عشق محرم

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 8

ٹیوشن ٹائم ختم ہوتے ہی وہ ثمرین بیگم کے پاس گئی تاکہ ان سے ساری بات جان سکے کہ اسکے معتصم لالا کی کون سی بہن آگئی
اسکے پوچھنے پر ثمرین بیگم نے اسے مختصر لفظوں میں بات بتادی جسے کے بعد اب وہ آئرہ کے کمرے کے سامنے کھڑی تھی
“وہ کیسی ہوں گی اگر غصے والی ہوئیں تو اگر مجھے ڈانٹ کے بھگا دیا تو” اسکے کمرے کے باہر کھڑی وہ کشمکش میں مبتلا تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور آئرہ باہر جانے لگی لیکن اسے اپنے کمرے کے سامنے کھڑے دیکھ کر وہ وہیں رک گئی
“تم کون ہو اور یہاں کیا کررہی ہو”
“وہ میں کسوا ہوں اماں سائیں نے بتایا کے آپ عفان چاچو کی بیٹی ہیں تو میں بس آپ سے ملنے آئی تھی میں آپکی بہن ہوں” کسوا نے جھجکتے ہوے کہا پتہ نہیں آئرہ اسکی بات سن کر کس طرح ری ایکٹ کرے گی
“اگر بہن ہو تو یہاں کیوں کھڑی تھیں دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر آجاتیں چلو آجاؤ” اسکے گال کھینچ کر آئرہ نے مسکراتے ہوے اسے اپنے کمرے میں بلایا
اسے پتہ تھا کہ وہ عالم شاہ کی بہن ہے لیکن اسکا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ اگر اسے عالم شاہ نہیں پسند تھا تو وہ اسکی بہن کو بھی ناپسند کرتی
°°°°°
“بابا سائیں ہم پریشے کے گھر جارہے ہیں” انہوں نے دادا سائیں کے کمرے میں داخل ہوکر کہا دروازہ پورا کھلا ہوا تھا اسلیے دستک کی ضرورت نہ پڑی
“کون پریشے” دادا سائیں نے غائب دماغی سے کہا
“معتصم کی”
“اچھا میں سمجھ گیا”انکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی دادا سائیں نے ہاتھ اٹھا کر مزید کچھ کہنے سے روک دیا
“آپ نہیں چلیں گے” فارینہ بیگم نے پوچھا
“نہیں ہم اسکی شادی میں شرکت کریں گے یہی بہت ہے اور نکاح ہوچکا ہے بس کوئی بھی تاریخ طے کر لینا تاکہ ان دونوں کی شادی ساتھ ہی کردیں گے” انکی بات سن کر وہ جانے کے لیے مڑیں جب انہوں نے اپنی بہو کو آواز دی
“فارینہ”
“جی بابا سائیں”
“جانے سے پہلے ثقلین اور ثمرین کو ہمارے پاس بھیجو ہمیں کچھ بات کرنی ہے” وہ اپنا سر ہلا کر وہاں سے چلی گئیں جب تھوڑی دیر بعد ثقلین صاحب اور ثمرین بیگم وہاں پر آے
°°°°°
“جی بابا سائیں آپ نے بلایا”ثقلین صاحب نے انکے قریب آکر کہا وہ دونوں ہی تیار کھڑے تھے یقینا وہ دونوں بھی وہاں جانے کے لیے ہی تیار کھڑے تھے
“ہاں گھر میں دو شادیاں ہورہی ہیں تو پھر تیسری کی تیاری بھی کرلیتے ہیں” دادا سائیں کے کہنے پر ان دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
“کہیں عفان کی طرح تم بھی تو اس رشتے سے نہیں مکر جاؤ گے” لہجے میں خفگی لیے انہوں نے ثقلین صاحب کو دیکھا
“نہیں بابا سائیں مجھے اچھے سے یاد ہے کہ کسوا کے پیدا ہوتے ہی آپ نے اسے عصیم کے نام کی انگھوٹھی پہنا دی تھی لیکن میرا خیال ہے کے کسوا ابھی بہت چھوٹی ہے”
“کوئی چھوٹی نہیں ہے پڑھائی اسے مزید کرنی نہیں ہے جب بعد میں بھی یہ کام کرنا ہے تو بہتر ہے اب ہی کردیا جاے” انکے رعب دار لہجے پر ثقلین صاحب نے اپنا سر جھکا دیا
“جی بابا سائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے آپ بڑے ہیں جو فیصلہ کرینگے وہ بہتر ہوگا” جواب ثمرین بیگم کی طرف سے آیا تھا
اور باہر کھڑا عصیم جو دادا سائیں سے بات کرنے آیا تھا انکی بات سنتے ہی اسکے مونچھوں تلے عنابی لب دلکشی سے مسکرا اٹھے
اسے آج بھی وہ پل یاد تھا جب اسنے کسوا کے چھوٹے سے ہاتھ میں انگھوٹھی پہنائی تھی یہ بات گھر کا ہر فرد جانتا تھا سواے اس پاگل کے جو اپنی ہی دنیا میں مگن رہتی تھی
اسے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ عصیم شاہ کی اسکے لیے محبت رفتہ رفتہ عشق بنتی جارہی تھی ثمرین بیگم کا کہنا تھا کہ کسوا کے تھوڑا سمجھدار ہوتے ہی وہ اسے اس رشتے کے بارے میں بتادیں گی لیکن عصیم انہیں منع کر چکا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکا معصوم دماغ ان سب باتوں میں پڑے اسکی خاموش چھپی ہوئی محبت کو جان کر وہ کچھ الٹا سیدھا سوچے
اسکے لالا بولنے پر اسے ہمیشہ بےانہتا غصہ آتا تھا لیکن اسنے کبھی اس پر یہ بات ظاہر نہیں ہونے دی لیکن چھوڑتا تو وہ اسے پھر بھی نہیں تھا وہ جب جب اسے لالا بولتی تھی وہ اسے ڈانٹ دیتا اور وہ بیچاری ہمیشہ اپنی غلطی ڈھونڈتی رہ جاتی اور اب تو اسکے پاس ایک اچھی چیز آچکی تھی جو اسکے پیپرز تھے تو وہ اسے سزا کے طور پر مزید بڑھاتا جو کسوا کے لیے سزا تھی لیکن اسکے لیے تو خوبصورت لمحات تھے جن میں اسکی محبت اسکے پاس بیٹھی ہوتی تھی
اب وقت آگیا تھا جب اسے اسکے صبر کا پھل ملنے والا تھا اسے اسکی کسوا ملنے والی تھی
“اب جاؤ تم لوگ دیر ہورہی ہے” دادا سائیں کے کہتے ہی ان دونوں کے کمرے سے نکلنے سے پہلے ہی عصیم وہاں سے چلا گیا
°°°°°
ڈارک بلیو کلر کے کمیز شلوار میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا بالوں کو جیل سے سیٹ کیا ہوا تھا اپنے کمرے سے نکل کر وہ سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے جانے لگا جب سیڑھیوں پر کھڑی کسوا نے اسکا راستہ روک لیا اسنے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیرا ہوا تھا جس کا مطلب تھا کہ اسے معتصم کی شکل نہیں دیکھنی ہے
“میں تمہارے پاس ہی آرہا تھا لیکن تم یہاں کیا کررہی ہو میرے خیال میں تم تو مجھ سے ناراض تھیں”
“وہ تو اب بھی ہوں”
“اچھا واقعی” اسنے اپنے ہاتھ میں موجود خاکی رنگ کا بیگ اسکے سامنے کیا اور اسکی طرف بڑھادیا جسے اسنے فورا ہی تھام لیا اس کے اندر چاکلیٹس چپس اور آئسکریم ٹپ تھا
“میں ناراض اب بھی ہوں بس مجھے ایک بات پوچھنی تھی”
“پوچھو”
“گھر میں کیا بات چل رہی ہے ساری لیڈیز اپنے مردوں کے ساتھ مل کر آپ کا رشتہ دیکھنے گئی ہیں”
“مائی ڈئیر سسٹر وہ میرا رشتہ نہیں دیکھنے گئیں ہیں بلکہ میری شادی کی تاریخ رکھنے گئی ہیں” جتنے آرام سے اسنے کہا تھا اس سے کہیں زیادہ حیرت کسوا کو ہوئی تھی
“اتنی جلدی ابھی تو وہ پہلی بار ہی جارہے ہیں اور میں نے تو بھابھی کو دیکھا بھی نہیں”
“ہاں اتنی جلدی کیونکہ دادا سائیں چاہتے ہیں کہ گھر کی باقی دو شادیوں کے ساتھ ساتھ میری بھی ہوجاے اور جہاں تک رہی بھابھی کو دیکھنے کی بات تو اسے ہمیشہ اسی گھر میں رہنا ہے دیکھتی رہنا تم اسے”اسے جواب دے کر وہ وہاں سے جانے لگا جب وہ پھر اس کے راستے میں آگئی اسکے چہرے پر ابھی بھی الجھن تھی
“اماں سائیں نے بتایا کہ عالم لالا کی شادی آئرہ آپی کے ساتھ ہوگی لیکن دوسری شادی کونسی ہورہی ہے”
“بہت جلد پتہ چل جاے گا تھوڑا صبر کرلو”
“نہیں مجھے ابھی جاننا ہے” وہ بضد ہوئی
“تمہارے لیے سرپرائز ہے جو تمہارے ہوش اڑا دے گا اور یہ بات تمہیں چچی سائیں ہی بتائینگی اگر میں نے بتایا تو وہ مزہ نہیں آے گا جو انکی زبانی سن کر آے گا اور پھر تمہارا سرپرائز خراب ہوجاے گا تم ایسا چاہو گی” اسکے کہنے پر اسنے اپنا سر نفی میں ہلادیا بھلے بات جاننے کا کتنا ہی اسے تجسس کیوں نہ ہو لیکن وہ اپنا سرپرائز تو خراب نہیں کرے گی
“ٹھیک ہے اب میں اماں سائیں سے ہی پوچھوں گی” معتصم کا دیا ہوا بیگ اٹھا کر وہ مٹکتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
°°°°°
“آپ نے بلایا تھا بابا”
“ہاں میرا بچہ اندر آجاؤ” اسے دروازے پر کھڑے دیکھ کر عفان شاہ نے پیار سے کہتے ہوے اسے اپنے قریب بٹھایا
“آئرہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی یے” انہوں نے ایک نظر تھوڑے فاصلے پر بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا جو نظریں جھکائے بیٹھی تھیں
“جی کہیے”
“بیٹا میں چاہتا ہوں آپ عالم سے شادی کرلو” اپنے باپ کے الفاظ سن کر اسنے بے یقینی سے انہیں دیکھا
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں”
“یہی تمہارے لیے اچھا ہے”
“یہ بھلا کیسے میرے لیے اچھا ہوگا بابا اگر یہ سب کچھ یہ ماحول میرے لیے اچھا ہوتا تو سالوں پہلے میری ماں مجھے لے کر یہاں سے نہیں جاتی آپ بھی جانتے ہیں میرا اور اس آدمی کا کوئی جوڑ نہیں ہے” اسنے نرم لہجے میں اپنی بات سمجھانی چاہی
“آئرہ میرا بچہ”
“بابا پلیز آپ کیوں کسی کی بات سن رہے ہیں مجے پتہ ہے آپ کے والد نے آپ کو یہ سب کہا ہے لیکن آپ انکی کیوں سن رہے ہیں میں آپ کی بیٹی ہوں آپ پورا حق رکھتے ہیں میری زندگی کا فیصلہ کرنے کا آپ فیصلہ کیجیے میرے لیے” اب کی بار نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ تلخ ہوچکا تھا
“میں نہیں کرسکتا تمہارے لیے کوئی فیصلہ” انہوں نے نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کے چہرے پر ہاتھ رکھا
“تمہیں پتہ ہے میری ماں کا قتل ہوا تھا جو میرے باپ نے کیا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ میری والدہ اور چاچا ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن وہ بابا سائیں کے ساتھ منسوب تھیں اسلیے انہیں زبردستی بابا سائیں کے ساتھ بیا دیا گیا لیکن وہ پھر بھی میرے چاچا سائیں میں ہی انوالو رہیں انہیں شاید کبھی یہ بات پتہ نہیں چلتی اگر وہ انہیں اپنی آنکھوں سے ایک ساتھ نہ دیکھ لیتے اور وہ بھی ایسی” آگے کے لفظ انکے اپنی بیٹی کے سامنے ادا نہیں ہو پارہے تھے لیکن آئرہ انکی بات اچھے سے سمجھ چکی تھی
“جب انہوں نے ان دونوں کو ایک ساتھ اس طرح کی حالت میں دیکھا تو غصے میں آکر اپنی بیوی اور بھائی کو جان سے مار دیا انہوں نے ایک پل بھی یہ نہیں سوچا کہ انکے سامنے کون ہے بس انہیں یہ بات پتہ تھی کہ ان کے سامنے کھڑے دو وجود وہ ہیں جنہوں نے انکی عزت خراب کردی اور میں نہیں چاہتا کہ ماضی پھر سے خود کو دوہراے”
“عالم شاہ تمہیں جان سے مار دے گا یا پھر ساری زندگی اسی گھر میں رکھے گا بھلے تم اس سے شادی کرو یا نہیں لیکن وہ تمہیں یہاں سے جانے نہیں دے گا اور اگر تم نے کسی اور شخص کے بارے میں بات بھی کی تو وہ اپنے دادا والی حرکت کرنے میں دیر نہیں لگاے گا میں اکیلا تمہارے لیے نہیں لڑ سکتا اگر میں نے آواز اٹھائی تو پورا گاؤں میرے خلاف ہوجاے گا کیونکہ ہمارے یہاں یہی رواج ہے کہ بچوں کی منگنی بچپن میں ہی انکے اپنوں میں کردی جاتی ہے میں نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی اور پورے خاندان میں میرے گھر والوں کے علاؤہ کسی نے مبشرہ۔کو نہیں اپنایا یہاں تک کہ میرے باپ نے بھی نہیں”
“لیکن یہ غلط ہے آپ کا بھتیجا بھی تو اپنی مرضی سے شادی کررہا ہے اس پر کسی نے اعراض نہیں اٹھایا” اسکا اشارہ معتصم کی طرف تھا
“کیونکہ یہاں ہر طرح رواج لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کے لیے ہوتے ہیں اگر معتصم کی بات نہیں مانی تو وہ کرے گا وہی جو اسنے کہا ہے یہ حویلی چھوڑ دے گا اپنی بیوی کو یہاں نہیں رکھے گا لیکن اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے گا معتصم شاہ اپنی ضد کا پکا ہے اگر اسکی کہی کسی بات کی نفی کی جاے تو وہ یہ حویلی چھوڑنے میں بھی دیر نہیں لگاے گا اور بابا سائیں ایسا ہونے نہیں دینگے کیونکہ وہ ہمارے لالا سائیں کی اکلوتی نشانی ہے اور بابا سائیں اسے کبھی بھی خود سے دور نہیں کرینگے”
“تو ہم پولیس کے پاس چلتے ہیں نہ” اسکے کہنے پر عفان شاہ کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی
“یہاں کی پولیس بھی جمال شاہ کے آگے سر جھکاتی ہے اب بس ایک ہی راستہ ہے کہ تم عالم سے شادی کے لیے رضامند ہوجاؤ کیونکہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ برا نہیں ہونے دے سکتا”
آئرہ نے نم آنکھوں سے اپنا سر نفی میں ہلایا
“یہ مت سمجھنا آئرہ کہ میں نے اس سب کی وجہ سے تمہاری زندگی برباد کردی ہے نہیں میرا بچہ عالم بہت اچھا ہے اور تمہارے لیے ایک بہترین ہمسفر ثابت ہوگا اس بات کا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں”
انہوں نے اسکے روتے وجود کو اپنے سینے سے لگا لیا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial