قسط: 13
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی پہلی نظر بیڈ پر بیٹھی اپنی دلہن پر گئی جو چہرہ جھکائے بیٹھی یقینا اسی کے انتظار میں تھی گہرا سانس لے کر وہ اسکے پاس جاکر بیڈ پر بیٹھ گیا
“دیکھو عینہ تم بھی جانتی ہو یہ شادی کن حالات میں ہوئی ہے میں نے کبھی تمہارے بارے میں ایسا نہیں سوچا تھا” گلا کھنکار کر اسنے بات کا آغاز کیا
“میں جانتا ہوں کہ یہ سب تمہارے لیے بھی مشکل ہے شاید تمہارے ساتھ بھی زبردستی ہوئی ہے تم بھی یقیناً کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہوگی جس کی زندگی میں پہلے ہی کوئی اور ہو”
اسکی بات سن کر وہ سر مزید جھکائے اپنے آنسو ضبط کررہی تھی اسے تو یہ لگا تھا کہ وصی اسکا ہوگیا لیکن نہیں وہ آج بھی پریشے کا ہی تھا وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ اسنے ایسا کچھ نہیں سوچا وہ تو اسکے ساتھ شادی ہونے پر اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کررہی تھی لیکن گلے میں موجود آنسووں کا گولا اسے کچھ کہنے ہی نہیں دے رہا تھا
“میں کچھ وقت چاہتا ہوں یہ سب بہت اچانک ہوا ہے امید ہے تم میری بات سمجھو گی جاؤ شاباش چینج کرکے سوجاؤ” نرم مسکراہٹ لیے وصی نے اسے دیکھا اور پھر اپنے کپڑے نکال کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا
عینہ نے اپنا جھکا سر اٹھایا آنسو جو وصی کے سامنے رکے ہوے تھے وہ بہہ نکلے وہ جانتی تھی کہ وہ وقت اس رشتے کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی میں واپس پریشے کو لانے کے لیے مانگ رہا ہے
وہ جانتا تھا کہ پریشے کو اس رشتے میں زبردستی باندھا گیا ہے اور کہیں نہ کہیں اس کے دل میں یہ امید بھی تھی کہ پریشے ایک دن اس زبردستی کے رشتے سے نکل کر واپس اسکی زندگی میں آجاے گی
°°°°°
اسے یہ سب خواب سا لگ رہا تھا اسکا من چاہا ہمسفر اسکا عشق اس وقت اسکے کمرے میں اسکے بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا مسکراتے ہوے وہ جاکر اسکے پاس بیٹھ گیا اور اسکے ایسا کرتے ہی وہ اپنے چہرے کا رخ موڑ کر بیٹھ گئی
“اسلام وعلیکم”اسکی بھاری آواز کمرے میں گونجی لیکن وہ ہنوز ویسے ہی بیٹھی رہی
“کم از کم سلام کا جواب تو دے دو”
“وعلیکم اسلام”
“تو کیسا لگ رہا ہے یہاں بیٹھ کر میری زندگی میں آکر” وہ اس سے باتیں کرنے کی کوشش کررہا تھا
“سچ بتاؤں تو اپنا آپ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کوئی بوجھ ہوں جسے ماں باپ نے اپنے سر سے اتار کر کسی کے بھی پلے باندھ دیا” معتصم کو اس سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی
‘میں اگر یہاں تمہارے سامنے بیٹھی ہوں تو اسکی وجہ صرف اماں جان ہیں ورنہ میں مرجاتی لیکن تم سے شادی نہ کرتی”اسکے کہنے پر معتصم نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اسے اپنے قریب کیا
“میرے سامنے آج کے بعد مرنے کی بات مت کرنا ورنہ سچ میں بتاؤنگا کہ مرنا کسے کہتے ہیں” پریشے نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“میرے بال چھوڑو” اسکا ڈوپٹہ جس کی پن اسنے پہلے ہی نکال دی تھی وہ بھی اسکے بال پکڑنے کی وجہ سے سر سے اتر چکا تھا اسکی بات کا بنا کوئی جواب دیے معتصم اسکے لپسٹک سے سجے لبوں پر جھک گیا جو کب سے اسے بہکا رہے تھے
اسکے انداز میں بےحد نرمی تھی وہ نرمی سے اسکے لبوں پر جھکا ہوا تھا لیکن اسکا اتنے قریب آنا پریشے کو ناگوار گزرا تھا اسلیے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر وہ اسے خود سے دور کرنے لگی
اسکے ایسا کرنے پر وہ خود ہی اس سے دور ہوگیا
“میں جانتا ہوں تمہارے لیے اس رشتے کو قبول کرنا مشکل ہے اسلیے میں تمہیں وقت دیتا ہوں تم جتنا چاہو لے سکتی ہو جب تک تم اپنے دل سے راضی نہیں ہوجاؤ گی تب تک میں تمہارے قریب نہیں آوں گا ہاں لیکن میری یہ شرارتیں تمہیں برداشت کرنی پڑیں گی” اسکا شرارتوں سے کیا مطلب تھا وہ سمجھ چکی تھی اسے ہونٹوں پر ابھی تک اسکا لمس محسوس ہورہا تھا
“ہاں لیکن میرا نہ سہی اپنا خیال ضرور کرلینا کیونکہ میں اپنی ہر تڑپ کا بدلہ تم سے لوں گا تو اتنا ہی تڑپانا جتنا تم برداشت کر سکو”اسکے ماتھے پر پیار بھرا لمس چھوڑ کر وہ اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا
جبکہ پریشے ابھی تک حیرت میں مبتلا تھی وہ اسے وقت دے رہا تھا وہ اسے وقت دے گا یہ اسنے کبھی نہیں سوچا تھا
°°°°°
وہ ڈریسنگ روم سے نکلا تو وہ ابھی تک اسی طرح بیٹھی تھی جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا
“بیوی اگر ارادے کچھ اور ہیں تو تم مجھے بتادو اس طرح یہاں بیٹھ کر میری نیت کیوں خراب کررہی ہو”معتصم کی آواز پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر نکلی
“تم نے مجھے وقت دیا ہے تاکہ میں اس رشتے کو سمجھ سکوں لیکن اس سب کا بھی کوئی فایدہ نہیں ہے کیونکہ مجھے جیسے ہی موقع ملے گا میں یہاں سے چلی جاؤں گی مجھے تم جیسے انسان کے ساتھ اپنی زندگی نہیں گزارنی ہے”
اسکے کہنے پر معتصم کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا اسنے چینج کرکے بلیک ٹراؤزر اور ڈارک بلیو شرٹ پہنی ہوئی تھی
“ہوگیا تو جاکر چینج کرلو تمہارے کپڑے تمہاری وارڈروب میں موجود ہیں” اسکے کہنے پر وہ بھی بنا کچھ کہے وہاں سے اٹھ کر واشروم میں چلی گئی
معتصم نے اپنے سجے ہوے کمرے کو دیکھا اور ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو پھر گہرا سانس لے کر اپنے کمرے میں موجود اسٹڈی روم میں چلا گیا تاکہ دھیان پریشے سے دور ہوجاے لیکن وہ جانتا تھا اسکا بھی کوئی فایدہ نہیں ہوگا کیونکہ دل و دماغ ہر جگہ وہ پری قابض تھی
°°°°°
وارڈروب کھولتے ہی اسکی نظر اس میں موجود کپڑوں پر گئی وہاں سمپل ہیوی نائٹ سوٹ ہر طرح کے کپڑے میں موجود تھے
اور وہ بس حیرت سے ان کپڑوں کو دیکھ رہی تھی جن سے پوری وارڈروب بھری ہوئی تھی وہاں پر ہر طرح کے کپڑے تھے جو کے سارے ہی بے انتہا خوبصورت تھے
یہاں سارے کپڑے انہی کلر کے تھے جس کلر کے وہ پہنتی تھی اور اتنا علم تو اسے تھا کہ یہ کام آئرہ کا ہے بھلے سارے کپڑے معتصم لایا ہوگا لیکن وہ کس طرح کے اور کونسے کلر کے کپڑے پہنتی ہے یہ بات آئرہ کے علاؤہ اس گھر میں بھلا اور کون جانتا ہو گا
°°°°°
آہستہ سے دروازہ کھول کر وہ کمرے میں داخل ہوا کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اور وہ بیڈ پر سمٹی ہوئی ہر چیز سے بےخبر سورہی تھی
وہ آہستہ سے چلتا ہوا اسکے قریب چلا گیا
نظر سب سے پہلے اسکے گال پر پڑی جہاں اسکی انگلیوں کے نشان کے ساتھ ساتھ آنسو کے نشان بھی تھے یقیناً وہ روتے روتے ہی سوگئی تھی
اسنے اپنی انگلیوں کے پوروں سے اسکے گال کو چھوا دل چاہا اسکے گال پر اپنے لب رکھ دے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ سامنے سوئی ہوئی یہ لڑکی اسکے لیے نامحرم تھی
“آئی ایم سوری کسوا”وہ اسکے گال کو چھوتے ہوے کہہ رہا تھا لہجے میں ملال تھا
“تمہیں اندازہ نہیں ہے تمہارے معاملے میں ، میں کیسا ہوں بلکہ مجھے خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ میں تمہارے معاملے میں کیسا ہوں بس مجھے یہ پتہ ہے کہ تم میرے لیے بہت ضروری ہو اور میں آئیندہ ایسا کبھی نہیں کرونگا کبھی تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا”اسکے ماتھے پر گری چند لٹیں کان کے پیچھے کرکے اسنے کمرے کی لائٹ آف کی اور کمرے سے چلی گیا
°°°°°
اپنا سوٹ ہاتھ میں سمبھال کر وہ آئرہ کے کمرے میں جارہی تھی بیوٹیشن وہیں تھی اور کسوا اور آئرہ بھی وہیں تیار ہورہی تھیں آج انکی برات تھی اور گھر میں ہر طرف شور مچا ہوا تھا
گاؤں سے تھوڑے فاصلے پر ایک بڑا میریج ہال بنا ہوا تھا جو کچھ ماہ پہلے ثقلین شاہ نے بنوایا تھا آج انکی برات اسی ہال میں تھی اور کل ان تینوں کا ولیمہ بھی اسی ہال میں تھا
جاتے ہوے اسکی نظر عالم پر پڑی جو فون پر بات کرتے ہوے جارہا تھا انداز مصروف سا تھا اسے دیکھ کر اسکی آنکھو میں غصہ بھر گیا پل بھر میں وہ اسکے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی
“میں بعد میں بات کرتا ہوں” اسنے پریشے کی طرف دیکھتے ہوے فون پر موجود دوسرے شخص سے کہا اور فون بند کرکے اسکی طرف متوجہ ہوا
“جی بھابھی کہیے”
“آپ کو شرم نہیں آرہی آپ اس طرح زبردستی کرکے میری دوست کی زندگی برباد کررہے ہیں”
“یہ آپ کا معاملہ نہیں ہے”
“کیوں نہیں ہے وہ دوست ہے میری اور میں اسکے لیے لڑوں گی”
“ٹھیک ہے تو لڑیے چند گھنٹے بعد نکاح ہے میرا آپ کی دوست سے روک سکتی ہیں تو روک لیجیے” اطمینان سے کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ پریشے بس اسکی پشت کو گھورتی رہی گئی وہ بھی جانتی تھی کہ وہ آئرہ کا نکاح نہیں رکوا سکتی لیکن اسے اپنی دوست کے لیے جو دکھ تھا اور عالم پر جو غصہ تھا وہ بھی تو اتارنا تھا
°°°°°
“واؤ میم آپ تو بہت خوبصورت لگتی ہیں سر دیکھیں گے تو کیا ہوگا”بیوٹیشن نے اسے دیکھتے ہوے کہا انہیں شہر کے ایک بڑے سیلون سے بلایا گیا تھا
آئرہ نے نظریں اٹھا کر خود کو دیکھا وہ واقعی میں حسین لگ رہی تھی اس بات کا اقرار تو اسنے خود کیا تھا اسکا اور کسوا کا لال رنگ کا شرارہ تھا لیکن ڈیزائن الگ تھا
اسنے لال رنگ کا شرارہ پہنا ہوا تھا بالوں کا خوبصورت جوڑا بناے اسنے اپنا لال بھاری کامدار ڈوپٹہ سر پر سلیقے سے سیٹ کیا ہوا تھا جیولری میں بھی اسنے سب چیزیں پہنی ہوئی تھیں جو کہ سب عالم ہی لایا تھا اور اس سب کے اوپر برائڈل میک اپ اسکے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا اسنے پہلی بار یہ سب کچھ کیا تھا نہ ہی تو اسنے آج تک اتنا ہیوی سوٹ پہنا تھا اور نہ ہی یہ سب جیولری
عالم کا سوچتے ہی اسے اسکی کی گئی کل والی تعریف یاد آگئی کہ وہ بجلیاں گرا رہی تھی اگر کل کو بجلیاں گرا رہی تھی تو آج تو عالم کی نظروں میں وہ طوفان مچارہی ہوگی
اف ،، عالم شاہ اور اسکی تعریفیں
“انکا میک اپ ہوگیا” اسنے دوسری بیوٹیشن کو دیکھتے ہوے کہا جو کسوا کو تیار کررہی تھی
“نہیں میم یہ بار بار روے جارہی ہیں”
“ٹھیک ہے آپ لوگ جائیں میں خود تیار کروں گی” اسکے کہنے پر دونوں باہر کی جانب چلی گئی
“کسوا ادھر دیکھو میری طرف کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے” اسنے پیار سے اسکی تھوڑی سے اسکا چہرہ اوپر کرکے کہا لہجہ بلکل بڑی بہنوں کی طرح تھا
“آئرہ آپی مجھے یہ شادی نہیں کرنی ہے “آنسو جن پر مشکل سے بندھ باندھا ہوا تھا وہ پھر سے بہنے لگے
“کیوں نہیں کرنی ہے شادی کچھ ہوا ہے عصیم لالا نے کچھ کہا ہے”
“انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے”
“کیا انہوں نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے” یہ آواز پریشے کی تھی جو ابھی ابھی اندر آئی تھی
“تم نے گھر میں یہ بات کسی کو بتائی ہے” اسنے اسکے قریب آکر پوچھا جس پر اسنے اپنا سر نفی میں ہلادیا
“کیوں نہیں بتایا تمہیں تو اس شخص سے شادی ہی نہیں کرنی چاہیے جس نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے”
“پری پلیز” آئرہ نے گھور کر اسے دیکھا جس پر وہ خاموش ہوکر ایک طرف بیٹھ گئی
“کیا اس حویلی میں کوئی ایسا مرد نہیں ہے جو شادی سے پہلے لڑکی کی راے لے”اسنے خود سے بڑبڑاتے ہوے کہا لیکن آئرہ اسکی طرف متوجہ نہیں تھی
“بتاؤ مجھے انہوں نے تم پر ہاتھ کیوں اٹھایا کسوا کوئی بات ہوئی تھی”اسکے پوچھنے پر کسوا نے اسے سب بتادیا
“ادھر دیکھو میری طرف کوئی بھی مرد یہ برادشت نہیں کرتا کہ اسکی بیوی یا اس سے منسوب ہوئی لڑکی کسی اور لڑکے کا نام لے ہاں یہ انکی غلطی تھی انہیں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے خود کو اس بات کی سزا بھی دی تھی” اسکے کہنے پر کسوا کے ساتھ ساتھ پریشے نے بھی اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھا
“کل رات کو جب میں نیچے جارہی تھی تو میں نے دیکھا تھا کہ انکا ہاتھ بہت زخمی تھا دیوار پر بھی خون لگا ہوا تھا کوئی بھی دیکھ کر آرام سے بتادیتا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا ہے میں ان کے پاس جانا چاہتی تھی تاکہ ان سے کچھ پوچھ سکوں لیکن وہ اس سے پہلے ہی اپنے کمرے میں چلے گئے اب اپنے آنسو صاف کرو اور اپنی شادی کو انجواے کرو تم اگر اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہو تو ان سے وقت مانگ لینا تاکہ تم اپنے اور انکے رشتے کو سمجھ سکو”
“ہاں میں یہی کروں گی میں ان سے وقت مانگو گی” اسکے بات سن کر اسنے خود سے کہا وہ عصیم سے وقت مانگ لے گی بھلے کچھ وقت کے لیے ہی سہی کم از کم وہ اس سے دور تو رہے گی
“چلو میں تمہیں تیار کرتی ہوں اور تم جاؤ جاکر چینج کرو میں تمہارے بال بھی بناتی ہوں” کسوا سے کہہ کر اسنے پریشے سے کہا
“تم دلہن بنی ہوئی ہو آئرہ”
“تو یہ کہاں لکھا ہے کہ کوئی دلہن کسی کو تیار نہیں کرسکتی ہے” اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسنے پریشے کو جانے کا اشارہ کیا اور خود کسوا کے آنسو صاف کرکے اسے تیار کرنے لگ گئ