عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 10

“اوے اٹھ میری بات سن”زور سے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر اسنے اسے نیند سے جگایا اور عصیم جو اپنی نیند کے مزے لوٹ رہا تھا اسکے ایسا کرتے ہی بدمزہ ہوکر اسے دیکھا
“کیا مسلہ ہے”
“یہ اسیڈ کا مطلب کیا ہوتا ہے” زہہن میں جو لفظ تھا وہ اسنے عصیم کو بتا دیا جو اسکی بات سن کر حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“کیا اسیڈ میں ایسے کسی لفظ کو نہیں جانتا”
“اچھا تو پھر فضول میں کہہ کے گئی بتا مجھے کیا مطلب ہوتا ہے اسکا”
“جس نے کہا ہے نہ اس سے ہی جاکر پوچھ” اسے کہہ کر وہ دوبارہ کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا
“دیکھ عصیم بتادے”
“اگر پڑھائی پر دھیان دے دیتا تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا”
“ہوگیا فلسفہ شروع اب بتادے مجھے اسکا کیا مطلب ہوتا ہے”
“کس نے کہا ہے تجھ سے یہ لفظ” اب کی بار اسنے تنگ آکر کہا
“وہ بس بتایا تھا کسی نے کہ وہ اسیڈ پھینک دے گا”
“ایسیڈ ہوگا”
“ہاں ہاں یہی تھا”
“اسکا مطلب تیزاب ہوتا ہے اب اپنے کمرے میں جا اور مجھے سونے دے” خود پر دوبارہ کمبل اوڑھ کر وہ سونے لگا
“بڑی خطرناک لڑکی ہے تیزاب شیزاب کی باتیں کررہی ہے” خود سے بڑبڑاتے ہوے اپنی شال صوفے پر پھینک کر وہ بھی اسکے بیڈ پر لیٹ گیا
“اب کمرے میں کون جاے گا سونا ہی تو ہے یہیں سوجاتا ہوں” اسکے اوپر سے کمبل چھین کر اسنے خود اوڑھ لیا جبکہ اسکی اس حرکت پر عصیم نے گھور کر وہ کمبل اپنی طرف کھینچا جو عالم نے واپس اپنے پاس کرلیا
°°°°°
معتصم اور عصیم صبح ہی ناشتہ کرکے شہر کے لیے نکل چکے تھے جبکہ عالم بھی زمینوں پر گیا ہوا تھا
ڈائیننگ ٹیبل پر اس وقت سب بیٹھے ناشتہ کررہے تھے جو وہ وہاں پر آگئی
“آجاؤ بیٹا ناشتہ کرو” اسے وہاں دیکھ کر دادا سائیں نے خوشدلی سے کہا انہیں امید نہیں تھی کہ وہ انکے ساتھ آکر کھاے گی اسلیے اسکی یہاں موجودگی سے انہیں بڑی خوشی ہوئی تھی وہ آکر کسوا کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی
“امی نہیں آئیں” مبشرہ بیگم کی غیر موجودگی دیکھ کر اسنے عفان شاہ سے پوچھا
“ہاں وہ ساری رات سو نہیں پائی اسے نیند نہیں آرہی تھی ابھی بھی نیند کی گولی دی تھی تب جاکر سوئی ہے”
“انکی طبیعت ٹھیک ہے” اسکے لہجے میں فکرمندی تھی
“ہاں میرا بچہ آپ ناشتہ کرو”انکے کہنے پر اسنے ایک نظر ٹیبل پر رکھی ہر چیز کو دیکھا جس میں سے کچھ بھی وہ نہیں تھا جو وہ کھاتی تھی
اچار آلو کے براٹھے سادے پراٹھے رائتہ لسی اور چاے تھی جسے لسی نہ پینی ہو وہ چاے پی لے ناشتے کے لیے روزانہ صبح ہی ہر روز نیا سالن بن جاتا تھا جیسا کہ آج مٹر قیمہ بنا تھا
“کیا ہوا بیٹا تم کھا کیوں نہیں رہی ہو” اسکے رکے ہاتھ دیکھ کر ثمرین بیگم نے کہا اور انکے کہتے ہی سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے
“بھابھی سائیں میں بتانا بھول گیا تھا یہ ناشتے میں اورینج جوس اور بریڈ پر جیم کے علاؤہ کچھ نہیں کھاتی”
“اچھا رکو میں ابھی جوس بنواتی ہوں”
“نہیں رہنے دیجیے آپ بلاوجہ زحمت کررہی ہیں”
“بیٹا اس میں زحمت والی کیا بات ہے تم رکو میں ابھی بنواتی ہوں اور اگر کچھ اور کھانا ہو تو مجھے وہ بھی بتا دینا” مسکراتے ہوے وہ اپنی جگہ ڈے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی جب آئرہ نے ایک نظر اپنے برابر بیٹھی کسوا کو دیکھا اسنے بڑی سی پلیٹ میں اپنے لیے سب کچھ ڈالا ہوا تھا
ایک سائیڈ پر اچار دوسری سائیڈ پر رائتہ اور تیسری سائیڈ پر قیمہ اور دوسری پلیٹ میں اسنے آلو اور سادے دونوں پراٹھے رکھے ہوے تھے سامنے ہی لسی کا بھرا ہوا گلاس تھا
وہ کبھی سادے پراٹھے سے قیمہ کھاتی تو کبھی آلو کے پراٹھے کو اچار میں ڈال لیتی وہ چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر کھا رہی تھی گھی میں تلے پراٹھوں کی وجہ سے اسکا ہاتھ جس سے وہ کھارہی تھی چکنا ہوچکا تھا
“تم کیسے اتنا آئلی کھانا کھارہی ہو کسوا تم کیا ہمیشہ ایسا ہی کھانا کھاتی ہو”
اسکے کہنے پر کسوا نے اپنا کھاتا ہاتھ روک کر اسے دیکھا
“یہی تو میرا راز ہے آپی میں ہمیشہ سے ایسا ہی کھانا کھاتی ہوں لیکن میرا ویٹ ہی نہیں بڑھتا ماشاءاللہ ماشاءاللہ تھو تھو” اپنی بات کہہ کر اسنے خود ہی اپنے آپ پر پھونک ماری
“اور یہ اچھی بات ہے ورنہ اگر میں زرا سی موٹی ہوئی نہ تو عصیم لالا مجھے بھی اٹھا کر اپنے ساتھ جم لے جائینگے “
“یہاں پر جم بھی ہے “اسنے حیرت سے کہا کیونکہ گاؤں میں جم ہوگا اسکا اسے اندازہ نہیں تھا
“ہاں گاؤں شروع ہوتے ہی ایک چھوٹا سا بنا ہوا ہے لیکن لالا وہاں نہیں جاتے حویلی میں معتصم لالا نے جم بنوایا تھا تو وہ وہیں جاتے ہیں ویسے تو وہ دونوں زیادہ تر شہر سے باہر ہی رہتے ہیں لیکن جب یہاں آتے ہیں تو وہ جم۔میں جاتے ہیں اور آپ کو پتہ ہے” ایک بات جو آئرہ نے اس میں دیکھی تھی وہ یہ تھی کہ ایک بار اسکا ٹیپ ریکارڈر کھل جاتا تو اسے بند کرنا بہت مشکل تھا اور اسے بند کروانا بھی نہیں تھا کیونکہ اسکی باتیں اسے اچھی لگتی تھیں اس وقت بھی وہ کالج یوفارم پہنے یقینا کالج جانے کے لیے تیار بیٹھی تھی لیکن آئرہ کے آتے ہی اسکا ٹیپ ریکارڈر کھل چکا تھا
“معتصم لالا بھی یہ سب نہیں کھاتے وہ لائٹ سا کھانا کھاتے ہیں ہاں عصیم لالا یہ سب کھاتے ہیں لیکن وہ اپنی فٹنیس کا بہت دیھان رکھتے ہیں اور عالم لالا بھی یہ سب کھاتے ہیں”
“اچھا دیکھ کر تو نہیں لگتا”
“وہ اسی لیے کیونکہ وہ بھی جم جاتے ہیں”
“اچھا میں تو سمجھی تھی کسی میدان میں جاکر چھلانگے لگاتا ہوگا” اسنے بڑبڑاتے ہوے کہا جسے یقینا کسوا نے نہیں سنا تھا
“کیا”
“کچھ نہیں تمہارے عالم لالا بھی جم جاتے ہیں یہ سن کر کافی حیرت ہوئی”
“ہاں وہ بھی جاتے ہیں انہیں پہلے اس سب کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم تھا لیکن معتصم لالا نے انہیں سب سکھایا تھا” معتصم کا نام لیتے ہی اسے وہ سرپرائز والی بات یاد آئی جو وہ اماں سائیں سے پوچھنا بھول گئی تھی
“کسوا جلدی ناشتہ کرو لیٹ ہوجاؤ گی” اسکے مسلسل بولنے پر فارینہ بیگم نے اسے ٹوکا
“میرا تو ویسے بھی ہوگیا میں جارہی ہوں اللہ حافظ”بات تو اب وہ بعد میں ہی پوچھتی کیونکہ اس وقت وہ لیٹ ہورہی تھی اسلیے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسنے تیز آواز میں اللہ حافظ کہا اور وہاں سے چلی گئی
آئرہ نے اسکی پلیٹ دیکھی اسنے بھلے اتنا کچھ لیا تھا لیکن کھایا آدھا پراٹھا بھی نہیں تھا
“اسلام وعلیکم” بھاری مردانہ آواز پر اسنے گہرا سانس لے کر چند لمحوں کے لیے اپنی آنکھیں بند کرلیں کیونکہ اسے پتہ تھا یہ آواز کس کی ہے اور اسکا صبح صبح اس شخص کی شکل دیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
“تم صبح صبح کہاں چلے گئے تھے عالم” اسکے سلام کا جواب دے کر دادا سائیں نے اسے دیکھ کر پوچھا جو آئرہ کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ رہا تھا
“زمینوں پر گیا تھا دادا سائیں چھوٹا سا مسلہ ہوگیا تھا” اسکی بات سمجھ کر دادا سائیں نے اپنا سر ہلایا جب نظر ناشتہ کرتی آئرہ پر پڑی جو ابھی ابھی ثمرین بیگم اسکے سامنے رکھ کر گئی تھی
“آئرہ کو شاپنگ پر لے جانا یہ اپنے لیے ولیمے کا سوٹ لے آے گی” انکی بات سن کر عالم نے اسے اور آئرہ نے دادا سائیں کو دیکھا
“مجھے کہیں نہیں جانا”
“بیٹا چلی جانا اپنی پسند کا لے آنا ویسے تو برات اور ولیمے دونوں تقریب کا دلہا ہی اپنی مرضی سے لاتا ہے لیکن بابا سائیں کہہ رہے ہیں تو تم خود اپنی مرضی سے لے آنا”عفان شاہ کے کہنے پر اسنے بنا کچھ کہے جیم لگی بریڈ اپنے منہ میں رکھی
“اور کسوا کے لیے عصیم ہی لاے گا نہ” عالم کے کہنے پر اسنے مشکل سے اپنے منہ میں چلتا نوالہ حلق سے اتارا گھر میں اسکے ساتھ ساتھ کسوا کی شادی کی تیاریاں بھی چل رہی تھیں لیکن اس پاگل کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا وہ تو اپنی ہی دنیا میں مگن تھی
“جس کی شادی کا فیصلہ کیا جارہا ہے پہلے ایک بار اس سے پوچھ تو لیں” آئرہ کے کہنے پر عالم سمیت سب نے اسکی طرف دیکھا
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں آپ سب”
“ہمارے یہاں لڑکیوں سے پوچھا نہیں جاتا”
“وہ تو دکھ بھی رہا ہے” ناچاہتے ہوے بھی اسکا لہجہ تلخ ہوچکا تھا
“لڑکی تمیز سے بات کرو” عالم نے اسے گھورتے ہوے کہا
“کیوں میں نے کچھ غلط کہا”
“آئرہ بیٹا ناشتہ کرو”
“کیوں بابا آپ ہی بتائیں میں نے کچھ غلط کہا یہاں کے مرد اپنی مرضی سے جو چاہے وہ کرسکتے ہیں لیکن لڑکی سے اسکی راے تک بھی پوچھی نہیں جاتی بس گائیں بھینسوں کی طرح کہیں پر بھی باندھ دو “غصے سے کہتی ہوئی وہاں اپنی جگہ سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی
عالم بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پیچھے جانے لگا ارادہ اسے سبق سکھانے کا تھا لیکن دادا سائیں اسکا ہاتھ پکڑ چکے تھے
“عالم بیٹھ کر ناشتہ کرو اسے وقت دو اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں اسے وقت لگے گا”دادا سائیں کے کہنے پر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا کیونکہ ناشتہ تو اب اس سے ہونا نہیں تھا
°°°°°
“مائی نیم از کسوا”
“کسوا کی جوانی”
آج پھر سے ناچتی ہوئی وہ اپنی خوشی کا چشن منارہی تھی لیکن اس بار دروازہ بند کرنا نہیں بھولی تھی
اسکی خوشی کی وجہ یہ تھی کہ آج اسکا لاسٹ پیپر تھا اور پڑھائی کے ساتھ ساتھ اسکی جان عصیم سے بھی چھوٹ چکی تھی اب کم از کم روزانہ اسکی ڈانٹ سن کر زبردستی پڑھنا تو نہیں پڑے گا لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ جس سے جان چھوٹنے پر وہ خوشیاں منا رہی تھی اب وہی جان کے پیچھے لگنے والا تھا
“کسوا” آواز پر اسنے ڈر کر دیکھا لیکن ثمرین بیگم کو دیکھ کر سانس میں سانس آئی
“اف اماں سائیں آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا”
“تم سے کچھ بات کرنی ہے بیٹا ادھر بیٹھو” انہوں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوے اسے پیار سے اپنے قریب بلایا جس پر کسوا نے مشکوک نظروں سے انہیں دیکھا بھلا اسے کب سے کوئی اتنی عزت سے بلانے لگا
“ادھر آؤ”ان کے دوبارہ کہنے پر وہ جاکر انکے پاس بیٹھ گئی
“جی کہیے”
“ہم نے تمہاری شادی طے کردی ہے عالم کے ساتھ ہی تمہاری شادی ہوگی”
“ہیں یہ کب ہوا مجھ تو لڑکے والے دیکھنے بھی نہیں آے اور آپ نے مجھے لڑکے کی تصویر بھی نہیں دکھائی ایک منٹ ایک منٹ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی لڑکے نے مجھے دیکھ لیا ہو اور مجھ پر اپنا دل ہار بیٹھا ہو اور کہہ رہا ہو کہ شادی کروں گا تو صرف کسوا شاہ سے اسی لیے آپ لوگوں نے میری شادی بھی طے کردی”اسکے کہنے پر ثمرین بیگم نے اسکے سر پر چپت لگائی
“بات تو سن لو ہر وقت اپنی ہی بولنے میں لگی رہتی ہو ہم کیوں تمہاری شادی کسی اور سے کرینگے جب گھر میں اتنا پیارا لڑکا ہے”
“ہمارے گھر میں کون پیارا لڑکا آگیا”
“عصیم” انکے کہنے پر اسکا جوش مانند پڑچکا تھا لیکن پھر خود ہی ہنسنے لگی
“ہی ہی ہی اپریل فول اپریل فول لیکن اماں سائیں یہ اپریل کا مہینہ نہیں ہے اور ایک اور بات آپ کو مذاق کرنے بلکل نہیں آتے”
“کسوا اب بڑی ہوجاؤ عصیم اور تمہاری منگنی بچپن میں ہی ہوگئی تھی اور سب ہم سب نے مل کر تم دونوں کی شادی کی تاریخ طے کردی ہے” ثمرین بیگم نے اسکے گال پر ہاتھ پھیرا اور اٹھ کر جانے لگیں لیکن پھر مڑ کر اسے دیکھا جو سن سی بیٹھی تھی
“تمہیں وقت دے رہے ہیں یہ سوچنے کے لیے نہیں کہ تمہیں عصیم سے شادی کرنی ہے یا نہیں بلکہ اس لیے تاکہ تم اس رشتے کو قبول کرلو “وہ تو کہہ کر جاچکی تھیں لیکن وہ غائب دماغی سے وہیں بیٹھی رہی
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial