عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 27 حصہ 2

گھر کے ماحول میں عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی ظفر صاحب گھر آچکے تھے اور اسے یہ بات بھی پتہ چل چکی تھی کہ اماں جان اسکی شادی کے فورا بعد ہی ظفر صاحب جو ساری باتیں بتاچکی تھیں
یہ جان کر کہ انکے اپنے انکے اتنے قریب ہیں دل میں ملنے کی خواہش تو کافی پیدا تھی لیکن یہ سوچ کر اس خواہش کو دبالیا کہ دوسری طرف تو کسی کو اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ انکا ایک بھائی بھی ہے
لیکن اب سب کچھ جاننے کے بعد حویلی والے یہ چاہتے تھے کہ اماں جان سمیت سب گھر والے حویلی آجائیں کیونکہ ان سب کی اصل جگہ وہ حویلی ہی تھی
°°°°°
بابا کو میڈیسن دے کر وہ کمرے سے نکلی باہر کھلی ہوا میں جاکر سانس لینے لگی جب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اسنے مڑ کر دیکھا وہاں وصی کھڑا تھا اسکی ناک پر ابھی بھی ہلکا سا زخم تھا معتصم کی دی وہ چوٹ اب کافی کم ہوچکی تھی
“تم نے کیا سوچا ہے پری”
“میں نے کیا سوچا ہے” اسنے لاپروائی سے پوچھا
“معتصم ہے بارے میں کیا تم اب بھی اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہو بھول تو نہیں گئیں کہ وہ تمہیں کس طرح اس گھر سے لے کر گیا تھا”
“وصی تم کیا چاہتے ہو”
“میں تمہیں چاہتا ہوں پری اور میں آج بھی اس انتظار میں ہوں کہ تم کب میرے پاس واپس آؤ گی”
“تمہیں اندازہ ہے جو تم چاہ رہے ہو اگر وہ ہوگیا تو کتنے رشتے خراب ہوجائینگے”
“مجھے پرواہ نہیں ہے”
“لیکن مجھے ہے” اسنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا
“میں بھلا کیوں اپنی بہن کا گھر برباد کروں گی ہم دونوں صرف ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے درمیان میں ایک رشتہ جڑا ہوا تھا اسکے علاؤہ ہمارے درمیان اور کچھ نہیں تھا عینہ سے زیادہ تمہیں اور کوئی اچھا ساتھی نہیں مل سکتا ہے وصی چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس خاص ہوتا ہے اور میں یہ بات جانتی ہوں تم بھی جان لو اسکی محبت کو اور مت آزماؤ”
“وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ہے ہم بس دوست تھے”
“کرتی ہے تم نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ وہ تم سے کتنی محبت کرتی ہے لیکن اسنے کبھی اس بات کا اقرار ہی نہیں کیا پتہ ہے وصی میں معتصم کو نہیں چھوڑ سکتی ہوں کیونکہ مجھے احساس ہوچکا ہے کہ وہ شخص میرے لیے کتنا اہم ہے خدا نے بن مانگے ہی مجھے وہ شخص دے دیا جس کی خواہش پتہ نہیں کتنی لڑکیوں نے کی تھیں معتصم میرے لیے خدا کا تحفہ ہے اور میں اب اس تحفے کی مزید ناشکری نہیں کروں گی میں معتصم کے ساتھ خوش ہوں جو مجھے چاہتا ہے اور میں بھی اسے چاہنے لگی ہوں تم بھی عینہ کے ساتھ زندگی شروع کرو جو تمہیں چاہتی ہے اور مجھے یقین ہے تم بھی اسے چاہنے لگو گے” اسکے چہرے پر ایک الگ ہی سکون تھا
اطمینان بھرے لہجے میں کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئی
°°°°°
اسکا سارا تیار شدہ سامان اسکے سامنے پڑا تھا جبکہ نظریں بار بار دروازیں کی طرف اٹھ رہی تھیں
تیں گھنٹے بعد اسکی فلائٹ تھی اور اس وقت وہ اپنے گھر کے لاؤنج میں بیٹھا اسکا انتظار کررہا تھا جبکہ سوچو کا رخ اپنی ہی کہی باتیں تھیں
“میں نے اس سے کہہ دیا کہ میں اسے چھوڑ دوں گا لیکن کیا میں اسے چھوڑ سکتا ہوں نہیں معتصم شاہ مر تو سکتا ہے لیکن پریشے شاہ کو چھوڑ نہیں سکتا اگر اسنے مجھ سے علیحدگی کا کہہ دیا تو میں کیا کروں گا”
بے چینی سے کہتے ہوے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اس سے جدا ہونے کا خیال ہی جیسے سانس روک رہا تھا وہ انہی سوچو میں گم کھڑا تھا جب پیچھے سے اسے نرم آواز سنائی دی
“معتصم” حیرت سے مڑ کر اسنے وہاں کھڑی لڑکی کو دیکھا اور رکا ہوا سانس جیسے بحال ہونے لگا
“پری” ہولے سے اسکے لبوں پر حرکت ہوئی
پریشے نے مسکراتے ہوے اسے دیکھا اور بھاگتے ہوے زمین سے چند انچ اوپر ہوکر اسکی گردن میں اپنی بانہیں ڈال کر اسکے گلے لگ گئی اور اسکے ایسا کرتے ہی معتصم کو احساس ہو چکا تھا کہ وہ کوئی خواب نہیں ہے وہ حقیقت ہے
“اگر تم نہیں آتیں تو میں مرجاتا شکریہ مجھے زندگی دینے کے لیے”معتصم نے اسکے بالوں پر اپنے لب رکھ کر اسنے مزید سختی سے خود میں بھینچ لیا
“معتصم تمہاری اتنی سخت گرفت پر میرا سانس رک رہا ہے” اسنے اس سے دور ہونے کی کوشش کی اور زمین سے چند انچ اوپر اپنے پاؤں ہلاے اسکے ایسا کرتے ہی معتصم نے اپنی گرفت ہلکی کردی
“اب تم خود میرے پاس آئی ہو اب تمہیں دور نہیں جانے دوں گا”
“میں اب تم سے دور جانا بھی نہیں چاہتی” اسکے کہتے ہی معتصم نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر اسکے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرلیا اسکی اس حرکت پر پریشے نے سختی سے اسکے کالر کو اپنی مٹھیوں میں بھینچ لیا
فون بجنے پر معتصم نے اسکی سانسوں کو آزاد کیا اور گھور کر فون کو دیکھنے لگا جو معتصم کا تھا جس پر اس وقت آفس ورکر کی کال آرہی تھی
“اٹھا لو”
“نہیں کوئی لاکھ فون کرے میں نہیں اٹھاؤں گا میں اس وقت ہم دونوں کے درمیاں کسی تیسرے کی موجودگی نہیں چاہتا ہوں” اسنے نرمی سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف لے جانے لگا
“معتصم تم پک کرلو ضروری کام بھی تو ہوسکتا ہے”
“مجھے پرواہ نہیں ہے”معتصم نے اسے بیڈ پر لٹا دیا اور اسے پھر سے کچھ کہتا دیکھ کر اسکے لبوں پر اپنی انگلی رکھ دی
“کچھ مت کہنا” اسکے ہونٹوں سے انگلی ہٹا کر وہ اسکے لبوں پر جھک گیا اور انہیں آزاد کرکے اسکا چہرہ دیکھنے لگا سرخ چہرہ لیے وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی
“معتصم” اسے دوبارہ خود پر جھکتے دیکھ کر اسنے گھبرا کر کہا
“بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے اسکا حساب تو دینا پڑے گا” اسکے کندھے سے شرٹ سرکا کر اسنے وہاں اپنے لب رکھ دیے اور اسکی گردن پر جھک گیا
پریشے نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کرلیں جبکہ اسکی اس حرکت پر وہ مسکراتے ہوے اسکی بند آنکھوں پر اپنے لب رکھ کر اس پر حاوی ہوتا چلا گیا
°°°°°
گہرا سانس کے کر اسنے خود کو بیڈ پر گرا لیا جب کمرے کا دروازہ کھول کر عینہ داخل ہوئی اسنے غور سے اسے دیکھا کیا وہ اتنا انجان تھا کہ اسے علم ہی نہیں ہوسکا کہ اسکی دوست اس سے محبت کرتی ہے
“کھانا لاؤں وصی” اسکے کہنے پر وصی نے اپنا سر نفی میں ہلادیا اور اسے اپنے پاس بلایا جبکہ اسکے بلانے پر وہ حیران ہوتی اسکے قریب جاکر بیٹھ گئی
“تمہیں پتہ ہے عینہ آج پری نے مجھے ایک بات بتائی”
“کیا”
“کہ میری بیوی مجھ سے محبت کرتی ہے”
“افسوس ہے کہ یہ بات آپ کو کسی اور سے پتہ چلی ہے”
“تم نے کبھی مجھے بتایا کیوں نہیں”
“موقع نہیں ملا اور میں ڈرتی بھی تھی کہ یہ بات جاننے کے بعد آپ ہماری دوستی ختم نہ کردیں کیونکہ میں جانتی تھی آپ ہمیشہ سے پری کو پسند کرتے تھے”
“ہاں میں کرتا تھا اب بھی کرتا ہوں بس ایسا کوئی موقع چاہتا تھا جس سے میں پری اور معتصم کے بیچ دوری پیدا کردوں لیکن میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ہونا تو وہی ہے جو رب کی رضا ہے اور یہی رب کی رضا تھی پری معتصم کے نصیب میں تھی اور تم میرے میں ساری پرانی باتوں کو بھول کر نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں عینہ” وہ حیرت سے اسکا یہ بدلا ہوا روپ دیکھ رہی تھی
”جب سے شادی ہوئی ہے میرا تمہارے ساتھ رویہ”
“وصی آپ نے ہی تو کہا نہ کہ پرانی باتوں کو بھول کر نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں تو پھر بھول جائیں ان باتوں کو مت دہرائیں”
“میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہارے ساتھ یہ رشتہ ایمانداری اور خلوص سے نبھاؤں اور تمہیں میری طرف سے کبھی کسی چیز کی شکایت نہ ہو” اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ کر وصی نے اسے اپنے حصار میں لے لیا
اور عینہ نے اپنی آنکھیں سکون سے موند کر دل میں خدا کا شکر ادا کیا جس نے اسکی محبت کو آج مکمل طور پر اسکا بنادیا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial