قسط: 17
صبح سے گھر میں ہر طرف شور مچا ہوا تھا کیونکہ آج ولیمہ تھا ساری تیاری ہونے کے باوجود بھی کسی لڑکے کے سوکس نہیں مل رہے تھے تو کسی کی گھڑی
جبکہ انکے برعکس لڑکیاں اپنا سارا سامان عصیم کے روم میں لاچکی تھیں اور اب آرام سے بیوٹیشن انہیں تیار کررہی تھی جو کہ وہ تینوں مکمل ہو ہی چکی تھیں
انہیں مکمل تیار کرکے وہ کمرے سے چلی گئیں جب آئرہ نے اکتا کر پریشے کو دیکھا جو کب سے ٹیڑھی ٹیڑھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
“کیا مسلہ ہے پری”
“دراصل وہ صبح سے تمہارے ہونٹوں پر ایک نشان دیکھ رہی ہوں تو بس مجھے وہی جاننے کا تجسس ہورہا ہے کہ وہ نشان کیسے پڑا”پریشے کے کہنے پر اسکے زہہن میں صبح والا منظر چلنے لگا ساتھ ہی عالم شاہ کا انداز یاد کرکے اسنے جھرجھری لی
“کچھ نہیں بس شاید لپسٹک کی وجہ سے” زہہن میں جو سب سے پہلا بہانہ بنا اسنے بتادیا لیکن پریشے کی شرارتی نظریں ابھی تک اسی پر ٹکی ہوئی تھیں
“کون سی لپسٹک”
“ہاں وہی لپسٹک جو تم سمجھ رہی ہو” آئرہ باتیں تو اس سے کررہی تھی لیکن نظریں بار بار سر جھکائے بیٹھی کسوا پر جارہی تھیں جو خاموش بیٹھی ہوئی تھی اور اس ٹیب ریکارڈر پر یہ خاموشی اچھی نہیں لگ رہی تھی
اس وقت وہ تینوں ہی بےحد حسیں لگ رہی تھیں لیکن کسوا پر ایک الگ ہی روپ آیا ہوا تھا جو اسے مزید حسین بنارہا تھا
°°°°°
“کیا بات ہے تم خاموش کیوں ہو” معتصم نے اپنے برابر بیٹھی پریشے سے کہا جس نے اسکی لائی ہوئی گولڈن اور براؤن کومبینیشن کی میکسی پہنی ہوئی تھی
یہ کلر اس پر جج رہا تھا خود وہ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا اسنے بلیک کلر کا تھری پیس پہنا ہوا تھا بال جیل سے جمے ہوے تھے اور کوٹ میں ریڈ کلر کا رومال لگایا ہوا تھا
“میرا موڈ آف ہے مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
“وہ تو ویسے بھی رہتا ہے” اسنے بڑبڑاتے ہوے کہا جس پر پریشے کے کان کھڑے ہوچکے تھے
“کیا کہا تم نے”
“کچھ نہیں موڈ کیوں آف ہے”
“تم جانتے تھے نہ آج عینہ اور وصی کا ولیمہ ہے اسی لیے تم نے جان بوجھ کر آج کی تاریخ اپنے ولیمے کے لیے رکھی تھی تاکہ میں وہاں نہ جاؤں”
“بیوی ہماری شادی کی تاریخ تمہارے اس بھائی کی تاریخ رکھنے سے پہلے رکھی جاچکی تھی ہاں یہ ہوسکتا ہے اسنے خود اپنا ولیمہ اسی دن رکھا ہوگا تاکہ تمہارا اور اسکا سامنا نہ ہو اور بقول تمہارے کے میں نے اس لیے آج کی تاریخ رکھی ہے کہ تم جا نہ سکو تو ایسا کچھ نہیں ہے تم جب چاہے جہاں چاہے جاسکتی ہو میں تم پر پورا اعتبار کرتا ہوں میں جانتا ہوں تم مجھ سے دور جانے کی کوشش تو کرسکتی ہو لیکن میری امانت میں خیانت نہیں کرسکتیں”
اسنے کہنے پر پریشے نے اپنے چہرے کا رخ موڑ کر اسکی طرف دیکھا ہاں یہ تو سچ تھا وہ اس سے دور جانے کی کوشش ضرور کرے گی لیکن اب وہ اسکی امانت تھی اور اسکی امانت میں خیانت وہ بلکل نہیں کرے گی
اسے خود بھی پتہ نہیں چلا کہ کب اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھل گئے
“اس مسکراہٹ کا میں کیا مطلب سمجھوں” اسے اپنے کان کے قریب شرگوشی سنائی دی اسنے چونک کر اسے دیکھا
“کچھ بھی نہیں”کہتے ہوے وہ اس سے تھوڑے فاصلے پر ہوکر بیٹھ گئی
اس میریج حال میں تیں اسٹیج بناے گئے تھے تینوں جوڑیوں کے لیے جہاں اس وقت وہ براجمان تھے
°°°°°
“کیا مسلہ ہے کیوں خود سے بڑبڑاتی جارہی ہو” اسے مسلسل خود سے بولتا دیکھ کر عالم نے تپ کر کہا
جس پر آئرہ نے اپنا چہرہ اسکی طرف موڑ کر گھور کر اسے دیکھا
“مجھے تم پر بہت غصہ آرہا ہے”
“کیا بولا زرا پھر سے بولو” اسے گھورتے ہوے عالم نے اپنا چہرہ اسکے قریب کرلیا
“آ-آپ پر غصہ آرہا ہے”
“ہاں اب بولو غصہ کیوں آرہا ہے”
“ولیمے پر شلوار کمیز کون پہنتا ہے” آئرہ نے ایک نظر اسکا مکمل جائزہ لے کر پھر سے اپنا رخ موڑ لیا
اسنے وہی سوٹ پہنا ہوا تھا جو عالم نے اسے مال میں دلوایا تھا وہ کبھی بھی یہ سوٹ نہیں پہنتی اگر عالم اسے دھمکی نہیں دیتا
اسکی دھمکی سے ڈر کر اسنے یہ سوٹ زیب تن کیا تھا اور جب سے وہ یہاں بیٹھی تھی وہ مسلسل اسے دیکھ بقول آئرہ کے گھور رہا تھا جبکہ وہ تو اسکی گھورتی نظروں کی وجہ سے اسے گھور بھی نہیں پارہی تھی
ورنہ اس وقت اسے عالم شاہ پر بےانہتا غصہ آرہا تھا جو اپنے ولیمے پر بھی کمیز شلوار پہن کر آچکا تھا لگ تو وہ ہمیشہ کی طرح بےحد خوبرو رہا تھا ڈارک بلیو کلر کے کمیز شلوار پر اسنے بلیک کلر کی شال کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی اور ٹانگ پر ٹانگ چڑاے بیٹھا ہوا وہ شخص کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا
“میری جان تم مجھے اس وقت دیکھ رہی ہو کہ میں نے کمیز شلوار پہنا ہوا ہے وہ بھی اپنے ولیمے پر پھر بھی پوچھ رہی ہو کہ کون پہنتا ہے”
“ہاں ایسا فیشن صرف آپ ہی کرسکتے ہیں”
“بلکل کیونکہ عالم شاہ ہمیشہ منفرد کام ہی کرتا ہے”اسنے اپنے ڈمپل کی بھرپور نمائش کرتے ہوے کہا اور اسٹیج سے اتر کر لوگوں سے ملنے چلا گیا
آئرہ نے مسکراتے ہوے اسکی پشت کو دیکھا وہ پیارا لگ رہا تھا بہت پیارا لیکن وہ اسکی تعریف نہیں کرنے والی تھی جب تک تو بلکل نہیں جب تک اسکا یہ غم دور نہیں ہوجاتا کہ اسکا شوہر اپنے ولیمے پر کمیز شلوار پہن کر آیا تھا
°°°°°
“کیوں اپنا یہ حسیں چہرہ بگاڑ کر اداسی بھرا منہ بنا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہو”
“م-میں تو کچھ نہیں کررہی”
“بلکل تم اس بار واقعی میں کچھ نہیں کررہی ہو بلکہ تمہارے چہرے کے ایکسپریشن یہ سارے کام کررہے ہیں اپنے بابا کو دیکھا ہے تم نے صبح سے تمہارا یہ لٹکا ہوا منہ دیکھ کر وہ پریشان ہورہے ہیں” عصیم نے آہستہ سے اسے سخت لہجے میں کہا اور اسکا یہ سخت لہجہ کسوا کی آنکھیں نم کرچکا تھا
“سب کو اپنی پریشانی دکھ رہی ہے کوئی مجھ سے کیوں نہیں پوچھ رہا پہلے میری زبردستی شادی کروادی اور اب بول رہے ہیں کہ زبردستی ہنس کر بھی دیکھاؤ” وہ بھیگے ہوے لہجے میں کہہ کر اپنی آنکھیں میں موجود آنسو کو باہر نکلنے سے روک رہی تھی
اور ایسا کرتے ہوے اسکا دلکش سراپا مزید دلکش لگ رہا تھا عصیم جو اتنی دیر سے اسکے وجود سے نظریں چرا رہا تھا اب یہ کام اور مشکل لگ رہا تھا
اسکی نظریں بس اپنی معصوم بیوی پر جمی ہوئی تھیں
جو لائٹ بلیو کلر کی میکسی میں پری لگ رہی تھی بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں ملبوس عصیم کے برابر بیٹھی وہ معصوم سی پری لگ رہی تھی
“بند کرو یہ رونا لوگ دیکھیں تو کیا سوچیں گے” عصیم نے آہستہ نے اسے کہا کیونکہ کسوا کی اتنی کوشش کے باوجود بھی بار بار وہ موتی آنکھ سے گرے ہی جارہے تھے
“میری غلطی نہیں ہے یہ خود ہی گررہے ہیں”
“اچھا تو ان سے کہو کہ یہ رک جائیں کیونکہ اگر یہ نہیں رکے تو میں اس بھری محفل میں کچھ ایسا کروں گا جو تمہیں شرم کے مارے یہاں بیٹھنے بھی نہیں دے گا پھر شاید تمہارے یہ آنسو رک جائیں” اسکے کہنے پر کسوا نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے
“مجھے ولیمے کے بعد کام سے جانا ہے کچھ دیر ہوجاے گی لیکن میرے آنے سے پہلے چینج مت کرنا ورنہ کل سے زیادہ برا پیش آونگا سمجھ آئی بات” اسکے کہنے پر کسوا نے معصوم بچوں کی طرح اپنا سر زور زور سے ہلادیا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ میں آپ کی بات سمجھ گئی
°°°°°
“تم اس وقت یہاں کیا کررہے ہو” آواز پر اسنے مڑ کر دیکھا جہاں حفضہ کھڑی تھی اسکے ہاتھ میں پانی کا جگہ تھا یقینا وہ یہی لینے آئی تھی
“کچھ نہیں بس ایسے ہی اندر کمرے میں گھٹن محسوس ہورہی تھی”
“وصی تم” اسنے کچھ کہنا چاہا لیکن وصی اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے روک چکا تھا
“پلیز بھابھی ابھی میرے بارے میں کوئی بات مت کیجیے گا آپ بتائیں آج پری کا ولیمہ تھا نہ آپ وہاں گئی تھیں”
“ہاں میں یہاں رہنا چاہتی تھی لیکن خالا”
“کوئی بات نہیں کیسی ہے وہ خوش ہے” اسکے انداز میں بےچینی تھی وہ بس یہ سننا چاہتا تھا کہ حفصہ کہہ دے کہ پریشے خوش نہیں ہے اور اسکے پاس ایک وجہ ہوجاے اسے معتصم سے الگ کرنے کی
“وصی اسکی شادی ہوچکی ہے اور تمہاری بھی پریشے اگر میری بہن ہے تو عینہ بھی ہے اور میں نے ہمیشہ دونوں کے لیے ایک جیسا سوچا ہے اور میں اب بھی یہیں چاہوں گی کہ پریشے اپنے گھر میں خوش رہے اور عینہ اپنے تم کوشش کرو اسے بھولنے کی مشکل ہے ناممکن نہیں چلو شاباش کمرے میں جاؤ”
“جی جارہا ہوں” اسکے کہنے پر وہ گہرا سانس لے کر وہاں سے چلی گئی اسے پتہ تھا وصی ساری رات یہیں بیٹھا رہے گا لیکن اپنے کمرے میں نہیں جاے گا جہاں عینہ بیٹھی اسکا انتظار کررہی ہوگی
°°°°°
اپنے کمرے میں آتے ہی اسنے پہلا کام اپنے کپڑے بدلنے کا کیا اپنا نائٹ سوٹ نکال کر اسنے چینج کیا وہ عالم کے آنے سے پہلے ہی سوجانا چاہتی تھی لیکن بری قسمت کہ اسکے واشروم سے نکلتے ہی وہ آچکا تھا اور اسے دیکھتے ہی پیشانی پر بل پڑ چکے تھے
“کیا ہوا” آئرہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوے کہا
جب اسکے قریب آکر اسنے اسکے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر باندھ کر اسے اپنے بےحد قریب کرلیا اتنا کے ان میں اب چند انچ کا فاصلہ بھی نہیں رہا تھا
“ک-کیا کررہے ہو مطلب ہیں”
“میرے آنے سے پہلے تم نے کپڑے بھی بدل لیے مجھے ٹھیک سے خود کو دیکھنے بھی نہیں دیا”
“مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ کو مجھے دیکھنا ہے ورنہ میں چینج نہیں کرتی”
“خیر اب تو تم کر چکی ہو تو اس کی سزا بھی تمہیں ملے گی” اسکے سزا لفظ بولنے پر آئرہ کی جان اٹک چکی تھی
“کیا س-سزا” اسکی بات کا بنا کوئی جواب دیے عالم نے اسکی پہنی ہوئی شرٹ کا پہلا بٹن کھولا اور اسکی اس حرکت پر اسنے گھبرا کر اسکی گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑانے چاہے
“کیا کررہے ہیں” اس نے بمشکل لفظ ادا کیے لیکن اس بار بھی اسنے بنا کوئی جواب دیے اسکی شرٹ کا دوسرا بٹن کھولا جسے دیکھتے ہی آئرہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں
“پ-پلیز مت کریں”اسنے آنکھیں میچ کر کہا جس پر عالم اسکی گردن پر جھک گیا اور نرمی سے وہاں پر اپنا لمس چھوڑنے لگا
اسکی نرمی سختی میں بدل گئی اور پھر آئرہ کو اپنی گردن پر جلن کا احساس ہوا اسکے منہ سے سسکی نکلی لیکن وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ دونوں ہاتھ اس ظالم کی قید میں تھے
عالم نے اپنا چہرہ اسکی گردن سے نکالا اور مسکراتے ہوے اسکی گردن پر اپنا چھوڑا ہوا نشان دیکھنے لگا
جبکہ آئرہ بنا دیکھے جانتی تھی کہ جتنی جلن اسکی گردن پر ہورہی ہے یقینا خون کی بوند بھی نکل چکی ہوں گی
عالم نے اسکے ہاتھ چھوڑے اور اسکے ایسا کرتے ہی وہ بیڈ کی طرف بھاگ گئی اور سب سے پہلے اپنی شرٹ کے بٹن لگاے جو عالم نے کھولے تھے
نظر اپنی کلائی پر گئیں جہاں عالم شاہ کی سختی کا نشان موجود تھا
“تمہیں بتانا تھا کہ کل”
“ہاں مجھے پتہ ہے اماں سائیں مجھے پتہ چکی ہیں کہ کل ہم گھومنے جارہے ہیں” اسکے کہنے سے پہلے ہی آئرہ نے کہہ دیا
یہ بات اسے ثمیرین بیگم نے پہلے ہی بتادی تھی کے ولیمے کے اگلے روز عالم اسے گھومانے لے کر جارہا ہے اور جب سے ہی وہ بہت ایکساٹیڈ تھی
“اچھا تو تمہیں پتہ ہے”
“ہاں میں نے تو پیکنگ بھی کرلی ہے الماری کھو لینگے تو بیگ رکھے ہوے مل جائینگے میں نے دونوں کی پیکنگ کرلی ہے”گھومنے کا سن کر وہ اتنی خوش ہوگی یہ اسے اندازہ نہیں تھا اسے تو لگا تھا کے اس معاملے میں بھی زبردستی کرنی پڑے گی
“تم خوش ہو”
“بہت ویسے ہم کہاں جائینگے”
“بہت سی جگہ پر لاہور مری اسلام آباد” اسکے کہنے پر آئرہ کی مسکراہٹ دھیمی ہوئی
“اف آئرہ تم نے کیسے سوچ لیا کہ عالم شاہ تمہیں پاکستان سے باہر لے جاے گا” اسنے بڑبڑاتے ہوے کہا جو عالم بھی سن چکا تھا
“تمہیں باہر جانا ہے پاکستان اتنا پیارا ہے مجھے لگا تھا تم خوش ہوگی”
“نہیں میں سب یہ نہیں سوچ رہی تھی کے آپ مجھے پاکستان ٹوئر پر لے کر جارہے ہیں مجھے لگا ہم کہیں اور جائینگے لیکن پھر بھی میں بہت خوش ہوں پتہ ہے میں نے آج تک کراچی کے علاؤہ کچھ نہیں دیکھا تو میرے لیے تو لاہور اسلام آباد دیکھنا بھی لنڈن پیرس دیکھنے جیسا ہوگا میں جلدی سے سوجاتی ہوں تاکہ جلدی اٹھ جاؤں”اپنے چہرے پر کمبل ڈال کر وہ مکمل سونے کی تیاری کر چکی تھی
اسکے بچوں جیسے انداز کو دیکھ کر عالم کے لبوں پر تبسم بکھرا
°°°°°
اپنے کمرے میں آکر اسے کافی حیرت ہوئی کیونکہ خلاف توقع اسکی بیوی بیڈ پر بیٹھی یقینا اسکا ہی انتظار کررہی تھی
اسے تو لگا تھا کہ وہ اب تک سوچکی ہوگی لیکن اسنے تو کپڑے بھی نہیں بدلے تھے
“کیا بات ہے بیوی تم میرے انتظار میں بیٹھی ہو”
“ہاں میں تمہارے انتظار میں بیٹھی تھی مجھ سے جھوٹ مت بولنا میں نے خود تمہیں کسی سے فون پر بات کرتے سنا ہے”
“قسم لے لو یار اچھا خاصا شریف بندہ ہوں میرا کوئی چکر وکر نہیں چل رہا”
“معتصم میں اس طرح کی کوئی بات نہیں کررہی ہوں”اسنے اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے کہا
“اچھا تو پھر ارادے کچھ اور ہیں جو میرا انتظار ہورہا تھا” شرارت بھری آنکھوں سے معتصم نے اپنے سامنے کھڑی پری کو دیکھا
“میں نے تمہیں بات کرتے ہوے سنا تھا تم کس چیز کی ٹکٹ بک کررہے ہو اگر تمہارا ارادہ مجھے اپنے ساتھ کہیں لے جانے کا ہے تو میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی”
“میں تمہیں لے جاکر بھی کیا کروں گا میں تمہیں گھورتا رہوں گا اور تم اپنے اوپر پورا کمبل ڈال کر سوتی رہو گی اگر اسی چیز کے لیے پیسے ضائع کرنے ہیں تو یہ کام تو یہاں بھی بہت اچھے سے ہورہا ہے”کہتے ہوے اسنے اپنی گھڑی اتار کر سائیڈ پر رکھی
“تم مجھے اپنی ان باتوں سے بہلا نہیں سکتے”
“میں تمہیں نہیں بہلا رہا ہوں میں نے ٹکٹ بک کرواے تھے ترکی کے وہ بھی عصیم اور کسوا کے لیے کیونکہ کسوا کو ہمیشہ وہاں جانے کی خواہش تھی میں نے بس اسے خوش کرنے کے لیے یہ چھوٹا سا گفٹ دیا ہے ہاں عالم بھی جارہا ہے عصیم بھی جارہا ہے تو دادا سائیں کا حکم ہے ہم بھی جائیں”
“میں کہیں نہیں جاؤں گی” اسنے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کہا
“ہم کہیں نہیں کراچی جارہے ہیں تاکہ عصیم کی غیر موجودگی میں ، میں آرام سے کام بھی کرلوں اور سب کی نظروں میں ہمارا ہنی مون بھی ہوجاے اور تم چاہو تو اپنے گھر والوں سے بھی مل لینا” اپنے کپڑے نکال کر وہ واشروم میں جانے لگا جبکہ پریشے تو بس حیرت سے اسکی ہر بات سن رہی تھی اسنے ساری پلیننک پہلے ہی کرلی تھی
“بیوی یہ مت سمجھنا میں تمہیں کراچی پر ٹرکھا رہا ہوں جب ہمارے بیچ کی یہ دوریاں مٹ جائیں گی نہ تب میں تمہیں فرانس لے کر جاؤں گا اور وہاں جاکر اچھے سے اپنا ہنی مون مناؤں گا ابھی تمہیں لے جانے کا کیا فایدہ بعد میں لے کر جاؤں گا جب تم مجھ سے راضی ہوگی تاکہ ہمارے پیار بھرے ان لمحوں میں ہمیں کوئی ڈسٹرب نہ کرے”
اسکی بات سن کر پریشے کے کان تک سرخ ہوچکے تھے اور اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر کمرے میں معتصم کا قہقہہ گونجا
°°°°°
جلدی جلدی کرتے ہوے بھی اسے آنے میں بہت دیر ہوچکی تھی حویلی میں داخل ہوتے ہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا
جہاں کا منظر دیکھ کر عصیم کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا
سر بیڈ کراؤن سے ٹکا کر وہ سورہی تھی اسنے اپنی جیولری تک بھی نہیں اتاری تھی صرف اسکے ڈر سے
اپنا کوٹ اتار کر اسنے صوفے پر پھینکا اور قریب جاکر فرصت سے اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو آج ضرورت سے زیادہ حسین لگ رہی تھی
اپنا ہاتھ اسکے گال پر رکھ کر عصیم نے اسکا گال سہلایا اور اسکے لبوں کو اپنی قید میں لے لیا
اپنی رکتی سانسوں کی وجہ سے کسوا کی آنکھ کھلی اور پہلی نظر عصیم پر پڑی جو اسکی سانسوں کو روکنے میں مصروف تھا کسوا نے زور سے اپنی آنکھیں میچ لیں
جب عصیم نے اسکے لبوں کو آزادی بخشی اور اپنی پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکا دی
“جاؤ چینج کرکے آؤ” اسکے کہنے پر کسوا بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی خود وہ بھی ڈریسنگ روم میں جاکر اپنے کپڑے بدل کر آگیا
ارادہ تو اسے آج بھی کسوا کو چھوڑنے کا نہیں تھا لیکن اسے اپنی بیوی کا بھی تو خیال رکھنا تھا شادی کی وجہ سے وہ پہلے ہی کافی تھکی ہوئی تھی اوپر سے کل پوری رات عصیم نے اسے جگا کر رکھا تھا
جھجکتے ہوئی وہ بیڈ پر لیٹ گئی جب عصیم نے اسے اپنے قریب کیا اور اسے اپنے حصار میں لے کر سوگیا اسکی اس حرکت پر کسوا نے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کری تھی کیونکہ ایسا کرنے پر سامنے والے کا موڈ بدل بھی سکتا تھ