قسط: 14
اسٹیج پر بیٹھے وہ دونوں اپنی دلہنوں کا انتظار کررہے تھے جن سے کچھ دیر پہلے ہی انکا نکاح ہوا تھا ان دونوں نے ایک جیسی کریم کلر کی شیروانی پہنی تھی اور دونوں ارد گرد نظریں دوڑاتے ہوے اپنی دلہنوں کے منتظر تھے
جب وہ دونوں ایک ساتھ انہیں اسٹیج کی طرف آتی دکھائی دیں انکے برابر موجود لڑکیاں انکا شرارہ سمبھال کر انہیں اسٹیج تک لگارہی تھیں جبکہ وہ دونوں مبہوت ہوکر اپنی دلہنوں کو دیکھنے میں مصروف تھے
عصیم شاہ بنا پلک جھپکاے اپنے قریب آتی کسوا کو دیکھ رہا تھا جو بےانہتا حسین لگ رہی تھی لال رنگ کا شرارہ اسکی گوری رنگت پر خوب جج رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ رنگ بنایا ہی اسی کے لیے ہے
اسکے اسٹیج کے قریب آتے اسنے مسکراتے ہوے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے برابر بٹھالیا آج وہ اسکی بیوی اسکی محرم بن چکی تھی آج وہ لمحہ آگیا تھا جس کا اسے کب سے انتظار تھا
جب کہ دوسری طرف موجود شخص کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا وہ بس اپنے سامنے کھڑی آئرہ کو دیکھنے میں مصروف تھا جو کہ بےحد خوبصورت لگ رہی تھی اسنے ابھی تک اسے جب بھی دیکھا تھا سادے حولیے میں ہی دیکھا تھا یہ پہلی بار تھا کہ وہ اسے اتنا تیار ہوا دیکھ رہا تھا اسے خود بھی احساس نہ ہوا تھا کہ آئرہ کو دیکھتے دیکھتے کب اسکا ڈمپل نمایاں ہوا
“عالم لالا”وہاں موجود لڑکی کے چلانے پر وہ ہوش میں آیا
“آپ ہی کی ہیں بعد میں دیکھتے رہیے گا ابھی بیٹھنے تو دیں”اسکے کہنے پر عالم نے بنا کچھ کہے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے لے جاکر بٹھادیا اور خود بھی اسکے برابر میں بیٹھ گیا
“کیا بات ہے تم تو آج قیامت لگ رہی ہو دیکھو میں نے تمہاری تعریف کردی بعد میں مجھے یہ مت کہنا کہ میں نے تمہاری تعریف نہیں کی” عالم کے کہنے پر اسنے مصنوعی مسکراہٹ لیے اسے دیکھا
“مجھے تم سے اسی تعریف کی امید تھی”
“دیکھ لو میں تمہاری امید پر پورا اترا اب تم بھی میری امید پر پورا اترنا”اسنے اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر کہا جب آئرہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکی مونچھ کا کونا پکڑ کر ہلکا سا کھینچ دیا
“یہ کیا حرکت ہے تمہیں پتہ ہے پہلے تمہاری اس حرکت سے مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی”
“چڑ ہے مجھے تمہاری ان بڑی بڑی مونچھوں سے میرا بس چلے تو کاٹ کے پھینک دوں”
“اچھا تو تمہیں چڑ ہے” اسکے کہنے پر عالم نے مسکراتے ہوے اپنی انگلی کی پشت سے اپنی مونچھ کا کونا ٹھیک کیا
“پھر تو اور بڑھانی پڑے گی” اسکے کہنے پر آئرہ نے اسے گھور کر دیکھا
اس بھری محفل میں وہ اسکے علاؤہ اور کر بھی کیا سکتی تھی
°°°°°
برائڈل روم میں جاکر اسنے اپنا میک اپ ٹھیک کیا روم اس وقت خالی تھا وہ خود بھی اپنا میک اپ ٹھیک کرکے باہر جانے لگی جب اس سے پہلے ہی کوئی اندر آکر اسکا راستہ روک چکا تھا
“یہ کیا حرکت ہے”
“دور بھاگے جارہی ہو خود کو دیکھنے بھی نہیں دے رہی ہو مجھے بتانے تو دو کہ تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو” معتصم نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوے کہا جس نے اس وقت لال رنگ کا غرارہ اور ہم رنگ لپسٹک لگائی ہوئی تھی
“مجھے نہیں سننی تمہاری کی ہوئی تعریف” اسنے اسے سائیڈ پر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ اسکے بس کی بات نہیں تھی
“ہٹو مجھے جانا ہے”
“پہلے میرا نام لو پھر جانے دوں گا” اسکی فرمائش پر اسنے ضبط سے آنکھیں بند کیں اور پھر دانت پیس کرکہا
“معتصم ہٹو” وہ کبھی بھی اسکی بات نہ مانتی لیکن اس وقت بس اسے معتصم کی نظروں سے دور جانا تھا
“اپنی یہ لپسٹک صاف کرو”
“کیا”
“ہاں اسے صاف کرو یہ بہت ڈارک ہے”
“میں نے کل بھی اتنی ہی ڈارک لگائی ہوئی تھی”
“کل کی بات تو الگ تھی کل تم برائیڈ تھیں آج ایسا نہیں ہے” اسکی فضول بات پر پریشے کا دل چاہ رہا تھا کہ اسکے بال نوچنا شروع کردے
“نہیں ہٹاؤں گی میں تمہاری غلام نہیں ہوں جو تمہاری ہر بات مانوں”
“بلکل تم میری بیوی ہو اور مجھے شوہر والا طریقہ آزمانہ پڑے گا” ایک ہی جست میں اسنے پریشے کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کیا اور اسکے لبوں پر جھک گیا پریشے کو اس سے ایسے کسی عمل کی توقع نہیں تھی
تھوڑی دیر بعد معتصم نے اسکی سانسوں کو آزادی بخشی اور مسکراتے ہوے اپنا سر انجام دیا ہوا کام دیکھا اسکی لپسٹک ساری پھیل چکی تھی
“اسے صاف کرکے باہر آجانا” وہ جانے لگا جب پریشے نے اسکا بازو پکڑ لیا اور اپنے بیگ سے ٹشو نکال کر اسے دیا اسکا منہ پھولا ہوا تھا جیسے معتصم کی یہ حرکت اسے بلکل بھی پسند نہیں آئی
اسکے ٹشو دینے کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا اسنے مرر میں اپنا چہرہ دیکھا جہاں اسکے ہونٹوں پر بھی لپسٹک لگ چکی تھی اسنے مسکراتے ہوے اسے دیکھا اور اسے صاف کرنے لگا
“اچھا ہوا جو بتادیا ورنہ لوگ کیا کہتے میری بیوی کتنی شرارتی ہے میریج ہال میں ہی شروع ہوگئی” اسکی اس بات پر وہ گلاب کی طرح سرخ ہوچکی تھی معتصم گہری نظروں سے اسکا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا
‘میں جارہا ہوں اور آج کے بعد یہ مت لگانا بہت خراب ٹیسٹ ہے”
“ہاں تمہارے لیے تو چیری کے فلیور کی منگوا دوں گی” اسکی بات ہر پریشے نے جل کر کہا
“نہیں اسٹرابیری” اپنا فلیور بتاکر وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ تلملاتی ہوئی اپنی پھیلی ہوئی لپسٹک صاف کرنے لگی
°°°°°
تقریب اپنے اختتام کو پہنچی اور رخصتی کا وقت آگیا جہاں کسوا اپنے ماں باپ سے ملتے ہوے خوب رو رہی تھی آنکھیں تو ان دونوں کی بھی نم تھیں بھلے وہ اسی گھر میں رہنے والی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنی لاڈلی کسی اور دے رہے تھے اور اب وہ انکے لیے پرائی ہوچکی تھی
“تمہاری بھی تو رخصتی ہورہی ہے تم بھی رو لو” عالم نے اپنے پاس کھڑی اپنی بیوی کے کان میں سرگوشی کی جس پر اسنے منہ بناکر اسے دیکھا
“ایک ہی گھر میں تو جانا ہے رو کر کیا کروں صبح پھر وہی چہرے دیکھنے ہیں” اسکی بات سن کر عالم بس ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا اسنے اپنی روتی ہوئی بہن کو دیکھا اسکی اپنی آنکھیں بھی بار بار نم ہورہی تھیں
اسے حیرت ہورہی تھی کہ اسکی چھوٹی سی گڑیا کب اتنی بڑی ہوگئی
گھر پہنچ کر رسموں کے بعد ان دونوں کو عالم اور عصیم کے کمرے میں پہنچا دیا
°°°°°
پریشے نے اسکا شرارہ اچھے سے بیڈ پر پھیلایا اور مسکراتے ہوے اسے گڈ نائٹ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
اسکے جاتے ہی آئرہ اپنی جگہ سے اٹھی اسکا ارادہ عالم کے کمرے میں آنے سے پہلے ہی کپڑے چینج کرنے کا تھا
وہ اس رشتے کو ابھی وقت دینا چاہتی تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اسے اس طرح بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر عالم کچھ اور سوچے
اسنے سب سے پہلے اپنا دوپٹہ اتار اور اپنے بالوں کو پنوں سے آزاد کیا سلکی بالوں کے کھلتے ہی اسکی آدھی کمر ڈھک چکی تھی
ساری جیولری اتار کر اسنے وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالے لیکن اس سے پہلے وہ واشروم میں جاتی عالم کمرے میں داخل ہوچکا تھا
°°°°°
اسنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی بیوی کو ڈھونڈا جو کمرے میں موجود نہیں تھی واشروم کا دروازہ بند تھا یقینا وہ اس وقت واشروم میں ہی تھی وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گیا
جب چند منٹ بعد واشروم کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی نظر سب سے پہلے صوفے پر بیٹھے معتصم شاہ پر گئی اسے نظر انداز کرکے وہ جاکر بیڈ پر لیٹ گئی اور دوسری طرف کروٹ لے کر سونے کی کوشش کرنے لگی
لیکن اپنی پشت پر اسے کسی کی گہری نظریں محسوس ہورہی تھیں جو اسے سونے نہیں دے رہی تھیں
“مجھے گھورنا بند کرو” اسنے بنا مڑے کہا
“میں تمہیں کچھ تھوڑی کہہ رہا ہوں میں تو بس دیکھ رہا ہوں” اسکے کہنے پر اسنے بنا کچھ کہے بیڈ پر رکھے کمبل میں خود کو اچھے سے ہر طرف سے پیک کرلیا جیسے اسکی نظروں سے بچنا چاہ رہی ہو جبکہ اسکی اس حرکت پر معتصم کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی