شاید وہ ابھی تک صبح والے رویے سے ڈری ہوئی تھی
کتا ٹی وی دیکھ رہا ہے وہ بھی صوفے پر بیٹھ کے ۔ ہمارے گھر کا کتا بھی نواب ہے ۔یارم نے آہ بھر کر کہا یقینا وہ اس سے ناراض تھی صبح جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد اس کا ناراض ہونا بنتا تھا ۔یارم خود بھی نہیں جانتا تھا بے اختیاری میں وہ کیا کرکے آیا ہے ۔
اچھا آج کھانا مت بنانا ہم باہر ڈنر کریں گے ۔یارم نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کہا ۔
ٹھیک ہے ۔ روح تھوڑی سی آواز میں منمنائی ۔وہ جب بھی اسے اپنے قریب کرنے کے بارے میں سوچتا ہے اپنے ساتھ رکھنے کے بارے میں سوچتا ہے نہ جانے کیوں روح اس ڈر جاتی ہے ۔وہ تو بس اسے اپنی محبت دکھا رہا تھا وہ تو بس اسے یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔
اسے تو خود بھی پتا نہیں چلا کہ کب وہ اس پر اتنی سختی کرگیا ۔
اچھا ریڈ ڈریس پہننا ۔میں جلدی آ جاؤں گا ڈنر کرنے کے بعد ہم لانگ ڈرائیو پر چلیں گے۔
ٹھیک ہے ۔اس بار آواز تھوڑی سی زیادہ تھی ۔ناراض ہو مجھ سے ۔۔۔؟اس بار یارم کی آواز بھی کافی کم تھی۔
نہیں ۔۔۔۔۔آپ ناراص ہیں ۔۔۔۔۔؟روح نے سوال کیا ۔
ایسا کبھی ممکن ہے ۔۔۔۔؟وہ الٹا اسی سے پوچھنے لگا۔
اگر جسم سے روح نکل جائے نہ روح تو جسم بے جان ہو جاتا ہے ۔ اگر میں تم سے روٹھ گیا تو میں بے جان ہو جاؤں گا ۔ اور میں جانتا ہوں تم مجھے کبھی بھی جان نہیں ہونے دو گی ۔
تیار رہنا وہ کہہ کر فون بند کرنے لگا جب روح پھر سے بولی ۔
کیا شونو بھی ہمارے ساتھ جائیگا ۔
یہ رومینٹک ڈیٹ ہے میری جان۔ ہم شونو کو اگلی بار ساتھ لے کر چلیں گے۔اس سے پہلے کے روح کچھ اور کہتی یارم فون بند کر چکا تھا ۔
اب میرے رومینس میں بھی ٹانگ ارائے گا یہ کتا ۔یارم نے جل کر سوچا ۔
کل وکرم دادا نے آنا تھا ۔اس کے بعد وہ جانتا تھا کہ وہ کتنا مصروف رہے گا ۔
°°°°°°°°°°°°°°°
وہ ابھی فون رکھ کے باہر آئی تھی جب دروازہ بجا۔
پڑوس کی آنٹی ہونگی روح سوچتے ہوئے دروازے کی طرف بھری ۔لیکن دروازہ کھول کر دیکھا لیلیٰ اور معصومہ کھڑی تھی۔یارم کے ڈانٹنے کے باوجود بھی پوچھ کر دروازہ کھلنے کی عادت سے ابھی تک نہ پڑی تھی ۔
ہم شاپنگ پر جارہے تھے سوچا تمہیں بھی اپنے ساتھ لے چلیں ۔بور ہو جاتی ہو گی سارا دن یہاں رہتے رہتے ۔چلو ہم انجوائے کریں گے ۔ معصومہ نے اسے مسکرا کر کہا ۔
جبکہ لیلیٰ نے اسے دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی۔
میرے پاس تو ضرورت کی ہر چیز موجود ہے میں کیا شاپنگ کرونگی ۔ہاں شونو کے لیے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینی تھی ۔
اس نے اپنے پیچھے کتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو بڑی معصومیت سے صوفے پر لیٹا ٹی وی پر نظریں جمائے دیکھ رہا تھا۔
یہ کتا کس کا ہے ڈیول کو تو کتوں سے نفرت ہے ۔تمہیں اندازہ بھی ہے اگر اس نے اس کتے کو یہاں پر دیکھ لیا تو اس کا اور تمہارا کیا حال کرے گا ۔لیلی نے کتے کی طرف دیکھتے ہوئے اسے ڈرانا چاہا ۔
کیا حال کریں گے انہوں نے ہی تو لے کر دیا ہے ۔روح نے اس کے سر پر دھمکا کیا۔
کیا مطلب ہے تمہارا یہ کتا ڈیول لے کے آیا ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا اسے کتوں سے نفرت ہے ۔وہ کبھی زندگی میں ایسے جانور کو اپنے گھر میں نہیں گھسنے دے گا ۔لیلیٰ ابھی بھی شاک میں تھی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ کتا انہوں نے خود مجھے خرید کردیا ہے ۔وہ بھی آئس لینڈ سے۔اسے لیلیٰ کی بات بالکل اچھی نہیں لگی تھی اس لئے تفصیل بتانے لگی لیکن تفصیل سننے کا بلکل ٹائم نہ تھا۔
کیونکہ معصومہ کوکب سے صارم کے میسج آ رہے تھے کہ وہ شاپنگ مال پہنچ چکا ہے ۔
بس یہ ساری باتیں ہم بعد میں کرلیں گے تم ڈوگی لے چلو باہر چلتے ہیں ۔معصومہ نے جلدی سے کہا۔
لیکن میں نے یارم سے نہیں پوچھا ۔روح نے کہا
ہم سر کو راستے میں بتا دیں گے۔بس تم جلدی چلو ۔۔اگر یہ دونوں یارم کے ساتھ کام کرنے والی جگہ پر نہ ہوتی تو وہ کبھی ان کے ساتھ نہیں جاتی ۔
لیکن یہ یارم کے ساتھ کام کرتی ہیں تو یقیناً وہ اسے بتا کر یہاں آئی ہوں گی اسے لینے ۔یہی سوچتے ہوئے اس نے عبایا پہنا یارم کے دیئے ہوئے پیسے اٹھائے ۔اور شونو کی رسی پکڑ کر چل دی ۔
°°°°°°°°
آج میں جلدی جاؤں گا گھر واپس ۔تم ایسا کرو کام کی ڈیٹیل مجھے بتاؤ ۔میں روح کو باہر لے کے جانا چاہتا ہوں ۔یارم نے خضر کے ہاتھ سے فائل لیتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے تم چلے جانا یہ جسٹس احمد تیمور کے بیٹے کی فائل ہے میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ جسٹس احمد تیمور کے بیٹے نے نہیں کیا بلکہ اس کے کسی دوست نے کیا ہے جسے وہ بچانا چاہتا ہے جانتا ہے کہ وہ جسٹس کا بیٹا ہے آسانی سے نکل آئے گا ۔
اسے یقین ہے کہ اس کا باپ اسے بچا لے گا
اور جس بچے کا قتل ہوا ہے اس کا کیا یارم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔
اس کی ماں اور چار بہنیں تھیں ۔ ایک بھائی ہے جو مینٹلی ڈسٹرب ہے کافی غریب لوگ تھے ۔
جسٹس نے ان کی کافی مدد کی ہے ۔۔۔ خضر نے تفصیل بتائی
ویسے جسٹس نے سب کچھ سنبھال لیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اس کیس میں پڑھنا چاہیے ۔خضر نے کہا۔
نہیں ۔ جس لڑکے نے اس بچے کو مارا ہے اس کی اپنی عمر سالہ سال تھی سالہ سال کی عمر میں ایک بچہ قاتل بن چکا ہے۔اور اس کے اندر سے قتل کرنے کا خوف ختم ہوچکا ہے ۔اس نے تیرہ سال کے ایک لڑکے کو بےدردی سے مار ڈالا ۔اگر وہ ایک بار قتل کر سکتا ہے تو دوسری بار قتل کرنے میں بھی وہ بالکل ہچکچائے گا نہیں ۔اسے اس کی غلطی کی سزا ملنی چاہیے ۔
جسٹس کا بیٹا اسے اپنے سر لے رہا ہے ۔ وہ اپنی طرف سے اپنے دوست کی مدد کر رہا ہے لیکن جو غلط ہے وہ غلط ہے ۔تم یہ ساری معلومات انسپیکٹر صارم تک پہنچا دو۔یارم نے کہا ۔
لیکن ڈیول یہ سب کچھ ہم نے جسٹس احمد کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے کیا تھا ۔اس طرح سے جسٹس احمد کبھی ہمارا کام نہیں کرے گا ۔خضر نے پریشانی سے کہا ۔
ہم کسی کی فیملی کو یوز نہیں کریں گے خضر ۔تم یہ سب کچھ انسپیکٹر صارم تک پہنچا دو آگے وہ خود سنبھال لے گا وہ اپنا کام سمجھتا ہے ۔خضر ہاں میں گردن ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