عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 26

“آپ نے یہ بات سچ کہی تھی کہ آپ نے اپنی بیوی اور بھائی کو مارا تھا لیکن کیوں مارا تھا یہ جھوٹ بولا تھا بتائیں سب کو سچ کے آپ نے کیوں مارا تھا اپنی بیوی اور بھائی کو” انکے سفید پڑتے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوے اسنے ایک ایک لفظ چپا کر کہا
“تمہیں اندازہ ہے لڑکی تم کہہ کیا رہی ہو”ثقلین صاحب نے اسکے قریب آکر سخت لہجے میں کہا
“جی مجھے بلکل اندازہ ہے میں کیا کہہ رہی ہوں میں سچ بتارہی ہوں اس جھوٹ سے پردہ اٹھا رہی ہوں جو انہوں نے سالوں پہلے سب سے کہا تھا”
°°°°°
“جمال یہ تمہاری اولاد ہے” انہوں نے کمبل میں موجود وہ ایک ماہ کا بچہ ان کے سامنے کیا جسے دیکھتے ہی جمال شاہ نے چہرہ پھیر لیا
“میں کیسے مان لوں یہ میری اولاد ہے جس طرح تم میرے ایک کہنے پر آسانی سے میرے پاس آگئی تھیں کیا پتہ کسی اور کے پاس بھی چلی گئی ہوگی” انکے الفاظ وریشہ شاہ کے قدموں سے جیسے زمین نکال چکے تھے
“تم یہ کیا کہہ رہے ہو نکاح کیا تھا تم نے مجھ سے بیوی ہوں میں تمہاری یہ ہماری اولاد ہے میرے پاس سارے ثبوت ہیں ٹیسٹ رپورٹ ہمارا نکاح نامہ” انہوں نے اپنے بیگ سے چند کاغذات نکال کر جمال شاہ کے سامنے رکھے
“شاید تم اب بھی خود کو میری بیوی سمجھ رہی ہو اگر ایسا ہے تو ان باتوں سے باہر نکل آؤ اور اگر تمہیں یہ لگ رہا ہے کہ میں نے تم سے نکاح تمہاری محبت میں کیا تھا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے تم مجھے اچھی لگیں تھیں مجھے بس تمہارے ساتھ چند لمحے گزارنے تھے جو میں نے گزار لیے اور میں اب یہ قصہ ختم کر دینا چاہتا ہوں میں جمال شاہ”
“جمال نہیں پلیز تمہارے سوا میرا کوئی نہیں ہے میری ماں تمہاری وجہ سے مر گئی پلیز اب تم مجھے مت مارو” انہوں نے چیختے ہوئے کہا لیکن جمال شاہ انکے اور اپنے درمیان موجود رشتہ ختم کرچکے تھے
“اب میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے حویلی سے نکل ہوجاؤ سب اس وقت شادی پر گئے ہوے ہیں آنے والے ہوں گے اور میں چاہتا ہوں کہ ان کے آنے سے پہلے تم اپنی یہ شکل لے کر یہاں سے دفع ہوجاؤ” انہیں گم سم چھوڑ کر وہ وہاں سے جانے لگے جب دروازے پر کھڑے وجود کو دیکھ کر انکے قدم رک گئے
وہاں عاقب شاہ اور یاسمین شاہ کھڑی تھیں انہیں دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ وہ یہاں ہوئی ان دونوں کی ساری باتیں سن چکے تھے
“لالا سائیں آپ ایسے ہوں گے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا” عاقب شاہ نے بےیقینی سے انہیں دیکھتے ہوے کہا
“تم دونوں غلط سمجھ رہے ہو”
“کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے جمال ہم سب کچھ سن چکے ہیں اب آپ کے جھوٹ سے پردہ اٹھ چکا ہے” یاسمین کے لہجے میں افسوس تھا
“یہ ابھی کے لیے یہیں رہے گی اب گھر کے بڑے ہی یہ فیصلہ کریں گے”
“کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب سب سن ہی چکی ہو تو پھر بات کیوں بڑھا رہی ہو میں اسے طلاق دے چکا ہوں اب اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے”انہوں نے ایک نظر وریشہ کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے انہیں ہی دیکھ رہی تھیں انکی گود میں موجود وہ چھوٹا سا وجود رو رہا تھا
“میں نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا ہے اس بات کو یہیں ختم کر دو”
“کیوں ختم کردوں تم نے مجھے سکھایا ہے کہ ایک عورت کو اپنے لیے لڑنا چاہیے اور میں تمہاری ان باتوں پر ضرور عمل کروں گی میں اس عورت کے لیے لڑوں گی تم نے مجھے آج تک بنا چادر کے اپنے کمرے سے نہیں نکلنے دیا کیونکہ تمہیں اچھا نہیں لگتا تھا کہ کوئی بھی تمہاری بیوی کو دیکھے پورے گھر میں پورے گاؤں میں تم سب کو یہ بتاتے پھرتے ہو جمال کے تم کتنے غیرت مند ہو میں دکھاتی ہوں سب کو کہ تم کتنے غیرت مند ہو”
“کیا کرو گی تم”
“ہم کچھ نہیں کریں گے جو کریں گے وہ بابا سائیں کریں گے” جواب عاقب کی طرف سے آیا تھا اور انکی یہ باتیں جمال شاہ کو ڈرنے پر مجبور کررہی تھیں
آج تک انکی بیوی بنا چادر کے اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی پورا گاؤں انکی عزت کرتا تھا اگر سب کو معلوم ہوجاتا کہ جمال شاہ نے صرف چند حسین لمحوں کے لیے کسی سے نکاح کیا تھا اپنی بیوی کے ساتھ بےوفائی کی تھی اور اپنی ہی اولاد کو ماننے سے انکار کردیا تھا تو اس سب کے بعد انکی کیا عزت رہ جانی تھی
“تم چلو میرے ساتھ” انہوں نے وریشہ کا ہاتھ تھاما اور ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگیں جب اگلے ہی لمحے جمال شاہ نے دیوار پر لٹکی بندوق اتار کر اسکا رخ اپنی بیوی کی طرف کردیا
“یاسمین میں کہہ رہا ہوں اسے یہاں سے بھیج دو تم جانتی ہو میرے نزدیک میری عزت میری غیرت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اس سب کے خاطر میں تم دونوں کو مارنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا اور تمہیں مارتے وقت میں یہ بھی نہیں سوچوں گا کہ تم میرے بچوں کی ماں ہو”
“یوں کہیں کہ آپ ڈرتے ہیں لالا سائیں آپ ڈرتے ہیں لوگوں کی ان نظروں سے جن سے ساری حقیقت جاننے کے بعد وہ آپ کو دیکھیں گے”
“میں کہہ رہا ہوں عاقب تم دونوں اسے یہاں سے بھیج دو یہ معاملہ یہیں ختم ہوجاے گا”
“کیوں بھیج دیں ہم اسے یہاں سے تاکہ موقع ملتے ہی اسکی طرح تم کسی اور لڑکی کی زندگی خراب کردو میں بابا سائیں کو فون کررہی ہوں” اپنے آنسو صاف کرکے وہ وہاں سے جانے لگیں جب غصے میں آکر جمال شاہ نے گولی چلائی
پہلی گولی عاقب شاہ کو لگی جبکہ دوسری گولی یاسمین شاہ کو لگی تھی تکلیف سے تڑپ کر وہ وہیں گرچکے تھے
“یہ کیا کردیا تم نے پاگل انسان”وریشہ نے چیختے ہوے جمال شاہ کی طرف دیکھا اور فکرمندی سے یاسمین کے قریب بیٹھ گئیں
“آپ فکر مت کریں میں ابھی ڈاکٹر بلاتی ہوں آپ دونوں کو کچھ نہیں ہوگا” وریشہ نے سسکیوں سے روتے ہوے کہا
“ن–ہیں تم ی-یہاں سے چ-چلی جاؤ اگر تم یہیں رہو گی تو و–وہ تمہیں بھی م–ما-مار دے گا” تکلیف سے تڑپتے ہوے انہوں نے وریشہ سے کہا
وریشہ نے اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے جمال شاہ کو دیکھا جو بت بنا زمین پر موجود خون میں لت پت وجود کو دیکھ رہا تھا انکی آنکھوں میں بےیقینی تھی جیسے انہیں یقین ہی نہیں آرہا ہو کہ زمیں پر گرے وہ وجود جن کی سانس بھی اب رک چکی تھی وہ انکی وجہ سے رکی تھی
وریشہ کب وہاں سے گئی انہیں کچھ علم نہیں ہوا انکی نظریں تو بس یک ٹک زمیں پر پڑے ان بےجان وجود پر تھیں اپنی اس کیفیت سے وہ باہر تب نکلے جب باہر گاڑی کی آواز سنائی دی
جسے سن کر وہ فورا ہوش کی دنیا میں لوٹے نظر سب سے پہلے زمین پر گرے ان کاغذات پر گئی جو وریشہ نے انہیں دکھانے کے لیے رکھے تھے تیزی سے اٹھ کر انہوں نے ان کاغذوں کو اپنی کمیز کی جیب میں ڈالا
نظریں پھر سے عاقب شاہ اور یاسمین شاہ کی طرف چلی گئیں
وہاں کا منظر سب سے پہلے بابا سائیں نے دیکھا تھا زمین پر گرے بندوق اور خون میں لت پت عاقب اور یاسمین
بابا سائیں کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کہ وہاں کیا ہوا تھا انہوں نے بس یہی پوچھا تھا کہ یہاں جو ہوا تھا وہ کیوں ہوا تھا
جس پر جمال شاہ نے یہ کہہ دیا کہ وہ اپنے دوست سے ملنے گئے تھے اور حویلی واپس آتے ہی انہوں نے عاقب اور یاسمین کو ایسی حالت میں دیکھا تھا جسے وہ برداشت نہ کرسکے اور ان دونوں کو وہیں مار دیا
انکی اس بات پر سب یقین بھی کرچکے تھے کیونکہ سب جانتے تھے کہ عاقب اور یاسمین ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے جمال اور یاسمین کی شادی صرف اسلیے ہوئی تھی کیونکہ وہ جمال شاہ کی منگ تھی
شادی کے بعد یاسمین نے اس رشتے کو پورے خلوص سے نبھایا تھا اور یہ سب جانتے تھے لیکن یہ اچانک ہوا واقعہ ان سب کی یاسمین کے لیے سوچ بدل چکا تھا
°°°°°
“یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے” اسکی ساری بات سن کر دادا سائیں نے چیخ کر کہا جس عزت کے لیے انہوں نے یہ سب کیا تھا تو کیا آج وہ ان سے چھننے جارہی تھی
“یہ جھوٹ نہیں کہہ رہی ہے”پریشے کی بات پر کسی کو بھی یقین نہیں آیا تھا لیکن مبشرہ بیگم کی آواز سنتے ہی ان سب کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا
“پری سب کچھ سچ کہہ رہی ہے”
”مبشرہ دماغ درست ہے تمہارا یہ کیا کہہ رہی ہو” انکے قریب آکر عفان شاہ نے غراتے ہوے کہا
“مجھے پتہ ہے میں کیا کہہ رہی ہوں عفان اور میں سچ کہہ رہی ہوں اسی لیے میں حویلی چھوڑ کر گئی تھی”
°°°°°
فون کی پہلی بیل پر ہی انہوں نے بنا نمبر دیکھے تیزی سے کال پک کرلی
“ہیلو”
“کیا حال ہیں”دوسری طرف عفان شاہ کی آواز سنائی دی
“عفان کام پر جاکر تم کرتے کیا ہو تین گھنٹے کے لیے جاتے ہو جس میں سے پانچ بار تو مجھے ہی فون کرلیتے ہو ابھی تو پانچ منٹ پہلے بات کی تھی”
“تمہاری یاد آرہی تھی اسلیے دوبارہ فون کرلیا”
“تو کرلی بات اب میں فون رکھ رہی ہوں دوبارہ مت کیجیے گا آئرہ سورہی ہے اتنی مشکل سے سلایا ہے میں نے اسے اگر وہ جاگی نہ تو آپ کو گھر بلاؤں گی کہ آکر اسے سلائیں” انہوں نے بیڈ پر لیٹی اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوے کہا جو اپنا انگھوٹھا منہ لیے مزے سے سورہی تھی
“سلا دوں گا اپنی شہزادی کو لیکن پہلے تم میرا ایک کام کرو بابا سائیں کے کمرے میں جاؤ اور انکی وارڈروب میں ایک سلور کلر کی فائل ہوگی وہ نکال لو میں نے ملازم بھیجا ہے اسکے ہاتھ بھجوادینا”
“میں انکے کمرے میں جاؤں”
“ہاں وہ اس وقت باہر گئے ہوے ہیں ورنہ میں انہیں ہی فون کرتا میں بھابھی سائیں سے کہہ دیتا لیکن وہ بھی گھر پر نہیں ہیں”
اسنے اوکے کہہ کر فون رکھ دیا اور گہری سانس لے کر اپنی جگہ سے اٹھ گئیں
وہ آج تک اپنے سسر کے کمرے میں نہیں گئی تھی کبھی ضرورت بھی نہیں پڑی وہ ویسے بھی ان سے فاصلہ بنا کر ہی رکھتی تھی کیونکہ اسے ان کی خود پر ٹکی نظریں عجیب لگتی تھیں
انکے کمرے میں آکر وہ انکی وارڈروب کھول کر اس میں سے فائل ڈھونڈنے لگی اوپر پتہ نہیں کون کون سی فائل اور کاغذات پڑے ہوے تھے اسنے ڈھونڈ کر نیچے دبی وہ سلور فائل نکال لی جب ساتھ ہی کچھ کاغذ اسکے قدموں میں آگرے
اسنے اٹھا کر انہیں واپس رکھنا چاہا لیکن ان پر لکھے لفظ دیکھ کر وہ حیرت سے اپنی جگہ کھڑی رہ گئی
کچھ کاغذ بہت پرانے تھے مڑے ہوے جن پر لکھے لفظ تقریباً مٹ ہی چکے تھے بس کچھ لفظ ہلکے ہلکے نظر آرہے تھے اگر کچھ صاف دکھ رہا تھا تو وہ تھا نکاح نامہ جو جمال شاہ اور وریشہ کا تھا پلاسٹک کوڈنگ کی وجہ سے اسکی حالت باقی کے کاغذات کی طرح نہیں ہوئی تھی
“تم یہاں کیا کررہی ہو”دادا سائیں نے جھپٹنے کے انداز میں اسکے ہاتھوں سے وہ نکاح نام چھینا جبکہ انکی آواز سنتے ہی وہ گھبرا کر پیچھے ہوئی وہ کمرے میں کب آے تھے اسے پتہ ہی نہیں چلا
“ک-کیا ہے یہ سب”
“تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں نکلو میرے کمرے سے اور یہ بات تم کسی کے سامنے نہیں کہو گی”
“کیوں نہیں کہوں گی میں ضرور کہوں گی آپ کے اس نکاح کے بارے میں سب کو بتاؤں گی” انکے کہنے پر دادا سائیں کا قہقہہ کمرے میں گونجا
“میں نے تو نکاح کے علاؤہ بھی بہت کچھ کیا ہے میں نے تو اپنے بھائی اور بیوی کو بھی مارا ہے صرف اس عورت کی وجہ سے” انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود نکاح نامے کی طرف دیکھا
“لیکن آج تک کسی کو یہ بات پتہ نہیں چلی کہ میں نے اصل میں انہیں مارا کیوں تھا جیسے انہیں مار دیا ویسے تمہیں بھی مار دوں گا اور پھر کوئی کہانی بنا دوں گا کوئی مجھے کچھ نہیں کہے گا”
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ اتنے گھٹیا انسان نکلیں گے”
“میں بہت گھٹیا ہوں اور تمہارے ساتھ میں تمہیں مارنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کرسکتا ہوں”
“آپ کو شرم نہیں آتی میں بہو ہوں آپ کی”
“تم میرے بیٹے کی بیوی ہو باقی جو عورتیں اس گھر میں موجود ہیں وہ میری بہو ہیں کیونکہ وہ میرے خاندان کا حصہ ہیں تم نہیں ہو میرا بیٹا کل کی ملی لڑکی کے لیے اپنے باپ کو نہیں چھوڑے گا بلکہ اپنے باپ کے کہنے پر اس لڑکی کو ضرور چھوڑ دے گا تو اگر عزت سے یہاں رہنا چاہتی ہو تو اپنا منہ بند رکھنا”
آج پہلی بار اسے اپنے سامنے کھڑے اس شخص سے خوف آرہا تھا یہ کیسی حقیقت تھی جس کا اس پر انکشاف ہوا تھا
انہوں نے عفان شاہ کو ہر بات بتانی چاہی لیکن دل میں یہ ڈر بیٹھ چکا تھا کہ یہ سب باتیں انکا رشتہ نہ خراب کردیں
ایسے میں آئرہ اور عالم کی منگنی انہیں اور پریشان کرچکی تھی اگر یہ حقیقت انکے علم میں نہ آتی تو وہ بھی اس رشتے پر خوش ہوتیں لیکن اب ایسا نہیں تھا
وہ بس کسی بھی طرح اپنی بچی کو اس ماحول سے دور لے جانا چاہتی تھیں وہ نہیں چاہتی تھیں کہ انکا ایک اور رشتہ اس خاندان کے ساتھ جڑے دل میں اندر ڈر بیٹھ چکا تھا
عفان شاہ کو کھونے کا ڈر اپنی عزت کا ڈر اور اس نکاح کا ڈر جو گھر والے عالم اور آئرہ کا کرنا چاہ رہے تھے اور یہی ڈر انہیں اس گھر سے انکے محبوب شوہر سے بہت دور کر چکا تھا
°°°°°
“اگر یہی سب بات تھی تو تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا”
“کیونکہ میں ڈر گئی تھی مجھے ان کی بات سچ لگی کہ اپنے باپ کو چھوڑ کر میری بات پر کیوں یقین کرو گے”
“ہاں وہ ہمارا بیٹا ہے وہ تمہاری بات پر یقین نہیں کرے گا عفان تم اس عورت کی بات بلکل مت سننا تم سب جانتے ہو نہ ہمیں” دادا سائیں کے کہنے پر پریشے کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی
وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی اور دو منٹ بعد ہی اسکی واپسی ہوگئی اسکے ہاتھ میں پیپرز تھے جو اسنے لاتے ہی ٹیبل پر پھینک دیے
“جو پیپرز اماں جان آپ کے پاس لائی تھیں وہ فوٹو کاپی تھی شاید آج کے دن کے لیے ہی اماں جان نے مجھے یہ سارے پیپرز دیے تھے آپ کو پتہ ہے یہ سب کچھ کتنا سمبھال کر رکھا تھا اس میں نکاح نامہ ٹیسٹ رپورٹ ہر طرح کے ثبوت ہیں میرا نہیں خیال یہ دیکھنے کے بعد آپ کچھ اور کہنا چاہیں گے”
اسکی بات سنتے ہی معتصم نے ٹیبل پر رکھے ان پیپرز کو اٹھایا اور دادا سائیں کی رنگت جیسے سفید ہوچکی تھی وہ یہ سب کرے گی یہ تو انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial