عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 11

“عصیم لالا میری بات سنیں آپ کو پتہ ہے اماں سائیں کیا کہہ رہی ہیں”دھڑام سے دروازہ کھول کر وہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی
جہاں وہ سادے سے ٹراؤزر اور شرٹ میں اپنے لیپ ٹاپ پر جھکا کوئی کام کررہا تھا
اسے ایک نظر دیکھ کر وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا وہ اسکے کمرے میں ہمیشہ ایسے ہی آتی تھی جس پر وہ اسے کچھ نہیں کہتا تھا کیونکہ بقول اسکے یہ کمرہ کسوا کا بھی تھا لیکن یہ بات کسوا نے آج تک نوٹ ہی نہیں کی تھی کہ اس طرح کمرے میں داخل ہونے پر عصیم نے اسے آج تک نہیں ڈانٹا تھا
“کیا کہا ہے”
“آپ کی اور میری شادی ہورہی ہے استغفِرُاللہ” کہتے ساتھ ہی اسنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر استغفِرُاللہ کہا
“بہت جلدی نہیں پتہ چل گیا” عصیم کے انداز نے اسے کھٹکنے پر مجبور کردیا تھا
“مطلب”
“مطلب یہ کہ سارا گھر یہ بات جان چکا ہے سواے تمہارے لیکن اچھی بات ہے تمہیں بھی پتہ چل گیا”
“آپ جانتے ہیں”
“ہاں میں جانتا ہوں”
“تو آپ منع کردیں نہ اس شادی سے”
“اور میں کیوں منع کرونگا اس شادی سے”اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ اسکے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا
“کیونکہ آپ مجھے پسند نہیں کرتے ہیں”
“اور یہ میں نے کب کہا کہ میں تمہیں پسند نہیں کرتا ہوں”
“آپ نے نہیں کہا لیکن میں جانتی ہوں اور میں آپ سے شادی نہیں کرسکتی کیونکہ آپ میرے لیے میرے بھائی ہیں” اسکے کہنے پر عصیم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنے قریب کیا
“یہ آپ کیا کررہے ہیں عصیم لالا چھوڑیں مجھے” اسنے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑوانا چاہا لیکن وہ اسکی بات کا کوئی جواب دیے بنا بس یک ٹک اسکے معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا اسکی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا جو آج سے پہلے کسوا نے نہیں دیکھا تھا
“جاکر سکون سے اپنی شادی کی تیاریاں کرو اور آج کے بعد غلطی سے بھی تمہاری زبان سے میرے لیے لالا نہیں نکلنا چاہیے ورنہ جس طرح سے میں تمہیں بتاؤں گا کے میں تمہارا لالا نہیں ہوں وہ طریقہ تمہیں یقینا پسند نہیں آے گا”اسکا گال تھپتھپا کر عصیم نے اسے چھوڑا اور اسکے ایسا کرتے ہی وہ اپنی بھیگی آنکھیں لیے اسکے کمرے سے بھاگ گئی
°°°°°
” کسوا کیا ہوا ہے تمہیں” کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ پریشانی سے اسکے پاس گئی
وہ تو یہاں اس سے باتیں کرنے آئی تھی لیکن اسے روتا ہوا دیکھ کر وہ اچھی خاصی پریشان ہوچکی تھی
“آپی یہ سب لوگ زبردستی میری شادی عصیم لالا سے کروا رہے ہیں” ہچکیوں سے روتے ہوے وہ آئرہ سے سب کی شکایت لگارہی تھی اور آئرہ کو اس وقت وہ انتہا کی معصوم لگ رہی تھی
“تو اس میں کیا ہوا شادی تو تم نے کرنی ہے نہ تو عصیم لالا سے کیوں نہیں” اسنے اسے سمجھانا چاہا کیونکہ اسکے علاؤہ وہ اسکے لیے اور کچھ نہیں کرسکتی تھی
“میں انہیں واقعی میں بھائی سمجھتی ہوں میں ان سے شادی کیسے کرسکتی ہوں مجھے نہیں کرنی ان سے شادی آپ پلیز کچھ کریں”اسکے آنسو صاف کرکے آئرہ نے اسے اپنے ساتھ لگل لیا
وہ جانتی تھی کہ وہ کسوا کہ لیے کچھ بھی نہیں کرپاے گی وہ تو شہر میں رہتی تھی ایسی جگہ جہاں کا پتہ بھی کوئی نہیں جانتا تھا لیکن پھر بھی اسے زبردستی یہاں لایا گیا اور اب اسکی مرضی کے خلاف اسے اس ان چاہے رشتے میں باندھا جارہا تھا تو پھر کسوا تو ہمیشہ سے یہیں رہی تھی وہ کتنی ہی کوشش کرلیتی فلحال اسکے بس میں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے وہ کسوا کے لیے کچھ کرپارتی
°°°°°
رات کے دو بج رہے تھے جب اسکا فون چلانے لگا اسنے کوفت سے سائیڈ لیمپ آن کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھایا جہاں ایک انجان نمبر سے کال آرہی تھی
وقت دیکھتے ہی اسے کال کرنے والے پر غصہ آیا جو رات کے اس وقت اسے پریشان کررہا تھا وہ ایک ڈاکٹر تھی اور کوئی ایمرجنسی بھی ہوسکتی تھی اسلیے اس کے پاس رات کے اس وقت فون آنا نارمل بات تھی لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ یہ فون کال ہاسپٹل سے نہیں ہے بلکہ معتصم کی ہے اور یہی اسکے غصے کی وجہ تھی پہلے سوچا کاٹ دے لیکن پھر زہہن میں یہی خیال آیا کہ اس شخص کا کوئی بھروسہ نہیں فون نہ اٹھانے پر وہ اسکے گھر کے باہر آکر کھڑا ہوجاے اسلیے مجبورا اسنے کال اٹھالی ویسے بھی وہ اس وقت اسی شہر میں تھا
“ہیلو”اور اسکی توقع کے مطابق دوسری طرف وہی تھا
“سورہی تھیں”وہ جو پہلے ہی نیند اور غصے میں تھی اسکے اس طرح پوچھنے پر غصہ مزید بڑھ گیا
“نہیں تو پارک میں واک کررہی تھی” اسنے جہاں تپ کر کہا تھا دوسری طرف کا جواب سن کر اسے مزید تپ چڑ چکی تھی
“میری جان یہ بھی کوئی وقت ہوتا ہے واک کرنے کا تمہیں سوجانا چاہیے”
“تم نے میرا دماغ کھانے کے لیے فون کیا ہے”
“نہیں تمہاری آواز سننے کے لیے”
“تو سن لی نہ اب میں فون بند کررہی ہوں”
“ارے بات تو سنو” اسنے کچھ کہنا چاہا لیکن دوسری طرف سے کال کٹ چکی تھی
“بڑی بے مروت لڑکی ہے یار معتصم شاہ تمہیں بھری دنیا میں یہی ایک لڑکی ملی تھی”ایک سرد آہ بھر کر اسنے بڑبڑاتے ہوے کہا اور پھر سے اسکے خیالوں میں کھو گیا
°°°°°
اپنے کمرے سے نکل کر وہ منہ بناتی ہوئی عالم کے پاس آکر کھڑی ہوگئی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اتنی صبح شاپنگ پر کون جاتا ہے اور سامنے کھڑے شخص پر بے انتہا غصہ آرہا تھا جو اسکی نیند خراب کر چکا تھا اور اب اسے ہی دیکھ رہا تھا
“اب مجھے ہی دیکھتے رہو گے یا چلو گے بھی”
