قسط: 22
نیند سے اٹھتے ہی اسنے پورے کمرے کو دیکھا وہ اس وقت اپنے گھر میں اپنے کمرے میں موجود تھی
اسنے رات کا منظر یاد کرنا چاہا جہاں بس اتنا ہی یاد آیا کے وہ ہوٹل سے نکل گئی تھی اور بارش میں بھیگ رہی تھی اسکے بعد کیا ہوا تھا
شاید کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا یا کچھ اور زہہن پر زور ڈال کر وہ رات کا منظر یاد کرنے کی کوشش کرنے لگی
لیکن نگاہ تب ہی اپنے وجود پر پہنے معتصم کے کپڑوں پر گئی پل بھر میں اسکا دل گھبرا گیا اسے نہیں یاد تھا اسنے یہ سوٹ کب پہنا
وہ کشمکش میں مبتلا تھی جب باتھ روم کا دروازہ کھول کر معتصم باہر نکلا اپنے گیلے بال وہ تولیہ رگڑ رہا تھا
اسے دیکھتے ہی اسنے تولیہ صوفے پر پھینکا اور جاکر اسکے قریب بیٹھ گیا
“کیسی طبیعت ہے تمہاری”
“ر-رات کو ک-کیا ہوا تھا” اسکا سوال نظر انداز کرکے اسنے گھبرائے ہوے لہجے میں کہا
“رات کو”
“ہاں رات کو م-میں نے تمہارے کپڑے کیوں پہنے ہیں”
“تم اتنی ناسمجھ تو نہیں ہو پھر بھی بتادیتا ہوں میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن تمہارا بخار بہت زیادہ بڑھ گیا تھا میں نے تو بس وہی کیا جو مجھے ڈاکٹر نے کرنے کے لیے کہا تھا” اسنے اپنی مسکراہٹ دبا کر معصومیت سے کہا لیکن اسکی بات سن کر پریشے کا تو جیسے سانس ہی رک چکا تھا
“تم جھوٹ بول رہے ہو تم ایسا نہیں کرسکتے” آنسو اسکی آنکھوں سے تیزی سے بہنے لگے
“تم ایسا نہیں کرسکتے ہو تم جھوٹ بول رہے ہو” وہ اب باقاعدہ تیز آواز میں رو رہی تھی
“پری میری بات سنو” اسکے قریب آکر معتصم نے کچھ کہنا چاہا لیکن اپنے ہاتھ چلاتی وہ اسے خود سے دور کرنے لگی جبکہ رونے میں اب اضافہ ہوچکا تھا
“دور رہو مجھ سے پلیز دور رہو تم” اسکے چیخنے پر معتصم نے سختی سے اسکے دونوں ہاتھ کمر سے لگا کر اسے اپنے بےحد قریب کرلیا
“پریشے اب ایک لفظ مت کہنا اور رونا بند کرو کونسا ظلم کیا ہے میں نے تمہارے اوپر جو یہ رونا دھونا مچا رہی ہو شوہر ہوں تمہارا حق رکھتا ہوں تم پر لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ، کیا کہا تھا میں نے تم سے کے جو بھی کروں گا تمہاری اجازت سے کروں گا اور معتصم شاہ اپنی بات سے نہیں مکرتا جو بات کہتا ہے اسے پورا کرتا ہے”
“میں نے تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا ساری رات بس تمہارے قریب رہا تھا تاکہ تمہیں گرمائی دے سکوں اور تمہارے گیلے کپڑے بدل واے تھے وہ بھی اندھیرے میں ایسا انسان نہیں ہوں میں جو تمہاری بےہوشی کا فائدہ اٹھاتا اگر مجھے کچھ کرنا ہوگا تو تمہارے پورے ہوش و حواس میں بھی کرلوں گا تم کچھ نہیں کرسکتی ہو لیکن میں منتظر ہوں تمہاری اجازت کا” اسے بیڈ پر تھکا دے کر وہ کمرے سے چلا گیا
جبکہ اسکی ساری باتیں سن کر وہ اپنا رونا بھول چکی تھی
°°°°°
اسکے ہزار بار منت کرنے پر آج وہ اپنا رومینس موڈ آف کرکے اسے گھومانے لایا تھا جہاں سب سے پہلے وہ اسے ڈیوڈن واٹر فال لے کر گیا تھا
اسنے وہاں جاکر کتنا انجواے کیا یہ اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی اسکے چہرے پر بچوں جیسی خوشی اس بات کا صاف پتہ دے رہی تھی گھومانے کے بعد وہ اسے لے کر ریسٹورنٹ چلا گیا
عصیم نے تین سے چار ڈشز منگوائی تھیں لیکن ہر ڈش کو چکھتے ہی اسکی بیوی کا منہ بن رہا تھا
“کسوا کھانا کھاؤ”
“یہ بلکل بھی اچھا نہیں ہے میں گھر جاکر خود بنا کر کھاؤں گی”
“میں تمہیں کسی اور ریسٹورنٹ میں لے کر چلتا ہوں لیکن گھر جاکر تم کچھ نہیں بناؤ گی گھر جاکر تم بس میرے پاس میری بانہوں میں رہو گی” اسکے کہنے پر کسوا کے گال دہک چکے تھے جنہیں وہ بڑی فرصت سے دیکھ رہا تھا
“مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں کھانا کھائیں اور کچھ اور آرڈر کریں” اسکے کہنے پر بھی جب عصیم نے اس پر سے نظریں نہیں ہٹائیں تو اسنے اپنے ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپالیا
°°°°°
وہ دونوں اس وقت اسلام آباد کے سینٹارس مال میں آے ہوے تھے جہاں آئرہ کتنا کچھ خرید چکی تھی اور پھر بھی اسے اپنی کی ہوئی شاپنگ کم لگ رہی تھی
“آئرہ اور کتنی چیزیں لینی ہیں”
“رک جائیں ابھی میری شاپنگ رہتی ہے ابھی میں نے اماں سائیں اور پری کے لیے کچھ نہیں لیا انکے لیے بھی لینی ہے اور اب آپ اپنا منہ بند رکھیے گا تین دفعہ مجھے ٹوک چکے ہیں آپ کا کیا جارہا ہے جو بھی لے رہی ہوں اپنے شوہر کی کمائی سے لے رہی ہوں” اسنے ناک چڑا کر کہا
“شوہر کی کمائی سے کیوں لے رہی ہو”
“کیونکہ انکی ہر چیز پر میرا حق ہے”
“اسی طرح تمہارے شوہر کا بھی تم پر حق ہے وہ بھول گئی ہو” آئرہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں وہ پھر بات کا رخ اپنے مطلب کی طرف لے آیا تھا
“آپ میرے پیچھے کیوں کھڑے ہیں جاکر وہاں سائیڈ میں سکون سے کھڑے ہوجائیں”
“ہاے سائیڈ میں کھڑے ہونے سے بھلا کس بےوقوف کو سکون ملتا ہے میرے لحاظ سے سکون کی جگہ تو بیوی کی بانہیں ہوتی ہیں” اسکے بےباکی سے کہنے پر آئرہ شاپ سے باہر نکل گئی جبکہ مسکراتے ہوے وہ بھی اسکے پیچھے چلا گیا
°°°°°
“آپ کو پتہ ہے یہ میری فیورٹ ڈش ہے” اسنے چاؤ مین عالم کی طرف بڑھاتے ہوے کہا آج سارا کھانا اسنے اپنی پسند کا آرڈر کیا تھا جس میں کچھ بھی عالم کو پسند نہیں آیا لیکن وہ خاموشی سے کھارہا تھا البتہ اسکے چہرے کے تاثرات اندر کا حال صاف بتارہے تھے
وہ شہر بہت کم آتا کھانا بھی زیادہ دیسی کھاتا تھا اسلیے آئرہ کو پتہ نہیں تھا کے اسے اپنے کھانوں کے علاؤہ کسی اور ڈش کے نام پتہ ہوں گے لیکن اسے ہر ڈش کا نام پتہ تھا
“یہ سب کھاتی ہو جب ہی تو تمہارا یہ حال ہورہا ہے”
“کیا حال ہورہا ہے میرا” اسنے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھورا
“خود دیکھو اپنے آپ کو اتنی سوکھی ہو تم کبھی کبھی تو میں سوچ میں پڑجاتا ہوں کے تمہارا وجود مجھے برادشت کیسے کرے گا”
“کچھ تو خیال کریں ہم پبلک پلیس پر موجود ہیں”
“میں نے کونسا کوئی گستاخی کردی ہے جو تم اتنی لال گلابی ہورہی ہو چلو کھانا کھاؤ” اسکی حالت کو انجواے کرتے ہوے وہ خود کھانا کھانے لگ گیا
°°°°°
سارا دن وہ کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی اپنے کہے لفظوں کو یاد کرکے وہ کافی شرمندہ ہورہی تھی
“ہاں اسی لیے تو تم نے مجھ سے نکاح کیا ہے شاہ انڈسٹری کا مالک معتصم شاہ بھلا مجھ سے شادی کیوں کرے گا ایک پل میں محبت ہوگئی اس لیے نہیں مانتی میں اس سب کو میں جانتی ہوں تم نے مجھ سے اسلیے نکاح کیا ہے تاکہ نکاح کی آڑ میں تم اپنی حوس پوری کرسکو”
خود کا بہت پہلے معتصم کو کہا گیا جملہ اسکے کانوں میں گونجا اور وہ مزید شرمندہ ہوگئی
پہلے بھی اسنے یہی سب کہا تھا اور آج بھی یہی کہہ دیا
“پریشے اگر اسے تمہارے وجود کی چاہ ہوتی تو اب تک تمہاری اجازت کے انتظار میں کیوں بیٹھا ہوتا نکاح میں ہو تم اس کے اگر اسے یہی سب کرنا ہوتا تو یہ اسکے لیے کوئی مشکل تو نہیں تھا تم ایک کمزور لڑکی ہو جو اسکا مقابلہ بھی نہیں کرسکتی ہو پھر بھی وہ تمہیں وقت دے رہا ہے” ضمیر نے اسے ملامت کری اپنے کہے لفظ یاد کرکے اسے بہت برا لگ رہا تھا
وہ انہی سوچو میں گم تھی جب ڈور بیل بجی اپنے آنسو صاف کرکے وہ جلدی سے دروازہ کھولنے کے لیے اٹھی کیونکہ اسے پتہ تھا کے آنے والا معتصم ہی ہوگا جو اپنے آفس گیا تھا
اسکے دروازہ کھولتے ہی وہ بنا اسکی طرف دیکھے اندر چلا گیا اپنا بریف کیس اور کوٹ اتار کر اسنے صوفے پر پھینکا
“دوائی کھالی تھی تم نے” اسنے پریشے کی طرف دیکھتے ہوے سنجیدہ لہجے میں پوچھا جس پر اسنے اپنی گردن ہاں میں ہلادی
“کھانا لگاؤں”
“بھوک نہیں ہے” ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرکے وہ وہاں سے جانے لگا جب اسنے پھر پکارا
“میں نے تمہارے انتظار میں نہیں کھایا میں نے سوچا دونوں ساتھ کھا لینگے”
“تم کھالو جب مجھے بھوک ہوگی تو میں کھالوں گا”پریشے نے آج سے پہلے اسے اتنا سنجیدہ کبھی نہیں دیکھا تھا
“نہیں کھاتا تو نہیں کھاے” اسکے کمرے میں جانے کے بعد خود سے بڑبڑا کر وہ کچن میں جاکر اپنے لیے کھانا نکالنے لگی لیکن بھوک تو اسکی بھی اڑ چکی تھی پتہ نہیں معتصم کی ناراضگی بری لگ رہی تھی یا پھر اسکے محبت بھرے رویے کی عادت ہوگئی تھی اپنی کیفیت وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہی تھی