قسط 10
زار۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی اپنے بیٹے کی شکل دیکھ کر رفعت کی خوشی سے آنکھیں چمکنے لگی
تم آگئے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں تھے کتنے فون کیے میں نے
اُس کے اندر قدم رکھتے ہی وہ دروازہ بند کرتیں اپنے سوال لیے شروع ہو گئی
میں تھوڑا بزی تھا امی اور فون خراب ہے اس لیے
زار نے دھیمی آواز میں جواب دیا تو وہ اُسے بہت غور سے دیکھنے لگیں اُس کی آنکھیں ہلکی ہلکی سی سرخ تھی
کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے سے ہی صاف ظاہر ہو رہا تھا کے وہ پریشان ہے اُن کی بات پر زار نے رخ دوسری جانب کیا
ہاں امی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔ بس تھوڑا تھک گیا ہوں
اُن سے نظریں ملا کر جھوٹ بولنا یا کچھ چھپانا اُس کے لیے نا ممکن تھا رفعت نے ایک بار پھر اُس کی حرکت کو نوٹ کرتے ہوئے اُسے دیکھا لیکن پھر سر جھٹک کر مسکرا دی
اچھا تم ہاتھ منہ دھو لو میں جلدی سے کھانا لگا دیتی ہوں دیکھنا اپنی امی کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہی ساری تھکان اُڑ کر چھو ہو جائیگی میرے بیٹے کی
وہ اُس کے سامنے آتے ہوئے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے بولیں
مجھے بھوک نہیں ہے امی ۔۔۔۔۔۔آپ کھانا کھالیں ۔۔۔۔۔مجھے سونا ہے بس۔۔۔۔۔۔
وہ اُن کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا رفعت اُسے دیکھتی رہ گئی اُس کا بدلہ بدلہ سا رویہ چہرے سے جھلکتی اُداسی اُنھیں پریشان کر گئی تھی
اپنے کمرے میں آکر اُس نے دروازہ بند کیا اور باتھ روم میں آ کر کپڑوں سمیت شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا اُس کے آنکھیں بند کرنے کی دیر تھی کے ایک منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا وہی منظر جس کے بعد وہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہا تھا اُسے یقین نہیں آرہا تھا کے آخر وہ کیسے کمزور پڑ گیا کے خود پر قابو ہی نہیں رکھ پایا چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس نے آنکھیں کھولیں
یہ کیا ہو گیا مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا ہو گیا مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے کر سکتا ہوں میں اتنی بڑی غلطی۔۔۔۔
آنکھیں دوبارہ بند کرکے اُس نے سر دونوں ہاتھوں میں پکڑا
چہرہ اوپر کرکے پانی کی بوندوں کو چہرے پر لیتے ہوئے خود کو تسکین پہنچانے کی کوشش کی آنکھوں کے پردے پر وہیں تصویریں لہراتی رہی اُس کا روحی کے قریب آنا اپنے جذبات کا اظہار کرنا روحی کا چہرہ جب وہ اُسے دیکھ رہی تھی ایک دفعہ بھی اُس نے روحی سے نظریں نہیں ملائی مگر اُس کی اُداسی اُس کی پریشان سب محسوس کرتا رہا ۔۔۔
باہر آکر آئینے کے آگے کھڑا تھا لیکن سامنے اُسے اپنا عکس نہیں بلکہ ویں منظر نظر آرہا تھا
زار ۔۔۔۔۔۔
دروازے پر دستک کے ساتھ رفعت کی آواز آئی وہ اندر آئے اس کے پہلے وہ جلدی سے بیڈ پر لیٹ گیا اور چادر سر تک کھینچ لی ایک بار اور دستک دے کر امی اندر آئی اُسے سوتے دیکھ کر دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور اُس کے قریب بیٹھ کر چہرے سے چادر نیچے کی زار کی آنکھیں بند تھی
بیٹا خالی پیٹ نہیں سوتے۔۔۔۔۔۔ دودھ لے کر آئی ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔
اُس کے نم بالوں کو پیشانی سے پیچھے کرتے ہوئے بولیں لیکن زار نے کوئی حرکت نہیں کی سوتے بنتا رہا وہ اٹھ گئی اور لائٹ کا بٹن بند کیے گلاس واپس لے کر باہر چلی گئی اُن کے جاتے ہی اُس نے آنکھیں کھولیں اور سیدھا ہو کر چھت کو دیکھنے لگا
پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ قدم رکھتے ہی دوڑ کر اپنے پاپا کے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی
I m sorry papa۔۔۔۔۔۔۔۔
زاروقطار روتے ہوئے اس وقت وہ کوئی چھوٹی بچی لگی انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا وہ اپنے اندر کے دکھ کو آنسووں کے ذریعے باہر نکالنے کی کوشش کر رہی تھی جو وہ کہہ نہیں سکتی تھی زار نے اس سے بات کرنا تو دور اس کی جانب دیکھا بھی نہیں تھا
کیا ہوا بیٹا۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہے نہ
اس کا اس قدر رونا اُنہیں پریشان کر گیا
میں ٹھیک ہوں پاپا۔۔۔۔۔۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ۔۔۔۔مجھے اس طرح آپ کو بنا بتاۓ گھر سے نہیں جانا چاہیے تھا
وہ اُن سے الگ ہوتے ہوئے بولی
کوئی بات نہیں بیٹا غلطی تو کسی سے بھی ہو جاتی ہے۔۔۔بھول جاؤ اس بات کو
انہوں نے اس کے گالوں پر بہتے آنسووں صاف کیے
I promise Papa
میں آج کے بعد آپ کو کبھی تنگ نہیں کروں گی آپ کی ہر بات مانوں گی
وہ دوبارہ اُن سے لگ گئی اور وہ مسکرا دیے
ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا وہ اپنے آگے رکھی پلیٹ کے کنارے انگلی گھماتے ہوئے اپنی سوچو میں گم تھا رفعت کچن سے نکل کر اُسے غور سے دیکھتی ہوئی آکر اُس کے پاس والی کرسی پر بیٹھ گئیں
روحی نام ہے نا اس لڑکی کا ۔۔۔۔۔۔۔
ہاٹ پاٹ کا ڈھکن کھولتے ہوئے بنا اُسے دیکھے بولیں اور زار نے اُسی طرح کھوئے ہوئے بے ساختہ ہاں کہہ دیا
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن پھر ہڑبڑا کر اُن کی جانب دیکھا جو مسکرا رہی تھی
کیا ۔۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔کس لڑکی کا ۔۔۔۔کیا پوچھ رہی ہے آپ۔۔۔۔کیا بول رہی ہیں۔۔۔۔
وہی لڑکی جو رات بھر تمہیں بے چین کرتی رہی جس کا نام تم نیند میں بڑبڑاتے رہے اور جو اس وقت اُداسی بن کر تمہارے چہرے پر نظر آرہی ہے
رفعت نے اُس کے پلیٹ میں گرما گرم پراٹھا رکھتے ہوئے بولا زار کو اپنی بیوقوفی پر بہت غصّہ آیا
آپ بھی نا۔۔۔۔۔۔۔
وہ زبردستی کا مسکرا کے پراٹھے کی جانب متوجہ ہوا
تو کیا کہتی ہے۔۔۔۔۔
رفعت نے چند پل چپ رہنے کے بعد اُس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کون ۔۔۔۔۔۔
وہی ۔۔۔۔روحی۔۔۔۔۔
کون روحی ۔۔۔۔۔۔کیا بول رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔ میں کسی روحی کو نہیں جانتا ۔۔۔۔۔۔
وہ نظریں چرائے بولا
دیکھو بیٹا مجھ سے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔ٹینشن مت لو ڈرامے کی ماؤں کی طرح میں تمہیں اموشنل بلیک میل کرکے لڑکی سے دور نہیں کرونگی ۔۔۔۔بتاؤ تو سہی اس کے بارے میں
امی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔ ۔۔۔اتنا لمبا نا جائیں یہی بریک لگا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔تین دن سے آپ کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھایا کمزوری محسوس ہو رہی ہے جلدی سے بیٹھ کر مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلا دیں اب
وہ جلدی سے نارمل ہو کے بات بدلتے ہوئے بولا
مطلب سچ مچ نہیں بتاؤ گے۔۔ ۔۔
بلکل نہیں بتاؤں گا۔۔۔۔۔۔اور اگر اب آپ نے پوچھا تو میں بنا ناشتا کیے چلا جاؤنگا
مصنوعی خفگی سے بولا
ٹھیک ہے مت بتاؤ لیکن میں بھی اے سی پی کی ماں ہوں پتہ لگا ہی لوں گی
رفعت نے نوالہ اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا وہ مسکرا دیا
روحی سچ سچ بتا اس اے سی پی نے کوئی زور زبردستی تو نہیں کی نا تیرے ساتھ
مشی نے اُسے تشویش سے پوچھا روحی اُسے حیرت سے دیکھنے لگی اور اُس کی بات کا مطلب سمجھ کر اُسے غصے سے گھورا
کیا بول رہی ہو مشی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر کیا بات ہے پچھلے دو دن سے دیکھ رہی ہوں تم اتنی پریشان پہلے کبھی نہیں ہوئی
مشی نے سیدھی ہو کر کہا روحی اپنی اُنگلیاں مروڑنے لگی
I love him۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔۔۔
مشی اچھل پڑی روحی نے سر اثبات میں ہلا دیا
تم نے اُسے بتا دیا۔۔۔۔۔۔
مشی آنکھیں پھیلائے اُس کی جانب جھکی روحی نے سر نفی میں ہلا دیا
کیوں۔۔۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں تمہیں پہلے تو وہ بہت نارمل تھا میرے ساتھ پھر اچانک پتہ نہیں اُسے کیا ہو گیا بہت روڈ بی ہیو کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔مجھے لگا شاید وہ مجھے پسند نہیں کرتا اس لیے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے چپ ہو گئی
لیکن کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحی اُسے چپ کرکے دیکھنے لگی حالانکہ وہ مشی سے کوئی بات نہیں چھپاتی تھی لیکن یہ بتانے میں اُسے گھبراہٹ اور جھجھک دونوں ہو رہی تھی
کیا ہوا بتا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے دوبارہ کہا
He۔۔۔۔۔ kissed me۔۔۔۔۔۔
وہ رکتے ہوئے بولی
What۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشی نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
جیسے وہ مجھے دیکھ رہا تھا میں نے فیل کیا کے وہ بھی مجھے چاہتا ہے۔۔۔اس کی آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھراُس کا میرے قریب آنا۔۔۔۔۔
وہ رکی اور مشی اُس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی
لیکن پتہ نہیں کیوں وہ مجھے اگنور پر اگنور کرتا رہا یہاں تک کہ میری طرف دیکھا بھی نہیں اس نے۔۔۔۔۔۔۔
یہ لڑکے ایسے ہی ہوتے ہے ۔۔۔۔مطلبی۔۔۔۔۔خودغرض۔۔۔۔۔وہ تجھے چاہتا نہیں ہے بس قریب آنے کا موقع مِل گیا تو ایڈوانٹیج لے لیا
مشی غصے سے بولی
نہیں مشی۔۔۔۔میرا دل نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔مجھے اس کے نظر انداز کرنے سے ہر بار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے جب بھی میں اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوں اور اپنا عکس ڈھونڈنے لگتی ہوں وہ نظریں چرا لیتا ہے وہ چاہتا ہی نہیں کے میں اس کی فیلنگز جان پاؤں
روحی زار کے ہر تاثر کی یاد کرتے ہوئے بولی