“ایسے حلیے میں جاؤ گی”
“کیوں کیا ہوا ہے میرے حولیے کو” اسنے ایک نظر اپنے کپڑوں کو دیکھا بلیو جینز کے ساتھ اسنے وائٹ کلر کی گھٹنوں تک آتی فراک پہن رکھی تھی اور اپنے دوپٹے کو گلے میں مفلر کی طرح ڈالا ہوا تھا
“جاؤ چادر اوڑھ کر آؤ”
“مجھے نہیں اوڑھنی کوئی چادر ایک تو تم نے میری نیند خراب کردی اتنی صبح صبح مجھے اٹھادیا اور اب حکم دے رہے ہو”
“ہاں تو اسلیے جلدی جارہے ہیں تاکہ جلدی واپس آجائیں اور جہاں تک بات ہے اتنی صبح کی تو دس بج رہے ہیں ہم سب فجر میں ہی اٹھ جاتے ہیں لیکن تم شہر سے آئی لڑکی ہو تمہارے لیے یہ صبح کا وقت ہی ہوگا اور تم اس وقت گدھے گھوڑے بیچ کر سوتی ہوگی”
“میرے پاس گھوڑا نہیں ہے ، البتہ گدھا اب مل گیا”دوسری بات اسنے بڑبڑاتے ہوے کہی تھی
“کیا بولا تم نے”
“میں نے بولا کہ میرے پاس گدھے اور گھوڑے نہیں ہے اب میں جارہی ہوں باہر اگر تم پانچ منٹ تک نہیں آے تو میں واپس اندر آوں گی اور پھر میں سونے چلی جاؤں گی” تیز لہجے میں کہتی ہوئی وہ باہر چلی گئی
“کرلو اپنی نیند پوری شادی کے بعد تو ویسے بھی تمہاری نیندیں حرام ہونے والی ہیں” زیر لب بڑبڑا کر وہ باہر جانے کے بجاے مبشرہ بیگم کے پاس چلا گیا
°°°°°
وہ باہر آیا تو وہ اپنی کمر پر ہاتھ رکھے اسکا ہی انتظار کررہی تھی اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے وہ اپنی پراڈو کی طرف بڑھ گیا
اسکی گاڑی راستے کی جانب بڑھ رہی تھی جب ایک دم رکی آئرہ جو اپنے موبائل میں مگن تھی گاڑی کے رکتے ہی اسکی طرف دیکھنے لگی
“کیا ہوا ہے یہ رک کیوں گئی”
“کیونکہ میں نے اسے روکا ہے” اپنی بات کہہ کر اسنے بلیک کلر کی چادر جو آئرہ نے گھر سے نکلتے وقت اسکے ہاتھ میں دیکھی تھی اسکی طرف بڑھائی
“یہ لو مبشرہ چاچی سے لایا ہوں تمہارے لیے پہن لو”
“مجھے نہیں پہننی”
“سوچ لو اگر تم نے اسے نہیں پہنا تو نہ ہی تو میں تمہیں اس گاڑی سے نکلنے دوں گا اور نہ ہی واپس گھر لے کر جاؤں گا”
“میں خود گھر چلی جاؤں گی” وہ گاڑی سے اترنے لگی جب عالم نے اپنے مظبوط ہاتھ میں اسکا ہاتھ پکڑ لیا
“سیدھی شرافت سے اسے پہن لو آئرہ بی بی ورنہ”
“یہ مت کہنا کہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ میں بتا دوں تم سے برا واقعی میں کوئی نہیں ہے” آئرہ نے اسکی بات کاٹ کر کہا اور اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑوانا چاہا جبکہ اسکی بات عالم کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑا چکی تھی
“نہیں میں یہ کہنے والا تھا کہ تم سے برا کوئی نہیں ہوگا”
“ہاتھ چھوڑو گے تو پہونگی نہ” اسکے کہنے پر عالم نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا اور اسکے ایسا کرتے ہی وہ بڑبڑاتے ہوے چادر اوڑھنے لگی
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial