قسط: 24
“اتنی جلدی آنے کی کیا ضرورت تھی کچھ دن اور رک جاتے”
“میں نے تو کہا تھا آپ کی بہو نہیں مانی ، ویسے بھی میرا اصل ہنی مون تو شروع ہی اب ہوا تھا”دوسری بات اسنے بڑبڑاتے ہوے کہی
“کیا بڑبڑا رہے ہو عالم”
“اماں سائیں آپ انہیں چھوڑیں میں آپ کو گفٹس دکھاتی ہوں”
“بلکل بچہ میں ضرور دیکھوں گی لیکن ابھی تم لوگ جاکر آرام کرو سفر سے آے ہوے ہو میں کھانا بھی بھجوادیتی ہوں کمرے میں فریش ہوجاؤ پھر سب سے مل بھی لینا” انہوں نے پیار سے اسکا گال تھپتھپا کر کہا جس پر مسکراتے ہوے وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“تم یہاں کیوں بیٹھے ہو جاؤ کمرے میں یہ سامان ملازم کے ہاتھ میں کمرے میں بھجوادوں گی” ثمرین بیگم نے اسے وہیں بیٹھے دیکھ کر کہا
“نہیں اماں سائیں میں پہلے زمینوں پر جاؤں گا پھر آکر آرام کروں گا” موبائل جیب میں رکھ کر وہ وہاں سے جانے لگا جب ثمرین بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا اور پیار بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگیں
“ماشاءاللہ بہت پیارے لگ رہے ہو” انہوں نے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھتے ہوے کہا جس نے اس وقت نیوی بلیو شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پہنی ہوئی تھی اسکا یہ حولیہ گھر کے ہر فرد کے لیے ہی نیا اور حیران کن تھا
“یہ سب آپ کی بہو کی کارستانی ہے”
“خوش ہو عالم”
“آپ کو کیا لگ رہا ہے” اس نے الٹا سوال پوچھا
“مجھے تو بہت خوش لگ رہے ہو جبکہ تمہاری شادی سے پہلے میں بہت فکر مند تھی کے پتہ نہیں آئرہ کیسی ہوگی تمہارے ساتھ کیسی رہے گی لیکن اب تم دونوں کو دیکھ کر سارے خدشے دور ہوگئے” انہوں نے مسکراتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھتے ہوے کہا
“ہاں فکر مند تو ہونا چاہیے پتہ ہے نہ کیسی پٹاخہ ہے وہ”
“ہاں وہ ایسی ہے اور میں تو جیسے تمہیں جانتی ہی نہیں ہوں”
“میں تو چھوٹا معصوم سا بچہ ہوں اماں سائیں” مسکراتے ہوے عالم انکی پیشانی پر پیار کرکے گھر سے نکل گیا
°°°°°
“اپنی تیاری کرلو” اسنے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا
“ہم واپس جارہے ہیں”
“میں جارہا ہوں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں گا”
“گھر کیوں چھوڑو گے” اسکا دل زوروں سے دھڑکا
“تمہارے بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آنٹی کا فون آیا تھا میرے پاس انہوں نے بتایا ہے تمہیں بہت یاد کررہے ہیں میں نے سوچا تم کچھ دن وہاں رہ لو گی”
“معتصم” کمرے میں رکھی فائلز میں سے ایک نکال کر وہ کمرے سے جانے لگا جب اسے پریشے کی آواز سنائی دی اسکے قدم رک گئے تھے لیکن وہ مڑا نہیں تھا
اپنی انگلیاں مڑوڑتے ہوے اسنے معتصم کی پشت کو دیکھا الفاظ جیسے زبان پر آہی نہیں رہے تھے
“کچھ نہیں” اسکے کہتے ہی وہ مظبوط قدم اٹھاتا وہاں سے چلا گیا
°°°°°
“تم اندر جاؤ میں تھوڑی دیر میں آرہا ہوں” گاڑی حویلی کے قریب روک کر اسنے کسوا سے کہا
“آپ کہاں جارہے ہیں”
“فائل پر میرے سائن چائیے امپورٹینڈ ہیں تو آفس ورکر آنے والا ہے اسے لے کر”
“اسے یہیں بلا لیں اور اندر چلیں”
“میں بس ابھی آرہا ہوں کسوا تم اندر جاؤ”
“پہلے سب سے مل تو لیں کسی کو پتہ بھی نہیں ہوگا ہماری آمد کا”
“کسوا تم اندر جاؤ اور جاکر سب کو بتاؤ ہم آگئے ہیں جب تک تم سب سے ملو گی میں پہنچ جاؤں گا” اسنے پیار سے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے جس پر مسکراتی ہوئی وہ اندر چلی گئی
°°°°°
“کسوا تم کب آئیں”حویلی میں واپس آتے ہی جس پہلے انسان سے اسکا سامنا ہوا وہ کسوا تھی جو اسکی طرف پشت کیے کھڑی یقینا اندر جارہی تھی
“لالا” اسکی آواز سن کر کسوا نے مڑ کر اسے دیکھا لیکن اس سے پہلے وہ عالم کے قریب جاتی چکر آنے کے باعث وہیں زمیں بوس ہوگئی جسے دیکھ کر عالم بھاگ کر اسکے پاس آیا اور اسکا گال تھپتھپانے لگا
“کسوا میرا بچہ کیا ہوا ہے” اسنے پریشانی سے اسے پکارا لیکن اسکے ہوش میں نہ آنے پر ثمرین بیگم کو آواز دے کر اسے اپنی بانہوں میں اٹھاے عصیم کے کمرے کی طرف لے گیا
°°°°°
عالم کی کال سنتے ہی وہ پریشانی میں ڈرائیونگ کرکے حویلی پہنچا تھا جہاں عالم باہر ہی اسے مل گیا
“کیا ہوا ہے کسوا کو”
“کچھ نہیں بس جو امتحان تو نے دیا تھا اسکا نتیجہ ہے”
“عالم کیا بول رہا ہے”
”مجھے بتاتے ہوے اچھا نہیں لگ رہا اندر اپنے کمرے میں جاکر پوچھ لے”اسکا شرارت بھرا انداز عصیم نے نوٹ ہی نہیں کیا تھا بس اسکی بات سنتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جہاں اسکے کمرے میں فارینہ ثمیرن اور مبشرہ بیگم بیٹھیں تھیں
“ماشاءاللہ میرا بچہ بہت بہت مبارک ہو” فارینہ بیگم نے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے پیار کیا
“اماں سائیں کیا ہوا ہے عالم کی کال آئی تھی کیا ہوا ہے کسوا کو” اسنے بیڈ پر سر جھکائے بیٹھی کسوا کو دیکھا
“عصیم اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے کسوا بےہوش ہوگئی تھی حویلی سے کچھ فاصلے پر ایک ڈاکٹر رہتی ہے تو ہم نے اسے بلایا تھا اس نے بتایا کے ہمارے گھر میں ایک نیا مہمان آنے والا ہے ماشاءاللہ میرا بچہ باپ بننے والا ہے اب بس تم کسوا کا خیال رکھنا اور شہر لے جاکر کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا دینا میں مٹھائی تو منگوا لوں” اسے حیرت میں چھوڑ کر وہ تینوں کمرے سے چلی گئیں
انکے جاتے ہی اسنے حیرت سے کسوا کو دیکھا اور جاکر اسکے قریب بیٹھ گیا جبکہ اسکے بیٹھے ہی وہ بیڈ پر رکھے کمبل میں چھپ گئی
“کسوا باہر نکلو میری طرف دیکھو”
“مجھے نہیں دیکھنا شاہ” اسنے اسی پوزیشن میں لیٹے ہوے ہی کہا جس پر عصیم نے کمبل سمیت اسے خود میں بھینچ لیا
“آئی لو یو آئی لو یو سو مچ مائی لائف”نم آواز میں کہتے ہوے اسنے کسوا کا چہرہ باہر نکالا اور اسکے چہرے پر اپنا پیار بھرا لمس چھوڑ کر دوبارہ اسے خود میں بھینچ لیا
°°°°°
“کہاں جارہی ہو تم”
“میں کسوا سے ملنے جارہی ہوں مجھے ملازمہ نے بتایا وہ آگئی ہے اور مجھے یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ ایک نیا مہمان بھی آنے والا ہے”آئرہ کے کہنے پر عالم حیرت سے اسے دیکھنے لگا وہ شرما کر تو ایسے بتارہی تھی جیسے یہ نیا مہمان کسوا نہیں بلکہ اسکی خود کی وجہ سے آنے والا ہوگا
“اچھا مجھے تو لگا تھا تمہیں جلن ہوگی کے کسوا نے یہ خبر دے دی اور تم نے نہیں دی” اسے اپنے حصار میں لے کر عالم نے شرارت سے کہا
“توبہ ہے عالم میں کیوں جیلیس ہوں گی وہ بہن ہے میری یہ تو خوشی کی بات ہے میں خالا بننے والی ہوں”
“تم خالا نہیں ممانی بننے والی ہو”
“نہیں میں خالا بننے والی ہوں”
“کسوا میری بہن ہے”
“ہاں تو وہ میری بھی بہن ہے”
“چھوڑو اس بات کو مجھے یہ بہن بہن نہیں کھیلنا”اسنے جیسے تنگ آکر کہا
“اچھا پھر مجھے تو جانے دیں چھوڑیں مجھے” آئرہ نے اسکی گرفت سے نکالنا چاہا لیکن وہ اسی طرح مظبوطی سے اسے اپنے حصار میں لیے کھڑا رہا
“میں اتنی ٹینشن میں ہوں اور تمہیں کسوا کے پاس جانے کی لگی ہوئی ہے مل لینا صبح اس سے ابھی ویسے بھی عصیم اسکے پاس ہے اچھا تھوڑی لگے گا”
“کیا پریشانی ہوگئی ہے آپ کو”
“عصیم نے سب کو خوش خبری سنادی ہے ہم کب سنائیں گے”
“اف عالم مجھے لگا آپ واقعی میں کوئی سیریس بات کررہے ہیں”
“اس سے زیادہ سیریس بات بھلا اور کیا ہوگی میری جان”
“عالم سدھر جائیں”
“میں نے سنا عالم بگڑ جائیں تو ہم بگڑ جاتے ہیں” جھٹکے سے اسنے آئرہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اسکی ہر مزاحمت کو نظر انداز کرکے اپنی اپنی کرتا چلا گیا