عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 18

صبح فجر کے بعد ناشتہ کرتے ہی سب سے مل کر وہ دونوں اپنے سفر پر نکل چکے تھے
اتنی جلدی نکلنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ وقت سے وہاں پر پہنچ جاتے
اسے لگا تھا کے اسکی بیوی ساتھ ہے تو یہ سفر رومانی ہوگا لیکن گاڑی شہر میں داخل ہوتے ہی آئرہ سوچکی تھی کیونکہ ساری رات اسے اس خوشی میں نیند نہیں آئی تھی کے صبح وہ گھومنے جارہی ہے
کافی دیر تک وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا مسلسل ڈرائیو کرنے سے تھکن ہورہی تھی وہ مسلسل گاڑی چلا رہا تھا اسکا ارادہ بنا رکے سیدھا ہوٹل پہنچنے کا تھا لیکن تھکن سے زیادہ اسے بوریت ہورہی تھی
اسنے جھنجوڑ کر آئرہ کو اٹھایا جس نے اپنی نیند سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھا
“ہم پہنچ گئے”
“نہیں”
“تو مجھے کیوں اٹھایا” منہ بنا کر اسنے اپنا سر سیٹ سے ٹکا دیا اسکا ارادہ دوبارہ سونے کا تھا
“کیونکہ تمہیں اپنے شوہر کا زرا سا بھی خیال نہیں ہے وہ بیچارا کب سے گاڑی چلا رہا ہے اور تم مزے سے سورہی ہو تمہیں تو میرا خیال رکھنا چاہیے میں تمہیں گھومانے لے کر جارہا ہوں”
“ہاں تو پلین میں چل لیتے شوہر کو اتنی ڈرائیو نہیں کرنی پڑتی اسی بہانے میں بھی پلین کا سفر کرلیتی”
“مجھے پلین کا سفر نہیں پسند”
“ہاں تو اب مزے سے ڈرائیو کرتے رہیں ورنہ کچھ دیر کے لیے کسی جگہ رک جائیں” اسنے بند آنکھوں سے کہا
“ضرورت نہیں ہے ہم بیس پچیس منٹ میں پہنچ جائینگے میں کہیں رک کر وقت برباد نہیں کرنا چاہتا تم مجھ سے باتیں کرو تاکہ میری یہ بوریت دور ہوجاے”
“اپنی بوریت خود دور کریں”
“میں واقعی میں اپنی بوریت خود دور کرنے لگ جاؤں گا آئرہ جو کام میں نے اپنے کمرے میں نہیں کیا وہ کام مجھے اس گاڑی میں کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہوگی”اسکی اس بات پر آئرہ اسے گھور بھی نہ سکی جبکہ عالم تو بس مسکراتے ہوے اسکے چہرے پر پھیلی سرخی دیکھ رہا تھا
“شرم نہیں آتی”
“تم نے میری بےشرمی ابھی دیکھی کہاں ہے دیکھنا چاہو گی”اسنے آئرہ کی طرف دیکھتے ہوے سوالیہ انداز میں پوچھا جیسے اگر آئرہ اسے بےشرمی دکھانے کا کہہ دیتی تو وہ دکھانے میں بلکل بھی دیر نہیں لگاتا
“نہیں مجھے نہیں دیکھنی میں تم سے باتیں کرلیتی ہوں اور اتنی باتیں کروں گی کے تمہارے کان پک جائینگے” اسکے کہنے پر عالم نے اپنا کان اسکے چہرے کے تھوڑا نزدیک کیا
“کیا کہا تم نے”
“آپ بولا میں نے”
“لیکن میں نے تو تم سنا”
‘غلط سنا”
“ہاں غلط سنا ہوگا ورنہ تم مجھے آپ کہنا بھولنا بھی چاہو تو بھول نہیں سکتی کیونکہ تم بولنے کے انجام میں تمہارے لبوں پر دیا میرا نشان ابھی تک موجود ہے” اسکے بے باکی سے کہنے پر آئرہ نے اپنے چہرے کا رخ موز لیا جبکہ زہہن میں اسکی اس دن کی گئی جسارت یاد آئی
“اچھا ادھر دیکھو میری طرف نہیں کہہ رہا میں کچھ چلو مجھ سے باتیں کرو” اسکے کہنے پر آئرہ گہرا سانس لے کر جو شروع ہوئی وہ لاہور کے ہوٹل پہنچنے تک رکی نہیں
جبکہ عالم کو حیرت ہورہی تھی کے کوئی لڑکی کسوا سے بھی زیادہ بول سکتی ہے
°°°°°
ہوٹل میں معتصم پہلے سے ہی روم بک کروا کا تھا یہ ہوٹل معتصم کے دوست کا تھا جہاں انکے جانے سے پہلے ہی مینیجر انکا انتظار کررہا تھا یقینا معتصم نے اپنے دوست کو اسکے یہاں آنے کے بارے میں بتادیا تھا
ان کا روم پہلے ہی بک تھا اسلیے انہیں انکے روم میں پہچادیا جو کے ہوٹل سا سب سے بہترین کمرہ تھا
اسے بےحد تھکن ہورہی تھی اسے سب سے پہلے شاور لینا تھا
اسنے اپنا بیگ کھولا جو آئرہ نے خود پیک کیا تھا بیگ کھولتے ہی اسے بےحد حیرت ہوئی اسنے ایک ایک سوٹ نکال کر دیکھا
اس میں جیکیٹ جینز ٹی شرٹ ہر طرح کے کپڑے بھرے ہوے تھے سواے اسکے پسندیدہ شلوار کمیز کے
“آئرہ یہ سب کیا ہے”اسنے آئرہ کو دیکھتے ہوے کہا جو خود اپنا سوٹ بیگ سے نکال رہی تھی اسکے کہنے پر اسکی طرف متوجہ ہوئی
“کیا کیا ہے”
“یہ کیا ہے” اسنے اپنے بیگ کی طرف اشارہ کیا
“وہ یہ میں نے معتصم لالا سے منگوائے تھے اماں سائیں نے مجھے پہلے ہی بتادیا تھا کے ہم گھومنے جارہے ہیں تو میں نے ان سے کہہ کر اپنی پسند کے کپڑے آپ کے لیے منگوائے تھے مجھے پتہ نہیں تھا نہ ہم کہاں جارہے ہیں اسلیے میں نے سرد اور گرم دونوں طرح کے کپڑے منگوالیے” وہ فخر سے اپنا کیا ہوا کارنامہ بتارہی تھی
جبکہ عالم کو تو اب اسکے معتصم کے ساتھ اتنے بھائی چارے کی وجہ سمجھ آئی تھی
“تم جانتی ہو میں یہ سب نہیں پہنتا”
“ہاں تو میں آپ کو یہاں پر کمیز شلوار نہیں پہننے دوں گی یہی پہنے پڑینگے میں نے آپ کو کبھی دیکھا بھی نہیں ہے ان کپڑوں میں”کہتے ہوے اسنے خود ہی بیگ سے وائٹ شرٹ اور ڈارک بلیو جینز نکال کر بیڈ پر رکھ دی اور اٹھ کھڑی ہوئی
“تم کہاں جارہی ہو”
“نہانے”
“میں جاؤنگا”
“میں جاؤنگی”
“آئرہ میں جاؤنگا”
“عالم میں جاؤنگی” کہتے ہوے وہ جلدی سے واشروم کی طرف بھاگنے لگی جب عالم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر تھکا دیا اور خود واشروم میں گھس گیا
“عالم شاہ” اسنے غصے سے واشروم کا دروازہ بجایا لیکن اندر سے کوئی ریسپانس نہیں ملا
جبکہ اندر عالم کتنی دیر تک اپنی کی ہوئی حرکت پر ہنستا رہا
“یہ لڑکی مجھے بھی اپنے جیسا بنادے گی” خود سے بڑبڑاتے ہوے اسنے شاور آن کر لیا
°°°°°
اسے آئرہ کی طرف سے خاموشی کی تو امید نہیں تھی لیکن اسکا غصے سے نام لینے کے علاؤہ اسنے کچھ نہیں کیا تھا
جو اسکے لیے حیرت کی بات تھی ورنہ اسے تو لگ رہا تھا چابی سے دروازہ کھول کر وہ واشروم میں ہی داخل ہوجاے گی
لیکن جلد ہی عالم کو اسکی خاموشی کی وجہ سمجھ آچکی تھی وہ اپنے کپڑے لانا بھول گیا تھا اتارے ہوے کپڑے وہ دوبارہ پہن نہیں سکتا تھا کیونکہ اسے باتھ لے کر اتارے ہوے کپڑے پہننے سے الجھن آتی تھی
واشروم میں بس ایک ٹاول لٹکا ہوا تھا جو اسکے حصاب سے کافی چھوٹا تھا
“آئرہ”
“کیا ہے” انداز لاپرواہ سا تھا
“میرے کپڑے دو”
“میں تو نہیں دے رہی”
“میں ایسے ہی باہر آجاؤں گا مجھے کوئی شرم نہیں آے گی” اسنے جتنے اطمینان سے کہا تھا دوسری طرف بھی اسی اطمینان سے جواب دیا گیا
“بھلے آجائیں میں آپ کی ویڈیو بنا کر سب کو سینڈ کردیں گی”
“پالیز یار دے دو”
“کیوں دوں مجھے بیڈ پر تھکا دے کر چلے گئے تھے اور پالیز نہیں ہوتا پلیز ہوتا ہے”
“اچھا پلیز دے دو سوری” اسکے کہنے پر وہ گہرا سانس لے کر اپنی جگہ سے اٹھی اور جاکر اسے اسکے بیڈ پر رکھے ہوے کپڑے دے دیےp
°°°°°
باتھ لے کر وہ تھوڑی دیر کے لیے روم سے باہر چلا گیا یہاں آنے تک اسکی گاڑی کا ٹائر خراب ہوچکا تھا جسے وہ ٹھیک کروانے جارہا تھا
ساتھ ہی نظر بار بار اپنے کپڑوں کی طرف چلی جاتی اور لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی
“تم نے میرے لیے اتنے کپڑے لیے ہیں کچھ میں بھی تمہارے لیے لے لیتا ہوں”
ٹائر ٹھیک کرواکر وہ آئرہ کے لیے اپنی مرضی کا تحفہ لینے چلا گیا جو جلدی ہی اسے پسند بھی آچکا تھا اسے لے کر وہ واپس ہوٹل کی جانب بڑھ گیا
اس وقت اسے بہت بھوک لگ رہی تھی اور ہوٹل جاکر اسکا ارادہ سب سے پہلے کھانا کھانے کا تھا صبح کے ناشتے کے علاؤہ سفر میں اسنے بس راستے سے لیے دو سینڈوچ کھاے تھے جس میں اس دیسی کھانا کھانے والے مرد کا بھلا کیا ہونا تھا
°°°°°
کمرے میں داخل ہوکر اسنے اپنے ہاتھ میں موجود بیگ سائیڈ پر رکھ دیا کمرہ خالی تھا آئرہ یقینا واشروم میں تھی گہرا سانس لے کر وہ بیڈ پر بیٹھنے لگا
جب نظر بیڈ پر رکھے آئرہ کے پرسنل سامان پر گئی جو یقیناً غلطی سے وہ یہاں بھول چکی تھی اسے ہاتھ میں لے کر عالم اسے ہر اینگل سے دیکھنے لگا لبوں پر ایک دم مسکراہٹ رینگ گئی
جب آئرہ واشروم سے باہر نکلی اسکے گیلے بال بکھرے پڑے تھے اور اسنے گھٹنوں تک آتا ٹاول پہن رکھا تھا یقینا وہ اپنا بھولا ہوا سامان ہی واپس لینے آئی تھی
لیکن عالم کی وہاں موجودگی دیکھ کر جلدی سے سے واپس بھاگنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی عالم نے اسکی کلائی پکڑ کر جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا
“ایسے نظارے دکھا کر بھی تم مجھ سے یہ امید رکھتی ہو کے میں تم سے دور رہوں کہاں سے لاؤں اتنا صبر”
اسکی گردن سے گیلے بال ہٹا کر وہ اسکی بیوٹی بون پر جھک گیا
“ع—عالم پلیز مجھے جانے دیں”
“کہاں سے لاؤں اتنا صبر” اپنا چہرہ اسکے مقابل کرکے عالم نے سوال کیا
“پ–پلیز جانے دی-یں”
”ایسے کیسے جانے دوں تم نے بھی تو مجھے اتنا ستایا ہے تھوڑا حق تو میرا بھی بنتا ہے” اپنی بات کہہ کر وہ اسکے کپکپاتے لبوں پر جھک گیا آئرہ نے سختی سے اسکی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچ لیا
وہ مدہوش سا اسکے لبوں پر جھکا ہوا تھا ارد گرد کیا ہورہا تھا ، کیا تھا اسے پرواہ نہیں تھی وہ بس آئرہ میں کھویا ہوا تھا اور اسی سب کا فائدہ اٹھا کر آئرہ نے اسے دھکا دیا اور تیزی سے واشروم میں بھاگ گئی
اسے تو یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کے وہ باہر کچھ لینے آئی تھی
اسکے اس طرح جانے پر عالم کے لبوں پر ڈمپل والی دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی سمجھ نہیں آرہا تھا اسکی اس حرکت پر غصہ کرے یا پھر ہنسے
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial