قسط: 9
اپنے ہاتھوں میں موجود گھڑی اتار کر اسنے شیشے میں نظر آتا اپنا وجود دیکھا آج اسے دیکھنے کے لیے معتصم کے گھر والے آے تھے
اپنی شادی سے چند دن پہلے وہ گھر سے بھاگ گئی تھی اور یہ بات اس وقت ہر اس شخص کی زبان پر موجود تھی جو انہیں جانتا تھا
ظفر صاحب بس جلد از جلد اسکی شادی کر دینا چاہتے تھے تاکہ لوگوں کی یہ زبان بند ہوجاے اور ان سب کی زندگی میں سکون آجاے
آج بدھ کا دن تھا اور اس جمعے کو چھوڑ کر اگلے جمعے کو اسکا نکاح تھا ساتھ ہی رخصتی بھی انکا نکاح ہوچکا تھا لیکن یہ بات گھر والوں کے علاؤہ کوئی نہیں جانتا تھا اور پہلے جب نکاح ہوا تھا تو گھر کا کوئی فرد موجود نہیں تھا اسلیے انکا نکاح دوبارہ ہونے والا تھا اس بار سب کے سامنے
“کیا میں اندر آجاؤں”عینہ نے دروازے میں سے اپنا سر نکال کر کہا جس پر اسنے اداسی سے مسکرا کر اسے اندر آنے کا اشارہ کیا
“تم سے کچھ بات کرنی تھی پری” اسکے انداز میں جھجک تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ اس سے کوئی بات کرتے ہوے جھجک رہی تھی
“عینہ کیا بات ہے”
“تمہاری خالا نے وصی کے لیے میرا رشتہ مانگا ہے اور تایا جان نے بابا سے پوچھ کر ہاں کردی ہے” اسنے اپنا سر جھکا کر کہا
“تو اس میں اداس ہونے والی کیا بات ہے” پریشے کے کہنے پر اسنے اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھا
“تمہیں برا نہیں لگا”
“نہیں مجھے کیوں برا لگے گا وصی میرا کل تھا تمہارا رشتہ مانگا گیا یے میں یہ بات جانتی ہوں اور میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں تم بھی خوش ہوجاؤ آخر تمہیں تمہاری محبت ملنے جارہی ہے” اسکے کہنے پر عینہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا یہ بات تو آج تک اسنے کسی سے نہیں کہی تھی
“ایسے مت دیکھو میں یہ بات اس دن ہی جان گئی تھی جب خالا نے مجھے وصی کے نام کی انگھوٹھی پہنائی تھی اور جب میں نے پہلی دفعہ تمہارے چہرے پر موجود وہ کرب دیکھا تھا جسے دیکھ کر کوئی بھی یہ بات جان جاتا کہ تم اس وقت کس تکلیف میں ہو میں اس وقت تم سے اس معاملے میں بات کرنا چاہتی تھی لیکن میں خود اپنی الجھنوں میں پھنسی ہوئی تھی”
“لیکن پری وصی تو تم سے محبت کرتا ہے”
“لیکن تمہاری محبت میں زیادہ طاقت تھی جب ہی تو خدا نے اسے تمہارے نصیب میں لکھ دیا خالا نے یہ بات مجھے پہلے ہی بتادی تھی کہ وہ تمہارے بارے میں یہ سب سوچ رہی ہیں اور مجھے انکا یہ فیصلہ بہت پسند آیا تھا اسلیے سب گھر والوں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ میرے ساتھ ساتھ وہ تمہاری بھی رخصتی کردینگے اور میں تمہیں یہی کہوں گی عینہ کہ تم وصی کو اتنی محبت اتنا پیار دینا کہ وہ مجھے بھول جاے اور تمہارے ساتھ اپنی ایک خوش حال زندگی گزارے” اسکی بات پر عینہ نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوے اپنا سر اثبات میں ہلادیا دل پر رکھا بوجھ جیسے اتر گیا تھا
“میں پوری کوشش کرونگی” وہ اٹھ کر وہاں سے جا چکی گئی جب اسکا فون بجنے لگا اسنے دیکھا آئرہ کی کال آرہی تھی پہلے سوچا کہ کاٹ دے کتنے دن سے وہ اسے فون ملا رہی تھی اور میڈم کو آج خیال آیا تھا لیکن پھر اسنے فون اٹھا کر اپنے کان سے لگا لیا
“کیسی ہو پری”
“یاد آگئی تمہیں میری” اسنے چھوٹتے ہی گلہ کیا
“سوری تم بتاؤ تم اپنے گھر چلی گئی تھیں نہ کیا ہوا”
“میرا جس لڑکے سے نکاح ہوا تھا نہ گھر والوں نے میری اس کے ساتھ شادی طے کردی ہے”
“یہ تو اچھی بات ہے” آئرہ کے کہنے پر اسنے اپنے فون کو گھورا جیسے اسے ہی گھور رہی ہو
“کیا اچھی بات ہے کیا تم نہیں جانتی ہو اسنے میرے ساتھ کیا کیا تھا اسنے زبردستی نکاح کیا تھا مجھ سے”
“نکاح ہی کیا تھا کچھ غلط تو نہیں کیا تھا اور کیا کہا تھا اسنے تمہیں اسی طرح لے کر جاؤں گا جیسے ہر لڑکی رخصت ہوتی ہے دیکھ لو اپنی بات کا کتنا سچا ہے” معتصم کی تعریف وہ بھی اپنی دوست کے منہ سے اسے بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی وہ اسکے بدلے اسے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اسکا اداس لہجہ پریشے کو کھٹکا گیا تھا
“تم اداس ہو”
“نہیں”
“روئی ہو”
“نہیں”
“تو کیا ہوا ہے دیکھو جھوٹ مت بولنا جو بات ہے مجھے سچ سچ بتاؤ آئرہ” اسکے کہنے پر آئرہ نے گہرا سانس بھرا
“تمہیں میں نے کیا بتایا تھا اپنے بارے میں”
“تم نے بتایا تھا کہ تمہارے ددیال والے گاؤں میں رہتے ہیں اور تمہاری امی تمہں وہاں سے لے آئی تھیں کیونکہ وہ لوگ تمہارا نکاح تمہارے کزن سے کروارہے تھے اور وہ ایسا نہیں چاہتی تھیں” اسے جو جو بات یاد تھی اسنے بتادی تھی
“بلکل پری اور اب میں اپنے دادا کے گھر پر ہی موجود ہوں اور اس آنے والے اگلے ہفتے میرا اس سے نکاح ہے جس کے ساتھ میری بچپن میں منگنی ہوئی تھی اور وہ دسویں جماعت پاس ہے”
“کیا” اسکی بات سن کر شاک سے پریشے کا منہ پورا کھل چکا تھا
“اور تم اس سے شادی کرسکتی ہو”
“میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے”
“آئرہ تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو اپنے لیے لڑو آواز اٹھاؤ” بات کہتے کہتے اسکے لب خاموش ہوگئے وہ اسے کہہ بھی تو کیا رہی تھی
اسنے آواز اٹھائی تھی اپنے گھر والوں کے سامنے یہ کہا تھا کہ اسے معتصم شاہ نہیں قبول لیکن کیا ہوا اب وہ مکمل طور پر اسی کی ہونے جارہی تھی
“پری کیا ہوا ہے” آئرہ کی اسپیکر سے آتی آواز سن کر وہ چونکی
“کچھ نہیں”
“ویسے اس سب میں میرے پاس تمہارے لیے ایک خوش خبری ہے”
“اور وہ کیا ہے”
“یہی کہ تم میری جیٹھانی بننے جارہی ہو”
“کیا مطلب”
“مطلب یہ کہ تم نے مجھ سے کہا تھا تمہارے شوہر کا نام معتصم شاہ ہے جمال شاہ کا پوتا اور شاہ انڈسٹری کا مالک تو بھلا مجھے اور جاننے کی کیا ضرورت ہے جب میں یہاں آکر معتصم لالا سے ملی تو اس وقت مجھے شک ہوا تھا اور وہ شک یقین میں اس وقت بدلہ جب وہ لوگ تمہارے لیے رشتہ لے کر آرہے تھے اور ایک بات کہوں پری میں معتصم لالا کو اتنا نہیں جانتی مگر آج تک انکے بارے میں جتنا سنا ہے اور جتنا جانا ہے اس سے تو یہی اندازہ لگا پائی ہوں کہ وہ رشتے پورے خلوص سے نبھاتے ہیں”
“اچھا تم بتاؤ ان دسویں جماعت کا نام کیا ہے” اسکی بات کاٹنے کے لیے زہہن میں جو پہلا سوال آیا اسنے کرلیا کیونکہ وہ اس وقت معتصم کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی
“میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ہاں لیکن تمہیں ایک بات بتاؤں تم میری جیٹھانی بنو گی تو زرا مجھ پر رعب جھاڑنا” اسکے کہنے پر پریشے کھلکھلا کر ہنسی پتی نہیں کتنے وقت بعد وہ ہنسی تھی
“ہاں بلکل یہ موقع میں ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتی ہوں” مزید چند منٹ باتیں کرکے اسنے فون رکھ دیا کیوں کہ ڈنر کا ٹائم ہورہا تھا
°°°°°
ابھی اسنے فون رکھا ہی تھا جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اسے لگا شاید پھر سے عینہ آچکی ہے اسنے مڑ کر دیکھا وہاں اماں جان تھیں
“اماں جان آپ یہاں کیا کررہی ہیں مجھے بلالیتیں”
“بس تم سے کچھ باتیں کرنی تھیں” اماں جان نے اسکے قریب بیٹھ کر کہا
“تمہیں پتہ ہے پری میں نے تمہارے اس رشتے کے بارے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اور یہ بات میں تمہیں آج ہی بتا دینا چاہتی ہوں تاکہ تمہارے دل میں میری طرف سے کوئی میل نہ رہے”
“اماں جان ایسی باتیں نہیں کریں میرے دل میں آپ کے لیے کوئی میل نہیں ہے”
“میں جانتی ہوں میری بچی پھر بھی میں یہ بات تم سے آج کہنا چاہتی ہوں جو میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی تم جاننا چاہتی تھیں نہ ہمیشہ سے کہ تمہارے دادا جان تمہارے بابا کو پسند کیوں نہیں کرتے تھے” انکے کہنے پر اسنے آہستگی سے اپنا سر ہلایا وہ اس سے کیا کہنے آئی تھیں اسے سمجھ نہیں آرہا تھا
انہوں نے آہستہ سے اپنی بات کا آغاز کیا اور جیسے جیسے وہ بتاتی جارہی تھیں پریشے شاہ کی بےیقینی بڑھتی جارہی تھی
°°°°°
“تم اس وقت یہاں کیا کررہی ہو” وہ جو اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا اسے سیڑھیوں پر بیٹھا دیکھ کر وہیں آگیا
“بات کررہی تھی”
“کس سے”
“تمہیں کیوں بتاؤں”
“کیونکہ میں تمہارا ہونے والا شوہر ہوں”
“ہونے والے ہو نہ ہوے تو نہیں”
“ہو بھی جائینگے ویسے سنا ہے تم شادی کے لیے مان گئی ہو اچھی بات ہے زبردستی کرنا مجھے پسند نہیں ہے”
“میں صرف اپنے باپ کی وجہ سے راضی ہوئی ہوں”
“راضی تو تمہیں ہونا ہی تھا اب چاہے وہ تم چاچا سائیں کی وجہ سے ہوتیں یا اپنی مرضی سے کیونکہ شادی تو تمہاری مجھ سے ہی ہونی تھی تم میری منگ جو ہو” اسکے کہنے پر آئرہ نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر جیسے اپنا غصہ ضبط کرنا چاہا
“منگ منگ بول کر تم نے میرا دماغ خراب کر دیا ہے اب تو دل چاہ رہا ہے کوئی یہ لفظ میرے سامنے بولے تو اس کے منہ پر ایسیڈ پھینک دوں” ایسیڈ لفظ کا مطلب اسے سمجھ تو نہیں آیا تھا لیکن آئرہ کے تاثرات بتارہے تھے کہ وہ کوئی اچھی چیز کے بارے میں نہیں بول رہی ہے
اس لفظ کو اپنے دماغ میں بٹھا کر اسنے یاد کرلیا تاکہ عصیم سے بعد میں اسکا مطلب پوچھ لے وہ ہمیشہ یہی کرتا تھا جس بات کا مطلب اسے سمجھ نہیں آتا تھا اسکو یاد کرلیتا اور پھر بعد میں عصیم سے اسکا مطلب پوچھ لیتا
“اور یہ جو تم مجھ سے شادی کے پیچھے لگے ہوے ہو نہ تو دیکھنا شادی کے بعد اگر تمہیں سکون سے بیٹھنے دیا تو میرا نام بھی آئرہ عفان شاہ نہیں” اسکے کہنے پر عالم کے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ دوڑی
آئرہ پہلی بار اسکی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی کیونکہ اگر اس سے پہلے وہ کبھی اسکے سامنے مسکرایا تھا تو اسنے اتنا غور نہیں کیا تھا اسکی مسکراہٹ بےحد دلکش تھی اور اس سے بھی زیادہ اچھا اسکی گھنی داڑھی میں چھپا ڈمپل تھا اس بات کا اقرار تو اسنے دل سے کیا تھا کہ عالم شاہ کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے
“یعنی تم مجھے سکون سے رہنے دو گی کیونکہ شادی کے بعد تم آئرہ عفان شاہ نہیں آئرہ عالم شاہ بن جاؤ گی” آئرہ کو اب اسکے مسکرانے کی وجہ سمجھ آئی تھی وہ دو قدم اٹھا کر اسکے قریب کھڑی ہوگئی
“تو ٹھیک ہے آئرہ عالم شاہ تمہیں سکون نہیں لینے دے گی تمہیں پتہ ہے کیا تم مجھے بلکل پسند نہیں ہو اور تم سے زیادہ ناپسند مجھے تمہاری یہ مونچھیں لگتی ہیں” اسنے اپنا ہاتھ اسکے مونچھوں کے کونوں پر رکھا جبکہ عالم شاہ حیرت سے اسکی اس حرکت کو دیکھ رہا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ اسکی مونچھیں دونوں طرف سے زور سے کھینچ کر وہاں سے بھاگ گئی اور اسکے اتنی زور سے کھینچے پر عالم شاہ نے بمشکل اپنے لبوں سے نکلتی آواز کو روکا
“جنگلی” اپنے دکھتے حصے کو سہلا کر اسنے اسے ایک لقب سے نوازا اور اس جگہ کو گھور کر وہاں سے چلا گیا جہاں سے آئرہ گئی تھی