لیکن کیوں ۔۔۔۔۔ایسا کیوں کرے گا کوئی ۔۔۔ سامنے سے ایک لڑکی پیار کا اظہار کررہی ہوں اور لڑکا پیچھے ہٹنا چاہے۔۔امپوسیبل
مشی بے یقینی سے بولی اور وہ چپ ہو کر اُسے دیکھنے لگی
Good morning sir
زار نے روحی کو دیکھتے ہی اپنا نکالے ہوئے سن گلاسز دوبارہ آنکھوں پر چڑھا لیے اور اندر آکر سلام کیا جہاں وہ عزیز صاحب اور کمشنر کے ساتھ بیٹھی تھی
آپ نے مجھے یاد کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب سے ہاتھ ملایا کمشنر صاحب کے فون پر وہ اُن سے ملنے آیا تھا
ہاں ۔۔۔۔بیٹھ جائیے۔۔۔۔۔۔
عزیز صاحب کے اشارے سے سامنے صوفے پر بیٹھنے کو کہا روحی اور وہ سامنے بیٹھے تھے اور زار کمشنر صاحب کے پاس بیٹھ گیا
کمشنر صاحب سے آپ کی جتنی تعریفیں سنی تھی آپ کا کام دیکھنے کے بعد کوئی شک نہیں رہ گیا کے آپ واقعی اس قابل ہے آپ نے ہماری بیٹی کی حفاظت کی اُن کا اتنا خیال رکھا اس کے لیے شکریہ لفظ بہت کم ہو جائیگا
اُنہوں نے جھک کر درمیان میں رکھے ٹیبل سے چیک بول اٹھائی اور اُس پر سائن کرتے ہوئے بنا رقم لکھے اُس کی جانب بڑھایا
۔یہ ہماری طرف سے ایک چھوٹا سے انعام آپ کی بہادری کے لیے
زار نے اُن کے ہاتھ میں پکڑے چیک کو دیکھا اور پھر سر نیچے کر لیا وہ حیران ہوئے اور روحی بھی اُسے ہی دیکھ رہی تھی
معاف کیجئے سر ۔۔۔۔ لیکن میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا ۔۔۔۔جس کے لیے مجھے انعام ملے ۔۔یہ میری ڈیوٹی تھی جس کے لیے مجھے سیلری ملتی ہے اور میرے لیے وہی کافی ہے ۔۔۔۔۔۔
وہ سر اٹھا کر بولا اُنہوں نے ہاتھ واپس کھینچ کیا اور مسکرائے
ہمیں آپ کی خودداری اچھی لگی ۔۔ ۔خیر آپ نے فرض نبھایا ہو تب بھی ہم آپکے احسان مند ہے کیوں کے ہماری بیٹی ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہے ۔ ۔۔۔ ہم اگر کبھی آپ کے کام اسکے تو بہت خوشی ہو گی۔
وہ سیدھے ہو کر روحی کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
۔۔۔۔۔۔۔اب مجھے اجازت دیجئے ۔۔۔۔۔۔مجھے نکلنا ہوگا۔۔۔۔۔
وہ مزید اُس کی نظروں کے سامنے نہیں رہنا چاہتا تھا
ارے بھئی اتنی جلدی بھی کیا ہے ۔۔۔۔۔ شکریہ کے طور پر ایک کپ چائے تو پی ہی سکتے ہے آپ ہمارے لیے
وہ اٹھتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا یہ سوچ کر کے وہ برا نا مان جائے
جی کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔
اُس کی نظریں روحی پر تھی لیکن یہ صرف وہ جانتا تھا چشمے کے پیچھے سے اُس کی آنکھیں صرف کسی ایک کو دیکھ رہی تھی
یہ چشمہ کیوں چڑھا رکھا ہے آنکھوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں کونسی دھوپ آرہی ہے۔۔
کمشنر نے اُسے دیکھ کر کہا روحی نے بھی اُسے دیکھا
وہ۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا
میری آنکھ میں جلن ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اسلئے
سب نے اُس کی بات سنی ہو لیکن روحی نے اُس کے گلے کو دیکھا جب اُس نے سانس روک کر اندر کھینچی تھی اُس کا دل زور سے دھڑکا وہ روحی کے اس احساس کو محسوس کرکے اُسے دیکھتا رہا ارد گرد سے بے نیاز ۔۔ لب بھینچے۔۔۔۔۔
جب تک وہ شیرا پکڑا نہیں جاتا خطرہ بنا ہی رہےگا ۔۔۔۔۔۔ روحی بیٹا آپ کو دھیان رکھنا ہوگا کہیں بھی آنا جانا ہے تو اپنے ساتھ گارڈز کو ضرور رکھیے۔۔اور اگر کسی پر بھی شک ہو تو فوراً ہمیں خبر دینا
روحی نے اُن کے مخاطب کرنے پر فوراً اُن کی جانب دیکھا اور سر اثبات میں ہلا دیا
ویسے ہم نے اس مشکل کا ایک اور حل نکالا ہے ۔۔۔جس سے ہماری بیٹی کو یوں قید بھی نہیں رہنا پڑیگا اور وہ محفوظ بھی رہےگی
زار کی نظریں روحی کے چہرے سے ہٹ کے اُن کی طرف گئی
جی میں سمجھا نہیں۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر کی بات پر عزیز صاحب دھیرے سے ہنسے
کل ہماری عباس صاحب سے بات ہوئی ہے اُنہوں نے اپنے بیٹے ابرار کے لیے روحی کا ہاتھ مانگا ہے
اُنہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا اور روحی نے اُنھیں حیرت سے دیکھا جس سے زار کو یقین ہوا کے وہ بھی اس بارے میں اب سن رہی ہے
لڑکا سنگاپور میں رہتا ہے ہم مل چکے ہیں اُس سے پڑھا لکھا اور سمجھدار ہے اور سارا کاروبار خود ہی سنبھالتا ہے ہمیں تو اُن کی بات بہت پسند آئی اگر یہ رشتہِ ہو جائے تو روحی کا مستقبل بھی سنور جائیگا اور اُس کے سر سے یہ خوف بھی ہٹ جائیگا۔۔۔کیا کہتے ہیں آپ اے سی پی صاحب
وہ روحی کو دیکھتے ہوئے گڑبڑا کے اُن کی جانب دیکھنے لگا
جی۔ ۔۔۔۔۔ ۔لفظ اس ساتھ نہیں دے رہے تھے اُس نے لب کھیل کر دوبارہ بند کے لیے
آپ صحیح کہہ رہے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ با اتنا ہی کہہ پایا اور اگلے کی پل روحی کی آنکھیں دھندلی ہو گئی اُس کے چہرے پر اتنی اجنبیت اتنی سختی کے روحی کا دل رونے لگا
یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے سر عباس صاحب اور آپکی دوستی رشتےداری نے بدل جائے گی اور روحی بیٹی کو ان سب خطروں کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا
جی بلکل ۔۔۔۔۔عباس صاحب تو اس ہفتے منگنی کا بھی کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔لیکن ہم نے کہہ دیا کے پہلے ہم اپنی بیٹی سے بات کر لیں اُس کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ جو ہماری بیٹی کا فیصلہ ہوگا وہی ہمارا۔۔۔۔۔تم بتاؤ بیٹا کیا تم اُس لڑکے سے ملنا چاہتی ہو
وہ روحی کی جانب پڑے روحی نے زار پے ایک نظر ڈال کر اُنھیں دیکھا
اس کی ضرورت نہیں ہے پاپا۔۔۔۔آپ اُنھیں ہاں کر دیں ۔۔۔۔۔۔مجھے آپ کے کسی فیصلے سے اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔۔میں آپ کی خوشی میں خوش ہوں
وہ اپنے آپ کو اتنا مضبوط کیے تھی کی زار کو اُس کی محبت کی جھلک بھی نظر نہ آئے
بہت بہت مبارک ہو سر ۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر نے خوشی سے کہا
شکریہ۔۔۔۔۔۔
وہ روحی کے سر پر پیار کرتے ہوئے ہنسے اور روحی کی نظریں اب پھر زار کے چہرے پر کوئی دکھ کوئی افسوس کوئی اعتراض ڈھونڈھ رہی تھی
مجھے جانا ہوگا سر۔۔۔ ایک بہت ضروری کام یاد آگیا ہے ۔۔۔۔۔
وہ اٹھ گیا ورنہ شاید اب روحی کی امید پوری ہو جاتی
اوکے۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر نے سر ہلاتے ہوئے کہا اُس نے عزیز صاحب سے ہاتھ ملایا
پھر کبھی فرصت سے آئیے گا ۔۔۔ابھی تو آپ سے ٹھیک سے کوئی بات بھی نہیں ہو پائی
وہ مسکرا کر بولے اُس نے سر اثبات میں ہلا دیا اور باہر نکل گیا کب کی روکی سانس اب بحال ہوئی تھی لیکن درد کی ایک ٹیس جو دل میں اٹھی تھی اُس کی آنکھوں کو سرخ کر گئی