عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 23

اسے پتہ تھا عالم کو پڑھنے کا شوق نہیں ہے لیکن یہ فرمائش اسنے خود کی تھی کے اسے انگلش سیکھنی ہے لیکن تھوڑا بہت سمجھنے کے بعد ہی اسکا دماغ جیسے بند ہورہا تھا اسلیے وہ خود ہی اپنی بات سے پیچھے ہٹ گیا
جبکہ اسکی حالت دیکھ کر آئرہ نے بس اسے مین چیزیں بتادیں تھیں وہ اب خود اسکے سامنے انگلش بولتی تھی اور عالم کو اپنے کہے لفظ کا مطلب بھی بتاتی تھی
تاکہ عالم ان لفظوں کو سمجھ سکے اور اب وہ خود بھی ایسا ہی کرتا تھا اپنی کہی باتوں میں وہ انگلش کے وہ لفظ ایڈ کردیتا جو اسنے آئرہ کے منہ سے سنے تھے جبکہ وہ کافی حیران ہوتی تھی کے اسکے ایک بار کہے لفظ اسکے زہہن میں اتنی آسانی سے بیٹھ بھی جاتے تھے
°°°°°
“اس میں نمک کم ہے آپ نے مرچیں بہت تیز کردی ہیں کچھ اور کمی بھی محسوس ہورہی ہے لیکن کیا مجھے وہ سمجھ نہیں آرہی ہے”
“حد ہوتی ہے کسوا میں ایک گھنٹے سے کچن میں کھڑا تمہارے لیے کھانا بنارہا ہوں اور تم اس میں نقص نکال رہی ہو” اپنا بنایا ہوا کھانا سائیڈ پر کرکے اسنے کسوا کو گھور کر دیکھا
“میں تو بس بتارہی تھی اس میں ان چیزوں کی کمی ہے نہیں بتانا تھا” چہرے پر معصومیت سجاے وہ عصیم سے پوچھ رہی تھی
“نہیں”
“ٹھیک ہے آپ مجھے دوبارہ ٹیسٹ کروائیں میں پھر سے راے دوں گی”
“نہیں اب بس تمہیں اسکی سزا ملے اور تمہاری سزا یہ ہوگی کے اب تمہیں کھانا صبح ہی ملے گا”
“میں چھپ کر کھالوں گی جب آپ سوجائینگے” اسنے اپنے دماغ میں چلتا آئیڈیا اسکے غوش گزارا
“اور میں کیوں سوؤنگا میں تو اپنی بیوی کو کمرے میں لے جاکر اس پر اپنا پیار نچھاور کروں گا” اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کرکے اس نے کسوا کو اپنے قریب کیا
“یہ تو ظلم ہے مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے”
“تمہاری اس بھوک کا مجھے سمجھ نہیں آتا جو میرے قریب آتے ہی شروع ہوجاتی ہے”
“قسم سے مجھے بھی سمجھ نہیں آتا” اسکے معصومیت سے کہنے پر عصیم نے مسکراتے ہوے اسکی بےداغ پیشانی پر اپنا پیار بھرا لمس چھوڑ دیا
°°°°°
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا
“کہیں میں غلط کمر میں تو نہیں آگیا”خود سے بڑبڑاتے ہوے اسنے کمرے کا دروازہ بند کیا اور نظریں پورے کمرے میں دوڑائیں
جہاں پورے کمرے میں گلاب کے پھولوں کی مہک بکھری پڑی تھی پھول جگہ جگہ پر پھیلے ہوے تھے کمرے کی ساری لائٹس آف تھیں لیکن کمرے میں جگہ جگہ جلتی خوشبودار کینڈلز نے کمرے میں روشنی پھیلائی ہوئی تھی
آئرہ کی غیر موجودگی دیکھ کر اسنے اسے پکارنا چاہا لیکن تب ہی نظر آئینے کی طرف چلی گئی جہاں سے اسے وہ صاف دکھ رہی تھی
اسنے مڑ کر اسے دیکھا جو کینڈل اسٹینڈ میں موجود کینڈلز وہڈین اسٹک کی مدد سے جلارہی تھی
اسنے اس وقت وہی سوٹ پہنا ہوا تھا جو عالم نے اسے لاکر دیا تھا بلیک کلر کا گاؤن کھلے سلکی بال اور سرخ رنگ کی لپسٹک وہ اس وقت کوئی آپسرا ہی لگ رہی تھی عالم کو تو ایسا ہی لگا
اسکے قدم آہستہ آہستہ آئرہ کی طرف بڑھ رہے تھے وہ ایک قدم اسکے قریب بڑھاتا اور آئرہ ایک قدم پیچھے ہوجاتی اسی طرح کرتے ہوے وہ دیوار کے ساتھ لگ چکی تھی
اسکی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور کینڈل کی روشنی اسکے چہرے پر پڑھ رہی تھی جس کے باعث عالم کو وہ مومی گڑیا لگ رہی تھی اسنے دیوار پر دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھ لیے
“پتہ ہے نہ میں نے کیا کہا تھا کے جب تم یہ سوٹ پہنو گی تب میں اسے تمہاری رضامندی سمجھوں گا” اسکے کان کے قریب جھک کر اسنے سرگوشی کی
“میں جانتی ہوں” اسکے کہنے پر عالم نے اسکا جھکا چہرہ اوپر اٹھایا آئرہ نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
ماتھے پر دو لٹیں جھول رہی تھیں گھنی داڑھی مونچھوں میں بھی اسکا گہرا ڈمپل دکھ رہا تھا کیونکہ عالم کے لب مسکرا رہے تھے
“آپ کو پتہ ہے عالم مجھے آپ کا یہ ڈمپل بہت پسند ہے سمجھ نہیں پاتی کے آپ کی مسکراہٹ اچھی ہے یا اس ڈمپل کی وجہ سے اچھی لگتی ہے”اسنے اپنا ہاتھ اسکے ڈمپل پر رکھا
“یہ سب بہت خوبصورت ہے” اسنے کمرے کی سجاوٹ کو دیکھتے ہوے کہا
“پتہ ہے میں نے یہ سب کیوں کیا ہے”
“نہیں مجھے نہیں معلوم تم بتادو”
“ان رومینٹک کا مطلب پتہ ہے”آئرہ نے اسکے کان کے قریب ہوکر اس سے پوچھا
“بلکل پتہ ہے میری ٹیچر بہت اچھی ہیں انہوں نے اتنے کم وقت میں مجھے بہت کچھ سکھا دیا ہے”
“میرے شوہر بہت ان رومینٹک ہیں وہ تو میرے لیے ایسا کچھ کرتے نہیں ہیں میں نے سوچا میں ہی کردوں”
“یہ سب دیکھ کر میں بس ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم میرا ساتھ قبول کرتی ہو” اسکی کمر پر ہاتھ رکھ کر عالم نے اسے اپنے قریب کرلیا
“ہ-ہاں” اسکے کہتے ہی عالم بنا لمحہ ضائع کیے اسکے لبوں پر جھک گیا
شدت تو اسکے انداز میں ہمیشہ ہی رہتی تھی لیکن آج تو جیسے وہ اسکی سانسیں ہی روک دینا چاہتا تھا
عالم نے کچھ دیر بعد اسکے لبوں کو آزاد کیا اور اپنے ہونٹوں پر جلن محسوس کرکے اسنے ہاتھ لگایا جہاں لبوں کا خون اب اسکے ہاتھ پر لگ چکا تھا
“اب بہت ظالم ہیں چھوڑیں مجھے”خفگی سے کہتے ہوے اسنے اپنا آپ عالم سے چھڑانا چاہا لیکن اسکی خفگی کو نظر انداز کرکے عالم نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹا کر اسکے اوپر جھک گیا
“عادت ڈال لو کیونکہ میرا یہ ظلم تو تمہیں اب ساری عمر سہنا ہے” اسکے بال کان کے پیچھے کرکے وہ اسکی بیوٹی بون پر جھک گیا
عالم کی داڑھی مونچھوں کی چھبن نے اسے کھلکھلانے پر مجبور کردیا اور اسکی یہ کھلکھلاہٹ سن کر عالم کا انداز مزید شدت اختیار کرگیا
“عالم” اسکی شدتوں سے گھبرا کر آئرہ نے اپنا ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا
جب عالم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور اسکے دیکھتے ہی آئرہ کی نظریں جھک گئیں
عالم نے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور اسکے ایسا کرتے ہی آئرہ نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اگلے ہی لمحے اسے اپنی بند آنکھوں پر عالم کا لمس محسوس ہوا
اس سے دور ہٹ کر عالم نے اپنی شرٹ اتار کر دور پھینکی اور اسکے لبوں کو اپنی قید میں لے کر اس پر کالی گھٹا کی مانند چھا گیا
°°°°°
“ہیلو” کال پک کرتے ہی اسکے کانوں میں معتصم کی گھمبیر آواز گونجی
“تم صبح ناشتہ کرکے کیوں نہیں گئے”
“میرا موڈ نہیں تھا” اسکی سنجیدہ آواز سن کر وہ بات کرنے کے لیے دوسرے لفظ سوچنے لگی
“وہ مجھے کچھ کہنا تھا”
“پریشے جلدی کہہ دو جو کہنا ہے مجھے اور بھی کام ہیں” اسکی جھنجھلائی ہوئی آواز سن کر پریشے کی آنکھیں نم ہوچکی تھیں بھلا کہاں اس نے معتصم کا یہ انداز دیکھا تھا
“میرا نام پری ہے”
“تمہارا نام پریشے ہے پری لوگ تمہیں پیار سے کہتے ہیں”
“ہاں تو تم بھی کہہ دو پیار سے” معتصم کے کہنے پر اسنے جلدی سے کہا جس پر خود ہی شرمندہ ہوگئی پتہ نہیں وہ اسکے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا
“تم اپنا کام کرو” اسنے جلدی سے فون بند کردیا اور اپنی کہی باتوں پر شرمندہ ہوتی رہی کاش معتصم اسکے سامنے ہوتا اور اپنی کہی بات پر وہ اسکا مسکراتا چہرہ دیکھ لیتی تو اتنی شرمندہ نہیں ہوتی
°°°°°
صبح اٹھے ہی اسکی پہلی نظر عالم کے شرٹ لیس چوڑے سینے پر پڑی جسے دیکھ کر شرمیلی سی مسکراہٹ اسکے لبوں پر دوڑ گئی
اسنے عالم کے سینے پر رکھا اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اسکی مونچھ کو کھینچ کر دوبارہ اپنا سر اسکے سینے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں
اسنے عالم کی مونچھ اتنی زور سے کھینچیں تھیں کے اک دم ہوتی تکلیف سے اسکی آنکھ کھل چکی تھی اسکی سب سے پہلی نظر اسکی نظر اپنے سینے پر لیٹی آئرہ پر گئی
“کیا بات ہے میں سکون سے سوتا اچھا نہیں لگ رہا ہوں جو مجھے اٹھادیا یا پھر تمہاری یہ شکایت دور نہیں ہوئی کے میں ان رومینٹک ہوں” اسے بیڈ پر لٹا کر وہ اسکے اوپر جھک گیا
“پلیز عالم مجھے سونے دیں”
“میری نیند تم نے خراب کی ہے”
“میں نے تو صرف تھوڑی سی مستی کی تھی” اسنے منمناتے ہوے کہا
“میں بھی تھوڑی سی کرلوں”
“نہیں مجھے نیند آرہی ہے مجھے سونے دیں”
“اور جو میری نیند تم نے خراب کی ہے”
“میں نے آپ کی نیند خراب نہیں کی”
“بلکل نیند نہیں تم نے میری نیت خراب کردی ہے” اسے رات والے موڈ میں واپس آتے دیکھ کر اسے اپنی کی ہوئی مستی مہنگی لگ رہی تھی
“نو عالم پلیز”
“یس آئرہ پلیز” اسکے ہاتھوں کو اپنی قید میں لے کر وہ اسکے لبوں پر جھک گیا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial